شاہین باغ۔جلیان والا باغ

(Muddasir Ahmed, India)

بھارت کی آزادی کے دوران جلیان والاباغ کاواقع تاریخی واقع بن گیا ہے۔دراصل جلیان والاباغ میں آزادی کیلئےاحتجاج کیا جارہا تھا اور برٹش حکومت سے مطالبہ کیا جارہا تھا کہ وہ اس ملک کو آزاد کرے،لیکن برٹش فوج کا جنرل ڈائرنے اچانک نہتے ہندوستانیوں پر حملہ کرتے ہوئے ہزاروں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔اب ملک میں دوسری جنگ آزادی جاری ہے اور اس جنگ آزادی میںبھارتی شہری ان لوگوں سے مقابلہ کررہے ہیں جو یہودی سوچ اور برٹش پالیسیوں پرعمل کررہے ہیں۔سی اےاے ،این آر سی اور این پی آر جیسے دستور مخالف قوانی کی مخالفت کررہے شاہین باغ کے احتجاجیوں کو جس طرح سے دہلی میں نشانہ بنایا جارہا ہے اور پولیس کی موجودگی میں جس طرح سے وہاں کے حالات کو بدتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وہ اس بات کا ثبوت ہےکہ ملک میں پھر ایک بار جلیان والاباغ بنایا جارہا ہے۔حالانکہ اس خونی تحریک میں اب تک تیس سے زائد احتجاجیوںنے اپنی جانیں گنوائی ہیں جبکہ پچھلے چوبیس گھنٹوں سے جاری تشدد سے8 لوگوںکی موت ہوئی ہے،جنہیں ہم سی اےاے کی تحریک کے شہداء میں شمار کرسکتے ہیں۔ایک طرف فسطائی طاقت دوسری طرف پولیس تو تیسری طرف آئین کے محافظ اور احتجاجی کھڑے ہوئے ہیں۔لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ملک میں وہ سیاسی جماعتیں کہاں چلی گئی ہیں جنہوںنے اب تک مسلمانوںکے ووٹوں کو لیکر حکومتیں قائم کی تھیں۔آزادی کے بعد سے سب سے زیادہ اقتدارمیں رہنے والی کانگریس پارٹی،سماج وادی، آرجے ڈی جیسی سیکولر پارٹیاں ان سنگین حالات میں کیونکر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔پچھلے چوبیس گھنٹوں سے صرف یہی دیکھا جارہا ہے کہ ملک کی نام نہاد سیکولر پارٹیاں محض ٹویٹر اور فیس بک پر اپنے پیغامات نشر کرتے ہوئے ان دنگوںکی مذمت کررہے ہیں،خیال رہے کہ ان سیاسی جماعتوں کو مسلمانوں اور سیکولر ووٹروں نے براہ راست ووٹ دیا تھا نہ کہ ٹویٹر اور فیس بک کے علاوہ ویب سائٹس پر ووٹ دیکر اپنی قائدانہ پارٹی قرار دیاتھا،تو جب حالات ایسے ہوں تو کیونکر یہ پارٹیاں فالج سے متاثر ہوکر مفلوج پارٹیاں بنتی جارہی ہیں۔ہندوستان میں جو حالات میں رونما ہوئے ہیں ان حالات میں اپوزیشن پارٹیوں کو قیادت کیلئے آگے آنا چاہیے تھے،لیکن ان کی خاموشی کو دیکھتے ہوئے عام لوگ ہی میدان میں اتر آئے ہیں تو کم ازکم سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ان لوگوںکی تائید میں اتر آئیں،ورنہ لاکھوں لوگوںکو اپنی زندگی سے جان گنوانی پڑیگی۔افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ دہلی میں جاری تشدد کے بعداب بھی سیاستدان یہ کہہ رہے ہیںکہ اگر شاہین باغ میں احتجاج کرنا ہی ہے تو پُر امن طریقے سے احتجاج کیا جائے نہ کہ پُر تشدد طریقے کو اپنایا جائے۔پچھلے70 دنوں سے شاہین باغ میںپُر امن احتجاجات ہی ہورہے ہیں تو پھر کیسے ممکن ہے کہ اچانک یہ احتجاجی پُر تشدد ہوجائے؟کون تشدد کررہا ہے اور کون پُر امن ہے یہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ پولیس اپنی قیادت میں احتجاجیوں کو ختم کرنے کیلئے کمر بستہ ہوچکی ہے۔اب ملک کے دوسرے علاقوںمیںجہاں کہیں بھی احتجاجات کا سلسلہ جاری ہے وہاں کے احتجاجیوں کو چاہیے کہ وہ ایسے شرپسندوں سے بچنے کیلئے کمربستہ ہوجائیں،ورنہ ہر جگہ سے نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muddasir Ahmed

Read More Articles by Muddasir Ahmed: 169 Articles with 49391 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Feb, 2020 Views: 184

Comments

آپ کی رائے