کورونا وائرس، ہمارا کردار اور اس کے مثبت اثرات

(Fatmah Hussain, Karachi)

آج کل دنیا بھر جس عنوان پہ سب سے زیادہ بات اور مستقل جس کے متعلق خبریں سننے میں آرہی ہیں وہ ہے"کورونا وائرس "۔ کورونا وائرس بالاآخر ہے کیا جس نے صرف چند ہی دنوں میں دنیا بھر میں تباہی مچا کے رکھدی ہے جو اب تک وبائی شکل اختیار کر چکا ہے ۔یہ دنیا کے ہر ایک ملک کو اپنے خوف کے سائے میں جکڑ ے بیٹھا ہے۔د نیا بھر کے مختلف ممالک جوکہ اپنی قوت ،ذہانت، معاشی اعتبار سے اپنی مثال آپ تھے اس مرض کی گرفت سے اپنے ملک کو نہ بچا سکے۔یہاں تک کہ امریکہ جیسا مضبوط کامیاب ملک بھی اس وائرس کے آگے سرینڈر کرتے ہوئے دیکھائی دیا۔دیکھا جائے تو یہ کورونا وائرس دراصل بہت باریک اور آنکھ سے نہ نظر آنے والا جراثیم ہے اور اس کا کوئی وزن بھی نہیں۔لیکن پھر بھی پوری دنیا اس سے خوف زدہ ہے۔ یہ ایک ایسا وائرس ہے جو اگر جسم میں داخل ہوجائے تو پہلے پہل چار دن وہ انسانی گلے میں رہتا ہے،اس دوران اگر پانی کا زیادہ استعمال اور نیم گرم پانی سرکہ یا نمک ملا کے غرارے کیے جائیں تو انسانی پھیپھڑوں تک پہنچنے سے پہلے ہی اسکا خاتمہ ہوجاتا ہے،دیگر صورت اپنی مدت پوری کرنے تک باہر نہیں نکلتا۔ اس کا اثر زیادہ تر انسانی پھیپھڑوں پہ پڑتا ہے جو انسانی سانس کی رفتار اور اسکے سانس لینے اور خارج کے پروسیس کو کافی حد تک متاثر کردیتا ہے کہ انسان منٹوں میں ڈھیر ہوجاتا ہے۔ اس وائرس سے پیدا ہونے والی سوکھی کھانسی انسان کو ایک پل کے لیے سکون سے نہیں رہنے دیتی۔دنیا کے طبی ماہرین اب تک اسکا باقاعدہ کوئی علاج ڈھونڈ نے میں کامیاب نہ ہوسکے سوائے اس بات کہ احتیاطی تدابیر اپنا کے ہی اس وائرس سے بچا جاسکتا ہے۔ اس ننھے سے جراثیم نے بڑی سی بڑی قوت و ٹیکانولوجی کو مات دے دی ہے۔دنیا کے چاروں اطراف خوف وہراس کی ایسی فضا قائم کردی ہے کہ آج ہر ایک انسان سب کچھ بھول بھال کر بس خود کو اس سے محفوظ رکھنے میں مگن ہے۔ اس سے یہ بات صاف اور واضح ہے بیشک اللہ تعالٰی ہی ہر چیز پہ قادر ہیں جو جب جیسا چاہیں ویسا کردیں، انسان کو ایک ننھی سی چیز سے بھی ہلا کے رکھ دیں اور ایسا باری تعالٰی نے ثابت بھی کردیا اس ایک ننھے کورونا وائرس کے جراثیم سے۔جس نے انسان کی زندگی میں وہ تہلکہ برپا کردیا ہے کہ وہ سب چھوڑ چھاڑ کر اس کے دفاع میں لگاہوا ہے ۔

کورونا وائرس کا نزول دنیا کو خاص کر مسلمانوں کو اللہ پاک کی طرف سے یہ پیغام ہے کہ جب بے حیائی و فحاشی عام ہوجائے اور ظلم کی انتہاء ہوجائے تو اللہ تعالٰی پھر ایسی وبائی امراض نازل فرماتے ہیں ۔یہ مسلمانوں کے لیے تنبیہہ ہے اس سے جھنجوڑنے کے لیے کہ وہ اپنے پرودگار کی طر ف لوٹ آئے توبہ وستغفار کو اپنالے اور اپنی اور گناہوں سے تر زندگی کو چھوڑ کر اس سے رجوع کرلے۔ ہمارے سامنے اس وائرس کے پھیلاؤ کی صورتحال صاف اور واضح ہے کسطرح چین سے پھیلتا ہوا یہ وائرس دنیا کے مختلف ممالک تک جا پہنچا اور اب اس نے پاکستان کا بھی رخ کر لیا ہے ۔ہماری خوش نصیبی یہ ہے کہ الحمدللہ ہم مسلمان ہیں مگر ہم اس وائرس کو لیکے غیر سنجیدگی زیادہ برت رہے ہیں۔ ہمارے ہاں جہاں دن رات اسکی احتیاطی تدابیر بتائیں جارہی ہیں وہیں دوسری طرف لوگ اس کے خوف واہراس میں اس قدر مبتلا ہوچکے ہیں کہ وہمی بنتے جارہے ہیں اگر ذرا سی چھینک بھی آجائے تو ڈر کے ایسے کانپ اٹھتے پیں جیسے کورونا وائرس ہوگیا ہو۔ہمارے ہر شعبے کے لوگ چاہے ڈاکٹرز ہوں، پولیس اہلکار ، محکمہ صحت ہو یا علمائے کرام ، سب سے بڑھکر خود ہماری حکومت۔اس وبائی مرض میں اپنا اپنا کردار بخوبی نبھا رہے ہیں ان سب کے باوجود ہم ان کے ساتھ تعاون نہیں کر پارہے نہ ہی اپنا وہ کردار ادا کر پارہے ہیں جو اس مشکل وقت میں ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمارے ملک میں لوگوں کی دو طرح کی اقسام کثرت سے پائیں جاتی ہیں ایک تو وہ جو حد سے زیادہ احتیاط کرتے ہیں ، وہم کا شکا رہتے ہیں دوسرے وہ جو بالکل لاپروہ زندگی گزراتے ہیں، جن کا یہ ماننا ہوتا ہے کہ "جب ہونا ہوگا کورونا ہوجائیگا بھلا اپنی زندگی یوں فکر میں کیوں ضائع کریں"۔معتدل لوگوں کی قسم ہمارے ہاں کم ہی پائی جاتی ہے۔اس لیے اس وبائی مرض سے بچنے کے لیے ہمارا معتدل ہونا انتہائی ضروری ہے۔ سب سے پہلے ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے ہماری ذرا سی غفلت نہ صرف ہمیں موت کے منہ تک پہنچا سکتی ہے بلکہ ہم سے جوڑے ہر شخص کو جان کے خطرے میں ڈال سکتی ہے۔اٹلی کی مثال تو ہمارے سامنے ہے کہ جہاں راتوں رات درجنوں لوگ اس وباء میں ایسے مبتلا ہوئے کہ ان کے لیے ہسپتال میں جگہیں کم پڑ گئیں،قبرستان میں دفنانے کے لیے جگہیں ختم ہوگئیں اسکی سب سے بڑی وجہ انکی غیر سنجیدگی اور بے احتیاطی تھی۔لہذا احتیاط بہترین علاج ہے۔ اس سے بچنے کے لیے ہمیں سنجیدہ ہونا ہوگا اور اللہ پہ کامل یقین رکھتے ہوئے اس وائرس سے بچنے کے لیے ہر ممکن احتیاطی تدابیر اپنانی ہوگی ۔

اس کورونا وائرس سے بچنے میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہیے اس سے قبل کورونا وائرس کے بارے میں مکمل معلومات کا ہونا ضروری ہے کہ کوروناوائرس اصل میں ہےکیا؟ اسکی علامتیں کیا ہیں ؟ یہ عام فلو ،الرجی سے کیسے مختلف ہے؟ اور اسکی احتیاطی تدابیر کیا ہیں؟؟


* 'کورونا وائرس' ایک ننھا سا جراثیم ہے جوکہ آنکھ سے نظر نہیں آسکتا اور یہ قطروں کے ذریعے آپکے اندر منتقل ہوتا ہے،جب کوئی بندہ کھانس یا چھینک رہا ہو۔

*اگر آپ کو بخار اور کھانسی ہے اور آپ ایسی جگہ سے سفر کرکے آئیں جو اس وبائی مرض میں مبتلا ہیں تو آپکو فی الفور اپنا چیک ایپ ضرور کروانا چاہیے ۔ کورونا وائرس کی تشخیص "Swab Test" کے ذریعے کی جاتی ہے جسمیں مریض کے nostril اور throat کے ذرات کو روئی کی مدد سے لیکے چیک کیا جاتا ہے۔ یاد رکھیں تکلیف سے بہتر احتیاط اور کورونا وائرس کو لیکر سنجیدہ رہیے آپکی زرا سی بے احتیاطی آپکو بہت تکلیف دہ مراحل تک پہنچاسکتی ہے۔

*کورونا وائرس زیادہ تر بچے اور بوڑھوں میں جلدی منتقل ہوتا ہے۔اس لیے بچے بوڑھے خاص احتیاط برتیں۔

'کورونا وائرس کی علامتیں' :

۞ سوکھی کھانسی
۞ شدید بخار( ٹیپریچر ہائی رہتاہے کم نہیں ہوپاتا)
۞ سانس لینے میں شدید دشواری
۞ ہیضہ کا ہوجانا
۞ گردوں کا فیل ہوجانا
۞ تھکاوٹ
۞ الٹیاں کا ہونا
۞ نمونیہ

* اس کے اثرات انسانی جسم پہ تقریباً 14 دن بعد ظاہر ہوتے ہیں اس وائرس کا باقاعدہ کوئی علاج نہیں صرف احتیاط ہے ۔

*کورونا وائرس کی احتیاطی تدابیر* :

۞ باقاعدگی سے ہاتھ دھوئے جائیں ۔اور ہاتھ دھونے کا دورانیہ کم از کم 20 سیکنڈز ضرور ہو،خاص طور پر جب چھینک ،کھانسی آئے۔

۞ اپنی آنکھوں،ناک اور منہ کو ہاتھ لگانے سے پرہیز کریں۔

۞ کھانسی اور چھینک کے وقت ٹشو پیپر کا استعمال کریں اور اچھی طرح اس سے ضائع کردیں۔

۞ پینے کے پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔

۞ ان پھلوں کا استعمال زیادہ کریں جسمیں وٹامن سی کی مقدار زیادہ ہو۔

۞ اچھی اور صحت مند غذا کا استعمال کریں خاص طور پر ایسی چیزیں کھائیں جو آپکی immunity system کو بہتر بنانے میں مدد دے۔

۞پھل ،سبزی یا گوشت کو اچھی طرح دھوکر استعمال کریں۔

۞ تمباکو نوشی سے اجتناب کریں۔

۞ باہر جاتے وقت ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے یا مصاحفہ کرنے سے پرہیز کریں۔

۞ تقریباً ایک مٹر کا فاصلہ رکھ کربات کریں۔

۞ ہاتھ دھونے کی پابندی کریں۔ہاتھ دھوتے وقت درود پاک کا معمول رکھیں تاکہ برکت بھی حاصل ہوتی رہے۔اپنے ساتھ ہر وقت سینیٹائزر ضرور رکھیں۔

۞ اگر آپ بیمار ہیں تو ماسک کا استعمال لازمی کریں۔

۞ بھیڑ والی جگہ پہ جانے سے حتی الامکان بچیں۔صرف
ضرورت کے تحت ہی گھر سے باہر نکلیں اور زیادہ دیر باہر نہ ٹھہریں۔

کورونا وائرس اور دیگر بخار، کھانسی میں کیا فرق ہے ؟ اس پہ بھی ذرا روشنی ڈالتے ہیں تاکہ ہم شک وشبہہ میں مبتلا ہونے سے بچ سکیں۔

* کورونا وائرس اور دیگر بخار ، کھانسی میں فرق* :

*کورونا وائرس کی پہچان *:

۞ تیز بخار کا مستقل رہنا
۞ سوکھی کھانسی
۞ سانس لینے میں شدید دشواری ۔
* اس کی علامتیں 14۔2 بعد ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں۔اور یہ معتدی (Infectious) وائرس جو ایک سے دوسرے میں بڑی تیزی سے منتقل ہوتا ہے۔

* فلو کی پہچان*:
۞ کھانسی
۞ پٹھوں میں درد کا ہونا
۞ ٹھنڈے پسینوں کا آنا
۞ کمزوری اور تھکاوٹ کا ہونا
۞ گلے کا دکھنا
۞ بلغم

*الرجی کی پہچان*:
۞ آنکھوں اور منہ کے تلوے پہ خارش
۞ بہتی اور جمی ہوئی ناک
۞ سوجھی ہوئی، لال اور بہتی آنکھیں

*اسلیے ہر چھینک کو کورونا نہ سمجھیں ، مسنون اعمال کی پابندی اور احتیاط لازمی کریں۔

ہمارا ملک بہت قیمتی ہے اور اس میں بسنے والا ہر ایک باشندہ اسکا بیش بہا سرمایہ اور انمول ہے ۔ اسکی حفاظت کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ اس لیے حکومت ،طبی مراکز، ڈاکٹرز ، علمائے اکرام کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ ہمارا ہر قدم اسکی حفاظت کے لیے اٹھنا چاہیے تاکہ ملک کی بہتری کا سبب بن سکے۔ہمیں مسنون اعمال اور احتیاطی تدابیر کو اپناتے ہوئے اپنا مثبت کردار یوں ادا کرنا چاہیے :

#سب سے اہم بات، ہمارے لیے یہی کافی ہے کہ ہم الحمدللہ مسلمان ہیں اور اسلامی ریاست کے سائے تلے زندگی گزار رہے ہیں۔ اللہ باری تعالٰی نے ہمیں جن چیزوں سے بچنے کا حکم فرمایا ہے اس سے بچنا اور جن چیزوں کو کرنے کا حکم دیا ہے اسے ہی اپنانا ہم پہ لازم ہے۔ہمارے لیے تو بیماری میں مبتلا ہونا بھی اور اس سے حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر اپنانا ،دونوں صورتوں میں اجروثواب ہے ۔یہاں تک کہ اس وبا سے بچنے کے لیے گھر پہ ٹھہرے رہنے میں اللہ پاک نے کافی اجر وثواب رکھا ہے۔ اللہ رب العزت تو سب سے جلدی راضی ہونے والی ، انتہائی مہربان ذات ہے تو اس مشکل گھڑی میں وہ ہمیں بھلا کیسے اکیلے چھوڑ سکتا ہے ۔ اس لیے ہمیں چاہیے ہم اللہ کا قرب زیادہ سے زیادہ حاصل کریں، اس سے خوب لو لگائیں ، گڑگڑاکر مانگیں ، اسے پر امید رہیں ۔ استغفار اور گناہوں سے توبہ کا اہتمام کریں ۔اپنی استطاعت کے مطابق صدقہ دیں۔ان شآءاللہ وہ ہم پہ اپنا کرم اور اپنی رحمتیں ضرور نازل کریگا ۔انہی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمارے دین کے نہایت محترم جناب مفتی تقی عثمانی صاحب نے چند دعاؤں کی کثرت کا حکم فرمایا ہے لہذا ان کو اپنے روز مرہ زندگی میں بکثرت سے پڑھیں تاکہ اللہ کا عذاب ہم سب پہ سے ٹل جائے۔ان شآءاللہ


١۔آیت الکریمہ:

لاَ اِلٰہ اِلِّا اََنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ

٢۔ الّٰلھُمَّ اَرْفَعٰ عَنِّا الْبَلاَ ءَ وَالْوَباَء

٣۔ گھر سے باہر نکلتے اور کھاتے پیتے وقت :

بِسْمِ للہِ الَّذِیْ لاَ یَضُرُّ مَعَ اسْمِہِ شَیْ ءٌ فِی الاَرْضِ وَلاَ فِی

السَّمآءِ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ

٤۔ ہر نماز کے بعد آیة الکرسی پڑھکر اپنے اوپر اور اپنے گھر والوں پہ دم کرلیں۔انشآءاللہ کورونا وائرس سے حفاظت رہے گی۔

# وبائی امراض میں درود شریف کی کثرت ہر پریشانی اور تکلیف کے دوری کا سبب بنتی ہے اور اللہ پاک اپنی رحمت کا نزول فرماتے ہیں سو بکثرت درود پاک کا معمول رکھیں۔

حافظ ابن الحجر ؒ لکھتے ہیں:

" طاعون اور دیگر بڑی وبائی امراض سے بچاؤ کے لیے سب مفید عمل خاتم النبیینﷺ پر کثرت سے درود شریف پڑھنا ہے۔"
(بذل الماعون فی الفضل الطاعون ص٣٣٣ )

# جب کسی وائرس متاثرین کو دیکھیں تو یہ دعا پڑھیں جسکا ذکر حدیث مبارکہ میں بھی ملتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"جو شخص کسی آفت زدہ شخص کو دیکھکر یہ دعا پڑھ لے تو اسے وہ آفت نہ پہنچے گی ۔ "
(سنن ترمذی حدیث:3432 حدیث حسن)

اَلْحَمْدُلِِِلہ الَّذِیْ عَافَانِی مِمَّا ا بْتَلَا کَ بِہٖ وَ فضَّلَنِیْ عَلٰی کَثِیْرٍ

مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِیْلاً ۔

# اپنے گھر خود اپنا ،بچوں اور اپنے پیاروں کی صاف ستھرائی کا خاص خیال رکھیں۔

# حکومت جو بھی اعلان کرتی ہے اسکے ساتھ مکمل تعاون کریں۔یہ یاد رکھیں جتنی احتیاط کریں گے اتنا ہی آپ اور آپس سے جوڑے لوگ محفوظ رہ پائیں گے۔

# یہ بات ذہن نشین کرلیں حکومت نے جو لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے یہ ہماری حفاظت کے لیے ہی ہے اس لیے اس سے مت گھبرائیں۔سب بند بھی ہوجائے مگر یاد رکھیں توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہے گا تو سب مل کر توبہ کریں اور لاک ڈاؤن کے حالات سے باہر آجائیں۔

# اللہ رب العزت ہم پہ اس قدر مہربان ہے کہ اسکا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ دن میں 5 بار وضو کو بھی کورونا وائرس سے بچاؤ کا ذریعہ بنا ڈالا۔ وائس چانسلر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنس لاہور جناب پروفسیر ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ وضو کے ذریعے کورونا وائرس پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔پروفیسر جاوید اکرم کے مطابق چھینک اور سانس کے ذریعے کورونا وائرس کے ذرات ماحول میں شامل ہوکر آپ کے جسم کے Expose parts اسکن، چہرے، آنکھ اور ناک پر چلے جاتے ہیں ۔جبکہ وضو میں ان Expose parts کو بار بار دھویا جاتا ہے۔ جس سے کافی حد تک کورونا وائرس پہ قابو پایا جاسکتا ہے۔ تو آئیں پنچ وقتہ نماز کا پابندی سے اہتمام کریں یوں اللہ کا قرب بھی نصیب ہوگا اور اس وائرس سے چھٹکارا بھی ان شآء اللہ۔

# بیماری، جراثیم اور وائرس کے حوالے سے یہ سمجھنا کہ یہ ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل نہیں ہوتے غلط ہے ، یہ اللہ کے حکم سے منتقل ہوتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ہی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور علاج کرنے کا ہمیں حکم دیا ہے۔لہذا وبائی مرض کے پھیلاؤ اور معتدی (INFECTIOUS) ہونے سے بچاؤ کی جو احتیاطی تدابیر دیندار ماہرِ صحت بتارہے ہیں ان پر عمل کرنا ضروری ہے۔

#کورونا وائرس اور بچوں کی چھٹیاں:

کورونا وائرس کی وجہ سے چھٹیاں بچوں کی تفریح کے لیے نہیں دی گئیں بلکہ حفاظتی تدبیر اور احتیاط کے پیش نظر دی گئی ہیں، لہذا بچوں کو گھروں میں تعلیم وتعلم ،
عبادات، ذکر وتلاوت اور دعاؤں میں مصروف رکھیں۔بچوں کو غیر ضروری طور پر بازاروں ، پارکس ، ساحل ِ سمندر ، تفریحی مقامات اور بڑے اجتماعات میں لے جانے سے گریز کریں ۔کیونکہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔

Quarantine time /
وبائے عام کے موقع پر گھر پہ ٹھہرنا:

اللہ پاک کی محبت ہم سے ایسی ہے کہ اس ذاتِ کریمی نے ہمارے گھر میں ٹھہرنے پر بھی شہید جیسا اجرو ثواب رکھا ہے۔حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ:

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے :

" جو شخص طاعون زدہ علاقے میں صبر کے ساتھ اپنے گھر میں ٹھہرارہے اور یقین رکھے کہ اسے صرف وہی مصیبت پہنچے گی جو اللہ نے اس کے لیے لکھ دی ہے تو اسے شہید جیسا اجروثواب ملے گا۔"
(مسند احمد: 26139)

* حدیثِ بالا کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص وبائے عام اور طاعون کے موقع پر صبر ، ثواب کی امید، عقیدے کی درستگی اور تقدیر پر ایمان کے ساتھ اپنے گھر میں ٹھہرا رہے تو اس کے لیے شہید جیسا اجرو ثواب ہے اگرچہ اُسے اس وبا میں موت بھی نہ آئے۔

تو اب گھر میں رکنے میں حرج کیسا ہمیں تو اس پہ بھی اتنا بڑا درجہ مل رہا اور اس سے ہماری اور ہمارے پیاروں کی حفاظت بھی یقینی، تو گھر پہ رکیے اور محفوظ رہیے۔

# دیکھا جائے تو یہ isolation time period ایک طرح سے گولڈن ٹائم ہے۔اس وقت کو غنیمت جانیے۔یہی وہ وقت ہے جب آپ اللہ تعالٰی کے قریب ہوسکتے ہیں۔تنہائی میں کی گئی عبادت اللہ تعالٰی کو بہت پسند ہے۔تو اللہ باری تعالٰی سے خوب دعائیں مانگیں، اسے راضی کرنے میں دن رات ایک کردیں،یہی وہ پاک ذات ہے جو سب سے زیادہ جلدی راضی ہو جاتی ہے۔ اسکا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ آپکا وقت گھر والوں کے ساتھ زیادہ گزرے گا یوں آپ انکے اور بھی قریب ہوجائیں گے اور انہیں پہلے سے زیادہ جان اور سمجھ پائیں گے ۔ اپنے بڑوں کی خد مت بھی کرسکیں گے۔

ذرا سوچیں ایسی صورتحال میں آپ یوں ہی اپنی فیملی کو لیکر باہر گھومتے پھیرتے رہتے ،کام پہ جاتے رہتے تو گھر والے آپ کے لیے کس قدر پریشان رہتے۔آپکی فیملی بھی مشکل میں آجاتی ۔وائرس لگنے کے خطرے بڑھ جاتے۔
لہذا اس وقت کو بہترین سمجھیے اور اچھے سے گزایے ۔

* مرد حضرات اپنے بچوں کے ساتھ گھروں میں کھیلیں انہیں خود پڑھائیں۔مختلف ٹاسکز دیں۔ایکٹیوٹیز میں مصروف رکھیں۔یوں نہ صرف آپکا وقت اچھا گزرے گا بلکہ بچے بھی بے حد خوش ہونگیں۔ انکا حوصلہ اور اعتماد بڑھے گا۔

*ماں باپ کی خد مت کریں انکی کہی ان کہی باتیں سنیں ۔اسطرح انکی برسوں کی شکایتیں دور ہوجائیں گی کہ انہیں آپ ٹھیک سے وقت نہیں دے پاتے تھے۔

*بیوی کا چھوٹے موٹے کاموں میں ہاتھ بٹائیں انکی خدمت کو سرہائیں یوں وہ آپکا پہلے سے بھی زیادہ خیال رکھے گی۔

*خواتین اپنے بچوں کے لیے اچھے اچھے پکوان بناکے انہیں خود اپنے ہاتھوں سے کھلائیں تاکہ وہ باہر کھانے کی چیزوں کی کمی محسوس نہ کرسکیں اور اسکا فائدہ یہ ہوگا کہ بچے باہر کی اشیاء کھانے سے خود ہی پیچھے ہٹ جائیں گے اور اور انہیں اچھی غذا کھانے کی عادت پڑ جائے گی۔

* جو پیسے آپ انہیں پاکٹ منی کے طور پہ روز دیتی ہیں وہ الگ جمع کرتی رہیں بچوں کو سمجھائیں کہ وہ اس isolation time پہ جتنا اچھا پرفارم کرینگے اتنا ہی اچھا آپ انہیں گفٹ دینگی یوں وہ اور دل لگاکے محنت کرینگے اور اچھے سے وقت گزرایں گے۔

* بچوں سے خوب دعائیں منگوائیں اور اپنے ساتھ انہیں بھی عبادت میں لگائیں یوں وہ اللہ تعالٰی سے اپنے تعلق کو بہتر طریقے سے سمجھیں گے اور بچوں کی دعائیں اللہ پاک جلدی قبول فرماتے ہیں۔

* اپنے خاوند کا زیادہ خیال رکھیں۔ کفایت شعاری کا مظاہرہ کریں۔

*اگر آپ صاحب استطاعت ہیں تو غرباء کے گھر ایسی مشکل گھڑی میں راشن ڈالوادیں تاکہ وہ بھی اس وقت کو با آسانی گزار سکیں۔

*ذخیرہ اندوزی سے بچیں صرف اتنا خریدیں جتنی کی ضرورت ہو تاکہ دوسرے بھی محروم نہ رہ سکیں۔

*میل جول سے اجتناب کریں۔بچوں کو بھی پیار کرنے سے فی الحال پرہیز کریں۔

*اللہ کو خوب یاد رکھیں ۔دعائیں کریں کوئی لمحہ بھی غفلت میں نہ گزرایں۔مسنون دعاؤں کا معمول رکھیں اور احتیاطی تدابیر میں غفلت نہ برتیں۔

*کورونا وائرس کے مثبت اثرات* :

جہاں اس 'کورونا وائرس' نے اتناخوفزدہ کیا ہے وہیں اس نے اپنے ہماری زندگیوں پہ مثبت اثرات بھی ڈالیں ہیں۔

۞ اس بات کی سمجھ آئی کہ جن چیزوں کو اللہ پاک نے کھانے سے منع فرمایا ہے اگر اسے پھر بھی کھایا جائے تو انسانی زندگی کس حد تک متاثر ہوتی ہے۔

۞ اس وائرس نے اللہ تعالٰی کی طرف بندے کو پلٹا ہے ۔بے حیائی، بے شرمی اور گناہوں سے بھری زندگی کو چھوڑنے کا سبب بنا ہے۔

۞ سادگی والی زندگی اپنانے کی ترغیب دی ہے۔

۞ بے جا گھومنے پھیرنے، فضول خرچی سے روک دیا ہے۔

۞پیسوں کی بچت کو بڑھا دیا ہے۔

۞حکومت، ڈاکٹرز ، علمائے اکرام کے رول کو پوزیٹیو بنا دیا ہے۔انکی عزت واکرام کو بڑھا دیا ہے۔

۞ کشمیر جیسے شہر میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے گزرتے مشکل وقت کو سمجھا دیا ہے انکا احساس دلا دیا ہے۔ انکی مدد کا جذبہ بیدار کردیا ہے۔

۞ سب سے بڑھکر اسلام کا بہترین مذہب ہونے اور اپنے مسلمان ہونے کا صحیح مطلب سمجھا دیا ہے۔

*بونس بات* :

۞ سینیٹائزر آجکل مہنگا مل رہا ہے۔ہر ایک اس سے بآسانی نہیں خرید سکتا ایسے میں انتہائی آسان اور مؤثر ہوم میڈ سینیٹائزر بنانے کا طریقہ : آپ نیم کے پتوں کی ٹہنی لے لیں۔ پتیلی میں پانی ڈال کر نیم کی ٹہنی بھی ساتھ ڈال دیں اور اتنا پکائیں کہ پانی کی مقدار کم ہوکے آدھی رہ جائے۔ٹھنڈا ہونے پہ کسی بھی بوتل میں بھر دیں آپکا سینیٹائزر تیار ہے۔

۞ باہر نکلتے وقت ویکس کو اپنے Nostrils(نتھنوں) میں لگالیں تو ماسک پہنے سے بھی بچ جائیں اور کورونا وائرس سے بھی محفوظ رہیں گے۔

یاد رکھیں!! اس وقت ہمارے ملک اور قوم کو ہماری ضرورت ہے۔ ہمارا اجتماعی تعاون ہی ہمارے ملک کو اس و باء سے بچا اور نجات دلواسکتا ہے تو آیے اپنے ملک کا ساتھ دیں اپنا مثبت کردار ادا کرکے۔ حکومت کے ساتھ بھر پور تعاون کریں ۔ڈاکٹرز کی ہدایت پہ اچھے سے عمل کریں ۔علمائے اکرام جن دعاؤں کا بتائیں اسکا معمول بنائیں۔مسنوں دعاؤں کا اہتمام رکھیں۔احتیاطی تدابیر اپنائیں اور اللہ تعالٰی سے خوب دل جوئی کے ساتھ مانگتے رہیں۔اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگی محفوظ بنائیں۔گھر پہ رہیے تاکہ آپ اور آپ کے پیارے صحت مند رہ سکیں۔ یہ بات ذہن نشین کر لیں ہماری بے احتیاطی ہمیں موت کے خطرے تک پہنچا سکتی ہے ہماری احتیاط اور اللہ سے رجوع ہی میں ہماری نجات ہے۔

انشآء اللہ اللہ پاک سے قوی امید ہے وہ اپنی رحمت سے پاکستان اور پوری دنیا کو اس وباء سے نجات دیں دے گے۔آمین

#حیا_مسکان
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fatmah Hussain

Read More Articles by Fatmah Hussain: 5 Articles with 2644 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Mar, 2020 Views: 206

Comments

آپ کی رائے