وہ قرض ہی کیا جو ادا ہو گیا

(Iftikhar Ahmed, Karachi)

ہمیں بچپن ہی سے اقوال زریں پڑھنے کا شوق ہے- ایک قول ہم نے پڑھا کہ قرض لینے والوں کی یاد داشت ہمیشہ کمزور ہوتی ہے- یہ بات اس وقت ہمارے سمجھ میں نہ ائی تھی- پھر ایک دن ہمارے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ ہمیں یہ قول اچھی طرح سمجھ میں آ گیا - ہوا یوں کہ ہمارے ایک دوست نے ہم سے کچھ پیسے ادھا ر لیے اور ایک وقت مقررہ پر دینے کا وعدہ کیا - ہم نے پڑھ رکھا تھا کہ پیسے کا لین دہن لکھ کر کرنا چاہئیے مگر ہم نے اس بات پر عمل نہ کیا اور زبانی کلامی ہی اس دوست کو ادھار دے دیا کچھ دنوں کے بعد ہم نے اس سے اپنے پیسے واپس مانگے مگر ہماری حیر ت کی انتہا نہ رہی کہ جب اس نے کہا کہ وہ پیسے تو میں آپ کو دے چکا ہوں - میں نے کہا کے اگر ایسی بات ہوتی تو میں پیسے واپس کرنے کا تقاضا کیوں کرتا ؟ اس پر وہ بولا میں نے پیسے دے تو دیے ہیں مگر آپکی شرافت کو مد نظر رکھتے ہوے دوبارہ دے دونگا - اس پر ہمیں سخت غصّہ آیا اور ہم نے یہ تہیہ کر لیا کے آیندہ کسی کو ادھار نہیں دینگے اور اگر کبھی دیا بھی تو صرف اتنا کہ اگر لے کے بھا گ بھی جائے تب بھی ہمیں فرق نہ پڑے یعنی کل آمدنی کا صرف ایک فیصد
ایک قول ہے"When I lent my money I had a friend. When I asked for it he was unkind."
یعنی جب میں نے اپنی رقم ادھار دی تو میرا ایک دوست تھا جب میں نے واپسی کا تقاضہ کیا تو وہ نہ مہربان تھا- عوام میں ایک شعر بھی مشہور ہے
"وہ قرضہ ہی کیا جو ادا ہو گیا
وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا-


 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1191 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Iftikhar Ahmed

Read More Articles by Iftikhar Ahmed: 16 Articles with 14813 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
We should not lend our money to any one these days to avoid any untoward incident in future. According to an Albanian Proverb "If you lend your money either lose the money or gain an enemy."
By: Iftikhar ahmed, Karachi on Mar, 23 2020
Reply Reply
0 Like
Language: