پابندیوں کے چار ماہ

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

ایک کروڑ کشمیریوں کا مواصلاتی رابطہ دنیا سے جبری طور پر منقطع کئے ہوئے 123دن گزر چکے ہیں۔اب کاروبار اور سرمایہ کاری کے بہانے کشمیر کی زمین بھارتی کمپنیوں کو فروخت کرنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ ان جبری پابندیوں، لاک ڈاؤن، گرفتاریوں اور مار دھاڑ کے میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ البتہ مظالم کے انداز تبدیل کئے گئے ہیں۔ کشمیریوں کی روایات اور ثقافت پر ہی چوٹ نہیں کی گئی بلکہ پوری آبادی کا رہن سہن مفلوج کیا گیا ہے۔ مقبوضہ ریاست کو فائلوں میں بظاہر دو خطوں میں تقسیم کیا گیا ہے مگر اب اسے تقسیم در تقسیم کیا جا رہا ہے۔ بھارتی میڈیا پر کبھی چند حقائق سہواً ہی سہی منظر عام پر آتے ہیں۔ مسلم اور ہندو آبادیوں کو بھی تقسیم کیا جا رہا ہے۔ پہلے مقبوضہ ریاست کے دو ڈویژن تھے۔ وادی کشمیر اور جموں۔ وادی کشمیر میں لداخ بھی شامل تھا۔ جموں میں پیر پنچال، چناب وادی کے علاقے تھے۔ راجوری اور پونچھ بھی اسی ڈویژن کا حصہ تھے۔ انتظامی طور پر ایک انسپکٹر جنرل پولیس سرینگر اور دوسرا جموں میں موجود رہتا تھا۔دونوں’ دربار مو ‘ کے ساتھ منسلک ڈائریکٹر جنرل پولیس کو رپورٹ کرتے تھے۔ اسی طرح ایک ڈویژنل کمشنر کا آفس سرینگر اور دوسرے کا جموں میں تھا۔ دونوں چیف سیکریٹری کو رپورٹ کرتے تھے۔ بھارتی آئین، ریاستی اسمبلی کی منظوری کے بغیر نافذ نہ ہو سکتا تھا۔ اب یونین علاقے بنانے کے بعد بھارتی کی مرکزی حکومت کے قوانین براہ راست دونوں یونینز پر نافذ کئے جا رہے ہیں۔ ریاست کی شناخت مٹا ئی جا رہی ہے۔ مختلف مقامات کے نام تبدیل کر کے ہندو انتہا پسند شخصیات کے نام پر موسوم کئے جا رہے ہیں۔ بھارتی کمپنیاں سرمایہ کاری کے نام پر ریاستی زمین حاصل کرنے کے لئے ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر پر دھاوا بول رہی ہیں۔ پہلے بھارتی شہری صرف لیز پر ہی زمین جائیداد حاصل کر سکتے تھے۔ اب وہ کسی بھی پابندی سے آزاد ہیں۔ بھارتی کمپنیوں کو کشمیر کی اراضی دینے کے لئے ڈپٹی کمشنرز اور محکمہ مال کو احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ انہوں نے اراضی کی نشاندہی شروع کر دی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اب تک 17ہزار کنال سرکاری اراضی بھارتی کمپنیوں کے لئے مختص کی جا چکی ہے۔ جو سرمایہ کاری کی آڑ میں انہیں دی جائے گی۔ زمین جائیداد کی خرید و فروخت شروع کر دی گئی ہے۔ سٹیٹ انڈسٹریل ڈیوپلمنٹ کارپوریشن (سڈکو)کے ایم ڈی رویندر کمار نے میڈیا کے سامنے تصدیق کی ہے کہ یہ اراضی جموں کے کٹھوعہ اور سانبہ اضلاع میں کم از کم 10ہزار کنال اراضی اور وادی کے کپواڑہ، گاندربل سمیت دیگر اضلاع میں کم از کم 7ہزار کنال رقبہ کی نشاندہی ہو چکی ہے۔بھارتی کمپنیاں سیب کی صنعت، کولڈ سٹوریج، خشک میوہ جات، زعفران، سیاحت، ہوٹل انڈسٹریز میں سرمایہ کاری کے نام پر زمین خریدنے کی دوڑ شروع کی ہے۔

اس سب کا مقصد کشمیریوں کی شناخت، ثقافت، ملازمتوں اور تعلیمی نظام، کاروبار کو نقصان پہنچانا ہے۔ یہاں تک کہ بی جے پی کی ریاستی شاخ کے لوگ بھی بھارتی پالیسی سے تشویش میں مبتلا ہیں۔ جموں سے تعلق رکھنے والے بی جے پی رہنما اور سابق نائب وزیرا علیٰ نرمل سنگھ ریاستی عوام کو بھارتی ریاست ہماچل پردیش اور شمال مشرقی ریاستوں میں زمینی اور ملازمتوں کے حقوق دلانے کے دعوے کر رہے ہیں۔ مگر یہ سب گمراہ کن ہیں۔ ہماچل پردیش اور پنجاب میں زرعی اراضی کی خرید پر پابندی ہے۔ مگرکشمیر کی زرعی اراضی کے لئے یہ سٹیٹس موجود ہی نہیں۔بھارتی کمپنیوں کے نام نہاد کاروباری منصوبے کشمیریوں کی نسل کشی اور مسلم آبادی کے انخلاء کی ہی ایک کڑی ہو سکتے ہیں۔ اگر چہ کشمیری عوام بھارتی کمپنیوں اور شہریوں کو اپنی زمین ، مکان یا غیر منقولہ جائیداد فروخت نہ کرنے کا عزم طاہر کر رہے ہیں۔ تا ہم جو زمین و جائیداد بشمول مکانات، تعمیرات، باغات، کھیت کشمیری پنڈتوں نے 1990کے بعد کشمیر سے فرار ہونے کے بعد سے کشمیریوں کو فروخت کیں۔ ان پر وہ دوبارہ قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ پروپگنڈہ مہم چلائی جا رہی ہے کہ کشمیری مجاہدین کے خوف یا زور زبردستی ان سے یہ سب خرید و فروخت کی گئی۔ اب بھارتی فورسز بھی پنڈتوں کی غیر قانونی امداد کے لئے میدان میں آ رہے ہیں۔ فورسز بندوق کی نوک پر ایسے افراد کو گرفتار کر کے ان پر مکان اور زمین کی پنڈتوں کو واپسی کے لئے تشدد کر رہے ہیں۔ خدشہ ہے کہ کشمیریوں کی قانونی طور پر خریدی گئی زمین کو چھین لینے کا سلسلہ دراز ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ کشمیر میں مکمل طور پر جنگل راج نافذ ہے۔بھارتی فورسز کو غیر اعلانیہ طور پر انتظامی اور جوڈیشل اختیارات دیئے گئے ہیں۔بھارتی فورسز ماورائے عدالت کسی کشمیری کو گولی مار کر قتل کرنے سمیت موقعہ پر کوئی بھی فیصلہ کررہے ہیں۔ وہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں۔ عدالتیں بھی بھارت کی ٹاؤٹ بن چکی ہے۔ کشمیریوں کو بھارتی عدالتوں سے کسی انصاف کی کوئی امید نہیں۔ بلکہ یہ عدالتیں کشمیریوں کے ساتھ نا انصافی اور حق تلفی کی نئی روایات قائم کر رہی ہیں۔

بھارتی جبری قوانین پر کوئی آواز بلند نہیں کر سکتا۔ ہزاروں کشمیریوں کو ان چار ماہ میں قید کر لیا گیا ہے۔جن میں تاجر، طلباء، وکیل، سول سوسائٹی کے لوگ، حریت کانفرنس کے کارکن، یہاں تک کہ خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ بھارتی عدالتیں اور میڈیا بھی کشمیردشمن پالیسیوں کے کھل کر حمایت کر رہا ہے۔ بھارت کے ساتھ دہائیوں تک وفاداری کرنے والے فاروق عبد اﷲ، عمر عبد اﷲ، محبوبہ مفتی سمیت بھارت نوازبھی جیلوں میں ہیں۔ کشمیریوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والا ایک پاکستان ہے۔ تا ہم عالمی برداری خاموش ہے۔ ترکی، ملائشیانے کشمیریوں کا بھر پور ساتھ دیا۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے بھی آواز بلند کی مگر بھارت پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔ تا ہم کشمیری بھارت کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کر رہے ہیں۔ وہ شہداء کے مشن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے۔ بھارت جو بھی کر لے ، کشمیریوں کی مزاحمت کو وہ طاقت اور جابرانہ اقدامات سے کچل نہیں سکتا۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 82 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 498 Articles with 163942 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More

Comments

آپ کی رائے
Language: