میرا فیصلہ قرآن کرے گا (قسط:١)

(Azra Faiz, Wah)

(دلوں کو ہلا دینے والی ایک سچی داستان۔ جسکا فیصلہ قرآن نے کیا)


تعارف:
ویسے تو اللہ رب العزت نے اپنی سب مخلوق جوڑے کی صورت میں بنائی ہے جوکہ خصوصیت کے لحاظ سے ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن انسان یعنی عورت اور مرد ایک جیسی مخلوق کیوں نہیں ؟ ہمارے معاشرے کی بے حسی کہئیے یامرد کاتکبر مرد کی بادشاہت اور اسی کو جنم دینے والی غلام ، مرد گناہوں کے سمندر میں ڈبکیاں لگا کر بھی پاک اور عورت نگاہ بھی اٹھائے تو گناہ گار اور ناپاک، مرد اپنی طاقت کی تلوار کو عورت کی کمزور گردن پر تیز کرتا ہے ۔ ویسے تو عورت پر ظلم ،اس کا قتل کوئی نئی بات ہے نہ بڑی اور نہ کچھ لوگوں کی نظر میں بری لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ظلم آخر کب تک؟ اگر تاریخ کو دیکھیں تو عزت کے نام پر ہزاروں سالوں سے عورت کا قتل عام ہورہا ہے اور بہت خوبصورتی سے اس کو شریعت کا نام دیا جاتا ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ مرد جو کبھی خدا کے سامنے ایک سجدہ نہیں کرتےجنہیں شاید پہلا کلمہ اور اس کا مطلب بھی نہ پتا ہو ۔قرآن کیا کہتا ہے ۔اس میں خدا نے کیا احکامات دئیے ہیں کچھ پتا نہ ہو لیکن چار شادیاں اور بدکرداری کا ٹائٹل دے کر عورت کا قتل کرنا اللہ کا حکم سمجھ کر انتہائی دل جمی سے کرتے ہیں ۔مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ دنیا میں ہر سال ۵۰۰۰ خواتین کا عزت کے نام پر قتل ہوتا ہے اور اس میں سے ۱۰۰۰ قتل ہونے والی خواتین ہمارے پیارے پاکستان کی ہیں۔ یعنی دنیا میں ہمارے یہاں کے مردوں نے عورتوں کا قتل کرکے مردانگی کے جھنڈے گاڑ دئیے ہیں ۔ میں یہ نہیں کہتی کہ سب مرد ایک سے ہیں لیکن اپنی عورتوں پر ظلم نہ کرنے والوں کی ان کے تمام حقوق ادا کرنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کی مقدار سے بھی کم ہے اور عورت کے لیئے آواز اٹھانے والے مردوں کی تعداد ؟؟
ٌ
میرا فیصلہ قرآن کرے گا ٌ کہانی ہے ایک ایسی مظلوم لڑکی کی کہ جس نے قرآن کو اپنا منصف بنایا اور پھر قرآن نے فیصلہ کردیا ۔ قرآن آواز ہے اللہ کی۔ جس میں پیغام ہے اللہ کا، وعدہ ہے اللہ کا کہ تباہی ہے ظالم کی ،فرعون اور فرعون جیسوں کی، اور ڈراتا ہے اللہ اپنے غضب اور عذاب سے زمین میں فساد کرنے والوں کو اور ناحق قتل کرنے والوں کو اور مددگار ہے ان کا اللہ جو پکارتے ہیں اس کو ۔ اور اسی کے اختیار میں سب ہے کہ جسے چاہے ڈھیل دے مزید گناہ کرنے کی کہ پکڑ ہو آخر میں اس کی اور بھی سخت۔ اور وہ با اختیار ہے کہ جسے چاہے سزا دے دنیا میں یا آخرت میں۔

جو مرد دنیا میں بااختیار بنا پھرتا ہے کیا وہ نہیں جانتا اصل بااختیار ہستی کو،اصل بادشاہ کو اور اصل منصف کو۔ یہ کہانی آپ کو یقینا خدا کے ہونے ۔اس کا اپنی مخلوق پر نظر رکھنے ،ان کی فریاد کو سننے کے یقین کو بڑھائے گی۔ اللہ کا غضب اور جلال جو ظالموں کے لئیے ہے دکھائے گی۔ یہ داستان سچی ہے اس میں کرداروں کے نام کی ردو بدل کی ہے اور کچھ اضافی کردار بھی ڈالے گئے ہیں لیکن اصل کہانی اور انجام بلکل سچائی پر مبنی ہے ۔اس کہانی کو لکھنے کا مقصد نہ صرف ظلم کی چکی میں پسنے والی عورت کے لئیے آواز اٹھانا ہے بلکہ اللہ رب العزت کے منصف ہونے کی گواہی دینا بھی ہے۔ یہ کہانی یقینا آپ کا ایمان کہ ٌخدا ہے اور وہ بہترین سننے والا ہے اور بہترین انصاف کرنے والا ہے ٌ کو مضبوطی دے گی۔

میرا فیصلہ قرآن کرے گا (قسط:۱)

گاؤں کی پگڈنڈیوں پہ بچے ایک دوسرے سے آگے نکلنے اور ڈھول کی آواز کا پیچھا کرتے بھاگ رہے ہیں ۔آج پروین کی اور اقبال کی شادی ہے دونوں کے گھروں میں کچھ خاص فاصلہ نہیں ۔ چچا زاد ہونے کی بنا پر یہ رشتہ پروین کے پیدا ئش کے دن ہی طے پایا تھا ۔دونوں طرف ایک ہی خاندان تھا ۔بارات پینو کے گھر آچکی تھی ہرے بھرے کھیتوں کے بیچ کچی مٹی کی چاردیواری میں کھلا سا صحن اور صحن کے ایک طرف بیری کا بڑا سا درخت جو کے کیکر کے درخت کے اتنے قریب کہ اٹھکیلیاں کرتے ہوئے صاف دکھتا۔ صحن کے بیچوں بیچ مراسن ڈھول پیٹ رہی ہے اور دولہے کی بہنیں اور رشتہ دار عورتیں سہرے(گیت) گا گا کر اور جھومر ڈال ڈال کر اپنی خوشی کو ذندگی کا حصہ بنا رہی ہیں ۔ اور ان کے گرد بچھی چارپائیوں پر بوڑھی خواتین بھی ان کا گا گا کر ساتھ دے رہی ہیں۔دو کمروں کے اس مٹی سے بنے گھر میں ہر طرف خوشی ہی خوشی ہے۔دلہن کی سہیلیاں اسے تیار کر رہی ہیں اور ساتھ ہی شادی شدہ کزنیں پینو کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر نے میں مصروٰف دکھائی دے رہی ہیں اور پینو مارے شرم کے اپنا مونہہ نیچے کر لیتی ۔سولہ سال کی پینو پر رج کے روپ آیا تھا ۔لمبے گھنے بال جسے آج پہلی دفع اس کی سہیلیوں نے بھی بچپن کے بعد اب دیکھا تھا وہ اتنا کس کے دوپٹہ جو لیتی تھی ،بڑی بڑی اور حیا سے بھری آنکھیں جو پلکوں کے بھاری پن سے جھکی ہوئی تھیں ستواں ناک پرخوبصورت نتھ ، اور نازک ہونٹ جن پر پہلی دفع لپ اسٹک لگی تھی۔اور سرخ رنگ کی لپ اسٹک اور آنکھوں کا کاجل اور کھلتا صاف گندمی چہرہ جس پر ہلکی سی کریم لگی تھی ۔ ماتھے پر جھومر لیکن ایسا لگتا تھا گویا پریوں کے مقابلہ حسن میں پہلا انعام پا کے بیٹھی ہو۔اس خوبصورتی کو اگر غالب دیکھتے تو یقینا ایک دیوان لکھ دیتے۔

شاید دولہا آگیا ہے اس کی سہیلی نے اس کے کان میں کہا اور پھر اچانک کمرے کے دروازے پر موجود لڑکیوں کی بحث کی آوازیں آئیں جو کہ دولہا سے در مہاڑی(دروازہ کھولنے کی رسم) کے پیسے مانگ رہی تھیں ۔کافی بحث کے بعد کچھ معاملہ طے پاگیا ۔پروین ہاتھ سے بنی ٹکریلی گندی(سندھی بیڈ شیٹ) سے ڈھکی چارپائی پر بیٹھی تھی جس کے چاروں پائے رنگین اور آرٹ کا نمونہ تھے جو کہ اس کی ماں نے اپنے ہاتھوں سے بنی تھی۔ اقبال جو گلے میں نوٹوں کے بھاری بھرکم ہار پہنے ہوئے تھا شرماتا ہوا چارپائی پر بیٹھ گیا ۔ارد گرد موجود بوڑھی عورتوں نے اپنی خاص سرائکی زبان میں ان کے لیئے دعاؤں کے گیت گانے شروع کر دیئے۔سات سہاگنوں نے ان کے سرپر اپنے دوپٹے کے پلو ڈالے اور ہر ایک نے نیک تمناؤں ،دعاؤں کے ساتھ ان کے سر سے پلو ہٹائے اور مختلف رسومات کے بعد آخر کار رخصتی کا وقت بھی آگیا۔ باپ نے گلے لگایا بھاٖئیوں نے سر پر ہاتھ رکھا ماں اور بہنوں سے ملتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کے روئی لیکن ایک نہ ایک دن تو سب کو ہی پیا گھر سدھارنا ہوتا ہے اور یہی معاشرے کا قانون ہے۔
اقبال بہت خوش تھا آج پینو اس کے خوابوں سے نکل کر حقیقت میں اس کے سامنے بیٹھی تھی بچپن کی منگ تھی اس کی۔۔ بچپن سے ہی اسے دیکھ کر شرم سے چھپ جاتی ۔۔ اس گاؤں اور خاندان کے رواج کے مطابق منگیتر سے بات کرنا بہت ہی بے شرمی سمجھا جاتا تھا اس لیے ان دونوں کے درمیان کبھی لفظوں کی زبان نہیں بولی گئی تھی۔ گو کہ اقبال کی ترسی نگاہیں ہر وقت پینو کی متلاشی رہتیں اور راتیں اس کے سپنوں میں کٹتیں اور اب حقیقت میں اس کے سپنوں کی شہزادی گھونگھٹ ڈالے بیٹھی تھی ۔اقبال نے اپنے مہندی والے لال ہاتھوں سے اس کا گھونگھٹ اٹھایا اور بے اختیار بولا واہ اللہ سائیں واہ ۔۔۔
(جاری ہے)

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 279 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Azra Faiz

Read More Articles by Azra Faiz: 21 Articles with 14223 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: