بھارتی غربت چھپاؤ دیوار

(Tahir Ahmed Farooqi, MUZAFFARABAD AZAD KASHMIR)
بھارتی غربت چھپاؤ دیوار

دنیا میں دیوار چین مشہور معروف پہچان رکھتی ہے یہاں برصغیر خصوصاً پاک بھارت دو ممالک وجود میں آنے کے بعد ان کے عوام کے بہتر مستقبل کے راستے کی ریاست جموں وکشمیر کے مابین سیز فائر لائن کے نام سے منسوب فولادی جالوں سے بنی دیوار ایک کروڑ انسانوں کا بنیادی حق حق خودارادیت غضب کیے ہوئے ہے جس کا وجود مضبوط کرنے کیلئے بھارت فولادی جالوں میں بجلی کا کرنٹ چھوڑ کر کیمروں سمیت جدید جاسوسی کی ٹیکنالوجی اور اپنی افواج کی انسانی دیوار بھی کھڑی کیے ہوئے ہے مگر ایک دِن اس کے گرجانے کے خوف سے مقبوضہ کشمیر میں دس لاکھ افواج دولاکھ آر ایس ایس کے دہشت گرد جتھوں کے ساتھ کرفیو لگائے ہوئے ہے جس کے نفاذ کو دو سو چار ایام ہو چکے ہیں مگر اس خطہ کا ساری دنیا سے ہر طرح کا رابطہ ختم کرنے کے باوجود اپنے عزائم میں کامیابی کے بھارتی خواب چکنا چور ہو رہے ہیں جس کا انسانی تاریخ کو کشمیری عوام پر فخر ناز رہے گا کہ فوجی قوت سے قیدی بنائے گئے اسی لاکھ کشمیریوں نے تمام انسانی بنیادی سہولیات سے محروم ہو کر بھی بندوق کے سامنے سر نہیں جھکایا جن کی تحریک کو دبا کر اور مقبوضہ کشمیر کے حالات دنیا سے چھپا کر بھارت انسانی خون کی ندیاں بہانے کی تیاریاں کر چکا تھا مگر اس کا یہ مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے پہلے سے بہت زیادہ تیزی سے بے نقاب ہونا شروع ہو گیا کیوں کہ ظلم اور جھوٹ ایک دن ننگا ضرور ہوتا ہے جس کا ایک اظہار سچ کو چھپانے کیلئے جھوٹ کی تعمیر ہوتی دیوار کی شکل میں دنیا کے سامنے آیا ہے امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بھارت کے شیڈول میں گجرات بھی شامل ہے جہاں سے نریندر مودی نے اپنے قاتل دور اقتدار کا آغاز کیا تھا یہاں انسان کی حالت آج بھی جانور جیسی ہے‘ جہاں ایک سو کروڑ فنڈز سے سڑک کنارے ایک بڑی دیوار ہنگامی طور پر تعمیر کی جا رہی ہے تاکہ اس سڑک سے گزرتے ہوئے ٹرمپ اور ان کے رفقاء کی نظر میں سڑک کی دوسری طرف بستیوں اور بوسیدہ پھٹے کیچڑ بھرے کپڑے لگائے لاغر جسموں والے کیڑوں کی طرح بکھرے پڑے لاکھوں انسانوں پر نہ پڑے اس دیوار کی تعمیر ہوتے دیکھ کر یہ بے بس لاچار انسان کہتے نظر آ رہے ہیں کہ ہماری غربت چھپانے کیلئے سو سو کروڑ کی دیوار یں تعمیر کرنے کے بجائے ہماری حالت بہتر کرنے کیلئے سوچا ہوتا تو یہ نوبت نہ آتی ان کے چہرے جسم کپڑے جذبات خیالات انڈیا کے اندر بدحالی‘ پسماندگی کا آئینہ ہیں جس کا ذمہ دار انڈیا کا ہندو تواء مائنڈ سیٹ ہے جو نفرتوں‘ قتل و غارت کے الاؤ جلائے ڈیڑھ ارب انسانوں کو ان کی خوشیوں سے محروم رکھے ہوئے ہے اور خود طاقت بن کر بیٹھے رہنے کیلئے دیواروں پر دیوار ہی کھڑی کیے جا رہا ہے جس کے اقتدار اختیار سمیت چپہ چپہ پر ہٹلر کے مائنڈ سیٹ دہشت گرد وگروہ آر ایس ایس کا قبضہ ہے جو ناصرف برصغیر بلکہ سارے ایشیاء کیلئے خطرہ بن چکا ہے جو ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے جس کا انجام ہونے سے پہلے ہی دنیا کو بیدار ہونا ہو گا اور انڈیا کو دہشت گردوں سے نجات دلانے کیلئے وہ سب پابندیاں اقدامات کرنا ہونگے جو اب سے پہلے کر چکی ہے برصغیر کے عوام بشمول بھارتیوں کو باقی دنیا کے لوگوں کی طرح ترقی‘ خوشحالی اور خوشیوں کے خوابوں کی تعبیریں دینے کیلئے آگے بڑھنا ہوگا ورنہ اس مائنڈ سیٹ کے پاگل پن کا اندازہ خود انڈین ٹی وی کے ٹاک شو میں ایک منتری کے خیالات سے لگایا جا سکتا ہے جو کہتا ہے ایٹمی جنگ کے اثرات سے ہمارے عوام کا محفوظ رہنے کا رستہ موجود ہے گھروں کی چھتوں پر مٹی،درختوں کے پتے بچھا کر اس کے اوپر تین فٹ گائے کا گوبر لگا دیں تو ایٹمی جنگ سے کچھ نہیں ہوگا اور باہر نکلنے کے لئے جسموں پر گوبر مل لیں تا کہ تابکاری کے اثرات رہا جا سکے اپنی عوام کو اس طرح کے پاگل پن سے بے وقوف بنانے والے وحشیوں سے دنیا کو بچانا ہوگا۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 258 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmed Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmed Farooqi: 195 Articles with 52682 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: