سیاحت میں بھی سعودی عرب کا شاندار فیصلہ

(Mehr Iqbal Anjum, )

سیاحت کسی بھی ملک کی معیشت کے لئے اہم ترین کردار ادا کرتی ہے، پاکستان کے وزیراعظم عمران خان پاکستان کے سیاحتی مقامات کو کھولنے کے لئے متحرک ہیں،وہ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں ایسے خوبصورت مقامات موجود ہیں جو دنیا بھر میں کہیں نہیں، پاکستان میں سیاح آئیں گے تو معیشت مضبوط ہو گی اس ضمن میں حکومت نے کمیٹی بھی قائم کر رکھی ہے، سیاحتی ویزوں کا اجرا بھی شروع کیا ہے، وزیراعظم عمران خان کے سیاحتی اقدام کی طرح پاکستان کے دوست برادر اسلامی ملک سعودی عرب نے بھی سیاحت پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔سعودی عرب بین الاقوامی سیاحت میں قدم رکھتے ہوئے اپنے تاریخی مقامات کے لیے سیاحتی ویزوں کا اجرا شروع کر دیا ہے۔ اس مناسبت دنیا بھر میں قائم سعودی سفارت خانوں کو احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ سعودی حکومت کی یہ کوشش ہے کہ سن 2030 تک مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کی تعداد ایک سو ملین تک پہنچ جائے۔سعودی کمیشن کے چیئرمین احمد الخطیب کے مطابق سعودی عرب کا دروازہ بین الاقوامی سیاحت کے لیے کھولنا ایک تاریخ قدم ہے اور اس کے دوررس نتائج سامنے آئیں گے۔ سعودی عرب کے لیے انچاس ممالک کے شہری آن لائن ویزے حاصل کرنے کے لیے درخواستیں جمع کرا سکیں گے۔ سعودی حکومت کی خواہش ہے کہ امریکا، جاپان اور یورپی ممالک کے سیاحوں کو سعودی عرب کی سیاحت کے لیے ترغیب دی جا سکے۔سعودی حکام نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ یورپی شہری سعودی عرب کے ساحلی علاقوں میں بھی لباس میں اعتدال پسندی کا مظاہرہ کریں گے۔ یہ ایک پابندی بھی ہے۔ خاص طور پر خواتین بیکنی پہننے سے اجتناب کریں گی۔ اس کی وجہ سعودی معاشرے کی قدامت پسندی خیال کی گئی ہے۔ 27 ستمبر کو سعودی حکام نے سیاحتی ویزا پالیسی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد چوبیس ہزار غیر ملکی سیاحوں نے سعودی عرب کی سرزمین پر قدم رکھا۔اس سے قبل سعودی حکام صرف حج اور عمرہ زائرین، غیر ملکی سفارتی معاملات کے لیے افسران کو ویزا فراہم کرتے تھے، لیکن اب سیاحت کے لیے بھی سعودی عرب کے دروازے کھل گئے۔سعودی حکومت نے وڑن 2030 کے تحت غیرشادی شدہ جوڑوں کو ہوٹل کا کمرہ بک کرنے کی بھی اجازت دے دی ہے، جس کے بعد غیر ملکی سیاح اپنی مرضی سے رہائش بھی اختیار کرسکیں گے۔ سیاحوں کو ویزا کے حصول سے قبل دستخطی عہد نامے پر عمل کرنا لازمی ہوگا، ان میں سے سب سے اہم بات کی توثیق کرنا یہ ہے کہ درخواست میں دستاویزی معلومات درست ہیں، تمام سعودی قوانین و ضوابط کی پابندی کریں اور اپنے لوگوں کیاسلامی رسم و رواج کا احترام کریں۔خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے شاہی فرمان جاری کرکے ایک انویسٹمنٹ فنڈ قائم کردیا۔ یہ قومی فروغ فنڈ کے ماتحت ہوگا۔ شاہی فرمان کے تحت قائم فنڈ انویسٹمنٹ فنڈ 4 شعبوں میں سرمایہ لگائے گا۔ نیا فنڈ ثقافت ،تفریحات، اسپورٹس اور سیاحت کے شعبوں سے متعلقہ سرگرمیوں کے لیے مخصوص ہوگا۔ اس کا مقصد ان شعبوں کو کامیاب اور موثر بنانے کے لیے اسٹراٹیجک شراکتی پروگرام ترتیب دینا ہے۔پروگرام کے مطابق انویسٹمنٹ فنڈ کی مجلس انتظامیہ تشکیل دے دی گئی۔ ولی عہد ، نائب وزیراعظم اس کے سربراہ ہوں گے۔ شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی بن فیصل آل سعود ، شہزادہ عبداﷲ بن بندر بن عبدالعزیز آل سعود، شہزادہ بدر بن عبداﷲ بن فرحان آل سعود اور ہندی بن عبداﷲ السحیمی رکن ہوں گے۔عبدالعزیز بن اسماعیل طرابزونی رکن و سیکریٹری جبکہ مالیاتی امور کے 2ماہر بحیثیت ممبر مقرر ہوں گے۔ تقرری مجلس انتظامیہ از خود کرے گی۔ انویسٹمنٹ فنڈ کا بجٹ سعودی سیزنز کی آمدنی سے حاصل کیا جائے گا۔ شاہی فرمان کی دفعہ 3میں اس کی ہدایت کردی گئی ہے۔شاہی فرمان میں کابینہ کے ماتحت ماہرین بورڈ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ جس ادارے سے ضروری سمجھیں ربط و ضبط پیدا کریں۔ یہ کام شاہی فرمان کے اجرا کے 30 دن کے اندر انجام دینا ہوگا۔ ماہرین بورڈ قانونی کارروائی مکمل کرنے کے لیے ضروری تیاری کرے گا۔کہ سعودی حکومت ان دنوں مملکت بھر میں ثقافت، تفریحات ، اسپورٹس اور سیاحت کے شعبوں کو غیر معمولی طور پر آگے بڑھا رہی ہے۔ سعودی عرب کی قومی پالیسی تیل کے ماسوا ذرائع سے قومی آمدنی پیدا کرنا اور اسے مستقل بنیادوں پر بڑھاوا دینا ہے۔ ان چاروں شعبوں سے قومی آمدنی میں اضافے کی بڑی توقعات وابستہ کی گئی ہیں۔سعودی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ گزشتہ 33 دنوں کے دوران 77 ہزار سے زائد غیر ملکی سیاحوں کی آمد ہوئی ہے۔ سب سے زیادہ چینی شہریوں نے سیاحتی ویزے حاصل کیے۔ ان کی تعداد 17 ہزار988 ہے۔ مجموعی طور پر چینی سیاحوں کی شرح 23.3 فیصد رہی۔ دوسرے نمبر پر آنے والے سیاحوں کا تعلق برطانیہ سے تھا جہاں سے 17 ہزار 777 افراد مملکت آئے۔ ان کی شرح 23 فیصد رہی۔ تیسرے نمبر پر امریکی سیاح تھے جن کی تعداد 8 ہزار 926 تھی، چوتھے نمبر پر ملائشیا ہے جہاں سے آنے والے سیاحوں کی تعداد سات ہزار سے زائد ہے، پانچویں نمبر پر فرانس، اس کے بعد قازقستان، پھر جرمنی اور آخر میں آسٹریلیا رہا۔ وزارت نے کہا ہے کہ ان ممالک کے علاوہ 11 ہزار 693 سیاحتی ویزے دیگر ممالک کے شہریوں کو جاری ہوئے ہیں۔ اب تک مجموعی طور 77 ہزار 69 ویزے جاری کیے گئے ہیں۔ 2030 تک سعودی عرب میں سالانہ دس کروڑ سیاح آئیں گے جن کی خدمت پر ایک ملین سے زیادہ کارکنان مامور ہوں گے۔ سعودی عرب کے 22 جزیروں میں جدید طرز کے 50 ہوٹل تعمیرکئے جا رہے ہین۔ بحر احمر منصوبے کے پہلے مرحلے کا افتتاح 2022ء میں ہوگا جس کے تحت 5 جزیروں اور دو ساحلی مقامات پر ہوٹل بنائے جائیں گے۔یہ منصوبہ 2030 میں مکمل ہوگا۔ 5 جزیرے منصوبے میں غیر معمولی طور پر اہم ہیں، ان میں الشیبارہ اور الشریرہ بڑے جزیرے ہیں جن کا کل رقبہ 6 مربع کلو میٹر ہے۔ دیگر تین جزیرے چھوٹے ہیں ان میں سے ہر ایک کا رقبہ ایک مربع کلو میٹر سے کچھ ہی زیادہ ہوگا۔فیوچر انویسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے جون بیگو نے بتایا کہ ریڈ سی پروجیکٹ کی تکمیل پر سعودی عرب میں سیاحت کے دروازے کھل جائیں گے۔ اتنی بڑی تعداد میں آنے والے سیاحوں کے لیے ہمیں ماہرین کی ایک فوج کو تربیت دینا ہوگا۔ ریڈ سی پروجیکٹ میں 2020 کے اختتام تک ہم پہلے سیاحتی وفد کے استقبال کے لیے تیار ہوں گے۔ سعودیوں کا جذبہ ریڈ سی پروجیکٹ کو بہت جلد ممکن بنا دے گا۔ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعہ آنے والے غیر ملکی سیاحوں کے لیے نئی مہر متعارف کروائی گئی ہے۔ ان کے پاسپورٹ پر ’ویلکم ٹوریاض سیزن‘ کی مہر لگائی جارہی ہے۔ریاض سیزن انتظامیہ اور محکمہ پاسپورٹ کے تعاون سے متعارف کروائی جانے والی مہر ان غیر ملکیوں کے پاسپورٹ پر لگے گی جو ریاض سیزن میں شرکت یا دیکھنے کے لیے آرہے ہیں۔ریاض ایئرپورٹ پر سیاحتی ویزے کے نگران کرنل ماجد الاحمری نے بتایا ہے کہ محکمہ پاسپورٹ کے ایسے اہلکار متعین کیے گئے ہیں جو دنیا کی بیشتر معروف زبانوں کے ماہر ہیں۔بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کے استقبال، رہنمائی اور ریاض سیزن کے متعلق مختلف ایکٹویٹی کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے بھی متعدد زبانیں بولنے والے اہلکار تعینات ہیں۔غیر ملکی سیاحوں کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرنے اور ان کی مدد کرنے کے لیے خصوصی ہدایات دی گئی ہیں۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 171 Print Article Print
About the Author: Mehr Iqbal Anjum

Read More Articles by Mehr Iqbal Anjum: 66 Articles with 16225 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: