مشرقی پاکستان میں آخری جشن آزادی

(Muhammad Aslam Lodhi, Lahore)
یہ داستان وطن عزیز سے والہانہ محبت کرنے والے اس شخص کی ہے جسے لوگ چاچا نور الدین کے نام سے پکارتے تھے۔ مشرقی پاکستان چونکہ ہمارے ہی جسم کا حصہ تھا اور اب بھی ہے۔ اس لیے خاص بطور خاص ان دنوں کی یاد کو تازہ کرنے کے لیے یہ کہانی کتاب میں شامل کی جا رہی ہے‘ جو محمد اسلام تبسم کے قلم سے ہم تک پہنچی۔

(بے شک یہ مضمون 49سال پرانا ہے لیکن جب بھی دسمبر کا مہینہ آتا ہے تو پاکستان سے محبت کرنے والوں کی آنکھوں سے اس لیے آنسو بہہ نکلتے ہیں کہ وہ پاکستان جس کو قائداعظم محمد علی جناح نے عظیم جدوجہد کے بعد آزاد کروایا تھا وہ اپنوں اور بیگانوں کی سازشوں کاشکار ہوکر دو الگ الگ حصوں میں تقسیم ہوگیا ایک حصے کانام پاکستان ہے اور دوسرے حصے کانام ظالموں نے بنگلہ دیش رکھ لیا ۔پاکستان کا مشرقی حصہ کیسے بنگلہ دیش بنا اور کس کس نے ملک کو تقسیم کرنے میں اپنااپنا کردار ادا کیا ان کے نام اب صیغہ راز میں نہیں رہے ۔ بلکہ وہ تمام لوگ اپنے بدترین انجام کو پہنچ چکے ہیں ۔ مشرقی پاکستان کے حوالے سے جناب محمد اسلام تبسم کا یہ مضمون چونکہ مجھے بے حد پسند ہے اس لیے میں اس مضمون کو من و عن قارئین کی نذر کرتا ہوں ۔)
....................
ہر سال 14اگست کو جشن آزادی مناتے وقت مجھے14اگست 1971ء کی یاد اداس کر دیتی ہے‘ جو مشرقی پاکستان میں منایا جانے والا آخری جشن آزادی ثابت ہوا۔1970ء میں میری عمر دس گیارہ برس تھی اور ہم دیناج پور میں رہتے تھے۔ دیناج پور ضلع ملتان سے بڑا تھا اور دو حصوں میں منقسم تھا۔ ایک حصہ بھارت میں اور دوسرا حصہ مشرقی پاکستان میں تھا۔ یہ ضلع چاول‘ آم اور لیچی کی پیداوار کے لیے مشہور ہے اور یہاں چینی کے کئی کارخانے بھی ہیں۔ ہم جس علاقے میں رہتے تھے‘ وہ ایک جدید کالونی تھی‘ جہاں بجلی اور سیوریج کا بہترین نظام تھا۔ اس کالونی کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ بارش کی صورت میں سڑک اور گلیوں میں پانی کا ایک بھی قطرہ نہیں ٹھہرتا تھا۔ یہ کالونی نئی نئی بنی تھی۔ اس سے پہلے یہاں آم اور لیچی کے باغات تھے‘ جو بنگالیوں کی ملکیت تھے۔ انہیں یہ گلہ تھا‘ ایوب خان کی حکومت نے ان کی زمین چھین لی۔ جس علاقے میں ہم تھے‘ وہاں اکثریت بہاریوں کی تھی‘ دوسرے نمبر پر بنگالی اور چند گھر ہندوؤں کے بھی تھے۔ دیناج پور تین اطراف سے بھارت سے ملحق تھا۔ سرحدیں چند کلومیٹر کے فاصلے پر تھیں‘ جہاں سے بہ آسانی پیدل انڈیا آ جا سکتے تھے۔ 71ء کی جنگ کے دوران جب سرحد پر گولیاں چلتیں‘ تو ہمیں گولیوں کی آواز سنائی دیتی۔ آپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم سرحد کے کتنے قریب تھے۔

فروری71ء میں الیکشن ہوئے‘ جس میں عوامی لیگ نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی‘ جس کے بعد جلسے اور جلوس کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ آئے دن ہڑتال ہوتی اور تمام بازار بند ہو جاتے۔ اس صورت حال سے لوگ خوف زدہ رہنے لگے پھر بازار مستقل بند ہو گئے اور کھانے پینے کی اشیاء کی قلت ہو گئی۔ اس دوران خبر ملی کہ ملک میں مارشل لاء لگ گیا ہے۔ حالات بہتر ہونے کی بجائے مزید خراب ہو گئے۔ تعلیمی ادارے تو پہلے ہی بند تھے۔ اب لوگوں نے کام پر جانا بھی چھوڑ دیا اور گھروں میں قیدہو کر رہ گئے۔ فوج میں بغاوت ہو گئی۔ اب آئے دن گولیاں چلنے کی آوازیں آتیں اور سڑکوں پر ملٹری کی گاڑی جس میں ای پی آر (ایسٹ پاکستان رجمنٹ) کے بنگالی سپاہی بندوقیں تانیں کھڑے ہوتے۔ علاقے میں وقفے وقفے سے آتے اور انہیں جو بھی بہاری نظر آتا‘ پکڑ کر لے جاتے اور قتل کر دیتے تھے۔

اس وقت مشرقی پاکستان میں یہ دستور تھا کہ ہر سال23مارچ14اگست‘6ستمبر اور25دسمبر کے مواقع پر پاکستان کا پرچم ہر گھر پر لہرایا جاتا تھا‘ اسکولوں میں بچوں کی حاضری یقینی ہوتی۔ انہیں اس دن کے بارے میں بتایا جاتا اور بعد میں مٹھائی تقسیم ہوتی۔ اس مرتبہ23مارچ کو کسی گھر میں پاکستانی جھنڈا نہیں لہرایا‘ سوائے ایک گھر کے‘ یہ گھر چاچانور الدین کا تھا۔ دو روز بعد25مارچ کو اکثر گھروں پر بنگلہ دیش کا جھنڈا پہلی مرتبہ لہرایا گیا۔ حالت روز بہ روز خراب ہوتے جا رہے تھے۔ فوجی گاڑیاں بہ دستور چکر لگا رہی تھیں۔ ایک روز صبح سات آٹھ بجے کے قریب ایک طرف سے دھوئیں کے بادل اٹھنا شروع ہو گئے۔ کہیں آگ لگی تھی۔ اس کے ساتھ گولیوں کے چلنے کی آوازیں آنے لگیں۔ میری والدہ نے ہم بچوں کو کمرے میں پلنگ کے نیچے چھپا دیا۔میرے والد‘ بھائی اور چچا پہلے ہی کسی اور کے گھر چھپے ہوئے تھے۔ دوپہر تک گولیاں چلتی رہیں۔ لوگ گھروں میں اذان دے رہے تھے۔ میں بھی اذان دینے کے لیے صحن میں نکل آیا۔ ابھی میں اذان دے ہی رہا تھا کہ اچانک ایک گولی امردہ کے درخت کی ٹہنی پر لگی اور ٹہنی میرے سامنے آ گری۔ میں اذان چھوڑ کر کمرے کی طرف بھاگا۔ تھوڑی دیر بعد میرے چچا آئے اور ہمیں یہاں سے بھاگنے کے لیے کہا۔ ہم سب گھر سے نکل پڑے اور گولیوں کی بوچھاڑ میں بھاگتے ہوئے ایک مکان میں گھس گئے‘ جہاں پہلے ہی بہت سے لوگ جمع تھے‘ جن میں عورتیں اور بچے تھے۔ مرد ایک جگہ لاٹھیاں‘ چھریاں اور تلوار لیے کھڑے تھے۔ عورتیں اور بچے آیت کریمہ کا ورد کر رہے تھے۔ کچھ عورتیں قرآن پڑھ رہی تھیں۔ موت ہمارے بالکل قریب تھی۔ اگلے روز صبح سویرے بہت سی عورتیں‘ جن میں کچھ زخمی حالت میں تھیں‘ جس علاقے میں ہم رہتے تھے‘ وہاں سے روتی پیٹتی ہوئی آئیں۔ انہوں نے بتایاکہ رات ان کے تمام مردوں اور لڑکوں کو قتل کر دیا گیا ہے۔ عجب منظر تھا‘ ہر طرف سے رونے پیٹنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ کوئی اپنے شوہر کی یاد میں رو رہی تھی‘ تو کوئی اپنے لخت جگر کو آواز دے رہی تھی۔ یہ منظر دیکھ کر سب نے ہمت ہار دی‘ آج رات یقینا ہماری باری تھی۔ سب لوگ ایک دوسرے سے گلے لگ کے رو رہے تھے اور اپنا کہا سنا معاف کروا رہے تھے۔ کوئی اپنی ماں کے قدموں کو پکڑے اپنا دودھ بخشوا رہا تھا۔ دن اسی طرح گزر گیا۔ عصر کے بعد اچانک دھماکوں کی آوازیں آنے لگیں۔ سب لوگ سہم گئے۔ کچھ دیر بعد اچانک ایک شور بلند ہوا کہ فوج آ گئی‘ فوج آ گئی۔ یہ سننا تھا‘ لوگ گھروں سے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہوئے نکل پڑے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے۔ کچھ رو رہے تھے کچھ شکرانے کے نفل پڑھنے میں مصروف تھے۔ صبح ہوتے ہی سب اپنے گھروں کو گئے۔ ہمارے گھر کا تالا ٹوٹا ہوا تھا‘ سارا سامان بکھرا ہوا اور صحن میں ایک چھرا پڑا ہوا تھا۔ ہم خوش تھے کہ ہماری جان بچ گئی اور اگر ہم نہ بھاگتے‘ تو ہم بھی ختم ہوچکے ہوتے۔ جن گھروں میں لوگ قتل ہوئے تھے‘ وہاں ان کی لاشیں ابھی تک پڑی تھیں‘ جنہیں دفنانا بہت بڑا مسئلہ تھا۔ سینکڑوں کی تعداد میں لاشوں کو دفنانے کے لیے ایک میدان میں بڑے بڑے گڑے کھودے گئے‘ جیسے آج کل سیوریج بچھانے کے لیے سڑک کے درمیان کھودے جاتے ہیں۔ ان گڑھوں میں ان لاشوں کو بغیر غسل پرانی چادروں اور کپڑوں میں لپیٹ کر دفنا دیا گیا۔ حالات آہستہ آہستہ معمول پر آ گئے‘ شہرسنسنا ہو چکا تھا۔ شام ہوتے ہی دکانیں بند ہوجاتی تھیں۔

اس واقعے کے چند ماہ بعد اگست کا مہینہ آ گیا۔ اس مرتبہ پہلے سے زیادہ جوش وخروش پایا جاتا تھا۔ 14اگست کے دن تمام گھروں اور دکانوں پر جھنڈا لہرا رہا تھا۔ بعض دکان داروں نے اپنی دکان کے آگے گیٹ بنائے تھے اور دکان کو جھنڈیوں سے سجایا تھا۔ میں ٹہلتا ہوا اس میدان کی طرف چل پڑا‘ جہاں مرنے والوں کی اجتماعی قبریں تھیں۔ میں نے دیکھا کہ یہاں بھی بانسوں اور پتوں کی مدد سے گیٹ بنایا گیا تھا اور چاروں طرف رنگ برنگی جھنڈیاں لگی تھیں اور گیٹ کے پاس پاکستانی پرچم لہرا رہا تھا۔ دس گیارہ بجے کے قریب ایک ٹرک آیا‘ جس پر سوار کچھ لوگ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ ٹرک رکا تو بہت سے بچے اس پر سوار ہو گئے‘ ان میں‘ میں بھی شامل تھا۔ شام تک ٹرک شہر کے چکر لگاتا رہا۔ شام کومیں واپس آ رہا تھا کہ راستے میں بارش شروع ہو گئی۔ میں بھیگتا ہوا گھر پہنچا اور یوں مشرقی پاکستان میں آخری یوم آزادی کا سورج غروب ہو گیا۔ اس دفعہ 14اگست کو سب بچوں نے چاچا نورالدین کی کمی شدت سے محسوس کی۔ چاچا نورالدین بنگالی تھا۔ وہ اکیلا ایک کرائے کے مکان میں رہتا تھا‘ اس کا آگے پیچھے کوئی نہ تھا۔ کہتے ہیں کہ اس کے والدین کلکتہ کے رہنے والے تھے‘ جو47ء کے فساد میں مارے گئے تھے۔ نورالدین کو بچوں اور پاکستان سے بہت محبت تھی۔ وہ اکثر شام کو اپنے گھر کے آگے گھاس پر بیٹھ جاتا۔ بچے اسے گھیر لیتے‘ وہ بچوں کو کھیلتا ہوا دیکھ کر خوش ہوتا تھا۔ہر سال چودہ اگست کو بچے صبح سویرے ہی چاچانورالدین کے گھر جمع ہو جاتے تھے۔ وہ بچوں کو لے کر جلوس کی شکل میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتا ہوا گلیوں کے چکر لگایا کرتا تھا۔ لوگ ا س کی اس حرکت پر ہنستے تھے‘ کوئی کہتا کہ یہ پاگل ہے‘ جب کہ کسی کی رائے یہ تھی کہ یہ جاسوس ہے لیکن چاچا نورالدین ان باتوں سے بے خبر اپنے کام میں مگن رہتا۔ جلوس واپس اس کے گھر آ کر ختم ہوتا۔ اس کے بعد وہ بچوں کو ایک ایک آنہ اور قائداعظم کی ایک ایک تصویر دیا کرتا تھا۔ چاچا نورالدین واحد بنگالی تھا‘ جو عوامی لیگ کا مخالف تھا۔ جب کوئی بنگالی نوجوان پاکستان کے خلاف بولتا‘ تو وہ اسے سمجھانے کی کوشش کرتا۔

ایک روز عوامی لیگ کے چند غنڈے چاچا نورالدین کے گھر آئے۔ انہیں گھر سے نکالا اور ان پر لاتوں‘ گھونسوں کی بارش کر دی اور اسے گھسیٹتے ہوئے لے گئے۔ وہ باربار یہی کہتا تھا‘ بھائیو‘ میں تو بنگالی ہوں‘ لیکن غنڈے یہی کہتے رہے کہ تو پاکستان کا ایجنٹ ہے۔ اگلے روز اس کی لاش جھاڑیوں سے ملی‘ لیکن کسی میں اس لاش کو اٹھانے یا دفنانے کی ہمت نہیں تھی۔ حالات بہتر ہونے پر بچے اس کے گھر میں داخل ہوئے‘ تو دیکھا اس کے صحن میں پرانے کپڑے‘ کھانے کے برتن‘ چند کتابیں اور قائداعظم‘ فاطمہ جناح‘ مولوی فضل حق اور نواب سراج الدولہ کی تصاویر بکھری پڑی تھیں۔ بچوں نے وہ تصویریں اٹھائیں اور پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہوئے اس کے گھر سے نکل پڑے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 86 Print Article Print
About the Author: Muhammad Aslam Lodhi

Read More Articles by Muhammad Aslam Lodhi: 467 Articles with 195237 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: