بی جے پی کے ’ خواب کا شہر رہے گا کہ اجڑ جائے گا؟‘

(Dr. Salim Khan, India)

عام آدمی کے لیے صدمہ لا علاج بیماری ہے لیکن آج کل ہر اسپتال میں ایک ’صدمہ ‘( trauma) کا شعبہ موجود ہوتا ہے اور اس میں حادثے کا شکار ہونے والوں کا علاج کیا جاتا ہے ۔ یہ ایک طبی حقیقت ہے کہ حادثے کے میں صرف ہاتھ ، پیر یا سر نہیں پھوٹتا بلکہ دماغ پر بھی اثر ہوتاہے( جسے صدمہ کہہ سکتے ہیں)۔ جسمانی علاج سے مشکل چونکہ نفسیاتی معالجہ ہوتا ہے اس لیے مریض کو ٹراما سینٹر میں رکھا جاتاہے۔ دہلی کےانتخابی نتائج کا صدمہ ویسے تو ہر سنگھی کو ہوا مگر سب سے برا حال امیت شاہ کا تھا۔ انہوں نے غصے میں آکر مصطفیٰ آباد میں ای وی ایم کا بٹن کچھ زیادہ ہی زور سے دبا دیا اور ایسے شارٹ سرکٹ ہوئے کہ ۸ سے ۱۱ تک ہوش میں نہ آسکے بعید نہیں کہ کسی ٹراما سینٹر میں آرام کیا ہو۔ اس کے بعد اٹھے تو سیدھے ٹائمز ناو کے پروگرام میں نمودار ہوئے۔ اس ملاقات میں دئیے گئےجوابات سے پتہ چلتا ہے کہ اس جھٹکے سے دماغ کسی حدتک تو درست ہوا ہے لیکن ابھی پوری طرح افاقہ نہیں ہوسکا ہے۔ اس دماغی مریض کو مزیدانتخابی جھٹکے درکار ہیں لیکن خطرہ یہ ہے کہ دورانِ علاج وہ کوئی نیا ’کورونا‘ جیسا وائرس بھی پکڑ سکتا ہے۔ فی ازمانہ کچھ لوگوں نے اپنا سیاسی مفاد فسطائی جنون سے جو وابستہ کررکھا ہے۔

امیت شاہ کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ سی اے اے مسلم مخالف کیسے ہے؟ وہ بتاتے ہیں کہ کانگریس اور جنتا پارٹی کی سرکار نے ہندووں اور سکھوں کو طویل مدتی ویزہ دیا تھا ۔ کانگریس نے اس کی ابتداء ؁۱۹۶۳میں کردی تھی۔ انہیں اس بات سے پریشانی ہے کہ کانگریس اگر کوئی قانون بنائے تو سیکولر اور بی جے پی بنائے تو غلط ہوجاتا ہے۔ بات یہ ہے کہ کانگریس نے دیگر ممالک میں ستائے جانے والے لوگوں کی بازآباد کاری کے لیے بغیر کسی شور شرابے کے قانون بنایا او ر ان کی مدد کی تو کوئی اعتراض کیوں کرتا۔ بی جے پی نے اس کے ذریعہ سیاست کی اور ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈال کرکے اس کا فائدہ اٹھانے کی مذموم کوشش کی جس کی قیمت ہ ہ چکا ر ہی ہے ۔ اس بار داوں الٹا پڑگیا اور اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر رسوا ئی ہاتھ لگی۔

کانگریس پر ملک کی تقسیم کا الزام لگانے کے بعد شاہ جی بولے ۱۲ جولائی ؁۱۹۴۷ کے دن مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ جن لوگوں کو پاکستان سے بھگایا گیا انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ وہ پورے بھارت کے شہری ہیں ۔ انہیں یہ محسوس کرنا چاہیے کہ وہ بھارت کی خدمت کرنے کے لیے پیدا ہوئے تھے اس لیے بھارت انہیں قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ امیت شاہ نے تاریخ کے ساتھ گاندھی جی کا بیان تو پڑھ کر سنا دیا اب یہ بتائیں کہ اس میں مذہب کی تفریق کہاں ہے؟ یہ کہاں کہا گیا ہے پاکستان سے آنے والے فلاں فلاں مذہب کے لوگوں کو شہریت دی جائے گی اور فلاں کو نہیں۔ اس بیان میں پاکستان کا ذکرتو ہے جس کا ایک حصہ بنگلادیش بھی ہے لیکن افغانستان کہاں ہے؟ امیت شاہ کو یہ بھی بتانا پڑے گا کہ اس بیان کے بعد گاندھی جی کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا ؟ ان کو گولی مارنے والے ناتھو رام گوڈسے کی بھکت پرگیا ٹھاکرکو بی جے پی ٹکٹ دے کر ایوان پارلیمان میں کیوں بھیجا ؟ اس شرمناک حرکت کے بعد وہ کس منہ سے گاندھی جی کا اقتباس پیش کرکے عوام کی تائید طلب کررہے ہیں ۔

مثل مشہور ہے چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے ۔ جامعہ کے بارے میں شاہ فرماتے ہیں کہ اس علاقہ میں پولس نے انہیں کے خلاف کارروائی کی جو بس اور اسکوٹر جلارہے تھے۔ یہ سفید جھوٹ ہے جامعہ میں پہلی بار لائبریری کے اندر گھس کر پولس نے طلباء کو زدوکوب کیا اور دوسری مرتبہ پرامن جلوس نکالنے والے طلباء پر بدترین درندگی کا مظاہرہ کیا ۔ پولس کی وردی میں غنڈوں سے ہنگامہ آرائی کرائی گئی مگر کارروائی نہیں ہوئی۔ اس لیے خود کو دودھ کا دھلا ثابت نہ کریں۔ جے این ایو کے بارے میں بھی امیت شاہ نے جھوٹ کہا کہ فیس میں اضافہ کے خلاف مظاہرہ کرنے والے طلباء سے پولس دور رہی ۔ جے این یو کے مظاہرین طلباء کو دومرتبہ پولس کے تشدد کا نشانہ بننا پڑا۔ ۱۸ نومبر؁۲۰۱۹ کو ایوان پارلیمان کی طرف جارہے تھے تو انہیں کیمپس سے نصف کلومیٹر کی دوری پر پولس نے بزور قوت منتشر کردیا۔ اس کے بعد ۹ جنوری ؁۲۰۲۰ کو صدارتی محل کی جانب جانے والے طلباء کو پولس نے پھر سے مارپ بھگایا۔ امیت شاہ کی پولس ان نقاب پوش غنڈوں سے ضرور دور رہی جو جے این یو کے احاطے میں طلباء اور اساتذہ کو شاہ جی کا پڑھایا ہوا سبق سکھانے کے لیے گئے تھے ۔ آج تک ان بدمعاشوں پر کارروائی کی کوئی خبر اخبارات کی زینت نہیں بنی ۔

اس دنیا میں جھوٹوں کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک بھول چوک سے جھوٹ بولنے والے دوسرے جان بوجھ کے اس سے لطف اندوز ہونے والے ۔ وزیرداخلہ دوسری قسم کے لوگوں میں سے ہیں ۔ اس لیے پاکستان میں اقلیتوں کی تعداد کی بابت بار بار ڈھٹائی کے ساتھ کذب گوئی کر رہے ہیں۔ پہلی بار انہوں نے ایوان پارلیمان میں کہا کہ پاکستان کے اندر اقلیتوں کی آبادی ؁۱۹۴۷ میں 23 فیصد تھی اور ؁۲۰۱۱ میں وہ گھٹ کر 3.7فیصد ہوگئی ۔ جھوٹ کا ایک سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسے یاد رکھنا پڑتا ہے ۔ شاہ جی کا جھوٹ اس طرح پکڑا گیا کہ دوماہ بعد اچانک انہوں نے پاکستان میں اقلیتوں آبادی میں ۷ فیصد کا اضافہ کرکے اسے 30 فیصد کردیا۔ سوال یہ ہے کہ امیت شاہ کے پاس اعدادوشمار کہاں سے آئے؟ ؁۱۹۴۱ میں تقسیم سے قبل جو مردم شماری ہوئی اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ کیونکہ جتنے ہندو وہاں سے آئے کم و بیش اتنے ہی مسلمان یہاں سے چلے گئے۔ ؁۱۹۵۱ کے متحدہ پاکستان میں بنگلا دیش شامل تھا اس لیےر ؁۲۰۱۱ میں منقسم پاکستان کی آبادی سے اس کا موازنہ فریب دہی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ متحدہ پاکستان میں بھی؁۱۹۵۱ کے اندر اقلیتوں کی زیادہ سے زیادہ آبادی جملہ 14.2فیصد تھی۔ اس کو اگر مغربی و مشرقی پاکستان میں بانٹا جائے تو موجودہ پاکستان میں یہ آبادی صرف 3.44فیصد تھی جو ؁۱۹۹۸ تک 3.7 فیصد پر پہنچ گئی اور اس میں 3.5 فیصد کا اضافہ ہوا۔

؁۱۹۴۷ میں چونکہ بنگلا دیش موجود ہی نہیں تھا اس لیے وہاں کی آبادی کا موازنہ بے معنی ہے۔ یہ کہنا کہ کہاں گئے وہ لوگ؟ یاتو ان کا مذہب تبدیل ہوگیا، یا مار دیئے گئے، یا بھگا دیئے گئے یا بھارت آگئے بے معنیٰ مفروضات ہیں ۔ امیت شاہ کی یہ بات بھی غلط ہے کہ بنگلا دیش ایک اسلامی ملک ہے۔ دستوری اعتبار سے وہ ایک سیکولر ملک ہے جس میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ۔ یہ ایسا ہی ہے کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے جس میں ہندووں کی اکثریت ہے۔ کشمیر کے بارے میں شاہ جی کا یہ کہنا کہ وہاں جو بھی جانا چاہے ہم اس کو اجازت دیتے ہیں یہ بتاتا ہے کہ حالات معمول پر نہیں آئے اس لیے کہ ملک کے دیگر علاقوں میں جانے کے لیے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں پیشں آتی ۔ حکومت ہند کا بار بار عالمی برادری کے ارکان پارلیمان کو لاکر کشمیر کی سیر کرانا اس کے احساسِ جرم کی چغلی کھاتا ہے۔ ان کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش جب ناکام ہوجاتی ہے اورہندوستان کے خلاف کوئی قرار داد منظور ہوجاتی ہے تو اسے اندرونی معاملہ میں مداخلت کا نام دے کر مسترد کردیا جاتا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کشمیر اگر داخلی معاملہ تو باہر کے لوگوں کو وہاں کیوں بھیجا جاتا ہے؟ اس طرح کی تضاد بیانی سے بھکتوں کو تو خوش کرکے اپنے ساتھ رکھا جاسکتا ہے لیکن عام آدمی اور عالمی برادری کا اعتماد حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ شاہ جی یہ بھی سوچیں کہ زرخرید ذرائع ابلاغ کے ذریعہ حاصل کردہ تائید دائمی ہوگی یا عارضی فریب؟ بقول پروین شاکر؎
آج کی شب تو بہت کچھ ہے مگر کل کے لیے
رنگ امید کھلے گا کہ بکھر جائے گا
جیت ہو جائے گی یا کھیل بگڑ جائے گا
خواب کا شہر رہے گا کہ اجڑ جائے گا


 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 389 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 913 Articles with 300646 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: