اِردوان مدرسے سے ایوانِ اقتدار تک

(Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed, Karachi)

رجب طیب اردوان بلاداسلامیہ کا21ویں صدی کے ابتدائی دورمیں عالمی ساست کے منظرپرابھرنیوالاایسا ستارا ہے۔جس نے مغرب کی استعماری قوتوں کودہلا کررکھ دیا ہے اللہ اس بطلِ جلیل کی حفاظت فرمائے۔استعماری ان کی جان کے درپے رہیں گے۔ کیونکہ ان قوتوں نے اسلامی دنیاکےافق پرابھرنے والے ہرایسے بے باک مجاہدوں کواپنے مذموم ارادوں کی دیوارسمجھتےہوئےاپنے زرخریدلوگوں کےہاتھوں موت کےگھاٹ اتروادیا ہے۔ جن میں شاہ فیصل شہید،ذوالفقارعلی بھٹوکےعلاوہ کئی اورنام بھی لئے جاسکتے ہیں،اور صدام حسین کوان قوتوں نےخودجارحیت کرکےاپنےراستےسےہٹادیا تھااورڈاکٹرعبدالقدیر کومرواتونہ سکےمگرزندہ اورآزادرکھ کربھی پابندہ سلاسل اپنےزرخروں کےذریعے کرایاہواہے۔اس وقت استعماری قوتیں طیب اردوان پرتاک لگائے بیٹھی ہیں۔ کیونکہ 2023 کے بعدخلافتِ عثمانیہ کی تخریبی پرکیا جانےوالا100سالہ معاہدہ لوزان دم توڑ دےگا اور ترکی ماضی کی پابندیوں سے آزاد ہوجائے گا۔

طیب اردوان ترکی کے ایک غریب خانوادے میں 26فروری1954کوپیداہوئے۔غربت اورخاندان کی اسلامی اقدارکی وجہ سےانہیں مدرسے کی تعلیم زیادہ سوٹ کرتی تھی۔ جس کے بعد مدرسے فارغ ہوکر1978 میں شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔اسکے بعد انہوں نےمرماریونیورسٹی سے1981میں گریجویشن کےبعدصحیح معنوں میں عملی زندگی میں قدم رکھا۔ اسلامی رفاح پارٹی کے پلیٹ فارم سے1994میں استنبول کے میئر منتخب ہوئے جس پر1998تک کا م کیا اورشہراستنبول کی کا یا پلٹ کے رکھدی۔

2001 میں انہون نے جسٹس پارٹی(اے کےپی)کی بنیادرکھی۔ترکی میں حکومتی لیول پراسلام پسندی کو نا پسند کیاجاتا رہا ہے۔2002 میں اہنوں نے مرکزی اسمبلی کا انتخاب جیتامگرانکو اپنی اسلام پسندی کا خمیازہ بھگتنا پڑگیااوران پر سیاسی پابند لگاکرچارماہ قید میں بھی میں رکھا گیا۔تیکنکی وجہ سے اردوان کوانتخاب جیتنےکے باوجوداقتدارسے محروم رکھا گیا۔جسٹس پارٹی کےایک بنیادی رکن عبداللہ گل کووزیرِاعظم بنا دیاگیا۔قانون میں ترمیم کے بعدان پرسے سیاسی پابندی اٹھالی گئی اور2003میں انہوں نےترکی کے وزیرِاعظم کا حلف اٹھا لیا۔

2014میںمیں عوام میں مقبولیت کی وجہ سے وہ ترکی کے صدارت انتخاب میں کامیاب ہوئے ۔مگر امریکہ میں بیٹھے ہوئے فتحالہ گولن اور استعماری قوتوں کے اشارے پر2016میں ملک میں فوجی بغاوت ہوئی تو عوام نے اسڑکوں پر نکل کر اس فوجی بغاوت کو ناکام بنا دیا۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 105 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed

Read More Articles by Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed: 275 Articles with 100733 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: