ہار کی ہیٹرک : بھاجپ مکت بھارت کی جانب ایک اور قدم

(Dr. Salim Khan, India)

کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ جھارکھنڈ میں ہار کی ہیٹرک کرنے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی کیا سوچ رہے ہوں گے؟ میرے خیال میں وہ سوچ رہے ہوں گے کہ کاش ۲۰۱۹؁ کے قومی انتخاب میں جیت کے بجائے شکست سے دوچار ہوکر وہ بھی ایل کے اڈوانی کی مانند سکون کی زندگی گزار تے اوربار بار کی رسوائی سے تو بچ جاتے ۔ اس طرح گھٹ گھٹ کر مرنے سے تو اچھا ہے کہ انسان یکبارگی دم توڑ دے۔ یہ تو پہلا ہی سال ہے مشیت نے مودی جی کی سکرات کا عالم بہت طویل لکھا اور جب وہ اقتدار سے فارغ ہوں گے اس وقت تک بھارت بھاجپ مکت ہوچکا ہوگا۔ بھارت کو بی جے پی سے مکتی دلانے کا کام مشیت ایزدی اس شخص سے لے رہی ہو جو ہندوستان کو کانگریس مکت کرنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن قسمت کے آگے کس کی چلی ہے اور کس کی چلتی ہے۔ لوحِ محفوظ میں جس کسی کے لیے جو رسوائی لکھی ہوتی ہے وہ اس کا مقدر بن کر رہتی ہے۔

مودی اور شاہ کی جوڑی جاتے جاتے ان سارے مسائل کو اپنے ساتھ لے کر جارہی ہے جس کے سہارے وہ اقتدار میں آنے کے خواب دیکھا کرتے تھے۔ مسلم پرسنل لاء یعنی قانون شریعت میں مداخلت ان کا بہت بڑا سپنا تھا ۔ طلاق ثلاثہ کا قانون بناکر ان لوگوں نے اس میں جزوی کامیابی حاصل کی اور پھر کشمیر کی دفع ۳۷۰ بھی ان کا دیرینہ خواب تھا اس کو بھی ختم کردیا۔ اس کے بعد جو انتخابی میدان میں کودے تو مہاراشٹر اور ہریانہ دونوں جگہ ہار گئے۔ قدرت کا کرنا دیکھیے کہ ہریانہ میں انتخابی ناکامی کے باوجود مرتے پڑتے سرکار بنا لی لیکن مہاراشٹر میں جیت کے باوجود سرکار نہیں بناسکے۔ یعنی ایک جگہ انتخابی ناکامی اور دوسری جگہ حکومت سازی میں ناکامی ہاتھ لگی ۔ اس کے بعد رام مندر کا فیصلہ اپنے حق میں کروالیا اور جھارکھنڈ میں جاکر اعلان کردیا کہ چار ماہ کے اندر شاندار مندر بن کر تیار ہوجائے گا لیکن جھارکھنڈ کے لوگوں نے چار دن کے اندر سرکار سے بے دخل کر کے بتادیا کہ اب بہت چکی جملہ بازی ۔ جائیے ایودھیا میں رام مندر کی سیوا کیجیے ۔ حکومت کرنا تمہارا کام نہیں ہے۔ بی جے پی نے این آر سی کا مسئلہ اٹھا کر آسام کے اندر اپنی شکست کی تیاری کرلی ہے۔

مہاراشٹر میں اس کی حلیف شیوسینا نے ساتھ چھوڑ دیا اور دشمنوں سے جاملی ۔ جھارکھنڈ میں بھی اے جے ایس یو نے خیر باد کہہ دیا اور ضرورت پڑی تو دشمن کے خیمہ میں چلی جائے گی لیکن اس کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی ۔ اب آسام گن پریشد کی باری ہے۔ آسام انتخاب سے قبل وہ بھی بی جے پی کو لات مار کر اپنا راستہ ناپ لے گی اور بی جے پی کے لیے آئندہ انتخاب جیتنا بے حد مشکل ہو جائے گا ۔ آسام کے اندر بھی اگر یو ڈی ایف ، اے جی پی اور کانگریس ایک ساتھ ہوجاتے ہیں جیسا کہ جھارکھنڈ میں ہوا جہاں کانگریس آر جے ڈی اور جھارکھنڈ مکتی مورچہ ساتھ ہیں یا مہاراشٹر میں شیوسینا ، کانگریس و این سی پی کے ساتھ ہے تو بی جے پی کے لیے منہ چھپانا مشکل ہوجائے گا ۔ویسے شمال مشررقی ہندوستان کے عوام نے بی جے پی اور آرایس ایس کے دفاتر کو جلا کر اپنے غم و غصے کا اظہار کرہی دیا ہے۔

جھارکھنڈ انتخاب کا سیدھا اثر بہار پر پڑے گا نتیش کمار کی جے ڈی (یو) اور ایل جے پی نے الگ سے انتخاب لڑا اور اب وہ کسی نہ کسی بہانے سے اس ڈوبتے جہاز سے نکل کر بھاگ جائیں گے۔ اس لیے بہار کی حکومت میں سے بھی بی جے پی کی حصے داری بہت جلد ختم ہوجائے گی ۔ دسمبر ۲۰۱۷؁ میں این ڈی اے کے پاس ۱۹ صوبائی حکومتیں تھیں۔ اس کے سال بعد مدھیہ پردیش ، راجستھان اور چھتیس گڈھ میں بی جے پی کو دھول چٹا دی ۔ اس کے بعد آئے دن وہاں پر تختہ پلٹ کی خبر آتی تھی لیکن پھر ہوا ہوجاتی تھی۔ اس کے بعد تیلگو دیسم نے آندھرا پردیش میں بی جے پی کا ساتھ چھوڑ دیا اور الیکشن ہار گئی مگر این ڈی اے کی ایک اور ریاست کم ہوگئی۔

مہاراشٹر کے اندر شیوسینا نے بھاجپ کا ساتھ چھوڑ کر کانگریس اور این سی پی کے ساتھ حکومت سازی کی تو ایک بڑا صوبہ این ڈی اے کے ہاتھ نکل گیا۔ جموں کشمیر میں بھاجپ نے خود اپنے پیر کلہاڑی چلائی اور اب وہاں صدر راج نافذ ہے۔ صوبے کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاچکا ہے اور اب جموں کے لوگ بھی اس سے نالاں ہیں ۔ اس بیچ کرناٹک ، میزورم اور تریپورہ میں این ڈی اے سرکار بنانے میں کامیاب تو ہوئی لیکن ان میں سے صرف ایک بڑا اور باقی دو بہت چھوٹے صوبے ہیں۔ ۔ اس لیے اب یہ حالت ہے پہلے جہاں دو سال قبل 72 فیصد ملک پر بی جے پی کی حکومت تھی اب وہ گھٹ کر 42فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ بھاجپ کے مخالفین کی 12 صوبوں میں حکومت ہے اور ان میں کانگریس کے پاس 6 ہیں ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ملک بتدریج کانگریس مکت ہورہا ہے بھاجپ سے مکتی حاصل کررہا ہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 221 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 954 Articles with 315546 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: