مہاراشٹر: رام مندر بنانے والے ساتھ مل کر حکومت کیوں نہیں بناسکے؟

(Dr Salim Khan, India)

شیوسینا اور بی جے پی میں لاکھ اختلاف سہی لیکن رام مندر کے معاملے میں دونوں ایک دوسرے متفق ہیں ۔سوال یہ ہے کہ سارے ہندووں کو متحد کرکے رام مندر بنانے والی یہ دو ہندوتوا وادی جماعتیں ایک ساتھ حکومت کیوں نہیں بناسکیں ؟ چالیس سال میں پہلی بار مدت کارمکمل کرکے دوبارہ وزیراعلیٰ بننے کا خواب دیکھنے والے دیویندر فڈنویس نے سترّ سال میں پہلی بار اکثریت حاصل کرنے کے باوجود حکومت سازی میں ناکامی کا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ اس بابت میڈیا میں ان کی وکالت کرنے والے صوبائی وزیرسدھیر منگٹیوار سے جب ’شیوسینا کے اصرار وزیراعلیٰ انہیں کا ہوگا ‘ کی بابت پوچھا گیا تو وہ بولے اس میں کیا مشکل ہے ۔ شیوسینا دیویندر فڈنویس کو شیوسینک سمجھ کر انہیں اپنے وزیراعلیٰ کے طور پر اپنا سکتے ہیں ۔ اس طرح کا گول مول بیان دینا سدھیر منگٹیوار کی مجبوری ہے کیونکہ بی جے پی کے صدر امیت شاہ کا اصرار ہے کہ دیویندر فڈنویس ہی وزیراعلیٰ ہوں گے ۔ ایسے میں سدھیر نے اگر کچھ اور کہا تو ان کو پارٹی سے نکال دیا جائے گا اور اگر خدا نخواستہ دیویندر فڈنویس پھر سے وزیراعلی بن ہی گئے تو ان کو وزارت سے محروم کرکے جیل بھجوا دیں گے ۔ یہ ہے رام بھکتوں کے درمیان محبت و شفقت کا معاملہ ۔

اس میں شک نہیں کہ حواس باختہ سدھیر منگٹیوار نے نادانستہ اس قضیہ کا ایک نہایت معقول حل پیش کردیا ہے یعنی اگر فڈنویس شیوسینک ارکان اسمبلی کو توڑ کر اپنے ساتھ جوڑنے کے بجائے خود شیوسینا سے جڑ جائیں گے تو سارا مسئلہ ازخودحل ہوجائے گا کیونکہ وہ شیوسینا کے وزیراعلیٰ بن جائیں گے، لیکن پھرسوال یہ ہے کہ شیوسینا کا وزیر اعلیٰ کون ہوگا ؟ اس کا فیصلہ امیت شاہ نہیں بلکہ ادھو ٹھاکرے کریں گے اور کون ایسا کٹھور باپ ہوگا جو اپنے سگے بیٹے کو چھوڑ کر سوتیلے کو وزیراعلیٰ بنادے ؟ اقتدار کی خاطر اقدارونظریات کا گلا گھونٹنے والی موروثی جماعتوں کے نزدیک خون کا رشتہ سب سے اہم ہوتا ہے۔ اس لیے نہ تو ادھو ٹھاکرے فڈنویس کو اپنی پارٹی میں بلائیں گےاور نہ وہ آئیں گے ۔ ان دونوں کی حالت یہ ہے کہ جہاں ایک طرف فڈنویس کے ہاتھ میں کمل اور بغل میں ترشول ہے وہیں شیوسینا کے ایک ہاتھ میںگھڑی ہے اور دوسرا ہاتھ کانگریس کے ساتھ ہے۔

بی جے پی اگر اپنی انا کو بالائے طاق رکھ کر ادیتیہ ٹھاکرے کو دشینت چوٹالا کی مانند نائب وزیراعلیٰ بنالیتی تو بات اتنی آگے نہیں بڑھتی لیکن اب توبات کا ایسا بتنگڑ ایسے بنا کہ ناقابلِ یقین صدر راج کی نوبت آگئی۔ شیوسینا کوبغض معاویہ میں راشٹروادی اور کانگریس کی خلاف توقع ملنے والی حمایت نے وزارت اعلیٰ کی کرسی کے دہانے پر پہنچا دیا اور بی جے پی کے قدموں تلے سے زمین کھسک گئی۔ وزیر اعلیٰ کی کرسی شیوسینا کی مجبوری ہے کیونکہ یہ پارٹی اس سے قبل دوبار ٹوٹ چکی ہے ۔ پہلی مرتبہ چھگن بھجبل اس میں سے نکل کر کانگریس میں چلے گئے اور اب راشٹر وادی کے رہنما ہیں۔ اس کے بعد شعلہ صفت سابق وزیر اعلیٰ نارائن رانے سینا سے نکل کر کانگریس سے ہوتے ہوئے بی جے پی میں پہنچ گئے۔ نارائن رانے کے بیٹے نتیش رانے کو اسمبلی کا رکن بنا کر بی جے پی پہلے ہیشیوسینا کو ناراض کرچکی ہے۔

اس بار اگر رام بھکتوں کو شیوبھکتوں کی پیٹھ میں تشول گھسانے کا موقع ملتا تو بی جے پی بڑے آرام سے اٹھارہ شیوسینک اور بقیہ آزاد ارکان کی مدد سے سرکار بنالیتی۔ اپنے ارکان کو پارٹی سے باندھے رکھنے کے لیے سینا کو وزارت اعلیٰ کی کرسی سے فیویکول لگا کر چپکنا پڑا ورنہ وہ کب کا یہ تیر کمان سے نکال کر ہوا میں غائب ہوچکا ہوتا ۔ جہاں تک دیگرآزاد میدواروں کا تعلق ان کا حال کسی طوائف سے بھی بدتر ہے۔ کانگریس کی مدد سے منتخب ہونے والے ایک رکن اسمبلی نے پہلے بی جے پی کی حمایت کی اس کے بعد شیوسینا کی کردی اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ جس کی بھی حکومت بنے گی ہم اس کے ساتھ ہوں گے ۔ اس صوبائی انتخاب میں ۱۴۴ مقامات پر بی جے پی اور سینا کے لوگوں نے بغاوت کی تھی۔ ان میں سے ۱۱۴ کو کاغذات نامزدگی واپس لینے پر مجبور کرنے میں کامیابی ملی لیکن ۳۰ پھر بھی میدان میں رہے اور ان میں سے کئی کامیاب ہوگئے۔ اب ان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ اِدھر جائیں یا اُدھر جائیں ؟

مہاراشٹر کی ساری سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ عوام نے سینا اور بی جے پی کے اتحاد کو حکومت کرنے کا اختیار دیا ہے۔ بی جے پی چونکہ اشتراک نہیں چاہتی اس لیے وہ حکومت سازی میں ناکامی کا الزام شیوسینا پر لگا رہی ہے ۔ اس حرکت کا مقصد شیوسینا کو اقتدار کا حریص اور ہندوتوا کا دشمن ثابت کرنا ہے تاکہ اگلی بار سارے زعفرانی ووٹ اس کے حصے میں آجائیں اور شیوسینا کی جڑ کٹ جائے۔ اس کو یہ خوش گمانی بھی ہے کہ صدر راج کے دوران بہت سارے شیوسینا کے ارکانِ اسمبلی اضطراب و انتشار کا شکار ہوکر اس کی جھولی میں آجائیں گے۔ اس کے برعکس شیوسینا کی کوشش یہ ہے کہ وہ بی جے پی کو دغا باز اور بدعہدی کرنے والی جماعت کے طور پر عوام کے سامنے پیش کرے تاکہ آئندہ سارے بھگوادھاری ووٹ اس کے حصے میں آجائیں اور عوام بی جے پی کو اس کے گھمنڈ کا سبق سکھائیں۔ آئندہ انتخاب میں شیوسینا عوام کے سامنے بی جے پی کو افضل خان کے طور پر پیش کرے گی اور بی جے پی شیوسینا کو بابر بنانے کی کوشش کرے گی اور دونوں ایک دوسرے کا قلعہ مسمار کرنے کی سعی کریں گے۔

کانگریس اور این سی پی چاہتی ہے کہ غیرزعفرانی ہندو طبقات سامنےان لوگوں کا اصلی چہرہ آجائے ۔ وہ بی جے پی اور شیوسینا کے بلند بانگ دعووں سے متاثر ہوکر ان کے جال میں پھنسنے کے بجائے ان سے بدظن ہوکرکانگریس اور این سی پی کے ہمنوا بن جائیں ۔ اسی لیے بی جے پی کے صوبائی صدر چندر کانت پاٹل کے بیان ’’ جلد ہی خوشخبری آنے والی ہے‘‘ کا مذاق اڑاتے ہوئے کانگریس کے صوبائی صدر بالا صاحب تھورات نے کہا ، ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی نے کوئی زچہّ خانہ کھول رکھا ہے جہاں سے ہرروز خوشخبری کی امید کی جاتی ہے۔ ویسے امریکہ میں جاکر اگلی بار ٹرمپ سرکار کا نعرہ لگانے والوں کی مہاراشٹر کے اندر حکومت سازی میں ناکامی ان کے بڑبولے پن کا بین ثبوت ہے۔ یہ کسی شرمناک صورتحال ہے کہ ایک طرف تو وزیر اعظم ہندوستان و پاکستان کے درمیان راہداری کا افتتاح فرماتے ہیں اور دوسری جانب امیت شاہ ہندوتوادی شیوسینا کے ساتھ سارے راستے بند کردیتے ہیں ۔

شیوسینا اور بی جے پی کی آپسی جنگ پر حیرت کا اظہار کرنے والے رامائن کی تاریخ سے واقف نہیں ہیں ۔ رامائن کی رزمیہ داستان میں ساری لڑائیاں آپسی تصادم ہیں ۔ رام چندرجی کو اقتدار سے محروم کرکے بن باس پر بھیجنے کا کام کسی دشمن نے نہیں بلکہ ان کی سوتیلی ماں کیکئی نے اپنے بیٹے بھرت کو گدی پر بٹھانے کے لیے کیا تھا ۔ ایسے میں اگر ادھو اپنے بیٹے ادیتیہ کی خاطر یوگیندر فڈنویس سے اقتدار چھین لینا چاہتے ہیں تو کیا غلط کرتے ہیں ؟ راون نہ توانگریز تھا اور نہ مغل بلکہ وہ شیوبھکت براہمن تھا ۔ لکشمن نے اس کی بہن سپرنکھا کی ناک کاٹ کر اس کی توہین کی اس لیے اگر شیوسینا کے سنجے راوت بی جے پی کو پریس میں ذلیل کرتے ہیں تو اس میں کون سی نئی بات ہے؟ ست یگ میں اپنی بہن کا انتقام لینے کے لیے راون نے سیتا کو اغواء کرلیا اسی پرمپرا کو آگے بڑھاتے ہوئے کل یگ میں بی جے پی والے شیوسینا کے ارکان اسمبلی کو اغواء کرکے اپنے خیمہ میں شامل کرنے کی سعی کررہےہیں۔

رامائن میں اپنے مخالف کو کمزور کرنے کے لیے اس کے ساتھیوں کو توڑنے کے دو مشہور واقعات درج ہیں ۔ سگریو اور بالی بھائی تھے ۔ رام نے ان دونوں کو دنگل میں اتارا اور کشتی کے دوران چپکے سے بالی کی پیٹھ میں تیر مارکر ہلاک کردیا۔ اس طرح چھوٹے بھائی سگریو کو پہلے تو راجہ بنایا گیا اور آگے چل کر وہ حلیف بناگیا۔ یہی حکمت عملی آج بھی اپنائی جاتی ہے ۔ دشمن کے خیمہ سے رہنماوں کو توڑ کر پہلے وزیر اور پھر اپنا حلیف بنالیا جاتا ہے۔ اس معاملے میں اپنے سب سے بڑے دشمن راون کے بھائی وبھیشن کو بھی توڑ کر اپنے ساتھ ملا لیا گیا اور وہیں سے گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے والا محاورہ بنا۔ آج کل ایک طرف بی جے پی والے شیوسینا کو پارٹی توڑنے کی دھمکی دے رہے ہیں وہیں دوسری جانب شیوسینا یہ دعویٰ کررہی ہے کہ اس بار بی جے پی ٹوٹے گی ۔ رامائن کے مطابق راون نے لنکا کو سونے کی چڑیا بنا دیا تھا لیکن اس کو جلا کر خاک کرنے کی ذمہ داری رام کے بھکت پون پتر ہنومان نے ادا کی ۔ ایسے میں اگر شیوسینا بھی بی جے پی کی ایودھیا کو ملیا میٹ کرنے کا خواب دیکھتی ہے تو کون سی حیرت کی بات ہے ۔رامائن کی جنگ میں ایک طرف وشنو کے اوتار رام اور دوسری طرف شیوبھکت راون تھے ۔ مہاراشٹر میں رام بھکت اور شیوبھکت آمنے سامنے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ کل یگ کی رامائن کس انجام سے دوچار ہوتی ہے کیونکہ بی جے پی کے وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس نے استعفیٰ کے بعد حکومت سازی سے انکار کردیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ادیتیہ ٹھاکرے شیوسینا کے وزیر اعلیٰ بننے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں ؟ ادیتیہ وزیر اعلیٰ بنیں یا نہ بنیں لیکن رام بھکت فڈنویس کا دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے کا خواب شیوبھکت ادھو ٹھاکرے نے چکنا چور کردیا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1252 Articles with 462680 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Nov, 2019 Views: 333

Comments

آپ کی رائے