جماعت اسلامی کشمیر مارچ

(Mir Afsar Aman, Islamabad)

جماعت اسلامی پاکستان کی طرف ۲۲؍ دسمبر،اسلام آباد ،ڈی چوک میں کشمیر مارچ کا اعلان کیا گیا تھا۔ پنجاب،آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ سے جماعت اسلامی کے کارکنان، بچے ،بوڑھے،نوجوان،خواتین، برادر تنظیمیں سول سوسائٹی کے لاکھوں لوگ شریک ہوئے۔ حدِ نگاہ تک انسانوں کا ایک سمندر تھا جو کشمیر مارچ اسلام آباد میں اُمنڈ آیا۔ پروگرام وقت پر شروع کیا گیا اور مغرب کے وقت پر ختم ہوا۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کشمیر مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں موجود لاکھوں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا یہ سمندرکشمیر کی آزادی،پاکستان کی حفاظت اور دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔کشمیر ساری دنیا اور امت مسلمہ پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔سوا کروڑ کشمیریوں کے بچانے اورانہیں حق کودارادیت دلانے کے لیے جماعت اسلامی اپنا کردار اداکرے گی۔کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہم اپنی شہ رگ کے لیے جان کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ کشمیریوں نے ۱۹۴۷ء سے اب تک پاکستان کے لیے پانچ لاکھ جانوں کی قربانیاں دیں ہیں۔سفاک بھارتی فوج نے بین لاقوامی طور پر ممنوع بلیٹ گنیں چلا کر ہزاروں کشمیری نوجوان کو بینائی محروم کر دیا۔۱۲؍ ہزار عزت ما ٓپ کشمیری عورتوں کی بھاری درندہ سفاک فوجیوں نے آبروریزی کی۔ امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ حکومت پاکستان کی حفاظت اور آزادی کشمیر کے لیے جہاد فی سبیل اﷲ کا اعلان کر کے واضع روڈ میپ دے۔سید علی گیلانی، یاسین ملک، شبیر شاہ، آسیہ اندرا بی،میر واحظ فاروق اور دیگر کشمیری لیڈروں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کی بائیس کروڑ پاکستان ،آزاد کشمیر گلگت و بلتستان کے عوام آپ کے ساتھ گھڑے ہیں۔کشمیریوں کوپیغام دینا چاہتا ہوں ہم آپ کے اور آپ ہمارے ہیں۔ کشمیر کے گلی کوچے ویران ہیں۔مودی نے کشمیر کو بھارت کے اندر ضم کر لیا ہے۔ کشمیر نام کی کوئی ریاسست دنیا میں موجود نہیں۔کشمیر میں اُردو زبان ختم کر ہندی زبان رائج کر دی گئی۔سری نگر اسٹیڈیم اور سری نگر ریڈیو کا نام تک تبدیل کر دیا گیا ہے۔ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کے بھارت کی جیلوں میں بند کر تشدد کا نشانی بنایا جا رہا ہے۔

ایوانوں میں بیٹھے حکمران گونگے اوربہرے ہیں۔انہیں اپنا اقتدار عزیز ہے۔مودی گجرات اور بابری مسجدکا قاتل ہے۔مودی نے پوری ریاست کشمیرکو ایک جیل خانہ بنا دیا ہے۔

دنیا کا طویل ترین محاصرہ کشمیر کا محاصرہ ہے۔ سوا کروڑ کشمیری پاکستان کے نامکلمل ایجنڈے کو مکمل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ میں ٹیبو سلطان بنو ں گا۔مغل بادشاہ ظفر نہیں۔مگر اقوام متحدہ میں ایک زور دار تقریر کر بیٹھ گئے۔ کہتے ہیں جو لائن آف کنٹرول کی طرف گیا وہ پاکستان کا غدار تصور کیا جائے گا۔یہ مایوسی نہیں تو اور کیا ہے؟ وزیرا عظم صاحب اگر آپ کشمیریوں کی مددنہیں کر سکتے تو کرسی چھوڑ دیں۔اس ملک میں ایسے لوگ موجود ہیں جو پاکستان کی حفاظت او ر کشمیر کو آزاد کرا سکتے ہیں۔نظام مصطفےٰ اور کشمیر کی آزادی ہماراہدف ہیں۔وزیر اعظم ایک تقریر کرکے سنگ مر مر کے محلوں میں لیٹ گئے۔ ٹرمپ کوثالث بنا یا۔ ٹرمپ نے موددی سے ہاتھ ملایا اور اعلان کیا ہم نے ریڈیکل اسلام کے خلاف سے لڑنا ہے۔مودی اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھ رہا ہے۔ کشمیر کے بارے میں کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔وزیر اعظم نے کہا تھاکہ ہم نے آخری فوجی گولی اورآخری فوجی تک لڑنا ہے۔ایک سال پانچ ماہ گزر گئے ہیں۔ ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھایا۔ مودی کشمیر کے پانیوں کا رخ موڑ رہا ہے۔پاکستان کو صحرا بنانا چاہتا ہے۔ ساری دنیا کے مظلوم مسلمانوں کی نگاہ پاکستان کی طرف اُٹھتی ہے۔موجودی حکومت نے ادارے تباہ کیے۔معیشت کمزور کر دی۔مہنگائی عروج پر ہے۔غریب غریب تر اور امیر امیر ترہوتا جارہا ہے۔

سردا ر مسعود نے کشمیر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کو خراج تحسین پیش کرناچاہتا ہوں۔جموں وکشمیر کے عوام کی طرف سے شکریہ ادا کرتا ہوں ۔پوری دنیا میں جماعت اسلا می نے کشمیر کا پرچم بلند رکھا۔برطانیہ ،امریکا اور بنگلہ دیش میں کشمیر کانام روشن کیا۔کشمیریوں کی مدد کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی پر پابندی لگائی گئی۔پانچ اگست کے بعد پوری دنیا نے کشمیریوں کا ساتھ دیا مگرجماعت اسلامی نے مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ صحیح طریقہ سے لڑا۔ کشمیریوں کی نسلیں جماعت اسلامی کی شکر گزار رہیں گی۔جماعت اسلامی کی قیادت ہی فعال ہے۔میڈیا پر مسئلہ کشمیر کو نہیں اُٹھایا گیا۔ مگر سراج ا لحق نے شہروں شہر کشمیر ریلیاں نکال کر مسئلہ کشمیر کو زندہ کیا۔پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کشمیر کا سودہ نہیں کرنے دیں گے۔اگر پہلے بہتر سالوں میں کشمیر کا کوئی سودہ نہیں کر سکا تو ان شا اﷲ اب بھی کوئی بھی کشمیر کا سودہ نہیں کر سکتا۔سردار مسعود صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ کشمیر پر مشترکہ پالیسی بنانی چاہیے کشمیری پاکستانی اوآزاد کشمیر کے عوام سے کہتے ہیں کہ ہم تومحصور ہیں،آپ تو آزاد ہیں۔ آپ کو کشمیر کے لیے قدم اُٹھنا ہو گا۔بھارت کا آرمی چیف کہتا کہ ہم نے تیاری کر لی ہیں ہم آزادکشمیر،گلگت اور بلتستان پر بزور قبضہ کر لیں گے۔ ایسا ہوا تو یہ جنگ پاکستان کے خلاف تصور کی جائے ۔ ہم پاکستاان اور آزاد کشمیر کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ ہمیں اس وقت اتحاد کی سخت ضرورت ہے۔اس وقت ساری دنیا اور اقوام متحدہ نے کشمیر کے مسئلہ کو اُٹھایاہے۔ ان کی ہمدردیاں کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی طرح دوسری جماعتیں بھی آزادیِ کشمیر کے لیے آزاد بلند کریں۔جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے امیر ڈاکٹر خالد محمود نے کشمیر مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر دو سوسالوں سے میدان جنگ میں رہا ہے۔ہمارے بزرگوں نے کشمیر کے دونوں خطے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان خود آزاد کرائے۔مجائدین سر نگر تک پہنچ گئے تھے۔ آج کچھ لوگ اسلام آباد میں بیٹھ کر اعلان کر رہے کہ کشمیریو ہم تمھارے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہا تقسیم ِکشمیر کے کسی بھی فامولے کو نہیں مانتے۔ حکومت جہاد فی سبیل اﷲ کا اعلان کریں ہم کشمیر آزاد کرائیں گے۔کشمیری مائیں ، بہنیں بیٹیا ں جماعت اسلامی کی شکر گزار ہیں کہ وہ ہر وقت کشمیریوں کی مدد کے یے تیار رہتے ہیں۔

کشمیرمارچ سے پنجاب ، خیبر پختونخواہ جماعت اسلامی کے امراء ے خطاب کیا۔جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر میاں محمد اسلم، لیاقت بلوچ اور سیکر ٹیری جرنل امیر العظیم ممبر قومی اسمبلی مولانا چترالی نے بھی خطاب کیا۔ آزاد کشمیر کی ممبر اسمبلی نے جموں و کشمیر کے عوام کی طرف سے جماعت اسلامی کا شکریہ ادا کیا۔ آزاد جموں کشمیر کے سابق امیر اور ممبر آزاد کشمیر اسمبلی عبدلرشید ترابی نے دنیا،اقوام متحدہ اور بھارت کو الرٹ کرتے ہوئے ،کشمیر کے لیے ۱۵؍ نکاتی قراراداد منظور کی گئی۔ اس میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عمل کرائے۔ اس قراردادکو لاکھوں لوگوں نے ہاتھ اُٹھا کر منظور کیا۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 178 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mir Afsar Aman

Read More Articles by Mir Afsar Aman: 853 Articles with 383128 views »
born in hazro distt attoch punjab pakistan.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: