سورۃ النور

(Washma Khan Washma, Karachi)

سورہ نمبر: 24
پارہ نمبر : 18
رکوع : 9
آیاتِ : 64
وجۂ تسمیہ :
نور کا معنی روشنی ہے، چونکہ اس سورہ مبارکہ کی آیت کریمہ35 میں اللہ تعالیٰ کے نور ہونے کا تذکرہ کیا گیا ہے اسی مناسبت سے اس سورہ مبارکہ کا نام”نور“ رکھا گیا۔
اس سورہ مبارکہ میں ایسے آداب وفجائل اور احکام وقواعد بیان ہوئے ہیں جو اجتماعی زندگی کی راہ کو منور اور روشن کردیتے ہیں۔ سورہ نور میں زیادہ تر ایسے احکام بیان ہوئے ہیں جو عفت وعصمت سے تعلق رکھتے ہیں، اسی لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ سورہ مبارکہ خواتین کو سکھانے کی خاص تاکید فرمائی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ارشاد فرمایا: اپنے مردوں کو سورہ مائدہ اور اپنی عورتوں کو سورہ نور سکھاو۔
چنانچہ اس سورہ مبارکہ میں زناکرنے اور پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانے کی سزا، گھروں میں داخل ہونے، بیڈروم میں داخل ہونے کے احکام،زیب وزینت اور زیور کے احکام، اجتماعی، فوجداری، عائلی اور معاشرتی احکام سمیت امُّ المومنین سیدہ،طیبہ،طاہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر منافقین کے لگائے گئے الزامات کی تردید اور الزام لگانے والوں کے لئے ”عذابِ عظیم“ کی وعید اور فتح مکہ کی خوشخبری دی گئی ہے۔
سورہ نور کی پہلی ہی آیت میں یہ بات سمجھا دی گئی کہ: یہ احکام محض سفارشات نہیں بلکہ فرض احکام ہیں۔
♦مدنی سورت ہے
☀شان نزول
*واقع افک**
🔅عورتوں کو سورہ نور پڑھانے کا حکم دیا گیا ہے ۔
📌 سورہ نور کے احکام *نورانی احکام* ہیں جن پر *عمل درآمد *پاکیزہ معاشرے* کی *بنیاد* ہے
📌سورہ نور میں قطعی احکامات ہیں جنکی پیروی لازم ہے
📌زنا کی سزا سو کوڑے مقرر کی گئ ۔
📌بدکار لوگوں سے نکاح کی ممانعت
📌جو شخص زنا کا الزام لگائے اور ثبوت میں چار گواہ نہ پیش کر سکے اسکے لئے(قذف) اسی کوڑوں کی سزا مقرر
📌جن لوگوں نے حضرت عائشہ پر الزام لگایا تھا, انھیں کوڑے مارے گئے
📌شوہر اگر بیوی پر تہمت لگائے تو اس کے لیے لعان کا قاعدہ مقرر کیا گیا
📌افواہ سازی کا سدباب کیا گیا
📌کسی بھی بات کو بلا تصدیق نہ پھیلائیں ۔
📌طیب آدمی طیب عورت کیلئے ہے
📌جو لوگ معاشرے میں فحش کو رواج دیتے ہیں انکو سزا دی جائے
☀ *معاشرتی ہدایات*
📌لوگوں کو ہدایت کہ دوسروں کے گھروں میں اجازت لے کر جائیں
📌عورتوں اور مردوں کیلئے غض بصر کا حکم۔ پہلے مردوں کو پھر عورتوں کو
☀عورتوں کے لیے گھر کے اندر ستر کے احکام
📌عورتوں کو سینہ اور سر ڈھکنے کی ہدایت
📌محرم رشتوں کے علاوہ کسی کے سامنے زینت ظاہر نہ کریں (سج سنور کر نہ آئیں)
📌محرم رشتہ داروں کی فہرست کا بیان
📌باہر نکلیں تو بناؤ سنگھار کو چھپاکر نکلیں ۔
📌 مومنوں مل کر اللہ سے توبہ کرو تاکہ فلاح پاسکو
📌بن بیاہے بیٹھے رہنا نا پسندیدہ قرار دیا گیا
📌 بالغ ہوتے ہی شادی کو ترجیح
📌لونڈیوں اور غلاموں کے بن بیاہے رہنے کو بھی پسند نہیں کیا گیا۔
📌لونڈیوں اور غلاموں کی آزادی کے لئیے مکاتبت کا حکم
📌لونڈیوں سے قحبہ گری کروانا ممنوع قرار دیا گیا
📿 *آیت نمبر35-46*
📌اللہ ہر نور کا منبع ہے
♦ایمان روشنی ہے اور قران ذریعہ ہے
♦وہ مومنین اس نور سے فائدہ اٹھانے والے ہیں جن کے دل ہر حال میں اللہ کی طرف متوجہ رہتے ہیں
♦اس تعلیم کا انکار کرنے والے اس نور سے محروم رہ گئے
♦منافقین کی نشانیاں بیان کی گئیں
📿 *آیت54-55*
♦مومنین کی صفات
♦اللہ اور رسول کے اطاعت گزار،نافرمانی سے پرہیز کرنے والے
*خلاصہ*
♦اطاعت و فرمانبرداری کرنے والوں کو خلافت ملے گی
♦حکومت الہیہ کے نتیجے میں عدل اور امن قائم ہوگا
♦خوشحالی آئے گی
📌بعد کے رکوع میں معاشرتی احکامات
📌بوڑھی عورت کے لئیے پردے کی رعایت
📌معذور کے لئیے کھانے پینے میں رعایت وغیرہ کے احکامات
*تنظیمی ہدایات پر مشتمل رکوع*
📌نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ،اسلامی نظام کے امراء کی اطاعت
📌جنگ و امن کے مواقعوں پر
بنا اجازت منتشر نہ ہوا جائے
📌نبی صلعم کی پکار کو آپس میں ایک دوسرے کی پکار نہ سمجھیں
📌اگر ایسا کیا تو کسی عذاب یا فتنے کا شکار ہوسکتے ہیں
*عملی اصول پارہ 18*
🔸¤مومنین کی جو صفات بیان کی گئ ہیں ان پر عمل کرنا
🎋مذکورہ دعائیں یاد کرنا
🔸¤سورہ نور کے نورانی معاشرتی احکامات کے نفاذ کے لئے کوشش کرنا
🔸¤ہر وقت اللہ کی یاد،زکر،اطاعت و فرمانبرداری کی کوشش کرنا
🔸¤منافقین کی صفات جاننا اور نفاق سے بچنے کی کوشش کرنا

اس سورت میں پاکیزہ معاشرہ قائم کرنے کے زرین اصول بیان کئے گئے ہیں اور بھرپور انداز میں قانون سازی کا عمل سر انجام دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی توحید کے موضوع پر بھی دلائل و شواہد پیش کئے گئے ہیں۔ زنا کار مردوں عورتوں کو بے رحم قانون کے شکنجہ میں کسنے کا حکم دیا ہے اور سزا کو مؤثر بنانے کے لئے عوام کے مجمع کے سامنے سزا نافذ کرنے کی تلقین ہے تاکہ زانی کو زیادہ سے زیادہ تکالیف اور ذلت و رسوائی ہو اور سزا کا مشاہدہ کرنے والوں کے لئے بھی عبرت و موعظت کی صورت پیدا ہو۔ غیر شادی شدہ مرد و عورت ارتکاب زنا کی صورت میں سو کوڑوں کے مستحق قرار دیئے گئے ہیں اور زانی اور مشرک کو ایک ہی صف میں کھڑا کیا گیا ہے۔ زنا کے ثبوت کے لئے چار گواہوں کی شرط عائد کی گئی ہے اور زنا کی جھوٹی تہمت لگانے پر اسی کوڑوں کی سزا کا اعلان کیا گیا ہے اور مستقبل میں ایسے شخص کو مردود الشہادۃ قرار دیا گیا ہے۔ میاں بیوی میں اگر اعتماد کا فقدان ہوجائے اور شوہر کو بیوی پر زناکاری کے حوالہ سے اعتراض ہو مگر اس کے پاس گواہ موجود نہ ہوں اور بیوی اعتراف نہ کرتی ہو تو اس بے اعتمادی کی حالت میں خاندانی زندگی مشکلات کا شکار ہوجائے گی، اس لئے ایسی شادی کو ختم کرنے کے لئے ’’لعان‘‘ کے نام سے قانون وضع کیا گیا ہے۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ شوہر عدالت کے اندر اپنے الزام کو حلفیہ طور پر چار مرتبہ دہرائے اور اپنی صداقت کا اعتراف کرے اور پانچویں مرتبہ یوں کہے کہ میرے جھوٹا ہونے کی صورت میں مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔ جبکہ بیوی چار مرتبہ حلفیہ طور پر شوہر کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹا قرار دے اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اگر شوہر اپنی بات میں سچا ہے تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس کے بعد عدالت ان میں علیحدگی کا فیصلہ کردے اور آئندہ انہیں میاں بیوی کی حیثیت سے رہنے کے حق سے محروم کردے۔ اس کے بعد واقعہ افک اور اس کے متعلق احکام کا بیان ہے۔ جہاد کے ایک سفر میں حضرت عائشہ حضور علیہ السلام کے ہمراہ تھیں، ایک جگہ پڑائو کے موقع پر وہ قضاء حاجت کے لئے گئی ہوئی تھیں کہ لشکر کو روانگی کا حکم دے دیا گیا اور وہ لشکر سے پیچھے رہ گئیں۔ پیچھے رہ جانے والے سامان کی دیکھ بھال کے لئے مقرر شخص صفوان بن معطل بعد میں حضرت عائشہ کو لے کر مدینہ منورہ پہنچے تو منافقین نے یہودیوں کے ساتھ مل کر افواہوں اور جھوٹے الزامات کا ایک طوفان کھڑا کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ کی پاکبازی اور برأت کا اعلان کیا اور ایسی صورتحال کے لئے رہنما اصول بیان فرمائے۔ قرآن کریم نے فرمایا کہ زنا کے الزام کی صورت میں اگر چار گواہ پیش نہ کئے جاسکیں تو الزام لگانے والے کو جھوٹا شمار کرکے ’’حد قذف‘‘ کا مستحق قرار دے کر کوڑوں کی سرعام سزا جاری کی جائے تاکہ آئندہ کے لئے ایسی افواہوں اور الزامات کے پھیلانے والوں کی حوصلہ شکنی ہو اور دوسروں کی کردار کشی کی ناجائز حرکتوں کا سد باب ہوسکے۔ دوسروں پر الزام لگانے کو معمولی نہ سمجھا جائے، اس سے معاشرہ میں بے حیائی کا حجاب اٹھتا ہے اور اسلامی معاشرہ کے ایک معزز شخص کی عزت کی پامالی اور کردار کشی ہوتی ہے، لہٰذا اگر بلا ثبوت ایسا کوئی الزام سامنے آئے تو یہ سوچ لو کہ ایسی کوئی بات اگر تمہارے بارے میں کہی جائے تو تمہارا رویہ کیا ہوگا اور اس جھوٹے الزام کو اپنے بارے میں تم کس حد تک تسلیم کرو گے۔ اگر اپنے بارے میں تسلیم نہیں کرتے تو دوسرے کے باروں میں اس طرح تسلیم کرلینے کا کیا جواز ہے۔ تمہیں تو اس قسم کی باتوں کا تذکرہ بھی زبان پر لانے سے گریز کرنا چاہئے۔ فحاشی اور عریانی کی باتیں پھیلانے والوں کے لئے دنیا میں کوڑوں کی شکل میں آخرت میں جہنم کی آگ کی شکل میں دردناک عذاب ہے۔ اس واقعہ میں حضرت ابوبکر کی زیر کفالت ان کا ایک رشتہ دار مسطح بن اثاثہ بھی ملوث تھا جب ان کی صاحبزادی ام المؤمنین حضرت عائشہ کی برأت کے لئے آیات قرآنیہ نازل ہوگئیں تو صدیق اکبر نے ان کی کفالت سے دستکشی اختیار کرلی جس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مالی وسعت رکھنے والوں کو زیب نہیں دیتا کہ ذاتی وجوہات کی بنیاد پر کسی کی روزی کو بند کرنے کی کوشش کریں۔ عفو و درگزر سے کام لینا چاہئے، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ بھی تم سے عفو و درگزر کا معاملہ فرمائیں۔ اس ارشاد قرآنی کے بعد صدیق اکبر نے فوراً ہی ان کا وظیفہ بحال کردیا۔ اس کے بعد قرآن کریم نے بتایا کہ بے حیا اور بدکار مرد و عورتیں باہمی طور پر ایک دوسرے کے لئے ہیں۔ جبکہ پاکیزہ اور صالح مرد و عورتیں باہمی طور پر ایک دوسرے کے لئے ہیں۔ لہٰذا عائشہ صدیقہ جب حضور علیہ السلام جیسے پاکیزہ اور نیک لوگوں کے سردار کی بیوی ہیں تو ان کی پاکبازی میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے۔ گھروں میں داخلہ کے وقت سلام کرنے اور اجازت لے کر اندر جانے کی تلقین اور عورتوں کو اپنی زیب و زینت ظاہر کرنے سے منع کرنے اور پردہ کا اہتمام کرنے کی ترغیب اور مردوں عورتوں کو اپنی نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے۔ عفت و عصمت کی حفاظت کے لئے نکاح کی ترغیب دی گئی ہے۔ پھر آسمان و زمین کی نشانیوں میں غور کرکے اللہ کی قدرت کا اعتراف کرنے کی طرف متوجہ کیا گیا۔ کافروں کے اعمال کو سراب سے تشبیہ دے کر بتایا ہے کہ جس طرح سخت گرمی میں صحرا کی تپتی ہوئی ریت پر پانی کا گمان ہونے لگتا ہے جبکہ اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں ہوتی اسی طرح کافروں کے اعمال قیامت کے دن بے حقیقت قرار پائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایمان اور اعمال صالحہ کرنے والوں کو زمین میں اقتدار دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ایسے مخصوص اوقات جن میں گھر کے اندر زوجین عام طور پر شب خوابی کے لباس میں ہوتے ہیں ایسے وقت میں گھر کے افراد کو بھی بغیر اجازت کے کمرے میںجانے کی ممانعت کی گئی ہے۔ گھر کی استعمال کی اشیاء اور کھانے پینے کی چیزیں دوسرے کی اجازت کے بغیر استعمال کرنے کے لئے ضابطہ بیان کردیا کہ معذور حاجتمند ہو یا قریبی رشتہ داری اور تعلق ہو جس کے پیشِ نظر اس بات کا یقین ہو کہ مالک برا نہیں منائے گا تو اس کی چیز کو بلا اجازت استعمال کی اجازت ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: وشمہ خان وشمہ

Read More Articles by وشمہ خان وشمہ: 119 Articles with 152871 views »
I am honest loyal.. View More
27 Feb, 2020 Views: 263

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ