ہنگامہ ہے کیوں بپا۔۔۔۔؟

(Arshad Sulehri, )

روایتیں جب ٹوٹتی ہیں ۔جب نئے رشتے بنتے ہیں۔شور تو ہوتا ہے۔جھگڑے بھی بنتے ہیں۔توڑ پھوڑ ہوتی ہے۔برتن تبدیل ہوتے ہیں۔کئی گھر اجڑتے ہیں ۔بہت سے بستے بھی ہیں۔یہ تو ہوتا ہے۔ہوتا آیا ہے۔یہی باتیں ،ایسی مخالفانہ تنقید پیپلزپارٹی کے پہلے دور حکومت میں بھی ہوتی تھی۔پیپلزپارٹی نے بھی بڑے بڑے برج گرائے تھے۔ہوتا یہ ہے کہ برج جو گرائے جاتے ہیں ان کی جڑیں بڑی گہری ہوتی ہیں ۔دور تک ۔پھر برج کے سایے سے مستفید ہونے والےبھی متاثر ہوتے ہیں ۔تکلیف تو ہوتی ہے۔جب سایہ ہٹ جاتا ہے۔پھر عادتیں بدلنا پڑتی ہیں۔حقیقت میں عادتیں بدلنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

ناروال کی تحصیل ظفر وال کے جدی پشتی سیاستدان چودھری غلام احمد اور چودھری سرور سگے بھائی تھے ۔گجرات کے چودھری برادران کی طرح سانجھی سیاست کرتے تھے۔ایک ہی سیاسی ڈیرہ تھا۔جس کو عرف عام میں کوٹھی کہا جاتا تھا۔اب بچوں نے تقیسم کرلی ہے۔اپنی سیاست بھی الگ الگ کرتے ہیں۔علاقے میں کوٹھی میں جانے والوں کے شملے اونچے ہوتے تھے۔پولیس ،سرکاری ملازمین کے ساتھ ان کا لہجہ تحکمانہ ہوتا تھا۔کوٹھی میں نچلے درجے کے ملازمین بھی کوٹھی کے باہر صاحب ہوتے تھے۔پھر اہم ترین ہوتے جو کوٹھی کی وساطت سے سرکاری اداروں میں بھرتی ہوئے ہوتے تھے۔سرکاری ملازمت کے ساتھ باقاعدگی سے کوٹھی میں حاضری لگواتے تھے۔علاقے میں سیاست وہی لوگ کرتے تھے جن کا ربط کوٹھی کے ساتھ مضبوط ہوتاتھا۔دوسروں کے لئے سیاست شجر ممنوع تھی۔اگر کوئی سر پھرا سیاسی میدان کا رخ کوٹھی کی اجازت کے بغیر کرتا تو اسے سبق سیکھا دیا جاتاتھا۔یہ روایت بن چکی تھی۔پھر وہ روایت ٹوٹی اور بکھرگیا سب کچھ ۔آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ کوٹھی کے ساتھ جڑے ہوئے ایک ایک بندے نے کتنے پیج تاب کھائے ہوں گے۔

سچ تو یہی ہے کہ عمران خان نے عوام کو کچھ دیا ہے کہ نہیں دیا ہے مگر سیاست کی جکڑبندیاں تباہ ضرور کردی ہیں۔مجھے یہ کہنے دیجئے کہ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پھر سے جو سیاسی جمود بن گیا تھا ۔عمران خان نے توڑ کے رکھ دیا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ شہید بھٹو نے عوام کی طاقت سے برج الٹائے تھے۔عمران خان نے یہی کام چور دروازے سے کیا ہے۔آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ عمران خان کے کام میں عوام کی شمولیت کی بجائے اداروں کا استعمال کیا گیا ہے۔مجرم شہید بھٹو بھی ٹھہرائے گئے تھے۔گناہ گار عمران خان بھی ہے۔

یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ سیاست عہد کی ہوتی ہے ۔عمران خان کے عہد کے تقاضے بھی اپنے ہیں۔نسل نو جنہیں عرف عام یوتھیا سے پکارا جاتا ہے۔انہیں ایک تراشیدہ بھٹو دیا گیا ہے۔ان کی مرضی اور طبعیت کےمطابق بھٹو کی تخلیق کی گئی ہے۔

شوشل سائنس میں یہ متھ ہے کہ 35 سال بعد سماج انگڑائی لیتا ہے۔ایتھل پتھل ہوتی ہے۔پرانے رشتے ٹوٹتے ہیں ۔نئے رشتے بنتے ہیں۔عمران خان نے توڑ پھوڑ کی ہے۔نئے رشتے بنائے ہیں مگر نئے رشتے صرف ریاست اور حکمران اشرافیہ کے بنے ہیں ۔عوام کو نظر انداز کیا گیا ہے۔یہ منظرنامہ صرف اشرافیہ تک ہی تبدیل ہوا ہے۔شہید بھٹو کے کارہائے نمایاں میں عوامی رشتوں کو خاص اہمیت تھی ۔

عمران خان کے دور میں خواص کو اہمیت حاصل ہے۔عوام کے لئے کھڑکی ہے۔جس سے عوام دیکھ سکتے ہیں ۔ یہی سچ ہے کہ عوام دیکھتی رہ گئی ہے۔نواز شریف اور آصف زرداری سے عوام نے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔اپوزیشن کی اے پی سی ہو ۔احتجاج ہو یا مولانا فضل رحمن کا آزادی مارچ ہو۔کسی میں عوام کے مطالبات ،عوامی مسائل اور مشکلات کا ذکر نہیں ہے۔

جس سے کھل کر یہ بات سامنے آتی ہے کہ لڑائی حکمران طبقات کی اپنی ہے۔عمران خان کی مخالفت میں بھی بڑا عنصر حق حکمرانی کا ہے۔میڈیا میںعمران خان کے خلاف بولنے والے اور لکھنے والوں کے پی ٹی آئی حکومت سے رشتے استوار ہونے کی دیر ہے ۔پھر عمران خان بھی سب کو نواز شریف لگنا شروع ہوجائیں گے۔

ملک عزیز کی 72 سالہ تاریخ میں یہی جمہوری اور غیر جمہوری کھیل تماشے جاری رہے ہیں۔عمران خان اور پی ٹی آئی بھی کچھ عرصہ بعد اجنبی نہیں رہے گی۔پرت پلٹی ہے۔ایڈجسٹمنٹ کا مسلہ ہے۔جلدی سب کچھ نارمل دیکھائی دے گا۔صحافی ،دانشور بھی ایڈجسٹ کرلیے جائیں گےاورشور تھم جائے گا۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 117 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arshad Sulahri

Read More Articles by Arshad Sulahri: 95 Articles with 25999 views »
I am Human Rights Activist ,writer,Journalist , columnist ,unionist ,Songwriter .Author .. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: