دل چیر کر رکھ دیا

(Arif Kisana, Sweden)

محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے رابطہ تو کچھ عرصہ سے تھا لیکن ان سے شرف ملاقات اپنے حالیہ دورہ پاکستان میں ہوا۔ دنیاانہیں ایک عظیم ایٹمی سائنسدان کی حیثیت سے جانتی ہے اور پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا کر اس کادفاع ناقابل تسخیربنانے کا کارنامہ سرانجام دینے پر قوم انہیں محسن پاکستان کے لقب سے یادکرتی ہے لیکن میرا ان سے تعلق اہل قلم ہونے کی وجہ سے ہے جو ناصر ناکا گاوا کے توسط سے قائم ہوا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان بہت اچھے ادیب، کالم نگار، شاعر اور ادبی ذوق رکھتے ہیں۔ ان کا ہفتہ وار کالم اردو اور انگریزی میں شائع ہوتا ہے جس کا قارئین کو انتظار رہتا ہے۔زبان و بیاں، علمی و تحقیقی اندازاور قرآنی فکر ان کی تحریر وں کی اہم خوبیاں ہیں۔اپنی انہی کالموں میں انہوں نے نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد سے میری شائع ہونے والی کتابوں ’’ سبق آموز کہانیاں‘‘ اور ’’ سبق آموز کہانیاں2‘‘ پر سیر حاصل تبصرے شامل کئے جس کی بدولت دونوں کتابوں کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا، جس پر ان کا بہت ممنون ہوں۔ اہلیہ اور بیٹے کے ہمراہ ان سے ملنے جب اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر پہنچے تو’’ حفاظتی عملہ‘‘ نے خوب جانچ پڑتال کرنے کے بعد اندر جانے کی اجازت دی ۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان بہت پر تپاک انداز میں ملے۔ ایک طویل عرصہ سے ان سے ملنے کی خواہش تھی جو اب پوری ہورہی تھی۔ ان کی جتنی بڑی شخصیت ہے اس سے کہیں بڑھ کر وہ بااخلاق ، مہمان نواز اور اعلیٰ خوبیوں کے حامل انسان ہیں۔ان کی اہلیہ نے بھی ہمیں اپنے گھرخوش آمدید کہا۔ ہماری گفتگو ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی لیکن وقت گزرنے کا احساس تک نہیں ہوا۔ انہوں نے اپنے سویڈن کے دورہ کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتا یا کہ جب وہ 1964میں ہالینڈ کی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے تو مطالعاتی دورہ پر سویڈن گئے تھے ۔ اس دورہ میں انہوں نے سٹاک ہوم میں کارولنسکا انسٹیٹیوٹ اور ہسپتال، رائل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، اپسالا یونیوسٹی، لنشاپنگ یونیوسٹی کے علاوہ چند اور شہروں میں بھی گئے تھے۔ سویڈن کے دورہ کو وہ آج بھی خوشگوار یادوں میں شمارکرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب 18مئی 1974کو بھارت نے ایٹمی دھماکہ تو انہوں نے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ایک خط لکھ کر پاکستان کی جانب سے مناسب جوابی اقدام کرنے کی تجویز دی اور بعد ازاں بھٹو کی دعوت پر ان کی پاکستان میں ملاقاتیں ہوئیں ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں درخواست کی کہ وہ پاکستان واپس آکر ایٹمی پروگرام میں اپنا کردار ادا کریں جس پر ڈاکٹرعبدلاقدیر خان نے اپنی ہالینڈ نژاد اہلیہ سے مشورہ کے بعد جواب دینے کا وعدہ کیا۔ ان کی اہلیہ نے کچھ تعامل اور بحث کے بعد انہیں پاکستان منتقل ہونے کی اجازت دے دی۔ 1976میں انہوں نے پاکستان واپس آکر کہوٹہ میں یورینیم کی افزودگی اور ایٹم بم بنانے کے پروگرام کی بنیاد رکھی جو 28 اور30مئی 1998 کو کامیاب ایٹمی دھماکوں سے تکمیل کو پہنچا۔ انہی کی سربراہی میں غوری اور ابدالی میزائل بنانے میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی۔ جس شخصیت نے اپنے ملک کی خاطر یورپ کو چھوڑا اور دن رات محنت کرکے اس کی دفاع کوناقابل تسخیر بنایااُس قومی ہیرو کے ساتھ ہم کیا سلوک کررہے ہیں؟ ان کی آزادانہ نقل و حمل پر پابندیاں لگا رکھی ہیں جنہیں ختم کروانے کے لئے وہ سپریم کورٹ کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں۔ بھارت نے اپنے ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر ابوالکلام کو صدر جمہوریہ بنا کر عزت و توقیر سے سرفراز کیا جبکہ ہم نے اپنے ہیروکوبے توقیر کرکے گھر میں پابند کرکے ان کے احسانوں کا اچھا صلہ دیا۔ انہوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے حالات اور جھوٹے الزامات کو اپنے ہی ایک شعر میں کس خوبصورتی سے سمو دیا ہے۔
گزر تو خیرگئی ہے، تیری حیات قدیر
ستم ظریف مگر کوفیوں میں گزری ہے

مشرف حکومت نے ان پر نقل وحمل کی جوپابندیاں عائد کی تھیں ، وہ اب بھی جاری ہیں۔ ان پابندیوں کے خلاف اب انہوں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ’’ میری عمر 84 سال ہے اور اکثر بیمار رہتا ہوں ۔ میرے ساتھ جو سلوک کیا جارہا ہے وہ کسی اور سائنس دان کے ساتھ نہیں کیا گیا۔ قانون کے مطابق مملکت کے ہر شہری کو آزادانہ نقل وحمل اور آزادی رائے کا حق حاصل ہے۔ مجھے سرطان کے مرض کی تشخیص ہوچکی ہے اور ایسی صورت میں یہ پابندیاں جان لیوا ہوسکتی ہیں۔ حکومتی ادارے گمراہ کن پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ میری جان کو خطرہ ہے۔ میری سیکورٹی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میری نقل وحمل پر پابندی عائد کی جائے اور گھر میں محصور کردیا جائے ‘‘ ۔توقع ہے کہ سپریم کورٹ انہیں جلد انصاف دے گی۔ تحریک انصاف کی حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ محسن پاکستان کے ساتھ انصاف کرے۔ وزیر اعظم عمران خان توخود ڈاکٹر عبدالقدیرخان کے گرویدہ ہیں اوران سے تین بار خصوصی ملاقات کے لئے گئے اورانہیں تحریک انصاف میں شمولیت کی بھی دعوت دی ۔ اس دعوت پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا موقف درست ہے کہ ان جیسی قومی شخصیات کو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہونا چاہیے۔ ہماری ملاقات کے آخر میں محسن پاکستان یہ بناتے ہوئے بہت مغموم اور گلوگیر ہوگئے اور ان کی بات نے ہمارا تودل چیر کر رکھ دیا ۔اداس اور شکوہ بھرے لہجہ میں انہوں نے کہاکہ جو سلوک اب میرے ساتھ اب ہورہا ہے اسے دیکھتے ہوئے میری اہلیہ یہ کہتی ہیں کہ کاش میں نے آپ کو پاکستان واپس آنے کی اجازت نہ دی ہوتی اور اہم وہیں ہالینڈ میں ہوتے تو اچھا تھا۔ ان کی اس بات نے ہمارا سینہ چھلنی اور کلیجہ چیر کر رکھ دیا۔ کیا کوئی قوم اپنے عظیم محسن کے ساتھ ایسا سلوک کرتی ہے؟سپریم کورٹ انہیں انصاف دے کر اس کا ازالہ کرسکتی ہے۔حکومت وقت کو بھی سابقہ پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ حکومتی طرز عمل جو بھی ہو قوم انہیں محسن پاکستان کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھے گی۔ انہوں نے اپنے بارے میں بالکل درست کہا ہے کہ
ہمارے ذکر سے خالی نہ ہوگی بزم کوئی
O ہم اپنے کام کی عظمت وہ چھوڑے جاتے ہیں
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 600 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arif Kisana

Read More Articles by Arif Kisana: 223 Articles with 106614 views »
Blogger Express Group and Dawn Group of newspapers Pakistan
Columnist and writer
Organiser of Stockholm Study Circle www.ssc.n.nu
Member Foreign Pr
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: