الارز لبنان

(Abida Rahmani, Karachi)
بحیرہ روم کے کنارے واقع لبنان کے خوبصورت ملک کی دلچسپ سیا حت ۔

کچھ عرصہ گزرے اسلام آباد کے ایک لبنانی ریسٹوراں میں جانے کا اتفاق ہوا تھا ”الارز لبنان“ یہ الارز کیا ہوسکتا ہے ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ ارض کو ارز بنا دیا جائے ،یہ مخمصہ لبنان جاکر حل ہوا ۔ الارز
The Cedar
دیودار یا دیارکا پیڑ جس پر لبنان نازاں ہے جو اسکے جھنڈے پر چسپاں ہے جیسے کینیڈا کے جھنڈے پر میپل
Maple Leaf
کا پتہ ہے یہ سدا بہار پیڑ اور اسکی جھکی جھکی شاخیں جا بجا بہار دکھلاتی ہیں دونوں کناروں پر سرخ پٹیوں کے بیچ میں سفیدپس منظر پر ہرے بھرے سبز درخت کایہ لبنانی جھنڈا لبنان میں ہر جگہ دکھائی دیا ۔ لبنانی مظاہروں میں ہر جانب اس جھنڈے کی بہار تھی ۔ اور یہ مظاہرے بھی خوب تھے ، ہماری روانگی سے تقریبا ایک ماہ قبل یہ مظاہرے شروع ہوئے ۔ نوجوانوں کے یہ مظاہرے کچھ عمران خان کے دھرنے سے مشابہ تھے ۔ جوان لڑکے لڑکیاں ، موسیقی ، ناچ گانا ہر جانب ایک میلے کا سا سماں تھا ۔یہ مظاہرے حکومت ، بااثر سرکاری ملازمین اور دیگر لبنانی اہل ثروت کی بد عنوانیوں ،ذاتی ہوائی جہازوں،پر تعیش محلات ، بحری جہاز یا پر آسائش لانچیں، بیرون ملک اثاثوں،بے روزگاری ، معاشی بد حالی، مذہبی تفرقہ بازی، شامی مہاجرین اور رشوت خوری کے خلاف تھے ۔ انکا مطالبہ ہے کہ حکومت مستعفی ہو جائے اور شفاف الیکشن سے نئے لوگ سامنے آئیں ۔ وزیر اعظم سعد حریری نے استعفٰی کا اعلان تو کر دیا تھا لیکن وہ لوگ مطمئن نہیں تھے اس صورت حال کے متعلق چند لوگوں سے بات ہوئی ۔ طلباء خاص طور سے تبدیلی کے حق میں تھے لیکن استعفٰی سے بالکل مطمئن نہیں تھے ۔جبکہ دیگر بہت سے لوگ اس بے چینی کے خلاف تھے ۔ انکے مطابق بڑی مشکل سے لبنان میں امن اور سکون قائم ہوا تھا جسے یہ بے چینی تباہ کر رہی ہے اس انقلابی مہم کا نام ” ثورہ“ ہے جس کے معنی انقلاب کے ہیں ۔یہ تمام مظاہر ے انتہائی پر امن انداز میں جاری تھے ۔بیروت کے آزادی اسکوائر پر چند شہداء کی تصاویر کے سامنے موم بتیاں روشن تھیں ، ایک شخص پر حسرت چہرہ لئے سامنے بیٹھا تھا جبکہ چند آس پاس کھڑے تھے ٹوٹی پھوٹی عربی اور انگریزی میں استفسار کیا کہ آیا یہ پولیس یا فوج کی کارروائی تھی تو معلوم ہوا کہ نہیں ،اس انقلابی تحریک کے پہلے ہی دن آپس کے تنازغے پر ایک شخص نےان دو لوگوں کو قتل کیا جنمیں ایک انکا بیٹا تھا ۔ قاتل زیر حراست ہےہماری پاکستانی شناخت کو جانکر بہت خوش ہوا اور بتایا کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو اور بنت بھٹو(انکی صاحبزادی) کو خوب جانتا ہے ۔ کچھ ہی دیر میں دوسری جانب سے ناچنے گانے والا ٹولہ آن پہنچا اور انکے آس پاس کھڑے ہوکرعربی میں ملی اور انقلابی نغمے گانے لگا۔ عربی یہاں کی مادری زبان ہے دوسری زبان فرانسیسی ہے کیونکہ لبنان آزادی سے پہلے فرانس کے زیر انتظام تھا انگریزی یہاں کی تیسری بولی جانیوالی زبان ہے لیکن بیشتر اس سے نابلد ہیں ۔ یہ مظاہرے اب بھی جاری ہیں بلکہ انمیں قدرے شدت آگئی ہے ۔ خواتین اپنے اوپر ہونیوالی زیادتیوں پر سراپا احتجاج ہیں اور مختلف سیاسی حل ڈھونڈے جارہے ہیں ۔
ہمارے دورے میں ان مظاہروں سے کوئی قابل ذکر روکاؤٹ پیش نہ آئی، پروگرام میں قدرے ردو بدل ضرورہوا۔لبنان کی سیاحت پر ان مظاہروں کاخاطر خواہ اثر پڑا ہے ۔
لبنان مشرق وسطٰی کا ایک ۱۰۴۵۲ مربع کلو میٹر رقبے کا ایک چھوٹا ملک ہے جس کی آبادی ایک اندازے کے مطابق ساٹھ لاکھ ہے( پاکستان کے کسی چھوٹے شہر کی آبادی سے بھی کم ) اسپر ۲۰ لاکھ شامی مہاجرین ہیں ۔ ان شامی مہاجرین سے لبنانی بے نالاں نظر آئے وہ چاہتے ہیں کہ اب جب شام میں حالات بہتر ہوچکے ہیں انکو واپس اپنے ملک جانا چاہئے۔ میرے قریب ایک خوش پوش کھڑے صاحب نے دست سوال دراز کیا تو مجھے انکی بے چارگی کا اندازہ ہوا ، اسی طرح بے شمار بچے اور خواتین بھیک مانگتی نظر آئیں ۔ اکثر بچے پانی کی بوتلیں ۱یک ہزار لبنانی کی بیچ رہے تھے پانی کی ضرورت بھی تھی اور بھیک دینے سے مجھے یہ طریقہ بہتر لگتا ہے کہ کچھ خرید لو۔ بے حد افسوسناک منظرتھا حیرت ہے کہ پچھلے سال اردن میں مجھے اس قسم کا تجربہ نہیں ہوا۔ وہاں پر انکی آبادکاری کی گئی ہے یہ معلوم ہوا کہ تقریبا ۱۲ ملیئن ، ایک کروڑ بیس لاکھ لبنانی دیگر ممالک میں آباد ہیں جنمیں سب سے زیادہ برازیل میں ہیں وہ مختلف مواقع پر اپنے آبائی ملک کا رخ کرتے ہیں اور یہاں کی معیشت میں اضافے کا سبب بنتے ہیں ۔
لبنان بحیرہ روم کے کنارے واقع ایک خوبصورت ملک ہے جہاں کے پہاڑوں پرمختلف پھلوں کے اور زیتون کے درختوں کے باغات ہیں۔میدانی علاقوں میں بحیرہ روم کے خطے میں ہونیکی بناء پر آب و ہوا معتدل ہے جبکہ پہاڑوں پر قدرے خنکی اور سردیوں میں برف باری ہوتی ہےاس کے شمال اور مشرق میں شام، جنوب میں اسرائیل اور مغرب میں بحیرہ روم واقع ہے۔ یہ خوبصورت ملک اپنے خوشبودار سیبوں، دیودار کے قدیم درختوں اور زیتون کے باغات کے لیے مشہور ہے ۔باؤن فیصد آبادی مسلمان ، چھیالیس فی صد عیسائی اور دو فیصد دروز ہیں ۔ دروزیوں کے متعلق مجھے پہلی مرتبہ معلوم ہوا ، وہ اسلام ،عیسائیت ، یہودیت اور ہندؤں کے آواگون عقیدے پر یقین رکھتے ہیں۔
لبنان۱۹۷۵ کی خانہ جنگی سے پہلے تک مشرق کا پیرس اور سوئٹزر لینڈ سمجھا جاتا تھا اس وقت وہاں کی بینکاری اور سیاحت عروج پر تھی ۔یہاں کی امریکن یونیورسٹی دنیا کی بہترین یونیورسٹی شمار ہوتی تھی اور اب بھی ہے اسکا اجراء ۱۸۶۶میں ہوا۔ یہ یونیورسٹی ہمارے ہوٹل سے قریب تھی ۔ میری ساتھی شاہین کی اس یونیورسٹی سے اپنے مرحوم بھائی کی وجہ سے جذباتی وابستگی تھی۔میں اور تسنیم آخری روز اسے دیکھنے گئے،پہریداروں نے ہمیں اندر داخل نہیں ہونے دیا باہر سے تانک جھانک کی اور بیشمار بلیوں کی اندر آتے جاتے تصاویر اتاریں بیروت کا مر کز شہر (ڈاؤن ٹاؤن ) دیدہ زیب صاف ستھرا ،آرائشی ٹائیلوں سے مزئین بہترین گلیاں اور سڑکیں ، بہترین شاپنگ مال اور دکانیں جو بڑے شہروں کا خاصہ ہوتی ہیں۔ بحیرہ روم کے کنارے عمدہ ساحل سمندر اور کشتیوں کے مرینا بنے ہوئے ہیں شہر کے مین ہول کے ڈھکنوں نے مجھے بے حد متاثر کیا ۔ ٹیلی فون ، ٹی وی، بجلی ، پانی ، انٹرنیٹ ،سیوریج سبکی نشاندہی ڈھکنوں کے اوپر کی گئی تھی جو اس سے پہلے کہیں میری نظر سے نہیں گزرے۔
لبنان میں قبل از تاریخ اور تہذیب کے بے شمار ادوار گزرے ہیں۔محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق تعین کردہ تہذیب سات ہزار سال قبل مسیح کی ہے ،یہاں کے اصلی باشندے کنعانی تھے فینیشن
کہاں سے آئے تاریخ اسکے متعلق بتانے سے قاصر ہے
انسان کے لکھنے کا آغاز انہی نے کیا ، حروف ابجد جنکے صوتی آوازوں کو فونیٹکس کہا جاتا ہے پہلے پہل انہوں نے شروع کئے ۔ پہلے پہل جہاز رانی بھی انہوں نے شروع کی۔ انہیں سامی بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں بے شمار انبیا مبعوث ہوئے۔ کئی تہذیبوں نے جنم لیا۔ہمارے گائیڈ کے مطابق پچھلے کچھ سالوں میں بیروت کی تعمیر نو کے دوران جہاں بھی کھدائی کی جاتی تھی، کسی قدیم تہذیب کے آثار برامد ہو جاتے تھے ۔اوپر تلے کئی تہذیبوں کے آثار ماہرین آثار قدیمہ کیلئے کڑا امتحان ہیں ۔ قدیم تہذیبوں کے آثار بیروت، صیدا، بعلبک، صور اور تریپولی سے ملتے ہیں۔ فینیشن اعلیٰ درجے کے جہاز ران اور تاجر تھے۔وہ دیار کی لکڑی سے اسوقت کے بہترین جہاز اور کشتیاں بناکر مختلف ممالک سے تجارت کرتے تھے۔ بعد میں لبنان کو اہل فارس نے فتح کیا۔ سکندر اعظم کی فوجوں نے اسے تباہ برباد کیا ۔اسکے بعد رومن اور بازنطینوں کی حکومت قائم ہوئی ۔اسلامی ادوار میں بنو امیہ ، بنو عباس ، مملوک ، فاطمی ، صلیبی دور کے بعد صلاح الدین ایوبی کی سلطنت کا حصہ بنا ۔ عثمانی مملکت کا حصہ رہا، فرانس نے بھی اس پر قبضہ کیا مگر یہ مکمل طور پر کسی کے قابو نہیں آئے ۔لبنان نے 1943 میں فرانس سے آزادی حاصل کی جس وقت فرانس پر جرمنی نے قبضہ کر لیا تھا۔
لیکن لبنان اور اسکے باشندوں نے ان تمام تہذیبوں سے بہت کچھ حاصل کیا۔ اسیلئے آج لبنان ایک ایسا ملک ہے جس میں ہمیں مختلف نسلوں اور مذاہب کے لوگ نظر آتے ہیں۔ یہ ملک ایشیا کے آخری سرے پر یورپ کے قریب واقع ہے اس لیے اسے ہم مختلف تہذیبوں کا مرقع کہہ سکتے ہیں۔
یوروپ کے متعلق یونانی دیو مالائی یہ داستان سنی ”فینیشن شہزادی یوروپا کو زیوس ایک بیل کی شکل میں اغوا کرکے یوروپ لے گیا اور اسکے نام پر اس خطے کو یوروپ کہا جاتا ہے“۔
لبنانی عرب دنیا میں کافی مہذب سمجھے جاتے ہیں شرح خواندگی تقریبا سو فیصد ہے اماراتی اور سعودی حکمران لبنانی خواتین سے (جو عموما حسین ہوتی ہیں) شادی کر نا قابل فخر سمجھتے ہیں ۔ ان ممالک میں لبنانی اعلٰی ملازمتوں اور عہدوں پر فائز ہیں ۔ لبنانی طعام عرب دنیا میں بہترین جانا جاتاہے۔
افسوس صد افسوس کہ ہمارے بیشتر ساتھیوں کو انکے طعام میں کوئی لذت محسوس نہ ہوسکی۔۔۔۔
بیروت کی گلیوں پر کافی رونق نظر آئی ریسٹو رانوں کے باہر اور اطراف میں مرد و خواتین حقہ یا شیشہ ، سگرٹ نوشی اور اس پر مبراء شراب نوشی سے لطف اندوز ہوتے نظر آتے ۔ بس سے اتر کرہوٹل کی جانب جاتے ہوئے وہ ہمیں خوش آمدید کہتے ۔ یہ جانکر بے حد خوش ہوتے کہ ہم پاکستانی ہیں ۔ اکثر خواتین حجاب اور سکارف پہنے نظر آتیں ۔ جن سے اسلامی تشخص کا اندازہ ہوتا۔
ہم لوگ شمال ، جنوب ، مشرق ، مغرب ہر جانب گئے لیکن واپسی بیروت کے جیم ہوٹل میں ہوتی ۔۔
فارایا کے پہاڑ کوہ لبنان کی جانب جاتے ہوئے ہماری بس رکی ۔ یہاں پر ۲۷ ڈالر فی شخص ٹکٹ خرید کر ہم میں سے بعض جیپوں میں پہاڑ کی چوٹی کی جانب روانہ ہوئے اور دیگر اے ٹی وی موٹر سائیکلوں کی سواری سے اطراف کی پہاڑیوں ، سیب ، ٹماٹر ، مختلف سبزیوں اور دیگر باغات سے لطف اندوز ہوتے رہے ۔ کچے پکے راستوں ،کیچڑ اور پگڈنڈیوں پر اس سواری میں مہم جوئی کاخوب لطف آیا ۔ میں اپنی زندگی میں بمشکل دو مرتبہ موٹر سائیکل پر بیٹھی ہوں گی ۔
پہاڑ کی چوٹی پر ایک بزرگ کا تقریبا ۲۳ میٹر بلند اور ۹ میٹر چوڑا سفید مجسمہ نصب تھا یہ عیسائیوں کا پادری سینٹ چاربل تھا جو اس علاقے میں رہا ، عیسائیت کی تبلیغ کی اور ویٹیکن کی جانب سے سینٹ کے عہدے پر فائز ہوا ساتھ میں ایک گر جہ تھا ۔ صاف ستھری پہاڑی پر محض یہ ایک بلند و بالا مجسمہ مجھے بے حد عجیب، غیر اہم اور غیر دلچسپ لگا۔ ریلنگ سے ایک ڈیم نظر آر ہاتھا ۔ اس علاقے میں رومن کیتھولک مارونی عیسائیوں کی اکثریت ہے ۔ دور دور تک کسی مسجد کے آثار نہیں تھے ۔
اسی طرح اگلے روز جب ہم ایک اور پہاڑ کی جانب گئے تو یہاں ایک خاتون کا بلند و بالا مجسمہ تھا ۔ جسے“ لیڈی آف لبنان“ کہتے ہیں یہ حریصا شہر میں ایستادہ ہے اور کافی سیڑھیاں چڑھنی پڑتی ہیں مارونی عیسائیوں نے حضرت مریم کا ۱۵ ٹن کانسی کا یہ مجسمہ فرانس میں بنوا کر یہاں نصب کیا ہے ۔ سیڑھیاں چڑھ کر میں جنگلے کے قریب تو پہنچ گئی لیکن بالکل مجسمے کے پاس نہ گئی ، وہ بے شمار تالے نظر آئے جنکو لگا کر چابیاں مجسمے کے قدموں میں پھینک دی جاتی ہیں ۔ تاکہ لیڈی انکی حفاظت کرے یا انکی خواہشات پوری کرے ۔میں اس بت کو مریم ؑ کا نام نہیں دینا چاہتی حالانکہ وہ وہاں کے عیسائیوں کے مطابق مریم ؑ کا مجسمہ تھا اور یہ تالے لگانے میں ہم پاکستانی کیا کسی سے کم ہیں ۔ پچھلے ہفتے چینیوٹ میں ایک بزرگ بو علی قلندر کی چلہ گاہ پر انہی بے شمار تالوں کا منظر نظر آیا جو معتدقدین نے ایسی ہی خواہشات کے لئے لگائے تھے ۔۔
لب لباب یہ کہ لبنان کے عیسائیوں نے ایک پہاڑ پر اپنا بابا ایستادہ کیا ہے اور دوسرے پر اماں کونصب کیا ہے ۔ نیچے کی جانب ایک گرجا میں گئی ان سے بروشر کا مطالبہ کیا لیکن بروشر صرف فرانسیسی میں تھے یہ سب علاقے لبنان کے عیسائیوں کی نمائندگی کرتے ہیں ۔
یہاں پر Funicular سے ہوتے ہوئے ہم کیبل کار کی طرف آئے یہ سواریاں مجھے بے حد بھاتی ہیں ۔کیبل کار میں میرے ہمراہ ڈاکٹر صلاح الدین اور انکی بیگم لبنٰی تھیں ۔لمبی سواری تھی ،اس سے لبنان کے خوبصورت شہر ”جونیا“ کی بلندی سے سیر کی ،ساحل سمندر کے ساتھ یہ ایک لاجواب منظر تھا۔
اس سے پہلے لبنان کے غاروں Jeitta Grotto Caves and Cavrens
جو وادئ الکلب (valley of Dog River ) میں واقع ہے اس نام کی میں نے اپنے گائیڈ سے وضاحت چاہی لیکن کوئی تسلی بخش جواب نہ ملا ۔ شاید گوگل ہی جواب دے پائے۔( ابھی تک اسکے خدمات سے استفادہ نہیں کیا )
ان غاروں کا شمار دنیا کے اہم لینڈ مارک میں ہوتا ہے ۔( امریکہ میں کئی مقامات پر ان غاروں کے بہترین سلسلے دیکھ چکی ہوں ، پچھلے سال پنسلوانیا کےPenss Caves میں کشتی رانی کی تھی اندھیرے میں ان غاروں پر ہماری گائیڈ کی ٹارچ کی روشنی لا جواب مناظر پیش کر رہی تھی ) ،چونے اور کیلشیم سے بنے ہوئےبے حد دیدہ زیب بناؤٹ کے گروٹو کے یہ غار بھی قدرت کی صناعی کا لاجواب شاہکار ہیں۔ اوپر کے حصے میں عمدہ سیڑھیاں اور رستے بنے تھے ۔تصاویر کی ممانعت تھی اور ہم سب سے فون اور کیمرے وغیرہ لاکر میں رکوا دئے گئے۔
اسکے بعد ٹرین میں بیٹھ کر گروٹو کی نچلی سطح پر گئے جہاں سے نیچے اتر کر کشتی میں بیٹھ کر غاروں کی سیر کی ۔
وادئ بقاء میں عنجر کے مقام پر بنو امیہ کے کھنڈرات کو دیکھنے گئے یہ تعمیرات جو ایک وسیع علاقے پر پھیلی ہوئی ہیں ان میں مساجد ، حمام اور محلات تھے ۔ اسکو مروان ثانی نے آپس کی مخاصمت کی بناٗ پر تباہ کیا۔
کھنڈرات کا ایک لا متناہی سلسلہ سیدون یا صیدا ، بعلبک ، طرابلس ، طائر اور دیگر شہروں میں دکھائی دیا ۔ ان میں رومن ، بازنطینیوں کے معبد ، مندر ، قربان گاہیں اور محلات کے آثار ہیں ۔ کئی تعمیرات اب بھی اچھی حالت میں ہیں ان میں سے بیشتر یونسکو ورثہ کی تحویل میں ہیں ۔
ان کھنڈرات کو دیکھ کر یہ شعر ذہن میں گونج رہا تھا ۔
عبرت کی ایک چھٹانک بر آمد نہ ہوسکی
کلچر نکل پڑا ہے منوں کے حساب سے ۔

جنوب کی جانب پہاڑوں پر سے ہوتے ہوئے ہم ”بیت الدین“پہنچے تھے جو عثمانی حکمرانوں کا تعمیر کردہ ایک شاندار محل ہے اور اس شاہانہ دور کی عکاسی کر رہا ہے ۔
بیت الدین کا قصبہ ضلع شوف کے پہاڑوں میں بیروت سے ۵۰ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ۔ امیر بشیر شہاب نے اٹھارویں صدی کےاختتام پرعثمانی دور خلافت میں یہاں ایک شاندار محل تعمیر کروایا یہ محل اب بھی بہت عمدہ اور مزین حالت میں ہے اسکے تمام کمرے خوبصورتی سے آراستہ، اور اس شاندار دور کے عکاس ہیں ۔ تاریخ کے مختلف ادوار سے گزرتے ہوئے ۱۹۴۳ میں پہلے لبنانی صدر نے اسے گرمیوں میں صدار تی رہائش گاہ قرار دیا ۔ ۱۹۷۵ کی خانہ جنگی میں اسکی عمارت شدید متأثر ہوئی بعد میں اسکی مرمت کی گئی اوراسکا کچھ حصہ عوام کے لئے کھول دیا گیا جبکہ ایک بڑا حصہ اب بھی حکومت کے استعمال میں ہے ۔ یہ محل بہترین اسلامی فن تعمیر کاشاندارنمونہ ہے ۔
بیت الدین سے جاتے ہوئے دیر القمر کے قریب سلویا نے ” موسیٰ کے قلعے“سے ہمیں متعارف کروایا اسکے مطابق موسیٰ اسکول کے زمانے میں ایک لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوا جسنے موسیٰ سے ایک قلعے کا مطالبہ کیا اور شادی کے لئے یہ شرط رکھی ۔ موسٰی نے کافی محنت کی اور خود ایک معمار بن گیا اس علاقے کی بہترین تعمیرات اسکی سر پرستی میں ہوئیں ، بعد میں اسنے ایک قطعہ زمین خرید کر اس پر اپنے خوابوں کا یہ محل بنانا شروع کیا ، محل کی تکمیل سے پہلے ہی اسکے تعلقات اس خاتون سے منقطع ہوئے اسکی بجائے اسکی شادی میری Maryسے ہوئی ۔ میری سے اسکے کئی بچے ہیں ایک برس پہلے موسٰی کا انتقال ہوا ہے ۔
اس قلعے کی سیر ہمارے پروگرام میں شامل نہ تھی لیکن اس قصے کے بعد ہمارا تجسس بڑھا، وہا ں بس رکی تو اترے دروازے پر میری اور اسکا بیٹا جوزف کھڑے تھے ۔ قلعے میں داخلہ ٹکٹ دس ڈالر فی کس تھا ، جب میری نے ہمیں پس و پیش میں دیکھا تو بیٹے سے مشورہ کر کے سات ڈالر میں آمادہ ہوئی ،اس سے کم کرنے پر وہ راضی نہیں ہوئی ، میری سے تھوڑی بات چیت ہوئی ، ہم نے محض اسکے ساتھ تصاویر بنانے ، گفتگوکرنے اور تاک جھانک پر اکتفا کیا
،اسنے بتایا کہ ہمیں حکومت کو ٹیکس دینا ہوتا ہے ورنہ تم لوگوں کو مفت دکھا دیتی ۔ ہمارے پاس وقت کی بھی تنگی تھی اسلئے بس میں واپس آئےاور روانہ ہوئے ۔
سیدون یا سیدا میں ساحل سمندر پر ایک بہترین رومن محل کی عمارت و آثار تھے ۔ یہ غالباٗ اسوقت کی بحریہ کے استعمال میں تھی ۔یہ محلات اپنے وقت کی انتہائی مضبوط تعمیراتی یاد گاریں ہیں ، تعمیرات میں پتھر کے بڑے بڑے بلاکس استعمال کئے گئے ہیں۔
مقامی بازار میں خریداری کرتے ہوئے کارواں سرائے سے ہوتے ہوئے ہم ایک قریبی ریسٹوراں میں داخل ہوئے
اگلے روز ہم شمال کی طرف ٹریپولی (طرابلس ) کی جانب رواں دواں تھے ۔ سلویا سے دریافت کیا کہ یہاں اور لیبیا میں اس ہمنام شہر کی وجہ کیا ہے اور کونسا شہر پہلے بسا ۔ اسکے پاس کوئی خاطر خواہ جواب نہیں تھا البتہ اسکے مطابق یہ طرابلس پہلے بسایا گیا۔ یہ شمالی لبنان کا سب سے بڑا شہر اور ملک کا دوسرا بڑا شہر ہے ۔ بحیرہ روم کے کنارے واقع یہ ایک بڑی بندرگاہ ہے۔ ہم نے یہاں پر کشتی کی سیر کا فیصلہ کیا۔دو بڑی کشتیوں یا لانچوں میں تقریبا ایک گھنٹے تک بحیرہ روم میں کشتی رانی، موسیقی اور ناچ گانے سے محظوظ ہوئے ۔یہاں سے گھومتے ہوئے راستے میں ایک ریسٹوراں میں چائے پینے کے لئے رکے وہاں سے روانہ ہوئے تو سورج تقریبا ڈھلنے لگا تھا ۔ اب ہم الارز لبنان Cedar Forest کی جانب روانہ ہوئے ۔ سلویا نے بتایا کہ لبنانی دیار ،چیڑ، دیودار ، صنوبر کے درختوں کی کٹائی پر بھاری جرمانہ اور سزا ہے ۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ یہیں پر رومن بادشاہ ہیڈریان نے ان درختوں کی کٹائی پر سزائے موت تک عائد کر دی تھی اور ان درختوں کی نشاندہی پتھروں پر کھدوا کر کے کی
جیسے میں نے پہلے تحریر کیا تھا کہ اس سدا بہار درخت کی تصویر لبنان کے جھنڈے پر ہے اور یہ جھنڈے ہر طرف آویزاں تھے ۔
اس جنگل میں داخل ہوئے تو خشک درختوں کا ایک گروہ نظر آیا جو اس ہرے بھرے جنگل میں منفرد دکھائی دے رہا تھا ۔یہ درخت آسمانی بجلی گرنے سے خشک ہو گئے تھے یہ حیرت انگیز تھا کہ صرف پتے اور ٹہنیاں جل گئیں تنے محفوظ رہے ان تنوں کو جیسے تراش دیا گیا ہو ۔ سورج غروب ہو رہاتھا جب ہم پارک میں داخل ہوئے ۔ یہاں ایک دلچسپ بات یہ بتادوں کہ ہمارے ساتھیوں کو مناظر سے زیادہ ذاتی تصویر کشی میں دلچسپی ہوتی ہے ۔ سمارٹ فون کی تصویر کشی نے اسکو آسان بھی بنادیا ہے ۔اس سے پہلے ہم چینی، جاپانیوں کا مذاق اڑاتے تھے لیکن ہم پاکستانی شاید انسے بھی بازی لے گئے ۔
اوپر نیچے کی گزرگاہوں سے اس تاریخی جنگل سے گزرتے ہوئے ، دیار کے شاندار بلند و بالا درختوں سے ہوتے ہوئے سلویا نے بتا یا کہ ہم اوپر والے گیٹ سے باہر نکل جائینگے جہاں بس ہماری منتظر ہوگی ۔اب جب اوپر پہنچے تو گیٹ بند ہو چکا تھا اور پارک کا تمام عملہ جا چکا تھا ۔( دنیا بھر کے ایسے جنگل پارک سورج غروب ہونے پر بند ہو جاتے ہیں ) اب مرحلہ باہر نکلنے کا تھا ، جنگلے کی دیوار پانچ چھ فٹ بلند تھی اسکو چڑھنے کا مر حلہ کئی ساتھیوں نے بمشکل لیکن کامیابی سے طے کیا ۔ میرے لئے اس پر چڑھنا ناممکن تھا ،تو پیچھے کی جانب سے ایک تنگ قدرے مشکل راستے سے مختلف ساتھیوں کی مدد سے پہنچی ۔۔ ہمارے گروپ میں ایک لبنانی خاتون نائلہ جو ذریں کی رشتہ دار اور مہمان تھیں انکو اور دیگر کئی خواتین کو بھی اسی طرح پار کرا یا گیا ۔ میجرطارق ، فرخ ،حسن اور دیگر کئی ساتھیوں کی مدد سے اس خواتین بچاؤ مہم کو کامیاب بنایا گیا ۔ الحمدللہ کے ایک نعرے کے ساتھ میجر صاحب نے یہ نعرہ لگا یا کہ آج سی این این کی ہیڈ لائن نیوز یہ ہوگی کہ کیسے پاکستانی ٹیم نے لبنانی خاتون کو بچا لیا ۔ بعد میں ، میں نے سلویا کو آڑے ہاتھوں لیا کہ اس ریسٹوراں میں اتنی دیر کیوں لگائی گئی اوربس میں وہ زبردستی شاورمے بنا کر بیچتے رہے ۔ اسنے سارا الزام ڈرائیور کے دھر دیا ۔بہر کیف انگریزی محاورے کے مطابق
All is well that ends well
خلیل جبران کے تذکرے کے بغیر لبنان کا تذکرہ مکمل نہ ہوگا۔
خلیل جبران (اصل نام: جبران خلیل جبران بن میکائیل بن سعد) جو لبنانی نژاد امریکی فنکار ، شاعر اورمصنف تھے۔ خلیل جبران لبنان کے شہر بشاری میں ۶ جنوری ۱۸۸۳کو پیدا ہوئے یہ اس زمانے میں سلطنت عثمانیہ میں شامل اور شام کا حصہ تھا۔ وہ نوجوانی میں اپنے خاندان کے ہمراہ امریکا ہجرت کر گئے اور وہاں فنون لطیفہ کی تعلیم کے بعد اپنا ادبی سفر شروع کیا۔ خلیل جبران اپنی کتاب The Prophet کی وجہ سے عالمی طور پر مشہور ہوئے۔ یہ کتاب 1923ء میں شائع ہوئی یہ فلسفیانہ مضامین کا ایک مجموعہ تھا، گو اس پر کڑی تنقید کی گئی مگر پھر بھی یہ کتاب نہایت مشہور گردانی گئی، بعد ازاں 60ء کی دہائی میں یہ سب سے زیادہ پڑھی جانے والی شاعری کی کتاب بن گئی۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جبران ولیم شیکسپئیر اور لاؤ تاز کے بعد تاریخ میں تیسرے سب زیادہ پڑھے جانے والے شاعر ہیں۔
جبران خلیل 10 اپریل 1931ء کو نیویارک میں وفات پا گئے۔ ان کی موت جگر کی خرابی اور تپ دق کی وجہ سے ہوئی۔ اپنی موت سے پہلے جبران نے خواہش ظاہر کی کہ انھیں لبنان میں دفن کیا جائے۔ ان کی یہ آخری خواہش 1932ء میں پوری ہوئی جب میری ہاسکل اور جبران کی بہن ماریانہ نے لبنان میں مارسرکاس نامی خانقاہ خرید کر وہاں ان کو دفن کیا اور جبران میوزیم قائم کیا۔ جبران کی قبر کے کتبے پر جو الفاظ کشیدہ کیے گئے وہ کچھ اس طرح ہیں، “ایک جملہ جو میں اپنی قبر کے کتبے پر دیکھنا چاہوں گا: میں زندہ ہوں تمھاری طرح اور میں تمھارے ساتھ ہی کھڑا ہوں۔ اپنی آنکھیں بند کرو اور اردگرد مشاہدہ کرو، تم مجھے اپنے سامنے پاؤ گے“
اندھیرے میں ہم نے جبران سٹریٹ کی تصاویر اتاریں اور اس عالمی شہرت یافتہ فنکار و مصنف کی تاریکی میں ڈوبے ہوئے گھر کی طرف گئے ، یادگار کے طور پر چند تصاویر ہی اتار سکے ۔
سلویا کے مطابق اسکا گھر محض ایک کمرہ ہے جسمیں کوئی بیت الخلاء ، غسلخانہ نہیں ہے اسلئے کہ جبران فطری زندگی گزارنے پر یقین رکھتا تھا ۔
اس گھر میں وہ کتنا عرصہ اور کب رہا ، اسکی معلومات نہیں ملیں کیونکہ اسکی بیشتر زندگی امریکہ اور پیرس میں گزری ۔۔ کاش کہ ہم اسکی قبر اور میوزیم بھی دیکھ پاتے ۔۔۔
بیروت میں آخری دن ہمیں فورم کی جانب سےمستعار ملا اسلئے کہ ہماری روانگی میں ایک روز کی تاخیر ہو گئی تھی ۔ صبح کی سیاحت کا آغاز بیروت عجائب گھر سے ہوا ۔ جہاں پر موجود گائیڈ نے ہمیں تفصیلی دورہ کروایا اور تاریخ کے ان مختلف ادوار سے گزارا جن سے لبنان گزر چکا ہے ۔قبل از تاریخ کے فینیشن دور کی عجائبات ، رومن ، بازنطینی اور مسلمانوں کے ادوار کے نوادرات اور عجائبات لاجواب تھے ۔ قدیم سارکوفیگس ( تابوت ) جو کہ مصری ، یونانی تہذیب میں مشترک تھے ۔ چند ممیاں بھی محفوظ تھیں جبکہ کچھ لاشیں اپنی اصلی حالت میں ملیں ۔
اسکے بعد ہم زیتونیہ بے Zaytunia Bay پر گئے یہ بہترین ساحل ،اسکا مرینہ اور Deck، ساتھ میں بنے ہوئے ریستوراں، انتہائی صاف ستھرے اور کسی بھی ترقی یافتہ ملک کے مقابلے کے تھے ۔
تسنیم کے ساتھ پھر بیروت ڈاؤن ٹاؤن کی سیر کرنے نکلے ۔ یہاں ایک میلہ لگا تھا ۔ متفرق سٹالوں سے ہوتے ہوئے ۔ شتر مرغ کے سٹال پر پہنچے ، شتر مرغ کے انڈے یوں لگ رہاتھا توپ کے سفید گولے ہیں۔ سخت خول ، جیسے مصنوعی سفید پتھر کے ہوں ایک ٹوٹےخول سے اسکے اصلی ہونے کا اندازہ ہو ا۔ پھر دوکاندار نے ہمارے ہاتھوں پر اسکا تیل لگا یا ، جو بقول اسکے ایک بہترین اور بہت سے امراض کے علاج میں کار آمد تیل ہے ۔ خالص ہونے کی وجہ سے اس سے چربی کی تیز بو آئی ۔ تسنیم نے ہلدی والا بھسبھوسا خریدا ۔
گھومتے پھرتے واپس ہوئے تو شام ہوچلی تھی ۔ تھکن سے چور تھے لیکن لبنانی مظا ہروں ( ثورہ ) کو دیکھنے جانا تھا ۔ اسکا تفصیلی ذکر مضمون کے شروع میں کر چکی ہوں ۔ یہ ہماری لبنان میں اس یادگار دورے کی آخری رات تھی ۔
صبح ساڑھے دس بجے ہوٹل سے روانگی اور ڈھائی بجے دوپہر جدہ کیلئے پرواز تھی ۔
بیروت ائر پورٹ اور اسکا ڈیوٹی فری انتہائی اعلٰی پیمانے کا تھا ۔ یہاں سے ہم سب نے کچھ نہ کچھ خریداری کی ۔
یہ دلچسپ دورہ بخیر و خوبی انمٹ نقوش و تأثرات چھوڑ کر اختتام پذیر ہوا۔

نوٹ :اس مضمون کی کچھ معلومات کیلئے وکی پیڈیا کا سہارا لیا ہے ۔
عابدہ رحمانی
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 231 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abida Rahmani

Read More Articles by Abida Rahmani: 195 Articles with 145613 views »
I am basically a writer and write on various topics in Urdu and English. I have published two urdu books , zindagi aik safar and a auto biography ,"mu.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: