نظریہ پاکستان

(Shafqat akhlaq hussain, Rawalpindi)

قرارداد پاکستان، نظریہ پاکستان اور موجودہ پاکستان ....

ہر قوم ایک نظریے کی بنیاد پر وجود میں آتی ہے .قران مجید میں ایسی کہیں مثالیں موجود ہیں ،جیسے قوم لوط،قوم نوح ،قوم عاد ،قوم ثمود وغیرہ .ایسےہی مسلم امّہ ایک قوم ہے جو خاص اعتقادات اور نظریات کی حامل ہے .بر صغیر میں آبادی کے لحاظ سے مسلمان کم تھے یر سماجی نا انصافیوں کی وجہ سے پسماندہ بھی تھے .مسلمانوں کی زبوں حالی اور کسمپرسی کو بھانپتے ہوے علامہ محمد اقبال نے ایک نظریۂ پیش کیا جسے دو قومی نظریۂ کہا جاتا ہے یہی نظریۂ ایک الگ مسلم ریاست کے قیام کا سبب بنا .علامہ محمد اقبال کا کہنا تھا کہ ہندو اور مسلم دو الگ قومیں ہیں جو الگ ثقافت اور جدا گانہ تشخص رکھتی ہیں .ان کی تہذیب و تمدن الگ ہیں ،ان دونوں کا رہن سہن اور بود و باش جدا ہے .اس بنیاد پر ان دونوں کا ایک ساتھ رہنا ممکن نہیں ہے .دو قومی نظریے کی بحث کو آگے بڑھانے سے پہلے ضروری ہے کہ کچھ اصطلا حات کی وضاحت کی جائے .

١.. ثقافت .
عموما تو ثقافت کا مطلب رہن سہن ،خوراک و لباس ہی سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے پیچھے ہمیشہ ایک نظریۂ اور عقیدہ موجود ہوتا ہے .اسلام نے انسانی فطرت کے پیش نظر لباس و خوراک کے ضروری اور جامع احکامات جاری کر رکھے ہیں .حلال و حرام کا ایک مکمل ضابطہ موجود ہے .اس لیے ایک مسلمان نہ تو ہر خوراک کھا سکتا ہے اور نہ ہی ہر لباس پہن سکتا ہے .نیز اسلام باہمی میل جول اور تعلقات کی حدود بھی معین کرتا ہے .مرد و زن کے درمیان ایک حد فاصل کو قائم رکھنے کا حکم دیتا ہے اور رشتوں کی پا کیزگی اور تقدس بھی مد نظر رکھتا ہے .اس بنیاد پر اسلامی ثقافت ہر دوسری ثقافت سے جدا اور ممتاز ہے .

٢ کلچر ....
کلچر انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی بونے کے ہیں جیسا کہ AGRICULTURE کے معنی کھیت میں بیج بونے اور کاشت کرنے کے ہیں .اسلامی معاشرے میں کلچر کے معنی یہ ہوں گے ایمان کا بیج دل میں بویا جائے اور عمل کے پانی سے آبیاری کی جائے جس کے نتیجے میں ایک پاکیزہ معاشرہ وجود میں آیے .

٣.تمدن ...
تمدن کا لفظ مدن سے ہے جس کا مطلب شہری آبادی ہے .انسان کا سماجی مخلوق ہونا فطری بات ہے .اور جہاں سماج کی اور بہت سی ضروریات ہیں وہاں گھر اور شہر بھی ایک اہم سماجی ضرورت ہے .اور اسلام نے اس بارے میں بھی جامع احکامات جاری کیے ہیں .علامہ محمد اقبال جب معروف جرمن اسکالر مسولینی سے ملے تو اس نے پوچھا کہ اسلام شہروں کی آباد کاری کے متعلق کیا کہتا ہے /؟اس پر علامہ نے فرمایا اسلام نے حکم دیا ہے کہ شہری آبادی کو ایک حد سے زیادہ نہ بڑھنے دیا جائے . تا کہ انتظامات آسان ہوں اور جرائم کی روک تھام بھی آسانی کے ساتھ ہو سکے ..اس پر مسولینی اسلام کو سراہے بغیر نہ رہ سکا .جہاں گھر بنتے اور بستے ہیں وہاں عبادت گاہیں بھی بنتی ہیں .اسلام میں مساجد کو خاص اہمیت حاصل ہے .اس کے ساتھ ساتھ اسلام نے غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کے احترام کا حکم بھی دیا ہے ..
مسلم معاشرے کو مخصوص ثقافت اور تہذیب و تمدن کو مد نظر رکھتے ہویے ہی علامہ محمد اقبال نے ایک الگ اسلامی ریاست کا تصور پیش کیا .بر صغیر کے اکابرین نے بعد میں الگ ریاست کے قیام کے لیے تحریک چلائی تو چوہدری رحمت علی نے اس مجوزہ ریاست کا نام پاکستان تجویز کیا.

٢٢ مارچ ١٩٤٠ کو مسلم لیگ کے اجلاس میں ایک قرارداد پیش کی گئی جسے ہندو اخبارات نے قرارداد پاکستان کا نام دیا .یہ قرارداد اے کے فضل الحق نے پیش کی .اس قرارداد میں کہا گیا ( قرار پایا ہے کہ غور و خوض کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ کے اس اجلاس کی رائے یہ ہے کہ کوئی آئینی منصوبہ بغیر اس کے کہ ملک میں قابل عمل اور مسلمانوں کے قابل عمل اور مسلمانوں کے قابل قبول نہیں ہو گا کہ وہ مندرجہ ذیل اصولوں پر مبنی ہو ،یعنی یہ کہ حد بندی کر کے اور ملکی تقسیم کے اعتبار سے رد و بدل کر متصل واحدوں کو ایسے منطقے بنایا جائے کہ وہ علاقے جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہے .جیسے کہ ہندوؤں کے شمالی ،مغربی اور مشرقی منطقوں میں اس طرح یک جا ہو جایئں کہ وہ ایسی خود مختار ریاستیں بنیں جن کے واحد ے اندرونی طورپر با اختیار ہوں کہ ان واحدوں میں اور ان علاقوں میں اقلیتوں کے لیے ان کے مذہبی ثقافتی ،اقتصادی .سیاسی ،انتظامی اور دوسرے حقوق و مفاد کے تحفظ کے لیے ان کے مشورے سے بقدر ضرورت موثر اور واجب التحصیل تحفظات معین طورپر دستور کے اندر مہیا کیے جایئں اور ہندوستان مسلمان اقلیت میں ہوں حسب ضرورت موثر اور واجب التحصیل تحفظات ان کے اور دوسری اقلیتوں کے مذہبی ،ثقافتی ،سیاسی انتظامی اور دوسرے حقوق و مفاد کی حفاظت کے لیے ان کے مشورے سے معین طورپر دستور میں رکھے جایئں .....

یہ اجلاس ورکنگ کمیٹی کو یہ مزید اختیار دیتا ہے کہ ان بنیادی اصولوں کے مطابق دستور کی ایک ایسی سکیم مرتب کرے جس میں اس کا انتظام ہو کہ بالاخر کہ یہ جداگانہ علاقے ایسے تمام اختیارات لے سکیں جیسے دفاع ،امور خارجہ رسل و رسائل ،کسٹم اور دوسرے امور جو ضروری ہیں .. اس قرارداد میں جہاں مسلمانوں کو اینی تحفظ مہیا کیا گیا ہے وہیں پر اقلیتوں کو بھی تحفظ فراہم کیا گیا ہے .اس قرار داد کی روشنی میں نظریۂ پاکستان کی مزید وضاحت ہوتی ہے اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اکابرین کی نظر میں ایک اسلامی ریاست کا قیام تھا . تقسیم ہند کے بعد جو ریاست پاکستان کے نام سے وجود میں آئی وہ بہت سے مسائل کا شکار تھی .بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے بارہا ارشاد فرمایا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے .اسی وجہ سے تمام استعماری اور سامراجی طاقتوں نے پاکستان کے خلاف ابتدا ہی سے سازشوں کا آغاز کر دیا . بانی پاکستان اور اول وزیراعظم لیاقت علی خان کا قتل اسی سلسلے کی کڑیاں تھیں .یہ سلسلہ تخریب جاری رہا اور سامراج اقتدار کے ایوانوں میں اپنے پٹھوں داخل کرنے میں کامیاب ہو گیا .اس کے باوجود پاکستانی قوم کو ١٩٧١ کا متفقہ آئین مل گیا جو کہ اسلامی تعلیمات کے قریب ترین ہے .. اسلام اور پاکستان کے مشترکہ دشمنوں نے پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں پر حملے جاری رکھے عسکری جارحیت سے زیادہ نظریاتی حملے خطر ناک ثابت ہوے .ذر خرید نام نہاد دانشوروں کے ذریعے قوم کو شکوک و شبہات میں مبتلا کر کے نظریۂ پاکستان سے بد ظن کیا گیا .قائداعظم رحمتہ الله علیہ کی شخصیت کو متنازعہ بنایا گیا . جہاں استعمار کے ذر خرید غلام پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی تخریب میں مشغول ہیں وہیں دوسری طرف چند بے ایمان منافق اور بد دیانت اقتدار پر قبضہ جماہے بیٹھے ہیں .

ہوس و حرص کے غلاموں نے اہم ملکی معاملات سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور اپنی ہوس کی تکمیل اور ذاتی مفادات کے حصول کے لیے ملک دشمن عناصر کو کھل کھیلنے کا موقع فراہم کر رکھا ہے ..
تعصبات کے فروغ کے ذریعے قوم کو افراد کے ہجوم میں تبدیل کر دیا گیا ہے . مسلکی ،لسانی .علاقائی اور دیگر تعصبات نے قوم کو منتشر کر دیا . تعلیم و تربیت کا فقدان اس بات کا باعث بنا کہ مفاد پرست رہنماؤں نے عوام کو ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا .

ہر سال یوم پاکستان کی رسم ادا کرنا فوجی پریڈ اور قومی نغمات سے لوگوں کو محظوظ کرنا کافی نہیں ہے .بلکہ اس دن کو اس کے اصل مقصد کی تکمیل کا دن قرار دے کر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ..٢٣ مارچ تجدید عہد کا دن نہیں بلکہ آیفاہے عہد کا دن ہے .اس دن جائزہ لینا چاہے کہ ہم مقصد قیام پاکستان کے حصول میں کس حد تک کامیاب ہوے ہیں .اور اس مقصد کے خلاف نبردآزما طاقتوں سے کس طرح مقابلہ کیا جائے .

یقیناً ہم نہ صرف اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہے ہیں بلکہ ہم اس بات کا احساس بھی کھو چکے ہیں کہ ہمارا کوئی مقصد بھی تھا . اب بھی وقت ہے کہ احساس ذمہ داری سے کام لیں اور قوم سازی پر توجہ دیں .گھر ،سکول ،کالج ،جامعہ سے لے کر ایوانوں تک ہر فرد اور ادارہ اس بات کا ذمہ دار ہے کہ قومی سیرت کی تعمیر میں حصہ لے .ذرائع ابلاغ اور تعلیمی ادارے اس فرض کو بخوبی نبھا سکتے ہیں .
آئیے اس بار وفایے عہد کے عملی اقدامات کریں .رسمی بیانات اور تقریبات سے آگے بڑھیں ...
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 79 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shafqat Akhlaq Hussain

Read More Articles by Shafqat Akhlaq Hussain: 4 Articles with 911 views »
i am simple n sensitve person .worried about my country... View More

Comments

آپ کی رائے
Language: