کرونا وائرس: تعارف اور بچاؤ !

(Waqar Hussain, )

 دسمبر2019 میں چین کے شہر ووہان میں کرونا وائرس نے سر نکالا اور دیکھتے ہی دیکھتے تقریبا تین ہزار افراد کو ان لیا اور اسی لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ گیارہ کروڑ آبادی والے ووہاں شہر میں ہسپتالوں میں مریضوں کی بھیڑ ہے اور ادویات کی دکانوں پر سٹاک ختم ہوچکا ہے۔ ہر طرف موت رقص کر رہی ہے؛ خوف و ہراس کے بھوت کا سایہ ہے؛ بےچینی اور اضطراب کی ہوائیں چل رہی ہیں؛ لوگ اپنے ہی ہم جنس لوگوں سے خوفزدہ ہیں ؛گھروں میں راشن جمع کرکے چھپ گئے ہیں. کل کیا ہوگا؟ ہر کوئی یہ سوچ رہا ہے اور خدشات میں لپٹے خواب بن رہا ہے ۔ کھڑکی دروازے بند کرکے اس سوچ میں گم ہے کہ موت کا بھوت باہر سے اندر آئے گا یا میرے اندر سے باہر نکلے گا ؟ ان حالات میں امید کی کرن چین کی حکومت کا اعلان ہے کہ چھے دنوں میں ایک ہزار بیڈ کا ہسپتال بن جائے گا اور جلد ویکسین مارکیٹ میں آ جائے گی۔ لوگ بھی زندگی کے شجر سے پیوستہ رہ کر امید بہار رکھ کر بے خوف جیون کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔

یہ تو چین کے حالات تھے جبکہ تقریبا بیس ممالک میں یہ وائرس رپورٹ ہو چکا ہے: جن میں تائیوان، ہانگ کانگ، جنوبی کوریا، جاپان، تھائی لینڈ، سنگاپور ملائیشیا ، نیپال ، سری لنکا، آسٹریلیا، امریکہ، کینیڈا وغیرہ شامل ہیں۔

انسان میں بیماریوں کا آنا معمول کی بات ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب کوئی ایسی بیماری جنم لے لے، جس کا علاج موجود نہ ہو۔ بدقسمتی سے کرونا وائرس کے خلاف کام کرنے والی ویکسین ابھی تک ایجاد نہیں ہوئی ۔ایسی صورت میں واحد حل یہی بچتا ہے کہ کرونا وائرس سے دور رہا جائے ۔ یہ اسی وقت ممکن ہوگا، جب کرونا وائرس کے متعلق مکمل جانکاری اور حفاظتی تدابیر کا مکمل ادراک ہو۔

کرونا وائرس کا ایک "گروپ" ہے جو پرندوں، ممالیہ، اور انسانوں میں بیماری پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ انسانوں میں یہ وائرس نظام تنفس پر حملہ کرتا ہے اور انفیکشن کا باعث بنتا ہے جو عام طور پر معمولی ہوتی ہے مگر چند لوگوں کے لئے اتنی خطرناک ہو جاتی ہے کہ زندگی کا چراغ گل کر دیتی ہے ۔ کرونا لاطینی لفظ ہے جس کے معنی ہیں "تاج" (کراون) اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ الیکٹران مائکروسکوپ میں وائرس پر نکلے قمقمے شاہی تاج کی شکل میں نظر آتے ہیں۔ اس مشابہت کی وجہ سے اسے کرونا کہا جاتا ہے۔ یہ وائرس ساٹھ کی دہائی میں پہلی دفعہ مرغی میں دیکھا گیا اور اس کی دو اقسام نزلہ سے متاثرہ افراد میں شناخت ہوئیں۔ اس کی مشہور سات اقسام ہیں۔ اس کی ایک قسم کا نام سارس ہے جس نے 2003 میں چین میں تباہی مچائی اور اٹھ ہزارلوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جبکہ 774 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ موجودہ تباہی کا باعث بننے والا وائرس کرونا این( این سی او وی ) ہے۔ کرونا وائرس کی جو بھی قسم ہو ،اس کا نشانہ نظام تنفس ہی ہوتا ہے۔عالمی ادارہ صحت نے اکتیس دسمبر 2019 میں بتایا کہ ووہان میں کرونا این وائرس موجود ہے۔ یہ وائرس جنیاتی سطح پر 70 فیصد سارس وائرس سے ملتا ہے۔ اس کے بارے میں خیال ہے کہ یہ سانپ یا چمگادڑ سے انسانوں کو لگا ہے ۔ چین میں 41 متاثرہ لوگوں پر تحقیق ہوئی تو پتہ چلا کہ کہ چھیاسٹھ فیصد لوگوں کا تعلق "ہوہاں سی فوڈ مارکیٹ" سے ہے۔ جہاں زندہ جانوروں کی فروخت بھی ہوتی ہے۔ گویا یہ امکان تقویت پکڑتا جارہا ہے کہ یہ کرونا این جانوروں سے انسانوں تک منتقل ہوا ہے۔

کرونا وائرس کی موجودگی کو معلوم کرنے کے لیے دو ٹیسٹ ہیں ۔ پہلا ٹیسٹ نیوکلیک ایسڈ ٹیسٹ ہے جس میں وائرس کے ڈی این اے کی موجودگی کا پتہ لگایا جاتا ہے ۔ دوسرے ٹیسٹ میں الیکٹران مائیکروسکوپ سے وائرس کے کراؤن کو دیکھ کر اس کی موجودگی کو معلوم کیا جاتا ہے۔ وفاقی وزیر صحت ظفر مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس وائرس کی شناخت اور سکرینگ کے لیے انتظامات ناکافی ہیں۔ اس لیے ہمیں اس سے بچاؤ کی طرف بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔

جب یہ وائرس کسی انسان کے جسم میں داخل ہوتا ہے تو چار سے چودہ دنوں تک بیماری ظاہر ہوجاتی ہے۔ اس کی علامات میں بخار، کھانسی ، بلغم اور سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔ مختصراً زکام کی علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔

اس کے علاج کے لیے ویکسین دریافت نہیں ہوئی ۔ اس لیے امریکی محکمہ سی ڈی سی نے ہدایت جاری کی ہے کہ زکام کی ادویات ہی دی جائیں، مشروبات کا استعمال کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ آرام کیا جائے ۔
ویکسین کب ایجاد ہوگی؟ یہ سوال ہر شخص کے ذہن میں آتا ہے۔ قومی ادارہ صحت کے مطابق اپریل 2020 میں ویکسین انسانوں پر ٹرائل کے لیے آجائے گی ۔ چین کے 'بیماریوں کے دفاع ' کے محکمہ نے بتایا ہے کہ ویکسین تیار کرنے کا کام شروع ہو چکا ہے ۔ جبکہ 'وبائی امراض کی روک تھام' کا ادارہ تین ویکسین پر فنڈنگ کر رہا ہے اور پر امید ہے کہ جون 2010 تک ویکسین بن جائے گی۔ اس لیے ابھی احتیاط کو ہی "ویکسین" سمجھنا چاہیے۔ اس بیماری میں مبتلا شخص کے بچنے کے کتنے چانسز ہیں؟ چین کا دعویٰ ہے کہ کرونا وائرس میں مبتلا افراد میں سے صرف چار فیصد لوگ مرتے ہیں ، چھیانوے فیصد صحت یاب ہوجاتے ہیں لیکن عالمی ادارہ صحت کے مطابق پچیس فیصد افراد شدید بیمار ہوجاتے ہیں جبکہ نیوٹرل آبزرور کے خیال کے مطابق شرح اموات دس فیصد ہے یعنی؛ دس مریضوں میں سے نو ٹھیک ہو جاتے ہیں.

کرونا وائرس سے بچنے کے لئے دس حفاظتی تدابیر ہیں۔ ہاتھ کو بار بار دھوئیں، منہ اور ناک کو ڈھانپیں کر رکھیں یا ماسک پہنیں کیونکہ یہ و ائرس ہوا سے پھیلتا ہے ، نزلہ زکام کے مریض کو چھونے سے باز رہیں اور بیمار شخص کی چیزوں کو بھی نہ چھوئیں کیونکہ یہ بیماری چھونے سے بھی پھیلتی ہے، ڈاکٹرز کو خرگوش سوٹ (بنی سوٹ) پہننا چاہیے ، پالتو جانوروں سے دور رہیں ، خوراک خصوصا گوشت کو اچھی طرح پکائیں، کسی بھی شخص کے منہ، ناک یا چہرہ کو ٹچ نہ کریں، ناک میں وکس یا کوئی تیل لگائیں اور ناک سے سانس لینے کی کوشش کریں، گلا خشک نہ ہونے دیں اور زکام سے بچیں ۔

غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق پاکستان میں پانچ مریضوں میں کرونا وائرس ‏موجود ہے ؛ تین لاہور میں ہیں اور دو ملتان میں۔ اس لیے ہمیں اب کرونا وائرس کو سیریس لینا چاہیے اور اقدمات کرنے چاہیں ۔اول: چین سے آنے والے ہر شخص خواہ وہ چینی ہو یا کسی اور قومیت کا ،اس کی سکرینگ لازمی ہے۔ دوم: پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس بیماری کی جانکاری دینی چاہیے تاکہ لوگ مناسب احتیاطی تدابیر استعمال کرکے اس سے محفوظ رہ سکیں۔ سوم: یہاں ایک اور امر قابل توجہ ہے کہ آجکل سردیوں کا موسم ہے اور نزلہ زکام عام ہے۔ یہ نہ ہو کہ ہر معمولی زکام کے مریض کو کرونا وائرس کا شکار سمجھ کر مریض کے اضطراب اور فکر کو بڑھا دیا جائے کیونکہ طب کا اصول ہے کہ دو اور دو چار نہیں بلکہ باہیس ہوتے ہیں؛ اس کا مطلب ہے کہ اگر کسی کو دو حصّہ بیماری ہو اور وہ دو حصہ فکرمند ہو جائے تو بیماری چار نہیں ہوگی بلکہ گیارہ گناہ بڑھ کر باہیس ہو جائے گی۔ اس لیے غیرضروری فکرمندی سے بچئے ۔ انگریزی زبان کا ایک محاورہ ہے کہ "بلی کی نو زندگیاں ہوتی ہیں" یعنی بلی کو مارنا مشکل ہے جبکہ ایک اور محاورہ بھی ہے کہ "فکر نے بلی کی جان لے لی" گویا نو زندگیوں والی بلی فکر کے ہاتھوں ماری گئی ۔ اس لیے فکر اور پریشانی سے دور رہنا بھی " ایک علاج" ہے ۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 321 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Waqar Hussain

Read More Articles by Waqar Hussain: 28 Articles with 20696 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: