میری پسندیدہ سیاستدان۔بے نظیربھٹوشہید

(Ali Jan, Lahore)

30ستمبر1967کوپاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین شہیدذوالفقارعلی بھٹونے پی پی پی کی بنیادرکھی اس وقت ایسی جماعتیں بھی تھیں جوپاکستان بنانے میں بھی پیش پیش رہی تھیں اوراان پارٹیوں نے ذوالفقارعلی بھٹوکوشمولیت کی دوعت دی اگرشہیدبھٹوان میں سے کسی جماعت میں شامل ہوجاتے تو انہیں کوئی اچھی پوزیشن بھی مل جاتی مگران کی جوسوچ تھی اورجوانہوں نے پاکستانی قوم کیلئے کرناتھاوہ کوئی اورپارٹی کرہی نہیں سکتی تھی وہ غریبوں مزدوروں کے دکھ درد سمجھتے تھے اسی وجہ سے انہوں نے نعرہ لگایا روٹی ،کپڑاورمکان یعنی ہرعام وخاص کی یہی پہلی ضروریات ہیں شہیدبھٹوکے منشورکے چارنکات تھے اسلام ہمارادین ہے،جمہوریت ہماری سیاست ہے ،سوشلزم ہماری سیاست ہے اورعوام طاقت کاسرچشمہ ہے یہی منشورلے کے وہ چلتے گئے اورکارواں چلتاگیااورانہوں نے وزیراعظم بن کے ثابت کردیاکہ ملک کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی ہے ایسے ہی عوام دوست لیڈرکے گھرشیردل بیٹی پیداہوئی اورانہوں نے باپ کی طرح پاکستانی عوام کاماں کی طرح خیال رکھاکیونکہ انہوں نے اپنے باپ کے ساتھ رہ کرسیاست کے گرسیکھے تھے اسی لیے بے نظیربھٹوشہیدنے بھی ظالم اورجابرحکمرانوں کے آگے جھکنانہیں سیکھاایسے ظالم لوگ ہمارے معاشرے میں تب سے ہیں شہیدذوالفقارعلی بھٹوکی شہادت کے بعدباپ کامنہ تک نہ دیکھنے دیاابھی ذوالفقارعلی بھٹوکاکفن میلابھی نہ ہواہوگاکہ ایک اورقیامت ٹوٹ پڑی اورشاہنوازبھٹوکوموت کی نیندسلادیاگیاقیدبند،کوڑے،ریاستی تشدد،منفقانہ رویے،حاسدانہ چالیں ،پھانسیاں اورجلاوطنیاں وہ کون سی چالیں ہیں جوبھٹوخاندان اورپاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ نہ کھیلی گئی ہوں ۔سیاسی منافقین نے محترمہ بے نظیربھٹوکوجلاوطن توکیاگیامگران کی محبت عوام کے دلوں میں ختم کرنے میں ناکامیاب ہوئے ۔اسی لیے توہ تمام تردھمکیوں،اورخطرت کے باوجود 18اکتوبر2007کوپاکستان واپس آگئیں اوران کے استقبال کیلئے ایک نہیں دونہیں ہزارنہیں اور لاکھ بھی نہیں بلکہ پوراملک امڈآیاشہرقائداستقبالی نعروں سے گونج رہاتھاہرطرف بھٹوزندہ ہے کے نعرے ان کی خوشی اورجوش آج بھی یادہے اورمنظرٹھہرساگیاہے جب وہ لیاقت باغ کے وسیع وعریض میدان میں عوام کے ٹھاٹھیں مارتے سمندرسے خطاب کررہی تھیں اوران کی بات آج بھی کانوں سے جانے کانام نہیں لے رہی ان کے الفاظ یوں تھے’ وہ نہیں جانتے،وہ نہیں جانتے ‘زندہ ہے بھٹوزندہ ہے وہ اپنی مسکراہٹ سے وطن عزیز کے لوگوں کویقین دلاناچاہتی تھی کہ اب خوشیوں کے دن آرہے ہیں وہ بے بس وکس عوام کواپناہونے کااحساس دلارہی تھیں کسان جوملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں انہیں بتاناچاہتی تھی کہ اب کمزوری کے نہیں مظبوطی کے دن آگئے ہیں پاکستان پیپلز پارٹی کی نوجوان قیادت کوفتح مندی کی منزل دکھارہی تھیں وہ اپنے ہاتھ کوہوامیں لہراکے دہشت گردوں کوللکاررہی تھیں کہ وہ سوات میں جھنڈالگائیں گی۔ہماراملک خطرے میں ہے تودشمن یہ نہ بھولے کہ ہم ایٹمی طاقت ہیں ہم اپنے ملک کواپنی جان کے آخری قطرے تک حفاظت کریں گے اوروہ اپنی تقریر ختم کی اورجلسے کی کامیابی پرخوش ومسروردکھائی دے رہی تھیں وہ مسکراتے اورکھلکھلاتے چہرے کارخ عوام کی طرف کیااورہمیشہ کی طرح والہانہ اندازمیں اپنی عوام کوالوداع کہا۔کئی سال بیت چکے ہیں آج بھی لوگ ماتم کناں ہیں ہرشخص کی آنکھ اوردل میں فرش عزا بچھاہواہے ۔

27دسمبرکاوہ دن میری آنکھوں سے اوجھل ہونے کانام نہیں لیتا جب ماں کی طرح پیارکرنے والی اپنی عوام کو الواداع اورپیاردے رہی تھی اوربزرگوں کیلئے اٹھکیلیاں کرتی بچی نامعلوم سمت سے آنی والی گولیوں کے ساتھ گاڑی میں گری اوراپنے چاہنے والوں کوروتاچھوڑگئی اس کے بعدموت کارقص،چیخیں ،آہیں اورسسکیاں ہمارے لیے چھوڑگئیں بے نظیرکوشہیدکرنے والے ملک دشمن یہ سوچتے ہیں کہ وہ مرگئی ارے نہیں نہیں تم نے سنانہیں کہ شہیدمرتے نے بلکہ زندہ ہیں بے نظیربھی اب ہردل میں رہتی ہے جیسے کہتے ہیں ناں تم کتنے بھٹوماروگے ہرگھرسے بھٹونکلے گایہی نعرہ سچ ہوگیاہے اب ہردل میں بے نظیربستی ہے اورمادی پیکرسے آزادبھٹوکی روح آج بھی اس دنیامیں راج کرتی ہے عوام سے محبت کرنے والے بھٹوخاندان کے چارسپوت گڑھی خدابخش میں دفن ہیں جہاں 27دسمبرکولوگ پہنچ کے اپنی محبت کی یاددہانی کراتے ہیں اورظالم وجابرحکمرانوں کویاددلاتے ہیں کہ آج بھی بھٹوزندہ ہے ۔انہیں معلوم تھاکیونکہ انہں دھمکیاں دی گئیں مگروہ اپنی عوام سے کئے وعدے کے مطابق اپنے باپ شہیدذوالفقارعلی بھٹوکے مشن کوآگے بڑھانے کیلئے سارے خطروں کوپشت پیچھے ڈال کے جلسے میں پہنچی وہ وطن عزیزکو بحرانوں سے نکالناچاہتی تھیں مگرقاتل نے 27دسمبر2007کو آپ کونشانے پرجالیااورآپ گاڑی میں جاگری جس سے آپکی سیاست کے 35سال توپاکستان پرقربان ہوئے اس کے ساتھ آپ نے اپنی زندگی بھی اس ملک کیلئے قربان کرکے اپنے باباکے پہلومیں ہمیشہ کیلئے سوگئی اب پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت بلاول بھٹوکے ہاتھ میں ہے اورجیالے بلاول بھٹوکوپاکستان کاوزیراعظم دیکھناچاہتے ہیں کیونکہ بلاول بھٹوکے ہاتھوں میں ہے جوکارکن دوست اوراپنے نظریات پرفولادی عزم کے ساتھ ڈٹ جانے والی شخصیات کے طورپرمشہورہیں پاکستان پیپلزپارٹی کی سیاست عوام کی سیاست ہے اورپاکستان پیپلزپارٹی کااقتدارعوام کی امانت ہے جوعوام ہی کی ترقی اورخوشحالی کاضامن ہے امیدہے بلاول بھٹواپنے ناناجان اوراپنی امی جان بے نظیربھٹوشہیدکے کی طرح عوام کی فلاح وبہبود کیلئے جدوجہدکرتے رہیں گے کیونکہ بلاول بھٹوکی صورت میں ہمیں مدبرسیاسی رہنمامل چکاہے جن کی دوراندیشی اوفیصلہ سازی نے ہمیشہ ملک میں جمہورت کومضبوط کیا اب وہ دن بہت قریب ہے جب بلاول بھٹواسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیرمملکت ہوں گے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 77 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ali Jan

Read More Articles by Ali Jan: 171 Articles with 40518 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: