جو چلا گیا اسے بھول جا

(Iftikhar Chohdury, )

مریم کے پا پا لئے دئے بغیر چلے گئے۔کسی نے کیا خوبصورت بات کی کہ قانون مکڑی کا جالا ہے جس میں کمزور مکھیاں اٹک کے رہ جاتی ہیں اور طاقتور چیر پھاڑ کے نکل جاتے ہیں۔پاپا کچھ یہی کر کے نکل گئے۔ان کے لئے ایئر ایمبولینس بھی قطر ہی سے آئی ۔قطری خط،قطری ایمبولینس۔عربوں کی خوبی یہ ہے کہ وہ اربوں پتی سے دوستی کرتے ہیں۔امیر قطر نے بار بار دوستی نبھانے کی کوشش کی ۔اس سے پہلے اٹک قلعے کی کوٹھڑی سے بھی عرب انہیں نکال لے گئے مرحوم عبداﷲ بن عبدالعزیز نے جناب نوز شریف کو اپنے دیس میں جگہ دی۔سرور پیلیس کی راہداریوں میں ہمیں بھی ان سے ملنے کا موقع ملا ایک بات ابو حسین کی مزے کی ہے کہ وہ بڑے کنے ہیں مرحوم قاری شکیل مرحوم ارشد خان کے حوالے اور معرفت سے بہت ملاقاتیں ہوئیں ۔میاں نواز شریف نے بڑے لطیفے سنائے بڑی گپیں ہوئیں ایک وقت تو وہ تھا کہ وہ اس بات پر متفق ہو گئے کہ یاد داشتیں لکھی جائیں لیکن بھلا ہو جابرانہ کڑک کا برق گری تو ہم سلاخوں کے پیچھے سے ہوتے ہوئے گجرانوالہ آن پہنچے۔سب خوش گپیاں سب لطیفے بازیاں اپنی جگہ لیکن مجال ہے کہ بڑے اور چھوٹے میاں نے کبھی یہ اعلان کیا ہو یا بتایا ہو کہ وہ کوئی معاہدہ کر کے آئے ہیں۔وہ دس سال کا معاہدہ تھا ان دس سالوں میں ان پر پابندی تھی کہ وہ پاکستان کی سیاست سے دور رہیں گے۔آج اس وقت کو گزرے اٹھارہ انیس سال ہو گئے ہیں وقت بڑی تیزی سے گزر گیا۔ان پر بہت سی پابندیاں تھیں میں نے کئی بار دیکھا کہ وہ مجبور لوگ تھے انہیں ایک ایسے پیلیس میں رکھا گیا تھا جو کسی زمانے میں ملک فیصل شہید کے زیر استعمال تھا جسے از سر نو مرمت کے مراحل سے گزار کے رہائیش کے قابل بنایا گیا تھا ۔محل کے سامنے بغدادیہ کا قبرستان تھا بڑے گیٹ سے گزرو تو دائیں ہاتھ ایک چیک پوسٹ تھی جہاں آنے جانے والوں پر نظر رکھی جاتی تھی۔کیپٹن صفدر سے ملنا ہوتا تو اس طرح کی کھسر پھسر ہوتی جیسے کوئی واردات کرنا ہو۔کوئی سو قدم چلنے کے بعد دائیں ہاتھ ایک چھوٹا ڈرائینگ روم تھا بائیں ہاتھ بڑا ڈرائینگ روم ۔میاں صاحب سرخ و سپید فارغ البال تھے ۔انہیں لبھانے کے لئے فنکار البیلا قاری شکیل مرحوم خورشید چودھری،عثمان قدرت اور نون لیگئے ہوا کرتے تھے۔کھانے پینے کے شوقین تھے۔مکہ مکرمہ سے شہباز دین بٹ،شرفیہ کے مکہ ہوٹل کے نوع اقسام کے کھانے میز کی زینت بنتے۔میاں صاحب کے ساتھ پیلیس کے ایک کونے میں سہیل ضیاء بٹ اور ارشد خان بھی ہوا کرتے تھے ان کی اپنی رہائیش اوپر والی منزل میں تھی شہباز شریف اور بیگم نصرت شہباز کی رہائیش گاہیں بھی داخل ہوتے ہی دائیں جانب ہوتی تھیں۔کئی بار سوال کرنے کی کوشش کی میرا تعلق ایک اخبار سے تھا جس کے نام سے وہ دور رہا کرتے تھے ایک بار تو میاں شہباز شریف نے سمندر کنارے فلیٹ کی چھت پر سلیم ناز اور دیگر مسلم لیگیوں سے کہا کہ خبریں والوں سے دور رہا کریں۔یہ الگ بات کہ جب ان کے گھرانے کی تصویریں میرے ہاتھ لگیں تو میں نے انہیں واپس کرتے ہوئے کہا کہ حضور بد گمانیاں اچھی نہیں ہوتیں۔ایک مزے کی بات بتاؤں میاں صاحب کی سیاسی بیان بازی کے لئے دو فیکس مشینیں استعمال ہوا کرتی تھیں ایک قاری شکیل کی اپنی اور دوسری میری تھی فون پر بتا دیا جاتا اور ان کے نام سے خبر چل جاتی تھی۔آن لائین ایجینسی تک خبر پہنچنے کا مطلب یہ ہوتا کہ سارے پاکستان کو خبر مل گئی۔میاں صاحب کے دستخط بھی اکثر اوقات مرحوم قاری شکیل یا ان کی بیٹی کر دیا کرتی تھی۔ایک آدھ بار مجھے بھی یہ کارہائے نمایاں انجام دینے پڑے ۔مجھے یاد ہے ادا کار محمد علی فوت ہوئے تو زیبا جی کے نام نواز شریف کا جو خط فیکس کیا وہ میرے دستخطوں سے تھا اور وہ دستخط نواز شریف کے میں نے نقل کئے تھے۔یاد رہے یہ آمریت کے دن تھے اس وقت کا نواز شریف مارشل لاء کا مزاحمتی کردار تھا ۔لاہور کے ایک اخبار کے ایڈیٹر جو آج کل میاں میاں کرتے ہکلا جاتے ہیں وہ بھی مشرف کی گود میں جا بیٹھے تھے۔میاں صاحب سے جو گلا اور شکوہ ہے وہ یہ تھا کہ وہ ہم جیسے سادہ لوح لوگوں کو بے وقوف بناتے رہے اور تواتر سے جھوٹ بولتے رہے کہ وہ کوئی معاہدہ کر کے نہیں آئے انہوں نے ایک بار کوشش کی تو پرنس مقرن بن عبدالعزیز انہیں کان سے پکڑ کر سعودی عرب واپس لے گئے۔او بھائیو مر جانا مارشل لاء نہ منگنا جب بیگم نصرت آئیں تو ان کا غصہ ہم پر کڑکا اور ہم بھی اندر۔اور اندر بھی اپنوں کے ہاتھوں غیر ملک کی جیل میں اور وہ بھی اکہتر دن۔میاں نواز شریف کو جو جھٹکا لگا انہیں اس صف میں ے گیا جہاں سے وطن دشمنی کی بو آتی ہے اور ہمیں وہ دلاسہ دے گیا کہ کوئی بات نہیں یہ جیسی بھی ہے اپنی روشنی ہے آج تک فوج کے خلاف نہیں بولا نہیں لکھا ۔اس وجہ سے نہیں کہ ڈرتا ہوں اس لئے ڈرتا ہوں اس رب سے جو پالن ہار ہے ایک دو بندوں کی ذاتی پرخاش کے بدلے میں عزیز بھٹی کی فوج کو برا کہوں اگ لگ جاوے قلم نوں زبان نوں میا صاحب کی جلاوطنی کی داستانیں یقینا لکھی جانے کے قابل تھیں جدہ میں مقیم پاکستانیوں کے پاس محفوظ ہیں۔جدہ میں محمدیہ پلازہ میں حسین نواز شریف کے دفاتر العزیزیہ سٹیل ملز کے مین آفس جو لاثانی تحلیہ کے سامنے تھے وہاں سے سے کوئی چالیس کلو میٹر دور مکہ کے در وازے پر العزیزیہ سٹیل مل۔کیپٹن صفدر مریم نواز شریف یہ وہ کر دار ہیں جو یقینا پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اہم کردار ہیں۔میاں نواز شریف کو پتہ چل گیا تھا کہ میرا بوریا بستر گول ہونے کو ہے وہ آخری بار جب امریکہ دورے پر گئے تو جاتے ہوئے سعودی عرب ٹھہرے اس وقت جنرل مشرف اور شیخ رشید بھی ان کے ساتھ تھے مسجد نبوی میں شیخ رشید ان سے زیادہ مشرف سے کھسر پھسر کرتے نظر آئے تو میاں شہباز نے مجھے بتایا کہ دیکھو یہ کیا کر رہا ہے۔سچ پوچھئے مجھے آج بھی وہ باتیں یاد آتی ہیں جب کبھی شیخ رشید کسی اور جگہ حاضری لگواتے ہیں تو مجھے شہباز شریف کی وہ باتیں واقعی یاد آتی ہیں ۔بہر حال انقالب مشرف سے پہلے میاں نواز شریف کی فیملی جدہ پہنچ چکی تھی میری یاری ارشد خان سے تھے بلکہ فیملی ٹرمز تھے کمال کا بندہ تھا مرنے جوگا نہیں تھا لیکن مر گیا وہ ان دنوں نارووال ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے وہاں آیا تھا اس کے اعزاز میں تقاریب جاری تھیں تو اکتوبر کی منحوس گھڑی آن پہنچی جب نواز شریف کا تختہ الٹ دیا گیا۔نواز شریف اٹک قلعے میں قید اور اس کے بچے جدہ میں۔میرا حساب بہت کمزور ہے اٹک کا دورانیہ کتنا تھا اس کا مجھے علم نہیں لیکن پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کی تحریک جاری تھی بیگم کلثوم نواز کی جد وجہد بھی تاریخ کا حصہ ہے۔میاں نواز شریف اٹک جیل سے رہا ہو کر جدہ پہنچے ۔یہ ان کی ذاتی سفارت کاری کا کمال تھا وہ اپنے آخری دورے میں صدر امریکہ بل کلنٹن،سعودی فراں روا شاہ عبداﷲ،امارات کے سلطان بن النہیان سے وعدہ لے چکے تھے کہ فوج میرا تختہ الٹے گی اور آپ نے میرا ساتھ دینا ہے نواز شریف نے کارگل ایشو پر جو رویہ اختیار کیا اور جوموء قف اپنایا اس پر دو رائے ہیں فوجی نقطہ ء نظر کچھ اور ہے اور نواز شریف کا خیال کچھ اور۔اس پر کوئی کمیشن بنتا تو حقائق پتہ چلتے لیکن وہ حقائق ہی کیا جو سامنے آ جائیں۔

میاں نواز شریف کہ قیام سرور پیلیس کی کہانیاں ایک موضوع ہے اس پر لکھا جانا چاہئے رو ء ف طاہر لکھیں لیکن ان کا بھی پیلیس میں اتنا آنا جانا نہیں تھا البتہ اردو نیوز کے میگزین ایڈیٹر کے بطور وہ ہمیشہ جمہور نامے تو کو میاں صاحب کی تعریف و توصیف کے لئے استعمال کرتے ان کا کالم جمہور نامہ آج بھی میاں صاحب کے گرد گھومتا ہے۔ڈاکٹر سعید الہی کے پاس رسائی تھی ان کی ایک بیگم سعودی ہے وہ اکثر و پیشتر جدہ میں ہوا کرتے تھے۔برادر حبیب اﷲ بھٹی ہیں جن کے پاس بہت کچھ ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ نواز شریف کے بغیر نا مکمل ہے۔اس سے پیار کیا جائے یا اس کی مخالفت اب یہ جھوٹ ہی ہو گا کہ کوئی یہ کہے کہ نواز شریف کا دور ختم ہو چکا ہے آپ جس طرف سے آئیں گھنٹہ گھر کی طرح نواز شریف سامنے ہوتا ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ جس فوج کے بارے میں نواز شریف بڑے سخت جملے استعمال کیا کرتے تھے جس پر انہیں مشورہ بھی دیا اور ٹوکا بھی تھا آج کھسر پھسر ہو رہی کہ اسی کی مہربانی سے وہ پاکستان سے باہر جا چکے ہیں۔میرے جیسے سیاسی کارکن دو چہرے لئے ٹاک شوز میں بیٹھے ہوتے ہیں کہ عدالتوں کا فیصلہ تھا عدالت نے انہیں نکالا اور اب عدالت نے مزید نکالا اور وہ پاکستان سے باہر چلے گئے لیکن بھولی اتنی بھی بھولی نہیں کہ اسے علم ہی نہ ہو لوگ چالاک ہیں مولانا ایسے ہی نہیں کہتے ہم وہاں اسلام آباد سے کچھ لے کر اٹھے ہیں۔عام چھلی بھٹے ولا بھی جانتا ہے کہ فیصلے کہاں ہوتے ہیں البتہ سنائے کہیں اور جاتے ہیں۔

پاکستان کی سیاست کا بیل کولہو کا بیل ہے سفر جاری ہے لیکن کٹتا چند گز ہی ہے۔سیاست دان بیل بھی خود ہے اور بیج بھی خود اس کا تیل ہی نکلے گا چاہے وہ سہروردی ہو بھٹو ہو یا کوئی اور۔مجبوریوں میں بندھی ہوئی سیاست کو جو مرضی نام دے لیں میرے نزدیک یہ سیاست سے زیادہ خباثت ہے۔

یہ اک ایسا گورکھ دھندہ ہے اسے آزادی ملے تو ملک کو بیچ پتیسہ کھا جائے پابندی لگے تو گھٹن ہلیا نئیں تے سلیا نئیں۔

مجھ سے اگر کوئی پوچھے تو قطر ایئر ویز کی ایمبولینس کا مسافر جس دھج سے مقتل کو گیا ہے اس میں منافقت،ریا کاری،جھوٹ شامل ہے۔Bithes of Richesکا طعنہ ہماری سیاست کے منہ پر کالا داغ ہے ہمارے عدالتی نظام پر ایک کلنک کاٹیکہ ہے۔آپ جو مرضی کہئے بھٹو کا قتل اگر عدالتی قتل مانا گیا ہے تو اسے کیا کہیں گے؟ہمیں منظور ہزار بار منظور مگر حضور سچ کی کسوٹی اسے نامنظور کر رہی ہے۔یاد رکھئے عمران خان جس کا نام ہے وہ اس ظالم سماج سے ٹکرا سکتا ہے مگر ہار نہیں مانے گا۔گرچہ بڑے بڑے جغادریوں نے کہا تھا عمران کچھ بھی نہیں کر سکتا میں جس عمران خان کو جانتا ہوں وہ پاش پاش کرنے کا عزم رکھتا ہے وہ ہمیشہ کہتا ہے انسان کا کام ہے کوشش کرنا۔اس کی کوشش کو سلام ایک بزدل سی آواز کسی نہاں خانے سے آتی ہے جو عمران خان سے کہتی ہے۔ کہ یہاں ابھی دو پاکستان کے کالے قانون کا راج ہے ۔اسے یہ سیاہ اور مکروہ آواز کہہ رہی ہے جو چلا گیا اسے بھول جا
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry

Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 408 Articles with 167355 views »
I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More
22 Nov, 2019 Views: 491

Comments

آپ کی رائے