امن و شانتی کا پروچن دینے والے اپنے بغل میں جھانک کر دیکھیں

(Dr Salim Khan, India)

وزیر اعظم مودی ایک زمانے میں بڑ بولے ہوا کرتے تھے لیکن اب مونی بابا بنتے جارہے ہیں ۔ انتخابی مہم کے علاوہ کم ہی بولتے ہیں اوراکثرو بیشتر اپنے زرخرید بھکتوں کے لکھے ٹویٹ پر اکتفاء کرلیتے ہیں مثلاً جب سارا ملک سی اے اے کی آگ میں دہکنے لگا تو انہوں نے لکھا، ”شہریت ترمیمی قانون کے حوالے سے پرتشدد احتجاج افسوس ناک اور انتہائی تکلیف دہ بھی ہے ۔ بحث و مباحثہ، تبادلہ خیال اور عدم اتفاق جمہوریت کا اٹوٹ حصہ ہوتے ہیں، لیکن عوامی املاک کو نقصان پہنچانا اورمعمولات زندگی میں خلل ڈالنا ہماری فطرت کا حصہ کبھی نہیں رہا۔‘‘ اس ٹویٹ میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ہماری سے مراد کون ہے؟ سومناتھ کے مندر سے نکلنے والے رام رتھ کا سارتھی نریندرمودی کیا اس فطرت کا حامل نہیں تھا اور اس پر سوار لال کرشن اڈوانی کون تھا ؟ وہ معاملہ تو عدالت میں زیر سماعت تھا ۔ اس کے خلاف سڑکوں پر اتر کر سارے ملک میں نفرت و عناد کی آگ پھیلانے والے مودی جی کے اپنے نہیں تو کیا پرائے تھے ؟ سابرمتی ایکسپریس میں آگ لگنے سے جلنے والے رام بھکتوں کا بہانہ بناکر پورے صوبے کو فساد کی آگ میں جھونک دینے کا کارنامہ کس کے ہاتھوں انجام پذیر ہواتھا؟ مودی جی نے ممکن ہے اپنا ماضی بھلا دیا ہو لیکن ملک کے عوام اسے کبھی نہیں بھول سکتے اس لیے’’ بحث و مباحثہ، تبادلہ خیال اور عدم اتفاق جمہوریت کا اٹوٹ حصہ‘‘ جیسے الفاظ ان کے ہونٹوں پر شوبھا نہیں دیتے ۔

وزیر اعظم مودی نے شہریت ترمیمی قانون کے متعلق لکھا کہ یہ ہندوستان کی صدیوں پرانی رواداری، خیر سگالی، محبت اور بھائی چارے کے کلچر کی علامت ہے۔ مودی جیکس ہندوستان کی بات کررہے ہیں جہاں پانچ ہزار سالوں تک ورنا آشرم کا بول بالارہا ۔ وہ تہذیب جس میں مقامی باشندوں کو شودر بناکر بنیادی حقوق محروم کردیا گیا ۔ دلتوں کے کان میں اشلوک کا ایک لفظ پڑجائے تو سیسہ پگھلا کر ڈال دیا جاتا تھا ۔ جہاں گرودکشنا کے نام پر ایک لویہ کا انگوٹھا کاٹ کر فخر جتا یاجاتا تھا ۔ کیا اسی کا نام ’’ رواداری، خیر سگالی، محبت اور بھائی چارہ ہے‘‘۔ منووادی کیا جانیں تعلیم گاہیں اور وہاں پلنے والی حریتِ فکر کیا ہوتی ہے؟ مودی جی نے لکھا کانگریس اور اس کے ساتھی طوفان کھڑا کررہے ہیں ۔ ان کی بات چلتی نہیں ہے تو آگ زنی پھیلا رہے ہیں ۔ کون لوگ آگ لگا رہے ہیں ، یہ ان کے کپڑے سے ہی پتہ چل جاتا ہے‘‘۔ اس طرح مودی جی نےجامعہ کے مسلم طلبا پر چھینٹا مارا ۔ مسلمان مکھوٹا چڑھا کر احتجاج نہیں کرتے ۔ ہم اے بی وی پی کے رہنما بھرت شرما کی مانند پولس کی وردی میں بھی نہیں چھپتےبلکہ فخر کے ساتھ اپنا حق استعمال کرتے ہیں۔

وزیر اعظم کو چاہیے کہ وہ جامعہ میں تشدد پھیلانے والوں کی شناخت کے لیے تھوڑا سا وقت نکال کر وہاں بنائی گئی ویڈیوز دیکھیں جن میں وردی کے اندر کہیں پولس والا ایک ایسی بس کے اندر جس کوئی آگ ابھی لگی نہیں ہے مائع چھڑکتا نظر آتاہے ۔ ہوسکے ت وہ و سونگھ کر بتائیں کہ کس شئے کا چھڑکاو کیا جارہا تھا ۔ اچھل اچھل کر پتھر پھینکنے والی پولس فورس کی ویڈیوز اور تصاویر دیکھ کر انہیں پہچانیں اور سزا دیں ۔ لائبریری ہر حملہ کرنے والے دستے کو لائن حاضر کروائیں ۔ اتر پردیش میں جہاں پندرہ لوگ شہید ہوچکے ہیں اور پولس کا دعویٰ ہے کہ اس نے گولی نہیں چلائی تو لباس سے پہچان کر بتائیں کہ کس کے اشارے پر کون قتل و غارت گری کررہا ہے؟ یہ تو ممکن نہیں ہے احتجاج کرنے والے خود اپنے ساتھیوں پر گولی چلانے لگیں ۔ یوگی جی اور مودی جی اس سوال کا جواب دینے کے بجائے کہ پرامن مظاہرین گولی چلانے والےکی شناخت کرنے کے بجائے امن و شانتی کا پروچن نہ دیں ۔

ذرائع ابلاغ سے دور رہنے والے وزیر داخلہ امیت شاہ بھی فی الحال شہریت ترمیمی قانون اور قومی شہریت کے رجسٹر کے متعلق مختلف ٹیلیوژن چینلس پر صفائی دیتے پھر رہے ہیں۔ ایوانِ بالا میں بل کی منظوری کو تاریخی قراردینے کے بعدوزیراعظم نے چپیّ سادھ کر امیت شاہ کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ وزیر داخلہ بار بار یہ الزام لگاتے ہیں کہ کانگریس نے ۱۹۴۷؁ میں ملک کی مذہبی تقسیم کو تسلیم کیا تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے لیکن وہ اس کی مجبوری تھی ۔ جس کانگریس نے اسے قبول کیا اس میں سردار پٹیل بھی موجود تھے جن کا فلک شگاف مجسمہ بی جے پی نے بنوایا ہے ۔ اس وقت بی جے پی یا جن سنگھ موجود نہیں تھی ورنہ اسے بھی قبول کرتاپڑتا۔بی جے پی جس ساورکر کو بھارت رتن دینا چاہتی تھی ان کی ہندو مہاسبھا نے تو نہ صرف ملک کی تقسیم کو تسلیم کیا بلکہ تاریخی حوالوں کی بنیاد پر انہیں تقسیم کا موجد مانا جاتا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح جس وقت کانگریس میں متحدہ ہندوستان کے حامی تھے اس وقت ویر وکرم ساورکر تقسیم ہند کی وکالت کررہے تھے ۔ خیر ساورکر کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے شاہ جی نے پھر سے ملک کو این آر سی کی بنیاد پر تقسیم کردیا ۔

ملک بھر میں این آر سی اور سی اے اےکے خلاف ہونے والے احتجاج کو جہاں پربزور قوت کچلا گیا اور وہاں تشدد پھوٹ پڑا جبکہ دیگر صوبوں میں یہ پر امن رہا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ تو مسئلہ اشتعال انگیز تھا اور نہ مظاہرین لیکن انتظامیہ نے پرامن مظاہرین پر گولی چلاکر ، ڈنڈے برساکر ، آنسو گیس کے گولے چھوڑکریا مظاہرین کو بڑے پیمانے پر حراست میں لے کر اشتعال دلایا ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو عوام بے خوفی کے ساتھ اپنی ناراضگی درج کراتے۔ تشدد اور امن کی تقسیم کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہے کہ جن صوبوں میں بی جے پی کی حکومت ہے یعنی پولس اس کے اشارے پر کام کرتی ہے وہیں تشدد ہوا مثلاً گجرات، کرناٹک، آسام اور اتر پردیش ۔ یہیں پر پندرہ لوگوں کے شہید ہونے کی خبرہے ۔

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف لال قلعہ سے مارچ نکالا جانا تھا، لیکن پولیس نے اس کی اجازت نہیں دی اس کے پیش نظر اٹھارہ بلکہ تیس میٹرو اسٹیشن بند کردئیے گئے۔ پچاس سڑکو ں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں ۔ سو سے زیادہ مقامات راستے بدلے گئے ۔ احتجاج کو ناکام کرنے کے لیے پولیس نے ہر گاڑی کی تلاشی شروع کردی ۔ گروگرام ایکسپریس وے پر ۸ کلومیٹر طویل ٹریفک جام لگ گیا ۔امیت شاہ کے تحت کام کرنے والی پولس نے بارہ سو سے زیادہ لوگوں کو حراست میں لیا لیکن احتجاجیوں کا جوش و خروش کم نہیں ہوا ۔ یوگیندر یادو اور عمر خالد جیسے لوگوں کی گرفتاری کے باوجود وہ بڑھتا ہی چلا گیا یہ بی جے پی کے اچھا شگون نہیں ہے۔پولیس کی ہدایت پرموبائل کمپنیوں نے دہلی کے مختلف علاقوں میں موبائل اورانٹرنیٹ خدمات بند کردیں۔ اس طرح دارالخلافہ میں رہنے والوں کو بھی پتہ چل گیا کہ جب نیٹ بند ہوتا ہے تو کیسا لگتا ہے؟

ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار مودی اور شاہ کے راج میں راجدھانی دہلی کو یہ دن دیکھنا پڑا۔ اس سے ساری دنیا کے سامنے ناک کٹ گئی۔ آسام میں نیٹ دس دن تک بند رہا اور کشمیر میں تو ۱۳۴ دنوں سے بند ہے لیکن اس دیش بھکت سرکار کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ امیت شاہ نے ہندو عوام کو پھانسنے کے لیے جو فریب کا جال بچھایا تھا وہ خود اس میں پھنس چکے ہیں۔ یہ ان کے اپنے کرتوت ہیں جس کی سزا وہ بھگت رہے ہیں ۔امیت شاہ نے پہلے تو ہندووں میں یہ بھرم پیدا کرنے کی کوشش کی یہ مسلمانوں کے خلاف ہے لیکن اب خود اس کے خلاف صفائی پیش کرتے پھر رہے ہیں ۔ ملک کا ہندو پریشان ہے کہ آخر شاہ کے پہلے والے دعویٰ کو مانے یا دوسری والی بات کو تسلیم کرے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ملک کا اکثریتی طبقہ مودی اور شاہ کی کسی بھی بات پر کان نہ دھرے اور ان کو پوری طرح مسترد کردے ۔ بھکتوں کے لیے ایسا کرنا بہت مشکل ہے لیکن عوام تو یہ کام بہ آسانی کرسکتے ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ جلد یا بہ دیر بھکت بھی ان کا ساتھ چھوڑ جائیں گے اور بعید نہیں کہ مودی جی اپنی چمڑی بچانے کے لیے پھر سے شاہ جی کو بلی کا بکرا بنا دیں ۔ گجرات میں عشرت جہاں انکاونٹر کے وقت انہوں نے یہی کیا تھا کہ جیسے ہی پھانسی کا پھندا شاہ جی کے گلے میں تنگ ہوا مودی جی نے اپنا دامن جھاڑ کر ان کا استعفیٰ لے لیا ۔ اس کے نتیجے میں آگے چل کر امیت شاہ کا گجرات سے دیس نکالا ہوگیا۔ امیت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ فی الحال مخالفین کی جانب ہورہا ہے لیکن اگر کل کو یہ آواز بی جے پی کے اندر سے اٹھنے لگے تو بعید نہیں کہ پھر سے راجناتھ سنگھ کو وزیرداخلہ بناکر امیت شاہ کی خدمات پارٹی کے صدر تک محدود کردی جائیں ۔ اسی خوف سے وہ ابھی تک پارٹی کی صدارت سے چپکے ہوئے ہیں اس لیے کہ کہیں ایسا نہ ہو وزارت بھی جائے اور صدارت بھی چلی جائے ۔ شاہ جی فی الحال بیک وقت دو کشتی پر سوار ہیں اور ان کے درمیان توازن قائم رکھنے کی سعی کررہے ہیں ۔ بعید نہیں کہ اس کوشش میں وہ خود درمیان میں گرکر ڈوب جائیں یا ان دونوں کو یعنی سرکار اور پارٹی کو اپنے ساتھ لے ڈوبیں ۔ ان امکانات میں سے کیا حقیقت بنے گا یہ تو وقت ہی بتائے گا؟

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 151 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 913 Articles with 300702 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: