بغداد میں امریکی سفارت خانے پر حملہ اور ایران کو امریکی دھمکی

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)

عراق میں امن وسلامتی ابھی کب بحال ہوگی اس سلسلہ کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ برسوں سے کسی نہ کسی وجہ جنگی حالات اور دہشت گردی کا ماحول عراقی معیشت کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے ۔بغداد میں سال کے آخر روز یعنی31؍ ڈسمبر2019کو امریکی سفارتخانے پر مظاہرین کے حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ردّعمل میں اس واقعہ کا الزام ایران پرعائد کرتے ہوئے کہا ہیکہ اس حملے میں ایران کا ہاتھ ہے اور یہ کہ اسے پوری طرح ذمہ دارٹھہرایا جائے گا۔صدر ٹرمپ نے ایران کو حملے کی بھاری قیمت چکانے کی دھمکی دی ہے۔واضح رہے کہ عراق میں منگل کے روز ہزاروں افراد جن میں ایرانی ملیشیا بھی بتائے جاتے ہیں نے امریکی سفارتخانے پر حملہ کردیاتھااور امریکہ کے خلاف شدید احتجاج کے دوران امریکی پرچم نذر آتش کئے گئے۔ فرانسیسی ذرائع ابلاغ اے ایف پی اور الجزیرہ کے مطابق بغداد میں موجود امریکی سفارتخانے پر ہزاروں عراقیوں نے دھاوا بول دیا تھا۔بتایا جاتا ہیکہ احتجاج کے دوران سیکیوریٹی کیمرے توڑدیئے گئے اور مظاہرین امریکہ مردہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے پرچم جلاتے رہے۔ مظاہرین جمعہ کو امریکی بمباری میں ہلاک ہونے والے دو درجن سے زائد پیراملٹری فائٹرز کی ہلاکتوں پر برہم تھے او رمطالبہ کررہے تھے کہ عراق میں موجودہ امریکی سفارتخانہ بند کیا جائے ۔بتایا جاتا ہیکہ ان مظاہروں میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا عصائب اہل الحق کے رہنما قیس الخزالی اور کئی دیگر سینئر ملیشیا رہنما بھی موجود تھے جبکہ عمارت کے گرد موجود باڑ پر کتائب حزب اﷲ کے پرچم آویزاں کئے گئے تھے۔ حملے کے فوری بعد امریکی وزیر دفاع مارک اسپر نے اعلان کیاکہ عراق کے جس علاقے میں سفارت خانے پر حملہ ہوا ہے وہاں فوری طور پر 750سپاہیوں کو تعینات کیا جارہا ہے ، انہوں نے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ امریکہ اپنی عوام کے مفادات کا دنیا میں ہر جگہ تحفظ کرے گا۔ اب دیکھنا ہیکہ امریکی صدر نے جس طرح ایران کو دھمکی دی ہے اس پر کس طرح کا اقدام کیا جاتا ہے اور اسکے جواب میں ایران کس قسم کے ردّعمل کا اظہار کرتا ہے۔

سعودی کابینہ کی جانب سے حملے کی مذمت
سعودی کابینہ نے عراق میں امریکی افواج پر ایرانی حملے کی مذمت کی ہے۔منگل کے روز ریاض کے قصر یمامہ میں خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صدارت میں منعقد ہوا۔ کابینہ نے دہشت گرد تنظیم داعش سے نمٹنے کے لئے عالمی اتحاد کے دائرے میں عراق میں موجود امریکی افواج پر ایرانی ملیشیاؤں کے حملوں کی مذمت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ ایرانی ملیشیاؤں کے یہ دہشت گردانہ حملے عراق کی خودمختاری کے منافی ہیں۔ ان سے عراق کے امن و استحکام کو نقصان پہنچ رہا ہے اور یہ انسداد دہشت گردی مشن پر براہ راست اثر انداز ہورہے ہیں۔

سعودی عرب کی قیادت میں اس سال G 20سربراہ کانفرنس
سعودی عرب اقتصادی حیثیت کے حوالے سے G 20 ممالک میں 16ویں اور غیر ملکی محفوظ اثاثوں کے حوالے سے چوتھے مقام پر آگیا ہے۔ سعودی عرب کی قومی پیداوار 2019ء کے اختتام پر 782.5ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی۔سعودی عرب کو پہلی مرتبہ جی ٹوئنٹی کی قیادت حاصل ہوئی ہے ۔ 2020کے اجلاس سعودی عرب کی قیادت میں ہونگے اورسعودی عرب G 20کی قیادت 2020میں نومبر کے آخر تک کرے گا۔ 21اور 22نومبر2020کو ریاض میں G 20کی سربراہ کانفرنس منعقدہوگی۔جی 20میں 19ممالک اور یورپی یونین کی پریذیڈنسی شامل ہیں۔ ان ممالک میں امریکہ ،چین، جاپان، سعودی عرب ، جنوبی کوریا، ارجنٹائن، آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، انڈیا، انڈونیشیا، میکسیکو، روس، جنوبی افریقہ، اور ترکی ہیں جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک بھی جی 20کے اجلاس میں شرکت کرتے ہیں۔

پاکستان میں پولیو کی شرح میں اضافہ
انسداد پولیو سے مطابق بتایا جاتا ہے کہ 2016کے بعد نائیجریا سے کوئی پولیو کیس رپورٹ نہ ہونے کے بعد عالمی ادارہ صحت افریقی خطے کو 2020میں پولیو وائرس سے پاک قرار دیے جانے پر غور کررہا ہے۔ بتایا جاتا ہیکہ اب صرف پاکستان اور افغانستان ہی دنیا کے دو ایسے ممالک رہ گئے ہیں جہاں یہ وائرس بدستور بچوں کو اپاہج کررہا ہے۔پاکستان میں 2018صرف پانچ اضلاع پولیو وائرس سے متاثر تھے لیکن 2019میں یہ وائرس ملک کے 25سے زائد اضلاع میں پھیل گیا ہے اس کی وجہ والدین کا اپنے بچوں کو ویکسین پلانے سے انکار بتائی جاتی ہے۔اس کے علاوہ پاکستان کے بعض علاقوں میں پولیو ڈراپس پلانے والے عملے کو اور سیکیوریٹی عہدیداروں کو جو ان کی نگرانی کرنے کیلئے تعینات کئے جاتے ہیں ان پر حملے کئے جاتے ہیں ،گذشتہ ہفتہ ایسے ہی ایک واقعہ میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

پاکستان میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کی منظوری
گذشتہ سال 2019میں پاکستان میں فوجی سربراہ کی مدت ملازمت میں حکومت پاکستان کی جانب سے تین سال کی توسیع دیئے جانے کے بعد پاکستانی سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس کے بعد اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سہ رکنی بنچ نے حکومت سے فوجی سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق سوالات اٹھائے تھے اور حکومت کی جانب سے تشفی بخش جوابات پیش نہ کئے جانے کی صورت میں سپریم کور ٹ نے حکومت کو آرمی ایکٹ میں قانون سازی کرنے کا حکم دیا تھا۔ 28؍ نومبر کو فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت ختم ہورہی تھی لہذا اس کو مدّنظر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان نے 28؍ نومبر2019کو فوجی سربراہ پاکستان کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی مشروط توسیع کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو اس حوالے سے قانون سازی کرنے کا حکم دیا تھا۔اسی سلسلہ میں یکم؍ جنوری 2020کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں آرمی ایکٹ کی منظوری دے دی گئی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق وفاقی کابینہ نے سپریم کور ٹ کے احکامات کی روشنی میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دی ہے جس میں فوجی سربراہ کی مدت ملازمت اور توسیع کا طریقہ کار وضح کیا گیا ہے۔

پاکستان معاشی استحکام کی سمت رواں دواں
پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے دور اقتدار میں معیشت مستحکم بتائی جارہی ہے۔ روزنامہ پاکستان آن لائن کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے جراتمندانہ فیصلوں کے نتیجہ میں معیشت درست سمت پر آگئی ہے اور فیصلوں کے ثمرات آنے والے ماہ و سال میں عوام تک پہنچیں گے۔ انہوں نے اﷲ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے کہا کہ نیا سال پاکستان اور دنیا بھر میں بسنے والوں کے لئے امن اور سلامتی لائے گا۔فردوس اعوان نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ نیا سال قومی ترقی، معاشی استحکام ، عوامی فلاح اور خصوصاً عام آدمی کی خوشحالی کا سال ہوگا۔عمران خان کے دورِ اقتدار میں ملک کی معیشت مستحکم ہونے کی تائید برطانیہ اور امریکہ نے بھی کیا ہے اور عالمی سطح پر عمران خان بہترین حکمراں اور رہنماء کی حیثیت سے نمایاں ہوتے جارہے ہیں۔

ہندوستان اور ملیشیا کے درمیان کشیدہ تعلقات
ملیشیا میں پام آئل کی صنعت غیر متوقع طور پر تنازعہ کشمیرکا شکار ہوگئی ہے ۔ گذشتہ برس ستمبر کے آوخر میں ہندوستان اور ملیشیا کے تعلقات میں اس وقت سرد مہری پیدا ہوگئی تھی جب ملیشیا کے صدر مہاتیر محمدنے کشمیر کے مسئلہ پر کہا تھاکہ انڈیا ہمالیائی خطے (کشمیر ) پر حملہ اور قبضہ کیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اس بیان کے بعد ہندوستانی تاجرین کو ملیشیا سے پام آئیل خریدنے سے گریز کرنے کیلئے کہا گیا تھا۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیکہ ہندوستان خوردنی تیل کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ملک ہے اور اس ضرورت کو پورا کرنے کیلئے ہندوستان کا زیادہ تر انحصار ملیشیا اور انڈونیشیا پر ہے ،ہندوستان سالانہ نو ملین ٹن سے زائد پام آئیل درآمد کرتا ہے۔ملیشاء کی زرعی برآمدات میں پام آئل کی فروخت ایک بڑا حصہ ہے ۔ملیشیا کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشہ برس جنوری سے اکٹوبر کے درمیان ہندوستان ملیشین پام آئل خریدنے والا سب سے بڑا ملک تھا اور اس عرصے میں ہندوستان نے ملیشیا سے چار ملین پام آئل خریدا تھا۔

سوڈان میں ایک استاد کے قتل پر 29افسروں کو سزائے موت
سوڈان کی ایک عدالت نے خفیہ اداروں کے 29افسروں کو ایک استاد پر تشدد کرنے اور انہیں قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت کا فیصلہ سنایا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بتایا جاتاہے کہ سابق سوڈانی صدر عمر البشیر کے دورِ اقتدار میں انکے خلاف مظاہروں میں شرکت کرنے پر 36 سالہ احمد الخیر کو حراست میں لیا گیا تھا ، عدالت کے فیصلے کے مطابق حراست کے دوران احمد الخیر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس سے ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔ احمد الخیر کی ہلاکت کے بعد وسیع پیمانے پر 75سالہ صد ر عمر البشیر کے خلاف مظاہروں میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔ مظاہروں کے خلاف کئی ماہ تک چلنے والے آپریشن میں کم از کم 170افراد ہلاک ہوئے تھے ، سوڈانی فوج نے آخر کار صدر عمر البشیر کو ایک بغاوت کے ذریعہ اقتدار سے بے دخل کردیا تھا۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیکہ عمر البشیر نے بھی 30سال قبل ایک بغاوت کے نتیجے میں ہی اقتدار حاصل کیا تھا۔

شامی و روسی فوج کی درندگی اور انسان و جانوروں انسیت
موجودہ دور میں حکمرانوں کو طاقت کے نشے میں انسانیت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی ہے ۔ شدید بمباری کے ذریعہ انسانی جانو ں کے اتلاف کے علاوہ جانور، چرند پرند انسانی درندگی کا شکار ہورہے ہیں ایسے میں انسان خوف کے ماحول میں جانوروں کو دیکھ کر دلی سکون حاصل کررہے ہیں۔ کئی ماہ سے جاری شامی اور روسی افواج کی شدید بمباری کے بعد شام میں کفرنبل نامی ایک دیہات میں انسانوں سے زیادہ اب بلیاں آباد بتائی جارہی ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ کفرنبل اُس آخری صوبے کا حصہ ہے جو باغیوں کے قبضے میں ہے۔شامی اور روسی فوج کی شدید بمباری سے بچنے کے لئے ایک شخص میز کے نیچے چھپا ہوا ہے ، یہ میز ایک ایسے تہہ خانے کے کونے میں پڑا ہے جہاں جگہ جگہ ملبہ پھیلا ہوا ہے لیکن یہاں پر 32سالہ صلاح جار تنہا نہیں ہے بلکہ اس کے بازو میں کئی بلیاں چھپی ہوئی ہیں جو اتنی ہی خوفزدہ ہیں ، صلاح جار بتاتے ہیں کہ بلیوں کے قریب ہونے سے انہیں دلی سکون ملتا ہے۔ اس سے بمباری اور تکلیف کچھ حد تک کم خوفناک دکھی دیتی ہے۔صلاح بتاتے ہیں کہ وہ جو بھی کھاتے ہیں بلیاں بھی انکے ساتھ کھاتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اچھا بُرا وقت ، درد اور خوف ایک ساتھ جھیلے ہیں، یہ اب زندگی میں ہمارے ساتھی بن چکے ہیں۔
***
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 662 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 223 Articles with 74590 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: