کشمیر پر ایک نئی تحقیق

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

امریکہ کے ایک تعلیمی ادارے کی سرینگر یونیورسٹی کے اشتراک سے ایک تازہ تحقیقمنظر عام پر آ گئی ہے۔ نیویارک کے ایک معروف نجی کالج’’ سکڈمور ‘‘نے اس ریسرچ کی فنڈنگ کی۔ایک صدی سے بھی زیادہ عرصہ سے قائم اس کالج میں 40امریکی ریاستوں اور دنیا کے 70ممالک کے اڑھائی ہزار سے زائد طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ سکڈ مور کالج میں سیاسیات کی اسسٹنٹ پروفیسر اور اٹلانٹک کونسل کی نان ریذیڈنٹ سینئر فیلو، پاک بھارت پر ایک کتاب کی مصنفہ یلینا بائبرمین اور مقبوضہ کشمیر کی سنٹرل یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر سمیر احمد(جن کا موضوع انسانی حقوق اور پاک بھارت تعلقات ہے) نے اس ریسرچ کی نگرانی کی۔دونوں پروفیسرز نے واشنگٹن پوسٹ کے لئے مشترکہ طور پر ایک تجزیاتی مضمون تحریر کیا ہے۔ جس کا عنوان ہے کہ نوجوان کشمیریوں کا خیال ہے کہ بھارت اور پاکستان کشمیرپر اپنے اختلافات دور کرسکتے ہیں، جبکہ کشمیری امریکی سفارتی مداخلت کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں۔ یہ تحقیق گزشتہ سات ماہ کے لاک ڈاؤن اور پابندیوں کے دوران اکتوبر تا دسمبر 2019کو کرائی گئی۔ مقبوضہ کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر میں یونیورسٹیوں اور کالجوں کے تقریباً 600 طلباء سے متعدد سوالات پوچھے گئے۔ مقبوضہ کشمیر کے تعلیمی ادارے سات ماہ کی بندش کے بعد 24 فروری2020 کودوباہ کھل گئے۔تجزیہ کے ابتداء میں صدر ٹرمپ کے دورہ بھارت کا تذکرہ کیا گیا کہ یہ وہ سفر تھا جس میں تماشا اور تشدد دونوں ہی تھے۔ دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ اسٹیڈیم میں ''نمستے، ٹرمپ'' ٹوپیاں پہنے ہوئے ایک لاکھ سے زیادہ افراد نے امریکی صدر کو مبارکباد پیش کی۔ لیکنشہریت کے نئے قانون کے خلاف نئی دہلی میں تشدد پھوٹ پڑا، اور متعدد شہروں میں ٹرمپ مخالف مظاہرے ہوئے۔تو، ٹرمپ نے کشمیر کی صورتحال کے بارے میں کیا کہا، جو گذشتہ سال اگست میں ہندوستان کی حکومت کی طرف سے کشمیر کی خود مختار حیثیت کوملیامیٹ کرنے کے بعد بڑی حد تک لاک ڈاؤن کے نیچے ہے؟ ٹرمپ نے ایک بار پھر ثالثی میں مدد کی پیش کش کی - لیکن کشمیر کو ''بہت سارے لوگوں کی آنکھوں میں کانٹا'' اور ''ہندوستان اور پاکستان کے مابین ایک بڑا مسئلہ'' قرار دیا۔بھارت تنازعہ کشمیر دو طرفہ تنازعہ قرار دینے کی کوشش کر رہا ہے، وہ تیسرے فریق مداخلت کو مسترد کررہا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے، امید ظاہر کی ہے کہ ٹرمپ کے حالیہدورہ بھارت سے تنازعہ کی امریکی ثالثی کے لئے ''کچھ ٹھوس عملی اقدامات'' برآمد ہوں گے۔اگر صدر ٹرمپ نے اپنے دورے کے دوران نوجوان کشمیریوں سے ملاقات کی ہوتی، تو وہ کیا چاہتے ہیں اس کے بارے میں انہیں کیا معلوم ہوتا؟ ۔ محققین کہتے ہیں کہ ان کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کشمیری عوام سے اگر پوچھا جاتا تو ہ مسئلہ کشمیر میں ثالثی کے لئیٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے، بلکہ کشمیری عوام کو بھی اس عمل میں شامل کرنے پر زوردیتے۔یہ تحقیق کس طرح کی گئی ، اس بارے وہ وہ لکھتے ہیں کہ اکتوبر اور دسمبر 2019 کے درمیان، جب کشمیر لاک ڈاون موڈ میں تھا، ہم نے کالجوں اور یونیورسٹی کے 593 طلباء کاسیاسی رویوں پر عسکریت پسندی کے اثرات کا مطالعہ کرنے کے لئے سروے کیا۔ ہم نے کشمیر کے موسم گرما کے دارالحکومت اور سب سے زیادہ آبادی والے شہر سری نگر میں اپنے سروے کیے، اور یونیورسٹی اور کالج کیمپس اور آس پاس کے علاقوں میں منتخب کردہ مقامات پر ٹائم اسپیس سمپلنگ کی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے طلباء کا جائزہ لیا۔ یونیورسٹی کے طلباء کی رائے کا مطالعہ کیوں کیا گیا؟۔ ہم ''غصہ والی نسل'' (بھارت کے ایک صحافی ڈیوڈ دیوداس نے ’’ Generation of Rage in Kashmir‘‘یعنی کشمیر میں غصہ والی نسل کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے۔ )اور نئی تحریک پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے تھے جس نے 2016-2017 کیمزاحمت میں نمایاں کردار ادا کیا۔اس وقت، وادی کشمیر میں طلبہ کے وسیع پیمانے پر ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں سیکڑوں طلباء بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں زخمی ہوئے تھے، اور متعدد طلباء کو گرفتار کیا گیا تھا۔ریسرچ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر کے طلبا ء پر امید ہیں۔

بھارت کے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35اے نے کشمیر کو ہندوستانی امیگریشن اور املاک کی ملکیت کے خلاف خصوصی تحفظ فراہم کیا۔ اگست 2019 میں ان اقدامات کو منسوخ کرکے کشمیر کو منقسم کردیا گیا، جسے اب بھارت ایک ''مرکزی علاقہ'' کے طور پرکنٹرول کر رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بھارتی حکومت کشمیر کی مقامی حکومت کے فیصلوں کو ویٹو کر سکتی ہے۔ کشمیر کی خودمختاری کے خاتمے کے اقدام نے بھی وادی کشمیر کے ایک کروڑ افراد کو بیرونی دنیا سے منقطع کردیا - بھارت نے اب انٹرنیٹ کی جزوی رسائی بحال کردی۔مگر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی ہے اور اس سلسلے میں لا تعداد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ سروے ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب کشمیریوں کی اکثریت بھارت کے خلاف نا امیدی اور ناراضی محسوس کرتی ہے۔ریسرچ کے مطابق جب یہ پوچھا گیا کہ کشمیر میں دیرپا امن لانے میں کیا فائدہ ہوگا، سروے کے جواب دہندگان نے غصے کی بجائے امید کا اظہار کیا۔آیئے آگے کا احوال ان محقق پروفیسرز صاحبان کی زبانی سنتے ہیں۔

’’ہمارے زیرِ مطالعہ بیشتر طلبا متعدد مختلف آپشنز کے بارے میں پر امید ہیں۔ جواب دہندگان میں سے دوتہائی افراد کا خیال تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین امن مذاکرات کارگر ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہ تعداداس وقت 83 فیصد ہوگئی جب ہمارے سروے کے سوال میں ان مذاکرات میں کشمیری نمائندوں کی شرکت شامل کی گئی۔کیا پاکستان سے مدد کی درخواست کارگر ثابت ہو گی؟ اس سوال پر، کچھ اختلاف تھا۔ تقریبا 64 فیصد افراد نے اس اقدام کو ممکنہ طور پر موثر سمجھا۔ زیادہ سے زیادہ حصہ ( 79 فیصد) کا خیال ہے کہ اگر مغربی ممالک کشمیری عوام کو تنازعہ میں ایک جائز فریق سمجھیں تو، اس کا نتیجہ اخذ کرنے کے حق کے ساتھ، تنازعہ حل ہوسکتا ہے۔بھارت کے کہنے پر، امریکی پالیسی ساز، تنازعہ کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے مابین دوطرفہ مسئلہ سمجھنا چاہتے ہیں۔ اس بیانیئے کے مطابق کشمیر کی سیاسی صورتحال کے بجائے خطے میں بدامنی کی اصل وجہ پاکستان کی حمایت یافتہ مسلح جدوجہد کو سمجھا گیا ہے۔ان حالات میں کشمیرمیں کشید گی کا حل کیا ہو گا؟‘‘۔

’’ہمارے سروے کے جواب دہندگان میں، تنازعہ کشمیر کے حل کے لئے ترجیحی راستہرائے شماری ہے، جس میں کشمیری عوام اپنے علاقے کا مستقبل طے کرنے کے لئے ووٹ دیں گے۔ ہمارے سروے کے جواب دہندگانمیں 91 فیصد اس آپشن کے بارے میں پر امید ہیں - 81 فیصد اس نقطہ نظر کو بہت موثر سمجھتے ہیں۔رائے شماری کے آپشن کی گہری تاریخی جڑیں ہیں۔ جببھارت اور پاکستان نے پہلی بار 1948-1947 میں دونوں ممالک نے برطانیہ سے آزاد ہونے کے بعد، کشمیر پر جنگ کی، اقوام متحدہ نے فوری طور پر جنگ بندی کرا دی ۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کی ایک قرارداد میں پاکستان سے اپنی فوجیں واپس بلانے اور بھارت سے اپنی افواج کم از کم کرنے کا مطالبہ کیا گیا، اور دونوں ممالک سے کہا کہ وہ اپنی اس خواہش کی تصدیق کریں کہ ریاست جموں وکشمیر کے مستقبل کی حیثیتعوام کی مرضی کے مطابق طے کی جائے گی۔کشمیری نوجوانوں نے بھی ہندوستانی حکمرانی کے خلاف پرتشدد مزاحمت کی حمایت کی۔ بھاری اکثریت (92 فیصد) نے پرتشدد طریقوں کو موثر سمجھا - لیکن 64 فیصد عسکریت پسندی اور تشدد کے تسلسل کو خطے میں دیرپا امن لانے کے لئے کارآمد سمجھتے ہیں۔ہمارے سروے کے بیشتر افراد ہندوستانی فوجیوں کے مکمل انخلا (91 فیصد)، یا ہندوستان کی فوجی موجودگی میں کمی (92 فیصد) دیکھنا چاہتے ہیں۔ کشمیر، شاید دنیا کا سب سے زیادہ گنجان ترین فوجی زون ہے۔ اگست کے کریک ڈاؤن سے پہلے، کشمیر میں ہر 10 عام شہریوں کے لئے لگ بھگ ایک فوجی تھا۔اس سوال کے جواب میں کہ کیا آگے کا کوئی راستہ ہے؟۔ہم نے جواب دہندگان سے امن کے لئے تین تجاویز کے بارے میں پوچھا: ''پرویز مشرف کا چار نکاتی فارمولہ،'' نیشنل کانفرنس کی ''علاقائی خودمختاری'' تجویز، اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی ''خود حکمرانی'' کی تجویز۔ تینوں فارمولوں میں سیز فائر لائن جو پاکستان اور ہندوستان کے زیر کنٹرول کشمیر کے علاقوں کو تقسیم کرتی ہے،کو ایک غیر محفوظ بین الاقوامی سرحد بنانے کا موقف سامنے آتا ہے۔ جہاں ان کا اختلاف ہے، وہ اس حد تک ہے کہ کشمیر کس حد تک خودمختاری حاصل کرے گا اور اس کو غیرفوجی زون بنایا جائے۔ چار نکاتی فارمولے میں کشمیر کی زیادہ سے زیادہ خودمختاری اور فوج میں تخفیف کا مطالبہ کیا گیا ہے، جبکہ خود حکمرانی کی تجویز اقتصادی استحکام پر بھی زور دیتی ہے۔ہمارے سروے کے جواب دہندگان کی اکثریت تینوں تجاویز کے بارے میں پر امید ہے، حالانکہ چار نکاتی فارمولہ قدرے زیادہ شہرت یافتہ ہے۔ اس منظر نامے کے تحت، سیز فائر لائن پر عوام کے آزادانہ سفر، آزاد تجارت اور دیگر معاشی مواقع کے لئے ٹرانزٹ پوائنٹ قائم ہوں گے۔ کشمیریوں کو سرحد کے دونوں اطراف آزادانہ طور پر نقل و حرکت اور تجارت کرنے کے خصوصی حقوق حاصل ہوں گے۔ہم نے کشمیر کی نوجوان نسل کے سیاسی نظریات کے مطالعہ سے کیا سیکھا؟ سب سے پہلے، نوجوان کشمیری تنازعات کے حل کے لئے متعدد نقطہ نظر کی قبولیت کی راہ پر گامزن ہیں، بعض پاک بھارت دو طرفہ مذاکرات سے لے کر غیر ملکی سفارتی مداخلت تک کو قبول کرنا چاہتے ہیں اور دوسرا اہم نتیجہ یہ ہے کہ کریک ڈاؤن اور مواصلات کی ناکہ بندی کے باوجود، کشمیری نوجوان پرامن حل کی افادیت کے بارے میں پر امید ہیں۔‘‘

اس طرح کی تحقیق پہلے بھی ہوئی ہیں۔ جن میں بعض اہم حقائق کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تا ہم تازی ریسرچ میں کشمیر کی نئی نسل کے رحجان کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ اس ریسرچ کو نیویارک کے ایک تعلیمی ادارے کی دلچسپی اور سنجیدگی کا پتہ چلتا ہے۔ جب کہ واشنگٹن پوسٹ جیسے اسٹیبلشمنٹ اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والے اخبار میں شائع ہونا مسلہ کشمیر کی گونج کا دنیا میں سنا جانا اور عالمی دلچسپی کی غمازی ہے۔ تا ہم بنیادی سٹیک ہولڈرز اور معاونین کی جانب سے بھی جنگ بندی لائن کو کنٹرول لائن قرار دینا اور فقروں کو غلط ملط کر دینا حماقت کی سوا کچھ نہیں۔ ایسے تمام فارمولے جن کا مقصد کشمیر کی تقسیم ہو، وہ کشمیریوں کے لئے نا قابل قبول ہوں گے۔ اس لئے جنگ بندی لائن کو مستقل سرحد کے طور پر ایک آپشن کی صورت میں پیش کرنا یا مشرف چار نکاتی فارمولہ،نیشنل کانفرنس کا اندرونی اٹانومی، مفتیوں کا سیلف گورننس، چناب فارمولہ، ڈکسن پلان جیسے آپشنز کو کشمیریوں کی خواہشات سے منسوب کرنا حقائق کے سراسر منافی ہو گا۔ مختلف سروے اور ریسرچ ظاہر کر چکے ہیں کہ کشمیری جنگ بندی لائن کو انٹرنیشنل سرحد میں تبدیل کرنے کے بجائے اسے دیوار برلن کی طرح مٹانے پر متفق ہیں۔ دوم ،وہ کسی بھی فارمولے کو زیر بحث لانے میں بھی اپنی شرکت یقینی بنانے کے متمنی ہیں۔ اس کے لئے رائے شماری اس وقت بہترین آپشن ہو سکتی ہے جب بھارت آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کا نہ سوچے، صرف کشمیریوں کو اپنی مرضی کا فیصلہ کرنے کا اختیار استعمال کرنے کا موقع فراہمکرے، اس پر انسانیت کی بنیاد پر رضامند ہو۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 574 Articles with 219763 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
11 Mar, 2020 Views: 233

Comments

آپ کی رائے