یادِ رفتگاں: حمید نظامی-------ایک عہد ساز شخصیت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حصہ دوم

(Afzal Razvi, Adelaide-Australia)
ور ڈاکٹر عبدالسلام خورشید لکھتے ہیں:
” روز نامہ کے اجرا کے وقت اخبار کی ملکیت دو افراد کے ہاتھ آئی۔ اول حمید نظامی، دوم مسٹر حامد محمود۔ا ول الذکر نے ادارت کی ذمہ داریاں سنبھالیں، موخر الذ کر نے کاروباری فرائض اپنے ہاتھ میں لیے اور دونوں کی مشترکہ محنت اور رفاقت اور دوستوں کے تعاون سے نوائے وقت عروج سے ہمکنار ہوا“َ(صحافت پاکستان و ہند، 194)
اس میں کو ئی شک نہیں کہ حمیدنظامی ایک عہد ساز شخصیت تھے۔ انہوں نے صحافت کو ایک نیا اندازاور اسلوب عطا کیا۔وہ بلند پایہ منتظم اور ادیب و شاعر بھی تھے۔میدانِ سیاست کو صحافت کی وجہ سے خیر با د کہا حالانکہ ایک موقع پر خود قائد اعظم ؒ نے انہیں مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی میں لینے کی خواہش کا اظہار کیا تھا لیکن انہوں نے نہایت ادب سے معذرت کر لی تھی۔ حمید نظامی ایک شعلہ بیان مقرر بھی تھے۔ 1942 کا ذکر ہےکہ مشرقی پنجاب کے شہر جالندھر میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کا سالانہ جلسہ منعقد ہواجس کی صدارت قائد اعظم ؒ نے فرمائی۔اس جلسہ میں حمید نظامی نے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن لاہور کے صدر کی حیثیت سے شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے قائداعظم پر اعتماد کی قرارداد پیش کی اور زبردست تقریر کی۔ اس واقعے پر روشنی ڈالتے ہوئے سید سلامت جالندھری لکھتے ہیں:

”آپ کی پر جوش تقریر علم و فضل، دلائل و براہین اور جذباتِ ملی کا ایک حسین درس تھا۔چنانچہ آپ کی تقریر نے حاضرینِ جلسہ کے دل لوٹ لیے اور ہر شخص نے آپ کی دلآویز خطابت سے اثر قبول کیابلکہ خود قائد اعظم ؒ بھی اس تقریر سے بے حد متاثر ہوئے اور صاحب موصوف نے جلسہ عام میں میری حاضری میں جناب حمید نظامی صاحب کو بار بار داد دی اور فرمایا: میری قوم کو حمید نظامی جیسے ہوش مند نوجوان میسر ہوں تواس قوم کا مستقبل روشن ہے۔“

حمید نظامی کو کم سے کم اور آسان سے آسان الفاظ میں اپنی بات کہنے کا ملکہ حاصل تھا۔ تحریکِ پاکستان اور قیامِ پاکستان کے بعد ان کے اخبار کی بے حد مقبولیت کی وجہ ان کی وسیع النظری تھی۔پھر ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ صحافت کا مقصد ادبی ذوق کی تسکین نہیں ہے، یہ تو قارئین کو حالات و واقعات سے با خبر رکھنے کا ذریعہ ہے۔قارئین میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے علاوہ کم پڑھے لکھے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں اس لیے صحافتی زبان ایسی ہونی چاہیے جسے ہر خاص وعام سمجھ سکے۔ یہ خوبی ان کے اداریوں میں بدرجہ اتم موجود ہے۔اور اب میں ان کی اسی صلاحیت کی طرف آتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کررکھی تھی کہ وہ جو بھی اداریہ لکھتے تو قارئین پڑھ کر انگشت بدنداں رہ جاتے تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد حکومت کی غلط پالیسیوں پر تنقید کی پاداش میں اپریل 1951 میں دولتانہ وزارت کے عہد میں نوائے وقت کا ڈکلر یشن منسوخ کردیا گیالیکن ان کے پایہ استقلال میں لغزش نہ آنے پائی اور اپنے مشن کو ”جہاد“ اور بعد ازاں ”نوائے پاکستان“ کے پلیٹ فارم سے جاری رکھا یہاں تک کہ حکومت کو مجبوراً ایک سال بعد ڈکلریشن بحال کرنا پڑا۔حمید نظامی ابتدا میں لیل ونہار کے عنوان سے ایک کالم لکھا کرتے تھے اس کالم میں اتنی جان ہوتی کہ اسے انگریزی اخباروں والے ترجمہ کرکے شائع کرتے تھے۔ ان کی کالم نگاری کو موضوع بناتے ہوئے ڈاکٹر باقر رضوی لکھتے ہیں:
”مرحوم حمید نظامی کے قلم کی گیرائی کا یہ عالم تھاکہ کم از کم دو مرتبہ کلکتے کے مشہور اخبار سٹیٹسمین نے اس کالم کا انگریزی میں ترجمہ کرکے شائع کیا۔“ (مضمون مطبوعہ نوائے وقت 22جولائی1969؁ء)

اب میں آپ کے سامنے ادریہ نویس حمید نظامی کو پیش کرتا ہوں جس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اور لحظہ پیارے وطن کی آبیاری اور اس کی ترقی کے خواب دیکھنے میں صرف ہوا۔ اس نے جب بھی دیکھا کہ حکومت کی پالیسیاں وطنِ عزیز کے لیے زہر قاتل ہیں تو وہ اس کے خلاف عوام کی آواز بن کر اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے اداریوں میں ایسی ایسی گل کاریاں کی کہ مخالفین کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی اور انہیں راستہ نظر نہ آتاتھا کہ اس مردِ درویش کے اٹھا ئے ہوئے سوالات کے جوابات کہاں سے لائیں۔ وہ اداریہ لکھتے وقت اس بات کو ہمیشہ پیش ِ نظر رکھتے تھے کہ وہ کیا لکھنے والے ہیں اور کس کے بارے میں لکھ رہے ہیں لیکن وہ جو لکھتے سچ اور حق ہوتاتھا جسے وہ ببانگ دہل کہنے کی قوت رکھتے تھے۔ان کی اس خوبی کے بارے ان کی زوجہ محترمہ بیگم محمودہ نظامی لکھتی ہیں:
”حمید نظامی مرحوم ایڈیٹر، اداریہ نویس اور صحافی کے فرائض اور اوصاف کے بارے میں واضح نقطہئ نظر رکھتے تھے۔ ان کے نزدیک اچھے صحافی کے پاس، ’علم ہونا چاہیے،ایمان داری ہونی چاہیے۔ مطلب یہ کہ جس چیز پر لکھنا ہو اس کے متعلق علم اور معلومات ہوں اور پھر ایمانداری سے وہ ان چیزوں پر لکھے۔“ (نشانِ منزل ۸۲۱)

حکومت پر تنقید کے ضمن میں ان کا نظریہ تھا کہ:
”حکومت پر تنقیدضرور ہونی چاہیے لیکن وہ دیانت پر مبنی ہونی چاہیے اور یہ چیز ہمیشہ مدِ نظر ہونی چاہیے کہ تنقید سے قوم میں بد دلی اور منفی رجحان پیدا نہ ہو۔ لوگ تنقید پڑھ کر مایوس نہ ہوجائیں کہ اس ملک کا تو کچھ بن ہی نہیں سکتا۔یہ تاثر مرتب نہ ہو نا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ تنقید برائے تنقید نہ ہونی چاہیے۔“

اب میں ان کے ایک اداریے سے اقتباس پیش کرتا ہوں جس سے ان نظریہئ صحافت کی بھی وضاحت ہو جائے گی اور بطور اداریہ نویس اور صحافی کے ان کی ایک واضح تصویر بھی ہمارے سامنے آجائے گی۔یہ اقتباس ان کے اس اداریے سے ہے جو انہوں نے 9 جون 1950 ؁کو لکھا تھا۔لکھتے ہیں:
”میں نے اپنی زندگی کے بہترین سال تحریکِ پاکستان کی خدمت میں بسر کیے ہیں اور جہاں تک اس سلسلے میں ’نوائے وقت‘کی خدمات کا تعلق ہے، بعض ایسے بزرگوں کی خدمات کو جو وزیر ان باتدبیر میں شامل ہیں، ہزار سے بھی ضرب دی جائے تو پلڑا نوائے وقت ہی کا بھاری رہے گا۔ میں پاکستان سے وفا داری کا سبق لینے کے لیے کسی وزیر کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے سے انکار کرتا ہوں۔ نہ میں کسی وزیر کو آسمانی مخلوق ماننے کے لیے تیار ہوں۔میرا عقیدہ ہے کہ اگر اخبار نویس ایماندار ہے تو وہ قوم کی نظروں میں کسی وزیر سے فرو تر نہیں“
مزید لکھتے ہیں:
”اگر آپ کسی مسئلے کے بارے میں ہمیں یقین دلا دیں کہ ہم غلطی پر ہیں تو اصلاح ِ احوال میں کوئی عذر نہ ہو گامگر کسی لالچ، ترغیب یا تحریض کے ذریعے آپ مجھے اس پر مجبور نہیں کرسکتے کہ میں اپنی رائے بدلوں۔ میں قلم کی عصمت کو ماں، بہن کی عصمت سے کم مقدس نہیں سمجھتا۔“

قیامِ پاکستان کے اعلان کے ساتھ ہی متحدہ ہندوستان کے حالات دگرگوں ہو گئے، فسادات کا بازار گرم ہو گیا اور گلی کو چوں میں مسلمانوں کا خونِ ناحق بہایا جانے لگا۔ لاہور اور امرتسر میں فسادیوں نے امن پسند شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی۔ سکھوں اور متعصب ہندوؤں نے ظلم وبربریت کی ایسی وحشت ناک داستانیں رقم کیں کہ جن سے تاریخ ِ انسانی آج بھی شرمندہ ہے۔حمید نظامی ایک سچے محب وطن اور امن پسند شہری تھے، لہذا جب انہوں نے یہ سنا کہ امرتسر میں ظلم و تشدد کی انتہا کر دی گئی ہے تو ان کا دل خون کے آنسو رونے لگا، انہوں نے اپنے ان جذبات و احساسات کا اظہار اپنے ایک اداریے میں کیا۔ اگرچہ وہ مختصر نویسی کے قائل تھے، تاہم حالات کے مطابق جہاں بات کی تشریح مطلوب ہو تی، وہ اپنی اختصارپسندی کو طوالت میں بھی بدل لیتے تھے۔ اس کی مثال ان کا وہ اداریہ ہے جس کا ذکر میں سطور ِ بالا میں کر چکا ہوں اور جو20 اگست 1947؁ ء کو شائع ہونے والے نوائے وقت میں لکھا گیا۔اسی طرح انہوں نے قائداعظمؒ کی رحلت پر 16 ستمبر 1948 ؁ ء کو جو اداریہ لکھا وہ بھی ناقابلِ فراموش ہے۔ ملاحظہ کیجیے اقتباس:
” قائد اعظم محمد علی جناح، محمد(ﷺ) کے ان غلاموں میں سے ہیں،جنہوں نے اپنے خلوص اور عمل سے عاشقانِ نبی کی صف میں ایک ممتاز جگہ حاصل کرلی ہے۔ اس صدی میں ان سے بڑھ کر کسی نے امتِ محمدی کی خدمت نہیں کی۔۔۔۔قائد اعظم اور پاکستان لازم وملزوم تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ قائد اعظم نے اپنے وجود کو پاکستان کے وجود میں مدغم کر دیا تھا۔“

اس اداریے میں حمید نظامی نے قائد اعظم کا جو مرقع پیش کیا ہے وہ نہ صرف حقیقتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ ایک عظیم لیڈر کی عظمت کا سچا اعتراف بھی۔آج قائد اعظم ہیں نہ حمید نظامی ہیں لیکن اپنی اپنی خدمات کے صلہ میں تاریخ میں جو مقام و مرتبہ انہیں حاصل ہے، وہ کسی دیدہ ور کو ہی حاصل ہو سکتا ہے۔

حمید نظامی نے ہر دور میں چاہے وہ جمہوری ہو یا فوجی حق وصداقت اور جرأت و بے باکی کا دامن ہاتھ نہ چھوڑا۔1958 ؁ء سے 1962؁ء یعنی موت تک ایوبی آمریت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے رہے۔ ان کے اداریے مستند و معتبر، اوتدال و استدلال، جرأت و بیباکی، اختصار و جامعیت، سلاست وتسلسل اور متنوع مضوعات پر مشتمل ہوتے تھے۔ ڈاکٹر محمد باقر رضوی نیاپنے مضمون ’نوائے وقت ایک عہد ساز اخبار‘ جو 22جولائی 1969؁ء کو شائع ہوا،میں لکھا ہے:
”اگر صرف نوائے وقت کے اداریوں کو جمع کرکے ان کا جائزہ لیا جائے تو تحصیل ِ پاکستان اور پاکستان کو قائم رکھنے کی مساعی کی ایک مستند تاریخ مرتب ہو سکتی ہے اور ان افراد اور ان تحریکوں کی نشان دہی بھی ہو سکتی ہے جنہوں نے پاکستان کو برباد کرنے میں کسر اٹھا نہرکھی۔“

حمید نظامی ایک کہنہ مشق اداریہ نویس تھے جنہیں قلم پر مکمل کنٹرول تھا۔ ان کے اس وصف پر اور نوائے وقت پر تبصرہ کرتے ہوئے صدقِ جدید میں 6 جون 1958 ء کو مولانا عبدالماجددریاآبادی نے لکھا:
”نوائے وقت اردو روزناموں میں بڑی حد تک ایک معیاری پرچہ ہے۔ زبان صحیح، سلیس، شگفتہ،عوامیت، بازاریت اور ابتذال سے ہمیشہ بلند۔۔۔اپنے اخباری مقالوں کی طرح وہ گفتگو میں بھی ماشااللہ وزن اور توازن دونوں پر قادر ہیں۔“

اردو صحافت کے اس درخشاں ستارے نے ۵۲ فروری کی صبح اس جہانِ فانی کو خیر باد کہا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
خدا تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 320 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afzal Razvi

Read More Articles by Afzal Razvi: 78 Articles with 24260 views »
Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allama
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: