رزق بڑھانے کے طریقے

(IFTIKHAR AHMED, KARACHI)

جمہ کا مبارک دن تھا امام صاحب خطبہ ارشاد فرما رہے تھے- میں بھی مسجد میں بیٹھا ان کا خطبہ سن رہا تھا - موضوع رزق بڑھانے کے بارے میں تھا. وہ بتا رہے تھے کے رزق بڑھانےکے ١٦ دروازے ہیں جن میں سے نمبر ١ "نماز کو اہتمام سے پڑھنا" ، نمبر ٢ "استغفار کی کثرت کرنا" اور نمبر ٣ "الله تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا" ہیں. جو انسان مسجد یر خرچ کرتا ہے مدرسے پر خر چ کرتا ہے غریبوں پر خرچ کرتا ہے یتیموں پر خرچ کرتا ہے بیواؤں پر خرچ کرتا یعنی الله تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو الله تعالیٰ خرچ کی ہوئی رقم کا کم از کم دس گنا واپس لوٹا تے ہیں- اسکے متعلق ایک واقعہ سناتے ہوے امام صاھب نے کہا کے حضرت موسیٰ کے زمانے میں ایک آدمی تھا جو بہت ہی غریب تھا اسے کھانا بھی نہیں ملتا تھا اور وہ بلکل ھڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا تھا- وہ حضرت موسیٰ کے پاس آیا اور درخواست کی کہ آپ کوہ طور پر جاتے ہیں اور الله تعالیٰ سے باتیں کرتے ہیں اب جانا ہو تو الله تعالیٰ سے دعا کرنا کہ میری پوری زندگی کا رزق ایک ہی دفع دے دیں تاکہ میں پیٹ بھر کر چند روز تو تسلی سے کھا لوں - چنانچہ حضرت موسیٰ نے الله تعالیٰ سے دعا کی اور اس آدمی کو گندم کی چند بوریاں ٢ بکریاں اور کچھ اور سامان دے دیا گیا کہ یہ تمہاری زندگی بھر کا رزق ہے - حضرت موسیٰ مطمئن ہو گئے - اس واقعہ کو چند برس گزرے تھے کہ اچانک حضرت موسیٰ کو اس آدمی کا خیال آیا کہ وہ بندہ کس حال میں ہے پتا کرایا تو معلوم ہوا کہ وہ تو بڑا سیٹھ بنا ہوا ہے اسکا بڑا کاروبار ہے سینکڑوں لوگ اسکے ہاں آ رہے ہیں جا رہے ہیں اسکے مہمان بن رہے ہیں وہ ان کو کھلا رہا ہے کھا رہا ہے اور محل میں زندگی گزار رہا ہے. حضرت موسیٰ بڑے حیران ہوے اور دوبارہ کوہ طور پر جا کر الله تعالیٰ سے عرض کی کہ میں نے تو یہ فریاد کی تھی کہ اس آدمی کو ساری زندگی کا رزق ایک دفع میں عطا فرما دیں وہ تو تھوڑا سا تھا مگر دو تین سال میں اتنا بڑھ گیا کہ اب کم ہی نہیں ہوتا -الله تعالیٰ نے فرمایا اے میرے پیارے موسیٰ اگر وہ آدمی اپنی ذات پر خرچ کرتا تو اس کا اتنا ہی رزق تھا جو اس کو ملا تھا مگر اس نے میرے ساتھ نفع کا سودا کر لیا وہ مہمانوں کو کھلاتا تھا الله کے لیے کھلا تا تھا اور میں اس کو دس گنا کر کے لوٹا تا تھا اب اسکو تجارت میں نفع اتنا ہوا کے اب رزق سمٹ ہی نہیں رہا ہے. خطبہ کے آخر میں امام صاحب کہنے لگے کہ اگر آپ الله کی راہ میں کسی کو کھلا رہیں ہیں تو یہ نہ سوچیں کہ مال جا رہاہے بلکہ یہ سوچیں کہ مال آ رہا ہے ایک جا رہا ہے اسکے بد لے دس آرہیں ہیں - خطبہ سننے کے بعد میں نے بھی امام صاحب کی بتائی باتوں پر تھوڑا بہت عمل کرنا شروع کیا ہے اور الله تعالیٰ کا بڑا شکر ہے کہ میر ے رزق میں فراخی آ گئی ہے -

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 4748 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: IFTIKHAR AHMED

Read More Articles by IFTIKHAR AHMED: 16 Articles with 14809 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Giving in the way of Allah is a defining characteristic of Muslims. We should always try to practice this noble act all the time during our lives. Our beloved Prophet Muhammad (peace be upon him) said in his golden and immortal words :
"Charity erases sin just as water extinguishes fire."
(Sahih Al-Targhib)
By: Iftikhar ahmed, Karachi on Mar, 25 2020
Reply Reply
0 Like
ہمیں نیک کاموں میں دل کھول کر خرچ کرنا چاہیے - اپنے والدین پر خوب خرچ کریں ان سے خوب حسن سلوک کریں - غریب رشتے داروں پر بھی خوب خرچ کریں - کیونکہ حدیث قدسی ہے کہ الله تعالیٰ فرماتے ہیں کہ
"اے ابن آدم تو (بھلائی کے کاموں میں) خرچ کر میں تجھ پر خرچ کرونگا - (حدیث پاک صحیح بخاری :٥٣٥٢
By: Iftikhar Ahmed, Karachi on Mar, 23 2020
Reply Reply
0 Like
In order to achieve more wealth and long life we should keep good relations with our relatives. Our beloved Prophet Hazrat Muhammad (Peace be upon him) said with his golden, holy and immortal words as under :-
Whoever is pleased that he be granted more wealth and that his lease of life be prolonged then he should keep good relations with his kith and kin. (Hadees-e-Pak from Bukhari Shareef)
By: Iftikhar Ahmed, Karachi on Mar, 15 2020
Reply Reply
0 Like
اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے رزق میں اضافہ ہو اور ہماری عمر بڑھ جائے تو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رشتے داروں سے اچھا سلوک کریں. ہمارے پیارے حضور پاک حضرت محمّد (الله تعالیٰ ان پر اربوں کھربوں رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائیں ) نے اس بارے میں ارشاد فرمایا ہے
جو یہ چاہے کہ اسکی روزی زیادہ ہو اور اسکی عمر لمبی ہو اسے چاہینے کہ صلہ رحمی (رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک ) کرے )
By: Iftikhar Ahmed, Karachi on Mar, 15 2020
Reply Reply
0 Like
الله تعالیٰ کی راہ میں خیرات کرنے کی بہت زیادہ فضلیت ہے - اس کی برکت سے آفات دور ہو جاتی ہیں - الله تعالیٰ ایک کے بدلے سات ، دس ، سو گنا اور بے حساب بھی عطا فرماتے ہیں - اس لیے روزانہ کچھ نہ کچھ الله تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے رہنا چاھئیے - قرآن پاک میں الله تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
جو لوگ اپنا مال الله تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سات بآ لیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو (١٠٠) د انے ہوں اور الله تعالیٰ جسے چاہے بڑھا چڑھا عطا فرماے - اور الله تعالیٰ کشادگی والے اور علم والے ہیں"
سورہ بقرہ آیات نمبر 261)) 
By: Iftikhar Ahmed, Karachi on Mar, 06 2020
Reply Reply
0 Like
We should spend our wealth in way of Allah to live a happy and prosperous life in this world and afterwards. Allah has promised in holy Quran as under :-
"The example of those who spend their wealth in the way of Allah is like a seed of grain which grows seven spikes, in each spike is hundred grains. And Allah multiplies His reward for whom he wills."
By: Iftikhar ahmed, Karachi on Mar, 01 2020
Reply Reply
0 Like
Language: