قرنطینہ کیا ہے؟

(جاوید صدیقی, Karachi)

 قرنطینہ لفظ اطالوی زبان کے لفظ کرونتا جیورنی سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے چالیس دن۔۔۔۔!! ریکارڈ کی گئی انسانی تاریخ میں تین بار پلیگ (بیکٹیریا) نے لاکھوں انسانوں کو نگل لیا۔۔۔۔!! پہلی بار بازنطینی سلطنت کا صفایا پانچ سو اکتالیس سے پانچ سو بیالیس قبل مسیح میں کیا، پھر آیا یورپ کا بلیک ڈیتھ جو تیرہ سو اڑتالیس عیسوی سے شروع ہوا تو چار سال میں پچیس ملین افراد یعنی یورپ کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی نگل گیا، اس دوران جو تجارتی جہاز شہر وینس کی بندرگاہ پر داخل ہوتے ان پر موجود تاجر اور عملے کے لیے لازم تھا کہ وہ چالیس دن جہاز میں ہی رکے رہیں، مقصد شہری آبادی سے دور رکھنا تھا تاکہ اس دوران جس کو پلیگ کا مرض ہے اس کی علامات ظاہر ہوجائیں اور اس کو صحت مندوں سے الگ کرلیا جائے کہ یہ واحد طریقہ تھا باقی انسانوں کو بچانے کا۔۔۔۔!! قرنطینہ انسانی تہذیب جتنا ہی پرانا ہے اس کا تذکرہ صحیفوں میں بھی ہے۔۔۔۔۔!! بنی امیہ کے عبد الملک ابن مروان نے کوڑھ کی وبا کے دوران دمشق میں قرنطینہ بنوایا، شہر کو کئی دن کے لیے بند کردیا اور کوڑھیوں کو صحت مندوں سے الگ کرکے دمشق قرنطینہ میں منتقل کیا۔۔!!آپ کو قرنطینہ کی ضرورت اس لیے ہےکہ یہ تمام ایکو سسٹم آپس میں ایک دوسرے سے مسلسل برسر پیکار ہے۔ انسان کو افزائش نسل کے لیے موافق ماحول درکار ہے اسی طرح وائرس، بیکٹیریا کو زندہ رہنے اور افزائشِ نسل کیلئےحیات (نباتات،حیوان،انسان) کی بطور میزبان ضرورت ہے، وائرس بہت چھوٹا ہوتا ہے اس لیے وہ چاہے تو بیکٹیریا کو میزبان منتخب کرے چاہے انسان کو۔۔۔۔!! ننھا سا اسٹریکچر ہے اور اس کا کام ہے انسانی خلیے کی دیوار توڑ کر اپنا جینیاتی مسالہ اندر ڈال کر اس کی کیمیائی مشنری استعمال کرکے مزید وائرس پیدا کرنا المختصر انسانی خلیے کو تباہ کرنا۔۔۔!!

انسانی جسم وائرس سے اس جنگ میں اپنا مدافعتی نظام اینٹی باڈیز ٹی سیل وغیرہ استعمال کرتا ہے جو وائرس کو ڈیٹیکٹ کرکے مختلف طریقوں سے قابو کرتی ہیں۔ اگر وائرس یہ جنگ جیت جائے تو انسان مرجاتا ہے۔انسان جیت جائے تو وائرس پر قابو پالیتا ہے۔۔۔۔!! اس سارے عمل میں وائرس اپنی علامات ظاہر کرنے میں وقت لیتا ہے۔۔۔!! کووڈ نائنٹین کی صورت میں یہ وقت پانچ سے لے کر چودہ دن تک ہے۔!! اس کیلئے کم از کم چودہ دن سارے شہر کو اپنے اپنے گھر کو ہی قرنطینہ بنا کر رہنا ضروری ہے۔ چودہ دن بعد صحت مند کو بیمار سے الگ کرکے علاج کے ذریعے بہتر کیا جاسکے گا۔ جسے بیماری سے لڑنا ہے اسے بھی قرنطینہ میں رکھا جائے گا تاکہ وائرس سے اس جنگ میں باقی انسان اور خود مریض کا اپنا مدافعتی نظام اس کی مدد کرسکے یہ نا ہی قید ہے نا سازش نا ہی چھٹیاں گزارنے کا بہانہ یہ واحد طریقہ ہے انسانی سسٹم میں داخل ہونے والے ان جانے وائرس سے لڑنے کا۔ پاکستان سمیت دنیا کے ایک سو نوے سے زائد ممالک اس مہلک بیماری کا شکار ھوچکے ہیں ابتک کی اطلاع کے مطابق اس مرض سے دنیا میں سب سے زیادہ اموات اٹلی میں واقع ھوچکی ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ لاپرواہی غیر سنجیدگی تھا جس کی سزا انھوں نے بھگتی یے دنیا کے ہر وہ ممالک کے شہری جو مکمل احتیاطی تدابیریں کررہے ہیں وہی کرونا وائرس کے اثرات سے محفوظ ہیں، پاکستان بھارت بنگلہ دیش برما سری لنکا جیسے ممالک ترقی پزیر ہیں انھیں اس جنگ سے احتیاطی تدابیر اور حکومتی اقدامات کیساتھ تعاون کرکے ہی فتح حاصل کرسکتے ہیں، دنیا بھر کے لوگوں کو اب سمجھنا اور سنبھلنا ہوگا ذرا سی غفلت ہزاروں اموات کا باعث بن سکتی ہیں، تمام لوگوں کو صبر تحمل کا ظاہرہ کرتے ہوئے اپنے گھروں تک محدود رہیں یہی کرونا وائرس سے محفوظ رکھنے کا بہترین طریقہ یے، الله دنیا بھر کے جذباتی بے شعور اور غیر سنجیدہ لوگوں کے شر سے محفوظ فرمائے آمین ثما آمین۔۔۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: جاوید صدیقی

Read More Articles by جاوید صدیقی: 308 Articles with 157063 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Mar, 2020 Views: 295

Comments

آپ کی رائے