اپنا صوبہ اپنا اختیار ……کہاں گیا خسرو بختیار

(Ali Jan, Lahore)

تحریر: عمران ظفر بھٹی
یہ بات الیکشن 2018سے قبل کی ہے جب سرائیکی صوبہ تحریک کے قائدین اکٹھے ہو رہے تھے۔ سرائیکی تحریک پرکام کرنے والی تمام پارٹیوں کی مشاورت چل رہی تھی تا کہ تمام پارٹیاں ایک پلاٹ فارم سے اپنا نقطہ نظر پیش کریں، مل جل کر جلسے جلوس ، میٹنگز، ریلیاں نکالیں اور الیکشن کی بھر پور تیاری کریں۔ اس وقت تک سرائیکستان ڈیمو کریٹک پارٹی جس کے چیرمین رانا فراز نون اور پاکستان سرائیکی پارٹی جس کی بنیاد بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ نے رکھی تھی الیکشن کمیشن آف پاکستان سے رجسٹرڈ ہو چکی تھیں۔ اس مشاورت کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک اتحاد بنایا جائے مگر یہ اتحاد مکمل نہ ہو سکا اور پھر دو دھڑے بن گئے ایک کو خواجہ غلام فرید کوریجہ نے لیڈ کیا جبکہ دوسرے دھڑے کو سرائیکستان ڈیمو کریٹک پارٹی کے چیرمین نے لیڈ کیا اور اس اتحاد کا نام سرائیکستان گرینڈ الائنس رکھا گیا ۔جبکہ خواجہ غلام فرید کوریجہ کے دھڑے کا نام سرائیکی صوبہ محاذ رکھا گیا۔اس معاملے پر سرائیکی دانشور بھی نگاہ جمائے ہوئے تھے تو اس صورت کو دیکھ کر انہوں نے دونوں دھڑوں کو ایک پوائنٹ پر اکٹھا کیا کہ ایک دوسرے کے امیدواروں کو سپورٹ کیا جائے گا اور کوشش کی جائے گی کہ ہر حلقے سے امیدوار کھڑے کیے جائیں ۔ یہ پہلا موقع تھا جب سرائیکی پارٹیوں نے عملی طور پر سیاست میں حصہ لیا ۔ ان پارٹیوں کے امیدواران الیکشن تو نہ جیت سکے مگر بہت ساری خامیاں، بہت سارے مسائل سامنے آئے سیکھنے کو بہت کچھ ملا۔اس سارے عمل سے انہیں یہ معلوم ہوا کہ اب بھی ہزاروں لوگ علیحدہ صوبہ لینے کا شعور رکھتے ہیں ۔ باوجود بہت سے مسائل، روپے پیسے اور چمک دمک کی کی اس دنیا میں انہیں پھر بھی بہت اچھا رزلٹ ملا۔

خیر اب ہم دوبارہ تھوڑا سے پیچھے جاتے ہیں جب وسیب میں دو الائنس وجود میں آ چکے تو اس کے چند دنوں کے بعد ان اتحاد کو کاؤنٹر کرنے کیلئے ایک مفاد پرست ٹولے نے ڈھونگ رچایا کہ اپنا صوبہ…… اپنا اختیار جس کا کرتا دھرتا خسرو بختیار بنا اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے نام سے ڈھونگ شروع کردیا۔ چونکہ آج کے دور میں خوشامدیوں کی بڑی اہمیت ہے اور پیسے کی چمک دمک بھی کام کرتی ہے اور ہماری قوم طاقت والے کو مانتی ہے۔یعنی جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ اس لیے اس نعرے کو پذیرائی ملی اس ڈھونگی محاذ کے ڈھونگی صدر خسرو بختیار کے ساتھ اوربھی بہت سارے سیاسی ڈھونگی بھی
شامل ہوتے گئے جو ہمیشہ سے عوام کو بیوقوف بناتے آئے ہیں اور بناتے رہیں گے۔

جب اس ڈھونگی بابا کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا میڈیا میں پذیرائی ملنے لگی۔ بریکنگ نیوز چلنے لگیں۔اس ڈھونگ کی اہمیت بڑھ گئی ہماری بیوقوف عوام بھی اچھلنے لگی کہ ہمیں کل صوبہ مل رہا ہے۔ پرسوں صوبہ مل رہا ہے۔ انہی دنوں راقم نے سوشل میڈیا(فیس بک) پر ایک پوسٹ لگادی کہ" خسرو بختیار الیکشن کے بعد ہو جائے گا فرار"اس پر بہت سارے میرے سرائیکی میرے گلے پڑ گئے اور مجھے ہی برا بھلا کہنے لگے جس کا مجھ کوئی افسوس نہیں کیونکہ مجھے افسوس انکی سادگی پر ہے اور مجھے یہ کہنے لگے کہ تمہیں کیا معلوم ، خود ساختہ دانشور ، عقل کے اندھے اور پتہ نہیں کیا کیا ۔ مگر اب میری بات سچ ثابت ہو چکی آج میں ان لوگوں کا نام لیے بغیر ان لوگوں کو پیغام دیتا ہوں کہ اپنے اندر انصاف کریں اور ان ڈھونگیوں سے پوچھیں کہ صوبہ کہاں ہے یا پھر خسرو بختیار کو ڈھونڈ کر دکھائیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ خسرو بختیار وسیب سے چل بسے اور اسلام آباد کے اے سی رومز میں جا بسے ہوں۔مجھے یقین ہے اگر وسیب سے کوئی بھی اسلام آباد چلا جائے اسے ڈھونڈنے کی کوشش کرے تو پھر وہ انہیں نہ ملیں گے۔ اگر ڈھونڈ بھی لیں تو وہ خود کو مصروف ہیں کہہ کر ملنے سے انکار کر دینگے۔ کیونکہ اب تو وہ وفاقی وزیر خسرو بختیار بن چکے ہیں اور اب وہ کسی ایرے غیرے، کمی ، فقیر اور غریب لوگوں سے ملنے سے ان کو الرجی ہوتی ہے وزیر صاحب کی طبعیت خراب ہوتی ہے ۔خیر اﷲ بڑا ہے ۔

جب جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنا اور اپنا صوبہ اپنا اختیار کا نعرہ لگا اور اس کو پذیرائی ملی تو پی ٹی آئی بھی اس ڈھونگ میں رنگنے لگی اس کو بھی یہ ڈھونگ اچھا لگا اور لوگوں کو لگنے لگا کہ اب صوبہ بنے گا۔ راقم کو بھی یقین تھا کہ یہ حکومت صوبہ بنائے گی ۔ اور یہ بھی یقین تھا کہ یہ محاذ بھی پی ٹی آئی میں غرق ہو گا جو کہ ہوا ۔ مگر میرا ذاتی خیال یہ تھا کہ عمران خان کو ان ڈھونگیوں کو اپنی جماعت میں شامل نہیں کرنا چاہے مگر شاید وہ بھی بے بس تھا کیونکہ اگر وہ ان ڈھونگیوں کو شامل نہ کرتا تو اس کے وزیر اعظم بننے کے چانس مشکل نظر آرہے تھے اس لیے اسے بھی یہ ڈھونگ کرنا پڑا پھر ایگریمنٹ، سو دن میں صوبہ جیسے وعدے اور ڈرامے سب نے کیے اور آخر کار یہ محاذ پی ٹی آئی میں غرق ہوا۔ اب سو دن تو دور کی بات ہے دو سال اس حکومت کو مکمل ہونے کو آئے مگر کچھ نہ ہوا اور صوبہ تو کیا صوبے کا نام بھی کسی کو یاد نہیں۔ اس محاذ کے بننے پر صوبہ کے نام پر کافی بحث ہوئے بہت ساروں نے کہا کہ چلو صوبہ تو بن جائے جنوبی پنجاب یا ملتان ،بہاولپور جو بھی ہو نام بعد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اس پر بھی بہت سارے سرائیکی قوم پرست راضی تھے۔ مگر آج انہیں ہی طعنے سننے پڑتے ہیں کہ کہاں ہے سو دن والاصوبہ ، کہاں ہے خسرو بختیاریہاں پر اس قوم سے ایک سوال ہے کہ کب تک ایسے ڈھونگیوں کے ڈھونگ میں آتے رہیں گے۔ اپنے ذاتی اور وقتی مفاد کیلئے کب تک اپنی نسلوں کو غلام بناتے رہیں گے۔

اس سارے ڈرامے اور ڈھونگ کا نقصان سرائیکی کاز کو پہنچا اور الیکشن کے بعد سرائیکی صوبہ محاذاور سرائیکستان گرینڈ الائنس ٹھنڈے پڑ گئے کیونکہ سرائیکی قوم کیطرف سے بھی کچھ اچھا ریسپانس نہیں ملا تھا اورشاید یہی وجہ ہے کہ الیکشن کے بعد کوئی اجلاس نہ ہوسکا۔ اب کچھ عرصہ ہوا ہے کہ دیکھ رہا ہوں کہ ایک سرائیکی دانشور ایڈووکیٹ منور ضیاء اور ڈاکٹر عاشق ظفر بھٹی نے مختلف پارٹیوں کے رہنماؤں سے رابطے شروع کررکھے ہیں اور تمام پارٹیوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر متفق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ مگر شاید ابھی کچھ مسائل ہیں ،کچھ وجوہات ہیں جس وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو رہا مگر امید ہے کہ بہت جلد یہ سب ہو جائے گا اور تمام سرائیکی قائدین ایک مرتبہ پھر ایک ہی پلیٹ فارم پر موجود ہونگے اور جو بھی سرگرمی کریں گے ایک ساتھ مل کر کرینگے ۔اور مجھے یقین ہے کہ ایڈووکیٹ منور ضیاء اور ڈاکٹر عاشق ظفر بھٹی کی محنت ضرور رنگ لائے گی اور وہ اس کوشش میں کامیاب ہو جائیں گے اور تمام قائدین کو اکٹھا کر لیں گے۔

اب میں آتا ہوں اس حکومت کے وعدوں پر تو اگر ہم عوامی نقطہ نگاہ سے دیکھیں یا عوامی بات کریں تو حکومت عوام کا بھرکس نکا ل رہی ہے کوئی ایک بھی وعدہ پورا نہیں کر رہی۔ عمران خان بالکل جھوٹے ثابت ہوتے نظر آتے ہیں کیونکہ مہنگائی کا جو عالم ہے اس کو سوچ کر ہی بندے کے ہوش اڑ جاتے ہیں۔ اگر اپنی بات کروں تو میں بہت کم خریداری کیلئے جاتا ہوں یہی وجہ ہے کہ مجھے اس متعلق ایک جھٹکا لگا کیونکہ میں چند روز قبل بازار گیا اور اپنی ضرورت کی چیز طلب کی تو قیمت سن کر حیران رہ گیا اور دکان دار سے کافی بحث بھی کی اس نے مجھے کہا بھائی کس دور کی بات کررہے ہو۔ خیر ہے یہ تبدیلی سرکار ہے ۔ ڈالر کے ریٹ کا پتہ ہے ڈیڑھ سو کراس کر چکا ہے ۔ بحث کو سمیٹنے کیلئے کہا یار مہربانی کرو جو مانگا ہے وہ دو اور بس اپنے پیسے لو۔ کیا کرتا ضرورت کی چیز تھی لینی تو تھی سو مجبوراً خریدی اور چل دیا اور سوچتا رہا یار اتنا تبدیلی بھی ہوتی ہے سارا دن سوچتا رہا پھر شام کو موقع ملا بھائی کے ساتھ چلو بھائی لیٹر کوک منگواتے ہیں اس وقت پھر جھٹکا لگا جب اس نے کہا کہ 80 روپے کی ہے میں نے کہا یار کچھ عرصہ پہلے تو 60-65 روپے کی لیتے رہے ہیں ۔ اس نے بھی وہی بات کی تبدیلی سرکار ہے جناب خیر بات کو سمیٹا اور طے کیا کہ آئندہ جیسا بھی ہے چلنے اور بحث مت کرو کیونکہ یہ تبدیلی سرکار ہے اور جو اپنا فرض ہے وہ پوا کرتے رہو۔

اگر پاکستان کی موجودہ صورتحال عالمی اداروں کی رپورٹس کی نظر میں دیکھیں تو ایشین ڈویلپمنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان ساؤتھ ایشاء میں جی ڈی پی ریٹ میں چھٹے نمبر پر ہے اس وقت بنگلہ دیش سب سے اوپر 8.1، نیپال 7.1،انڈیا 6.5 ، مالدیپ 6.5، بھوٹان 5.3 کا جی ڈی پی ریٹ ہے اسکے بعد پاکستان کا نمبر آتا ہے جبکہ پاکستان کے بعد افغانستان اور اسکے بعد سری لنکا آتا ہے ۔ اسی طرح ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2019 میں سالانہ مجموعی اخراجات میں 11.5 فیصد اضافہ ہوا ہے وجہ یہ بیان کی گئی کہ سود کی مد میں 40فیصد قرض پاکستان پر چڑھاجو کہ مجموعی طور پر 21فیصد بنتا ہے بہرحال ان اعدادو شمار کا کھیل تو ہمیشہ حکومتوں میں چلتا رہا ہے اور عوام پستی رہی ہے ۔

اس حکومت سے عوام نے امیدیں وابستہ کی ہوئی ہیں کیونکہ عمران خان کے بقول باقی سب تو چور ہیں ۔ یہ بھی ٹھیک ہے کہ پی پی پی اور ن لیگ وغیرہ کے لیڈران پر مقدمات بھی عمران خان نے نہیں بنائے عوام کو ان باتوں سے مطلب نہیں ۔ عوام کیا چاہتی ہے عوام وہ چاہتی ہے جو عمران خان نے قوم سے وعدے کیے تھے ان کو پورا کرے جن میں میئرل انتخابات،نظام تعلیم میں بہتری،صحت کی بہترین سہولیات اور ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن،پولیس اور انصافی کے نظام میں بہتری،بزنس انڈسٹریز، لوڈ شیڈنگ میں کمی اور نئے ڈیمز، کھیلوں کے میدان اور سہولیات، ماحول اور سیوریج کا نظام،ملک کا مالیاتی نظام میں بہتری،کرپشن کا خاتمہ، نوجوانوں کو روزگارکی فراہمی اور ان کے علاوہ صوبہ سرائیکستان جو کہ 8کروڑ سے زائد لوگوں کا دیرینہ مطالبہ ہے۔ ان تمام پوائنٹس پر ایک پورا تحریر لکھ کر قارئین کے ساتھ شئیر کرونگا کہ کیا کہاں تک حاصل ہوا۔ اس ساری صورتحال کو دیکھ کر تو ایسا ہی لگتا ہے کہ ملک جوں جوں پیچھے جا رہا ہے اور حکمران مزے لے رہے ہیں۔ اس ساری پر ایک ہی بات کہہ سکتا ہوں کہ اﷲ خیر کرے۔ ہم سب کا اﷲ تعالیٰ حامی وناصر ہو۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 78 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ali Jan

Read More Articles by Ali Jan: 171 Articles with 40521 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: