ایمان کے لفظی معانی

(Babar Alyas, Chichawatni)
ایمان کی پہچان, معانی, اہمیت

ایمان کے لفظی معانی:

سب سے پہلے آپ نے ایمان کے لفظی معنی، یعنی denotation، پوچھے ہیں: تَو ایمان کے لفظی مَعَانی "کسی چیز کا نرم ہو جانا" یا "کسی چیز کا محفوظ ہو جانا" ہیں. لغت میں دیگر مَعَانی بھی ہیں؛ مگر یہ مَعَانی ہماری گفتگو کے لیے sufficient ہیں. اور مندرجہ ذیل تحریر پڑھنے کے بعد آپ اِن دو معانی کو ایمان کے اصطلاحی معنی سے تطبیق دے سکتے ہیں..

ایمان کی تعریف:

اللہ سبحانہ و تعالی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے جن باتوں کی خبر دی گئی ہے اُن کا اُسی طرح سے دل میں یقین کرنا اور زبان سے اظہار و اقرار کرنا ایمان کہلاتا ہے.

لہذا ایمان ہی وہ بنیاد ہے جس پر دینِ اسلام کی عمارت...
قائم ہے؛
اور اخبارِ غیب کے احکامات کے تابع رہ کر اپنی زندگی گزارنا اسلام ہے. دل سے اقرار کیے بغیر صرف زبان سے اظہار و اقرار کرنا منافقت ہے؛ چنانچہ ایمان کے بغیر اللہ سبحانہ و تعالی کے نزدیک نہ اسلام معتبر ہے، اور نہ ہی اعمالِ صالحہ کا کوئی اعتبار ہے.

اگر آپ قرآنِ مجید کو دیکھیں، تَو سورةِ فاتحہ، جو ایک لحاظ سے اللہ تعالی سے ہدایت کی دُعا بھی ہے، کے بعد، جوابًا، سب سے پہلے سورةِ بقرة ہے، جس آغاز ہی میں ہے کہ یہ کتاب اُنہی کے لیے ہدایت بنے گی جو غیب پر ایمان لائے... اب یہاں سے ایک اصول اخذ ہوتا ہے کہ...

...مُؤْمِن (ایمان لانے والا) کے لیے مُؤْمَن (جس پر ایمان لایا جائے) غیاب میں ہی ہو گا؛ حضور میں کبھی نہیں ہو گا. لہذا یہ جان لیجئے کہ ایمان کا مفعول ہمیشہ غیب میں ہو گا، مُشاہدہ میں نہیں.

اب عقلیات کی طرف رُخ کرتے ہیں:

ایمان ایسا اَمر ہے کہ جِس کا مفعول، بنسبتِ انسان، غیب ہے؛ لہذا ایمان ایک observational یا empirical اَمر نہیں. اور اِسی لیے ایمان ایک ایسا اَمر نہیں جس کا تعلق عقلِ محض یعنی pure reason سے ہو. اور جو احباب ایمان کو عقلِ محض سے reconcile..کرنے کی کوشش کرتے ہیں، شدید confusions شکار ہوتے ہیں. ہاں، ایمان کا تعلق عقلِ سلیم سے ضرور ہے. اِس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا کیونکہ نیز جو بات آئے گی اُس سے ایمان کا عقلِ سلیم سے تعلق ہونا ثابت ہو جائے گا.

عقلِ محض کی seat ذہن ہے. جبکہ ایمان کی seat قلب ہے. یہ آپ کے مشاہدے میں آیا ہو گا کہ ایمان کی مضبوطی کا جن دعاؤں میں ذکر ہے وہاں عمومًا قلب بھی مذکور ہوتا ہے. اور passion کی seat قلب ہے. اور قلب کا لفظ حالتِ تغیر و تبدیلی کے معنی بھی اپنے اندر رکھتا ہے؛ اِسی سے لفظِ اِنقلاب بھی ہے.
اور ایمان کی seat بھی قلب ہی ہے. جب ایمان کی seat، یعنی قلب، دائمی کیفیتِ تغیر میں ہے تَو ایمان بھی حالتِ تغیر میں رہے گا، کبھی قوی ہو گا، اور کبھی کمزور.

ایمان کا تعلق، عقلی اعتبار سے، عقلِ محض سے نہیں، بلکہ intellect سے ہوتا یے؛...‏
اور intellect کا overriding جوہر یا content بھی passion ہے؛ اور عقلِ محض، intellect کو چیلنج کرنے کی جسارت نہیں کرتی. کیونکہ وہ جانتی ہے کہ intellect ایک ایسی faculty ہے جو اس سے کہیں زیادہ sophisticated ہے. لہذا ایمان اور انٹلیکٹ ایک دوسرے کو بہت ہی احسن انداز میں کامپلیمنٹ کرتے ہیں.

اگر ایمان فقط عقلی امر یعنی rational phenomenon ہوتا، اور اِس میں passion نہ ہوتا، تَو یہی عقلِ محض، ایمان کی فائل پر دستخط کر کے اِسے فائل cabinet میں ہمیشہ کے لیے گمنامی کی زندگی گزارنے کے لیے رکھ دیتی.

اللہ کریم دین محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سمجھ عطا فرماۓ, آمین.
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 254 Articles with 90785 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
14 Feb, 2020 Views: 115

Comments

آپ کی رائے