جبر نہیں علم و فن کے ذریعے

(Amir jan haqqani, Gilgit)

مجھے سے یہ سوال بیسویں دفعہ کیا گیا ہے کہ دیامر کی آبادی تین لاکھ سے اوپر، گلگت کی بھی اس سے زیادہ.بلتستان کی آبادی پانچ لاکھ سے زیادہ.اسی طرح اور اضلاع کی.

ہنزہ کی آبادی پچاس ہزار کے قریب ہے مگر ہنزہ کا کلچر ہر جگہ نمایاں دکھتا ہے جبکہ بڑی آبادی والے اضلاع کا کلچر اور تمدن کہیں نظر نہیں آتا. آخر کیا وجہ ہے؟

میرا جواب یہی ہوتا کہ اصولی طور پر ان قوموں کی تہذیبوں کو رواج عام ملتا جو علمی(سماجی اور سائنسی علوم) اعتبار سے فائق اور برتر ہوں، تاریخ کا ہمیشہ یہی فیصلہ رہا ہے.فطرت کا اصول بھی یہی ہے.

ہنزہ والے بھی دیگر تمام اضلاع سے تعلیمی اعتبار سے یعنی جدید علوم وفنون میں سب سے آگے ہیں اور ساتھ ہی اپنے علاقائی یعنی ہنزائی ثقافت سے مخلص بھی ہیں اس لیے صرف جی بی یا پاکستان نہیں پوری دنیا میں کسی نہ کسی شکل میں اپنی اپنی روایات اور کلچر کو زندھ رکھے ہوئے ہیں.ہنزہ کی ایک فیملی اگر امریکہ میں بھی ہوتو کسی نہ کسی شکل میں امریکہ میں بھی اپنی روایات کو زندہ رکھتی ہے. یہ اپنے علاقائی روایات سے خلوص کی دلیل ہے.

یہ اٹل ہے کہ کوئی بھی تہذیب اور ثفافت طاقت اور جبر کے ذریعے نہ نافذ کی جاسکتی ہے نہ روکی جاسکتی.

آپ نے بھی اگر اپنے کلچر اور تہذیب کو رواج دینا ہے، تو ان کی طرح علم وفن میں کارہائے نمایاں انجام دیتے جائیں اور علم و فن کے اسلحہ سے لیس ہوجائیں، ان شاء اللہ آپ کی علاقائی روایت، آپ کی تہذیب و ثقافت اور رہن سہن بھی ہر جگہ نمایاں ہوجائے گا. تو
احباب کیا کہتے ہیں؟
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 134 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amir jan haqqani

Read More Articles by Amir jan haqqani: 297 Articles with 144088 views »
Amir jan Haqqani, Lecturer Degree College Gilgit, columnist Daily k,2 and pamirtime, Daily Salam, Daily bang-sahar, Daily Mahasib.

EDITOR: Monthly
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: