’پھنسے رہو منّا بھائی‘

(Shamim Iqbal Khan, India)

بھارت کے بلوان ’وزیر داخلہ ‘ نے بڑا بل لگا کر یہ بات کہی کہ کانگریس نے مذہب و ذات کے نام پرملک کا بٹوارہ کیا تھا، ہم ان کے کام کو آگے بڑھا رہے ہیں جس کے لیے این․آر․سی ․ اور سی․اے․اے․کو لاگو کرنا ضروری ہے۔مائی ڈیئر گورنمنٹ! آپ تو کانگریس مکت بھارت دینے والے تھے لیکن آپ تو ان کی ہی پگڈنڈی پر چلنے لگے۔یہ اچانک ’ہردئے پریورتن‘ کیسے ہو گیا؟

ہمارابوڑھا ملک جو ابھی تک ’آدھونک‘ بننے کی دوڑ میں منزل تک نہیں پہنچ پا رہا ہے اس کی کئی وجوہات ہیں۔نوکری دینے کے جھوٹے واعدوں میں نو جوانوں کو الجھایا گیا۔پڑھا لکھا نوجوان جب نوکریاں مانگنے لگے تو ان سے کہا گیا ’’بھےّہ!دوسروں کی نوکری میں خواب میں بھی سکون نہیں ملتا۔اس چکر میں کہاں پڑے ہو! اپنا کاروبار کرو، پکوڑے تلو، بیچواور روزی کماؤ،اگر کسی نالے کے کنارے ٹھیلہ لگانے کی جگہ مل جائے تو کیا کہنے، مفت میں نالے کی گیس سے ایندھن کا خرچہ بھی بچے گا۔اگر چائے کا ٹھیلہ ہے تو ’تازہ‘ چائے کی تازگی اور بڑھ جائے گی‘‘۔ مفت کے اس بیش قیمتی مشورے پرکتنے نوجوانوں نے عمل کیا، اور پکوڑا و چائے بیچ کر اپنی روزی روٹی چلا رہے ہیں یہ قابل تحقیق ہے لیکن میرا دعویٰ ہے کہ اس بیوقوفی کی تحقیق کے لیے کوئی ادارہ آگے نہیں آئے گا۔

بھارت کی آبادی بہت بڑھ گئی ہے۔عقل خور بھکتوں کا یہ دعویٰ ہے کہ مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے کیونکہ وہ چار شادیاں کرتے ہیں،کام دھام کرتے نہیں صرف بچے پیدا کرتے ہیں۔عقل خور حضرات برائے مہربانی یہ بتائیں کہ چار مرد ہیں اور چار عورتیں ہیں اب ایک مرد نے چاروں عورتوں سے شادی کر لی تو باقی تینوں مرد کیا تالی بجائیں گے؟بھارت میں عورت مرد کا تناسب1000 مرد پر صرف 900 عورتیں ہیں۔بھارت کا یہ اندرونی معاملہ ہے،دیرسویراندرون خانہ لوگوں کو سمجھ میں بات آہی جائے گی لیکن وہ باتیں جوارکان حکومت سمجھا رہے ہیں اُسے نہ وہ خود سمجھ پائے ہیں اور نہ سمجھا پا رہے ہیں۔

سمجھانے اور سمجھنے کا معاملہ NRCاور CAAکا ہے۔صدر جمہوریہ ہندنے اپنی تقریر میں کہا کہ NRCکو اوّلیت میں لاگوکیا جائے گا۔۲۲؍دسمبر2019کورام لیلا میدان میں مودی جی نے کہا کہNRCپر ابھی کوئی وچار نہیں ہوا ہے جبکہ ہمارے محترم وزیر داخلہ جناب امت شاہ جی سوتے جاگتے NRCلاگو کرتے رہتے ہیں۔

NRCاور CAAکی مخالفت میں پورا بھارت سڑک پر آگیا، حسب اختلاف کی ساری سیاسی پارٹیاں اس کی مخالفت میں ہر کت میں ہیں،دھرنا پردرشن ابھی تک ہو رہے ہیں۔دنگے بھی ہوئے ہیں،پولیس چوکی، نجی اور سرکاری گاڑیاں بھی پھونکی گئی ہیں۔مودی جی نے کہا کہ دنگا کرنے والوں کو پہناوے سے پہچانا جا سکتا ہے۔اور مرشد آباد میں لنگی اور ٹوپی پہننے والے6؍ لڑکے جو پتھر چلا رہے تھے اور ریلوے پراپرٹی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے وہ سب پکڑے گئے ان میں بی․جے․پی․کا ایک دلار ابھیشیک سرکار (۲۱؍سال)وہ بھی ٹوپی اور لنگی میں تھا۔غضب کی نظرہے،کہیں مودی جی کی نظر کو نظر بدنہ لگ جائے۔

مودی جی نے ایک اور جبر جست‘ بات بتائی کہCAAاورNRCکے سلسلہ میں ہونے والے دنگوں کے پیچھے کانگریس کا ہاتھ ہے۔منوج تواری جو بی․جے․پی․ کے لیڈر ہیں نے فرمایا کہ ان دنگوں کے پیچھے’عام آدمی پارٹی‘کے لوگوں کا ہاتھ ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی شدت پسندی کا یہ سب تماشہ ہے جس نے نہ صرف بھارت کے عوام کوبیچین کر رکھا ہے بلکہ دنیا کی حکومتوں نے بھی اس کالے قانون پر تنقید کی ہے اور یہ اپیل بھی کی ہے کہ وہ جمہوری قدروں کو ذہن میں رکھ کر عوام کے حقوق کی پاسداری کریں۔

نئے بھارت کا راگ الاپنے والوں کا قانون بھارت کو بڑی مشکل میں لا کھڑا کیا ہے۔مذہب کی بنیاد پراس قانون کو نافذ کیا جا رہا ہے،ہندو، مسلمان کے بیچ میں مذہب کی دیوارکھڑی کی جا رہی ہے یاکھائی کھودی جا رہی ہے۔انسانی حقوق کویکسر نکارا جا رہا ہے۔ان کی منو وادی پالسی مسلم اور دلت دشمنی پر ہے جبکہ سوامی وویکا نند جی جیسے مہان لوگوں نے کہاکہ ’’میں اُس مذہب کا نمائندہ ہوں جس نے دوسرے مذہب کا سچ قبول کیا، میں اس دیش کا نمائندہ ہوں جس نے جس کو ضرورت ہوئی اس کوپناہ دی‘‘۔اس حکومت میں ان مہان لوگوں کے اقوال کو جھوٹ ثابت کرنے کے کوشش کی جا رہی ہے۔بھارتیہ آئین کے تحت’’ کسی بھی شخص کے ساتھ بھید بھاؤ نہیں کیا جا سکتا‘‘ لیکن کیا جا رہا ہے کیونکہ بھید بھاؤ کیا جانا ان کی مجبوری ہے۔

حکومت میں بنے رہنے کے لیے انگریزوں کافارمولا’تقسیم کرو اورحکومت کرو‘بہت بدنام ہو چکا ہے،حکومت کرنے والوں کو چاہئے اس نعرے کو کچرے کے ڈبے میں ڈال دیں اور نیا نعرہ ’دِل جیتو اور راج کرو‘ اپنالیں۔اس پالیسی کے ساتھ اگر حکومت کی جائے گی تو میرا دعویٰ ہے کہ ’امت شاہ ‘ کا پچاس سال تک راج کرنے کا خواب پورا ہو جائیگا۔

NRCاورCAA قانون کی مخالفت بھارت کے چند وفا داروں کو چھوڑ کر، جن کی مجبوریاں ہوتی ہیں،بغیر قید مذھب ملّت ہر کسی نے کی۔وہیں رام لیلا میدان کی طرف مودی جی کی تقریر سننے کے لیے جاتے ہوئے دو بچوں سے اور نمک حلالوں کی ریلی میں نعرہ لگوایاگیا ’’دیش کے غدّاروں کو، گولی ماروسالوں کو‘‘۔یہاں یہ بات جاننے کے لائق ہے کہ کن غداروں کو گولی مارنے کی بات کی جا رہی ہے۔بچوں کے ذہن میں اس طرح نفرت انگیز باتیں بٹھانے والے کیا صحیح میں دیش بھکت ہیں؟معصوم بچوں کے ذہن میں گندگی بھرنے والے لوگ اپنا کون سا دھرم نبھا رہے ہیں۔ہر پرامن شہری غلط بات کے لیے اپنا پر امن احتجاج درج کراتا رہے گا، یہ اس کا آئنی حق ہے اورایسے موقع پر حق والوں کو حق والوں کا ساتھ ملتا رہے گا۔

حق والوں میں مشہور کرکٹئر سوربھ گنگولی کی بیٹی جو ابھی چھوٹی ہے لیکن 18سال کی ہو چکی ہے اس نے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ’’ہر فاسسٹ حکومت کو کمیونٹی اور گروپ کی ضرورت ہوتی ہے جنہیں دبا کر وہ پھل پھول سکیں۔یہ سب ایک یا دو گروپ سے شروع ہوتا ہے لیکن یہ وہیں ختم نہیں ہوتا۔ایک آندولن جو نفرت پر بنا ہوتا ہے وہ لگا تارڈر اور جھگڑے کا ماحول بنا کر ہی جاری رہ سکتا ہے۔ ہم میں سے کچھ لوگ اس وقت محفوظ محسوس کر رہے ہیں کیونکہ ہم مسلم یا کرشچئن نہیں ہیں۔ ہم بیو قوفو ں کی جنت میں رہ رہے ہیں۔سنگھ پہلے سے ہی لفٹسٹ مورخین کو اورنئے طریقے سے رہنے والے نو جوانوں کو نشانہ بنارہا ہے۔کل وہ اپنی نفرت ان عورتوں پر نکالے گا جو اسکرٹ پہنتی ہیں،اور ان پر بھی نکالے گا جوگوشت خور ہیں،شراب پیتے ہیں، مغربی فلمیں دیکھتے ہیں۔تیرتھ یاتراؤں اور مندروں میں نہیں جاتے، دنت منجن کی جگہ ٹوتھ پیسٹ استعمال کرتے ہیں، وید جی کی جگہ ایلوپیتھ ڈاکٹر کے یہاں جاتے ہیں، جے شری رام بولنے کی جگہ ہاتھ ملا کر یا’کِس‘ کرکے ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ اگر ہم بھارت میں زندہ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان باتوں کا احساس کرنا ہوگا‘‘۔

یہ خیالات ہیں اس لڑکی کے جو 2001میں پیدا ہوکر ابھی ابھی بالغ ہوئی ہے۔اس نے کہیں بھی NRC؁ٓ یاCAAکا ذکر نہیں کیالیکن ہر وہ بات کہہ دی ہے جو کسی سمجھدار فرد کو کہنا چاہئے۔

ابھی NRC؁ٓ پھرCAB اس کے بعد CAAکے ذریعہ زلزلے کے جھٹکے محسوس ہی کیے جا رہے تھے کہ NPRکا جھٹکا اور لگا۔ ان چاروں نے بھارت کے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے،ذہن بالکل ماؤف ہو کر رہ گیا ہے،لوگوں کی دیوانوں جیسی حالت ہو کر رہ گئی ہے،ان کواپنے اصل مسائل جیسے مہنگائی،بے روزگاری وغیرہ یاد آگیے توبس اب صرف یہ ہونا ہے کہ ’لیلا،لیلا‘ پکارتے ہوئے صحراکی طرف نکل جانے کی کثر رہ گئی ہے۔حکومت بھی یہی چاہتی ہے کہ بھارت واسی اصل مدعوں سے بھٹک کر دیگر مسائل کے پیچھے بھاگتے رہیں اور اس کہاوت کو ’ہرکت میں ہی برکت ہے‘ کو زندہ رکھیں۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 250 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shamim Iqbal Khan

Read More Articles by Shamim Iqbal Khan: 60 Articles with 31846 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: