ازلی دشمن بھارت کی پستہ سوچ اور اُس کا حال

(A R Tariq, )

قیام پاکستان سے لیکراب تک پاک بھارت تعلقات پر ایک نظر دُوڑائیں تویہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کبھی بھی بہتر نہ رہے ہیں۔اِن دونوں ملکوں کے درمیان حالات ہمیشہ کشیدہ ہی رہے ہیں اوراِن میں بہتری کے امکانات کبھی بھی دکھائی نہیں دئیے۔یہ خراب تعلقات ہی تھے کہ اب تک پاک بھارت تین جنگیں ہوچکیں ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت نے ہمیں اب تک دل سے قبول نہیں کیا۔اِس کے قلوب وارواح میں بہترسال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی ہمارے لیے نفرت وکدورت کی چنگاڑیاں ہی دہکتی ہیں۔نفرت وآتش کا لاوہ ہی اُبلتا ہے جس میں بجائے اِس کے کہ کمی آئے اِس کی شدت میں اضافہ ہی دیکھنے کو ملتا ہے وجہ کچھ بھی نہیں ہے ۔بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے۔پاکستان میں امن اُسے ایک آنکھ نہیں بھاتا۔پاکستان کی ترقی و خوشحالی اُس کو ڈستی۔سی پیک اُس کی آنکھوں کو کھٹکتا۔کچھ اسلامی ممالک کی آپس کی قربتیں اُسے بے چین رکھتی۔پاک چین روس تعلقات اور خطے میں پاکستان کی بہتر ہوتی صورتحال اُس کے لیے ناقابل برداشت ۔خطے میں اپنے ہوتے ہوئے بھی پاکستان کا ہر جگہ منفرد مقام ومرتبہ دیکھتے اُس کی جان پر بن آتی ہے ۔اُسے یہ بات قطعی منظور نہ ہے ۔اُسے خوشحال ترقی کرتاپاکستان بالکل گوارا نہیں ہے ۔وہ پاکستان کو بنجر،صحرا اور ایک ایک بوند پانی کو ترسنے والا دیکھنے کا خواہشمند ہے ۔پاکستان کے حالات خراب کرنے کی کوشش میں سرکرداں،اِسے نیست ونابود کرنے کے درپے،پاکستان میں بدامنی ،دہشت گردی پھیلانے کا ذمہ دار،خطے کی خراب صورتحال کا باعث،پاکستان کو دنیا کے نقشے سے غائب دیکھنے کی خواہش رکھنے والا،پاکستان کو پوری دنیا میں تنہاء کرنے کی باتیں کرنے والااپنی تمام تر رذیلانہ،خبیثانہ حرکات کے باوجود پھر بھی جب دیکھتا کہ پاکستان قائم ودائم ہے تو اُس کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔وہ پاکستانی نفرت میں جھلستا، آگ بگولہ ہوئے غصے کے عالم میں پھن پھیلائے زہریلے سانپ کی مانندپھنکارتا نظر آتا ہے۔زمانے بھر کی دھمکیاں دیتا پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی باتیں کرتاپاکستان دشمنی میں اِس پر چڑھائی کی دھمکیوں پر اُتر آتا ہے ۔پاکستان میں سرجیکل سٹرائیک کرنے جیسی جسارت کی گیڈر بھبھکیوں دینے تک آجاتا ہے۔ پاکستان پر بلاجواز،بے سروپا،بغیر تحقیق الزامات لگاتا ہے جو تمام عالم میں عقل وشعور اور فہم وادراک رکھنے والے کسی بھی شخص کے گلے سے نیچے نہیں اترتے ہیں۔پاکستان کو پوری دنیا میں تنہاء دیکھنے کا خواہشمند بھارت پاکستان مخالفت میں اپنے حواس تک کھو بیٹھا ہے۔پاکستان دشمنی میں بجھے ہوئے چہروں کے ہمراہ بہکی بہکی سی بے تکی باتیں کرتا ہے جس پر سنجیدگی کا ذرا سابھی گمان نہیں ہوتاہے ۔اُس کی طرف سے حقائق بھی آشکارہ نہیں ہوتے ہیں۔سچائی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی ہے ۔ایسے میں پاکستان پر شب خون مارنے اور اُسے اقوام عالم میں اکیلا کرنے کی باتوں پربھارت کی عقل پر ماتم کرنے کو دل کرتا ہے کہ وہ پاکستان کو اقوام عالم میں تنہا اورکمزورتونہ کرسکامگر خود ضرورپوری دنیا میں اپنے جاسوس گلبھوشن یادیو اور پائیلٹ ابھی نندن کے کردار کے حوالے سے شرمندگی وجگ ہنسائی کا موجب ضرور بنا پڑا۔ انتہائی عجلت میں پٹھان کوٹ،اڑی حملہ،پلواما حملہ جیسے حملہ کروانے کے بغیر ثبوت الزامات پاکستان پر لگاتا ہے۔پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے گاہے بگاہے فالس فلیگ آپریشن کرتا رہتا ہے۔ اپنے میڈیا پر پاک فوج کے خلاف من گھڑت ،زہریلاپروپیگندہ کرتااور حقائق کو توڑمروڑمسخ کر کے پوری دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے پھر بھی جب کچھ نہیں بن پاتاتو تلملا سا جاتا ہے ۔شکست و ریخت کے خوف میں مبتلاگھبرا ساجاتا ہے اورپھرایسی گھبراہٹ اور خوف میں اُول فول بکے فضول بکواسیات سناتا ہے ۔اپنے ملک بھارت میں متنازعہ شہریت بل لاکر مسلمانوں اور اقلیتوں کا جینا دوبھر کیے سراسرناانصافی اورزیادتی پر مبنی طریقہ اپناتے پاکستان پربھی اقلیتوں کے حوالے سے ناروا سلوک روا رکھے جانے کا سوچا سمجھابے بنیاد، من گھڑت پروپیگنڈہ کرتا ہے ۔اپنا غصہ خوامخواہ پاکستان پر بھونڈے الزام لگاکر پاکستان پر اُتارنا چاہتا ہے۔پاکستان میں حالات خراب کرنے کی کوشش کے ساتھ بم دھماکے کروانے ،اپنے جاسوس پاکستان بھیجنے ، پاکستان کو داخلی و خارجی مسائل میں گھرا دیکھ کرملکی سلامتی پر کاری ضرب لگانے، جنگی حالات پیدا کرکے جنگ کی گیڈربھبھکیاں دینے اورآزاد کشمیرپر بھی حملہ کی باتیں سنانے کے بعد بھی ہر طرف سے ناکام ناکامیاب ٹھہرے خطے میں اپنی بھارتی چودھراہٹ کا سپنا اُدھورا بلکہ ختم ہوتادیکھ کراورپاکستان کو پرسکون پائے قائم و دائم دیکھ کرکچھ کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوتے ہوئے غصے میں آگ بگولہ ہوئے پاگل سا ہوئے بیٹھا تلملاسا جاتا ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 259 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: A R Tariq

Read More Articles by A R Tariq: 47 Articles with 9879 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: