کیجریوال کے کام نے مودی کے نام کو مات دے دی

(Dr Salim Khan, India)

دہلی کے انتخابی گہما گہمی کے دوران وراٹ کوہلی ہندوستانی ٹیم کے ساتھ نیوزی لینڈ پہنچ گئے اور انہوں نے پانچ ٹی ٹوینٹی مقابلوں میں یکے بعد دیگرے کامیابی درج کرائی ۔ وہ سمجھ لیں کہ پارلیمانی انتخاب تھے جس میں دہلی کی ساری نشستوں پر بی جے پی نے یکمشت قبضہ جمالیا ۔ اس کے بعدکھیل کا نقشہ بدلا ، اب کوہلی کو ٹی ٹوینٹی کے بجائے یک روزہ میچ کھیلنا تھا۔ بی جے پی کو بھی پارلیمانی انتخاب کے بعد صوبائی انتخاب میں حصہ لینا تھا۔ اس جیت کے لیے نریندر مودی، امیت شاہ ، منوج ٹھاکر، پرویش ورما اور ادیتیہ ناتھ یوگی ایک سے بڑھ کر ایک اشتعال انگیز بیانات دیئے اور پھر انتخابی مہم کے خاتمہ کا دن آیا تووراٹ نے اپنا پہلا ون ڈے میچ کھیلا ۔اس میچ میں وراٹ کوہلی کی ٹیم نے بھی ان رہنماوں کی مانند خوب چوکے اور چھکے لگاکر غیر معمولی 346 رنوں کا ڈھیر لگا دیا ۔ یہ بالکل بی جے پی کی انتخابی مہم کا ماحول تھا جس میں سیکڑوں رہنما سڑکوں اور جھگیوں کی خاک چھان رہے تھے۔ اس کے بعد کیجریوال کا جھاڑو لے کر نیوزی لینڈ کی ٹیم میدان میں اتری اور اس نے ہندوستان کے اسکور کو48 اوور میں پار کرلیا۔وراٹ کوہلی کی طرح دہلی کے انتخاب میں امیت شاہ کے ارمانوں پر پانی پھرگیا۔

رائے دہندگی کے دن وراٹ کوہلی نے دوسرا ون ڈے کھیلا ۔ انڈیا کے سامنے صرف 271معمولی ہدف تھا لیکن وراٹ اسے بھی حاصل کرنے میں ناکام رہے اور251 کے حقیر اسکور پر آوٹ ہوکر دوسری بار شکست فاش سے دوچار ہوگئے۔ نیوزی لینڈ کے ٹِم ساوتھی نے نویں بار ان کو آوٹ کرکے ورلڈ ریکارڈ بنایا کیجریوال بھی اسی دن دو سری مرتبہ ایکزٹ پول میں بی جے پی کو دھول چٹا دی ۔کھیل ہو یا انتخاب اس میں فتح و شکست کے پیچھے کچھ ٹھوس وجوہات کارفرما ہوتی ہیں ۔بی جے پی کو جو یہ کراری ہار ملی ہے اس کاسبب اس کے اندر خود اعتمادی کی کمی اور انتخاب جیتنے کے لیے فرضی و غیر اہم مسائل کا انتخاب ہے۔ دہلی کے اندر حکومت تین سطح پر ہے۔ دارالخلافہ ہونے کے سبب مرکزی حکومت اور اس کے تحت نظم و نسق کا شعبہ یعنی پولس کا محکمہ جوبی جے پی یعنی امیت شاہ کے پاس ہے۔ اس کے علاوہ دہلی کے اندر تین عدد میونسپلٹی ہے ۔ ان بلدیات پر بھی بی جے پی کا قبضہ ہے ۔ ان دونوں کے درمیان صوبائی حکومت ہے جو عآپ کے قبضے میں ہے۔ بی جے پی اگر مرکزی حکومت کے تحت فلاح و بہبود کے منصوبوں کو اپنی میونسپلٹی کی مددسے روبہ عمل لاتی تو اسے یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا۔

آپ نے اس بار کا دہلی انتخاب عین بی جے پی کے انداز میں لڑا ۔ کمل والوں کی حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے مخالف کے پالے میں کبھی نہیں جاتے الٹا اس کو گھسیٹ کر اپنے پالے میں لے آتے ہیں ۔ کیجریوال کو اپنے مسائل میں الجھانے کے لیے ان لوگوں نے اسے شاہین باغ کا حامی ، اربن نکسل اور دہشت گرد تک کہہ دیا لیکن کیجریوال نے خود کو دہلی والوں کا بیٹا کہہ کر ان کا داوں الٹ دیا۔ کیجریوال کو ہندو دشمن بنانے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے ہنومان مندر میں جار ہنومان چالیسا پڑھنا شروع کردیا۔شرجیل کا معاملہ آیا تو اس کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کردیا۔ رام مندر ٹرسٹ بنانے پر مودی کو مبارکباد دے دی اور شاہین باغ کی بات آئی تو امیت شاہ کو وہاں جا کر بات چیت کرنے کا مشورہ دے دیا۔ اس حکمت عملی سے پریشان ہوکر بی جے پی والے اسکولوں اور محلہ اسپتالوں کے اندر جانے پر مجبور ہوگئے اور جعلی ویڈیو بنائی لیکن اسے جھوٹ کی قلعی بہ آسانی کھل گئی ۔ عآپ کی مہم کے سربراہ پنکج گپتا نے اس بابت بتایا کہ ہم نے تعلیم، صحت ،بجلی اور پانی کی سیاست پہلی بار شروع کی ہے اور اس بابت ہمیں عوام کو دکھانے کے لیے بہت کچھ ہے۔

انتخابی موضوعات سے قطع نظر عآپ کا اسلوب ِ تشہیر بھی بی جے پی کی ہو بہو نقل تھا۔ وزیراعظم کے بارے میں جب نعرہ بلند کیا گیا کہ ’’دہلی چلے مودی کے ساتھ‘‘ تو اس کے جواب میں عآپ نے ’’اچھے بیتے پانچ سال، لگے رہو کیجریوال‘‘، ’’اچھے ہوں گے پانچ سال ، دلی میں تو کیجریوال‘‘ اور ’’میرا ووٹ آپ کے ساتھ، سیدھا کیجریوال کو‘‘ جیسے پوسٹر بنائے۔ ان سب میں کام کے بجائے فرد کو اہمیت دی گئی تھی۔ کیجریوال نے بھی تشہیر پر پانی کی طرح روپیہ لگایا اور فیس بک پر تو انہوں نے بی جے پی کو پیچھے چھوڑ دیا ۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ آتشی کے محلے میں رہنے والے رام کرپال سنگھ کو بھی یہ پتہ نہیں تھا کہ عآپ کا امیدوار کون ہے لیکن اس کا ارادہ جھاڑو پر مہر لگانے کا تھا۔ ۔ کیجریوال نے مودی پر سیدھا حملہ کرنے یاخود کو مقابلے پرکھڑا کرنے سے گریز کیا تاکہ بی جے پی کو اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملے ۔ یہ غلطی راہل سے ڈنڈے والے بیان میں ہوگئی۔

ایکزٹ پول کی آمد کے بعد بی جے پی والوں کا ردعمل قابلِ دید تھا ۔ اسے دیکھ کر شاہین باغ کی خواتین کو گھر جانے کی دھمکی دینے والی میناکشی لیکھی کا دماغ ٹھکانے آگیا ۔ انہوں نے پہلے توکہا ایکزٹ پول ایکزاکٹ نہین ہوتے ۔ اس سے پہلے بھی یہ غلط نکلے ہیں اور ہم پارٹی کے اندر میٹنگ میں اس پر غوروخوض کریں گے۔ میناکشی نے اپنے آپ کو بہلانے کے لیے یہ منطق پیش کی کہ ’’یہ اعداد ۵ بجے تک جمع کیے گئے ہیں ۔ ہمارے رائے دہندگان تاخیر سے آئے تھے اور شام دیر تک ووٹ دیتے رہے‘‘۔ ایسا تو کوئی انتریامی ہی بتا سکتا ہے وہ بھول گئیں کہ امیت شاہ نے اپنے رائے دہندگان کو مع اہل و عیال صبح دس بجے سے قبل ووٹ دینے کی تلقین کی تھی اور یہ بھی کہا تھا ’’مجھے پتہ ہے تمہارا فیصلہ ۱۱ فروری کے دن سب کو چونکا دے گا‘‘۔ عوام کا فیصلہ منوج تیواری عرف مونگیری لال کے سوا کسی کو بھی نہیں چونکا سکا ۔ ایکزٹ پول اکزاکٹ نکلے۔

نیوزی لینڈ اور ہندوستانی ٹیم کے بیچ تیسرا مقابلہ ووٹ کی گنتی والے دن ہوا ۔ ووٹ کی گنتی سے قبل ایکزٹ پول آگئے اور کسی گودی میڈیا نے بھی بی جے پی کے زخموں پر مرہم رکھنے کی جرأت نہیں کی ۔ اس لیے کہ اپنی تھوڑی بہت عزت کا خیال سبھی کو ہوتا ہے۔وزیراعظم کے ترجمان کا اعزاز پانے والے زی ٹی وی کے سدھیر چودھری نے اس کا ماتم اور دہلی والوں پر لعن طعن کرکے حق نمک ادا کیا ۔ اس دورانکرکٹ کے میدان سے اچانک یہ خبر آئی کہ انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ میں ہندوستانی ٹیم کو بنگلا دیش نے فائنل میں ہرا دیا۔ اس طرح پاکستان کو ہرا کر فائنل میں جانے کی خوشی بھی جاتی رہی کیوں کہ سی اے اے نے پاکستان اور بنگلا دیش کا فرق مٹا کر ان دونوں کو ہندووں کو معتوب کرنے والوں کی صف میں کھڑا کردیا ہے۔ میچ اور سیریز ہارنے کے بعد اپنا وقار بچانے کے لیے تیسرا میچ کھیلنے کے لیے وراٹ کوہلی کی ٹیم میدان میں اتری لیکن پہلے تو ٹاس ہار گئی پھر میچ کے ساتھ سیریز اور وقار تینوں گنوا بیٹھی ۔ بی جے پی کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ کیجریوال سے دو مرتبہ ہارنے کے بعد وہ وقار کی جنگ بھی ہار گئی ۔

ایکزٹ کےمعاملے میں مختار عباس نقوی نے تو کمال احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف یہ کہا کہ ’’ اس پر کیا تبصرہ کرنا، نتیجے آنے کے بعد بات کریں گے‘‘مگر بی جے پی دہلی اکائی کے صدر منوج تیواری نے اعلان کیا ہمارے لیے ہر انتخاب مختلف ہوتا ہے لیکن کیجریوال کے لیے’ کرو یا مرو ‘کی صورتحال ہے۔ وہ بولے اس انتخاب میں عآپ کا سب سے زیادہ نقصان ہوگا اور میرا ٹویٹ سنبھال کررکھیں۔ سارے پول غلط ثابت ہوں گے ۔ ہم لوگ ۴۸ سیٹ جیت کر حکومت بنائیں گے۔ ’’مونگیری لال کے یہ حسین سپنے ‘‘ووٹ کی گنتی کے دن تک جاری رہےاور انہوں نے صبح میں کہا مجھے بی جے پی کی ۵۵ نشستوں پر کامیاب ہوجانے سے بھی حیرت نہیں ہوگی ۔ اس کے ایک گھنٹے بعد انہوں نے کہا میں مایوس نہیں ہوں مگر بی جے پی کے دفتر میں امیت شاہ کی تصویر کے ساتھ یہ پوسٹر ’’ہم انتخابی کامیابی سے نہ مغرور ہوتے اور نہ ناکامی سے دل شکستہ ہوتے ہیں‘‘ اپنی شکست کا اعتراف کررہا تھا۔ کیجریوال کے جھاڑو نے پھر ایک بار کمل کا سپڑا صاف کردیا۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 229 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 921 Articles with 302381 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: