کرونا وائرس آخر ہے کیا ؟

(Fareed Ashraf Ghazi, Karachi)

جب سے کرونا وائرس کے حوالے سے دنیا بھر میں شورو غوغا بلند ہوا ہے اور اس وائرس کی تباہ کاریوں اور ہولناکیوں کی داستانیں میڈیاچینلز اور اخبارات کے ذریعے گھر گھر پہنچائی گئیں ہیں ایک عام آدمی شدید نوعیت کی کنفیوژن اور مخمصے کا شکار ہے کیونکہ اس بیماری یا عالمی وبا کے طو ر پر کرونا کو جو غیرمعمولی اہمیت اور شہرت حاصل ہوئی اس کی وجہ سے اس موضوع پر سوشل میڈیا پر سچی اور جھوٹی خبروں اور معلومات کا جو نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا وہ اس بیماری یا وباکے آغاز سے لے کر آج تک جاری و ساری ہے۔جس کو دیکھو وہ اس حوالے سے اپنا نکتہ نظر بیان کرتا ہوا نظر آتا ہے اور ایک لحاظ سے یہ ایک بہت اچھی بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں لوگوں کو با ت کرنے کی آزادی حاصل ہے، اپنا موقف پیش کرنے پر کسی کو پابند سلاسل نہیں کیا جاتا اور نہ ہی کسی مہذب معاشرے میں ایسا کیا جانا چاہیئے ۔جب کوئی کالم نگار اس وائرس کے حوالے سے کچھ لکھنا چاہتا ہے تو سب سے بڑا مسئلہ اس کے سامنے یہ ہوتا ہے کہ وہ اس بیماری یا وبا کے کس پہلو کو اپنی تحریر کا موضوع بنائے کیونکہ اس حوالے سے اتنا زیادہ سچ جھوٹ اور کنفیوژن ہمارے معاشرے میں پھیلایا جاچکا ہے اور اس وائرس کے حوالے سے اتنی زیادہ متضاد باتیں لکھی اور کہی جارہی ہیں کہ اگر کوئی اس موضوع پر تحقیق کرکے کچھ لکھنا چاہے توشاہد ایک ضخیم کتاب وجود میں آجائے لہذا میں کوشش کروں گا کہ اس ہمہ جہت ٹوپک پر اختصار کے ساتھ روشنی ڈالی جائے لیکن ہوسکتا ہے کہ میرا یہ کالم چند اقساط پر مشتمل ہو کیونکہ اگر کسی خاص موضوع پر بات کی جائے اورتحریر میں اس کے ہر پہلو پر روشنی نہ ڈالی جائے تو تشنگی باقی رہ جاتی ہے جس کی وجہ سے کالم نگار اور قارئین دونوں کی ہی تسلی نہیں ہو پاتی۔

آئیے اب کرونا وائرس کے حوالے سے کچھ باتیں ہوجائیں۔کرونا وائرس کا آغاز کب ،کیسے اورکس ملک سے ہوا یہ سب کچھ تو اب پاکستان کا بچہ بچہ جان چکا ہے لیکن گھروں میں قیدکروڑوں افراد کے ذہنوں میں اس بیماری یا وبا کی ملکی اور غیر ملکی میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں غیر ضروری اور بے تحاشہ پبلسٹی کی وجہ سے پیدا ہونے والا ایک سوال جو آج کل ہر پڑھے لکھے فرد کے لبوں پر نظر آتا ہے ،وہ یہ ہے کہ ،کرونا وائرس آخر ہے کیا ؟کیاکرونا وائرس اﷲ کا عذاب ہے ،کیا کرونا وائرس ہمارے برے اعمال کی سزا ہے ؟کیا کرونا وائرس وبا ہے ؟ کیا یہ یہودیوں کی مسلمانوں کے خلاف کوئی سازش ہے ؟ کیا یہ وائرس انسان کا بنایا ہوا ہے ؟ کیا یہ وائرس امریکہ نے نیو ورلڈ آرڈ کے اپنے دیرینہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جان بوجھ کر دنیا کی دوسری سپر پاور چین کی بڑھتی ہوئی معیشت کو کمزور کرنے کے لیے جان بوجھ کر چینی شہر ’’ووہان ‘‘ میں چھوڑا تاکہ جن ممالک کے ساتھ مل کر چین امریکہ کو رفتہ رفتہ معاشی میدان میں نقصان پہنچارہا ہے اسے روکا جاسکے ؟کیا یہ وائرس امریکہ نے سی پیک کے منصوبے کو عملی شکل میں ڈھلنے سے روکنے کے لیے چھوڑا ہے ؟ کیا کرونا وائرس مسلمانوں کے خلاف رچائی گئی چین اور امریکہ کی مشترکہ سازش ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ بعد میں کھل کرسامنے آئے گی ؟ کیا کرونا وائرس چین کی امریکہ کے خلاف رچائی گئی سازش ہے جیسا کہ امریکہ کے صدر ٹرمپ نے اپنی ایک گفتگو میں کہا کہ یہ وائرس امریکہ میں چین سے آیا ہے تو چین ہی اس وائرس کو پھیلانے کا ذمہ دار ہے ؟

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا کروناوائرس واقعی کوئی ایسی ہلاکت خیز بیماری ہے جو ایک انسان سے دوسرے انسان کو بہت آسانی کے ساتھ لگ جاتی ہے جس کا نتیجہ انسان کی موت کی صورت میں نکلتا ہے؟ یا یہ سب عالمی طاقت کارچایا ہوا ایک ٹوپی ڈرامہ ہے جو اس نے پوری دنیا اور خاص طور پر مسلمان ممالک پر اپنا مکمل کنٹرول قائم کرنے کے لیے بڑی منصوبہ بندی اورمہارت کے ساتھ اسٹیج کیا ہے ؟یہ سب اور ان جیسے دیگر بہت سے سوالات لوگ اپنی نجی محفلوں ،ٹی وی پروگراموں اور خاص طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن مختلف ممالک جواس وائرس یا وبا سے متاثر ہوئے ہیں ان کا اس بیماری کے حوالے سے غیرمعمولی پروپیگنڈہ ،اس بیماری میں مبتلا افرا د کی تعداداور اس بیماری سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے متضاد اعدادو شمار ،غیر ضروی طور پر اپنے شہروں کا مکمل یا جزوی لاک ڈاؤن،لوگوں میں خوف وہراس پھیلانا، میڈیا کے ذریعے اس بیماری کے مریضوں اوراس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد کا شورو غوغا مچا کر لوگوں کو مختلف حفاظتی اشیاء اور چیزوں کی خریداری کی ترغیب دینا،مسلمان ممالک کے سربراہوں کو خوف زدہ کرکے یا کروڑوں ڈالروں کی امداد کا لالچ دے کرانہیں اپنی مرضی کے مطابق ہینڈل کرنا،مسلمانوں کی عبادت گاہوں تک کو بند کروانے میں کامیاب ہوجانا اور اس سلسلے میں ان کو مسلمان ممالک کے حکمرانوں کے ساتھ بعض علماء کی حمایت بھی حاصل ہوجانا۔یہ سب باتیں بہت سارے شکوک و شبہات پیدا کرتی ہیں جن میں سے کئی شبہات ایسے بھی ہیں جن کے شواہد مسلمان ممالک میں آسانی کے ساتھ دیکھے جاسکتے ہیں۔

کیا کوئی مسلمان سوچ سکتاتھا کہ خانہ کعبہ میں ہونے والی نمازیں اورطواف بند ہوجائے گا ؟کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ مسجد نبوی ﷺ اور روضہ ء رسول پر مسلمانوں کی حاضری اور نمازوں کی ادائیگی پر پابندی لگ جائے گی اور کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں مسجدوں کے دروازوں پر تالے لگائے جائیں گے اور نماز جمعہ کی مسجدوں میں ادائیگی بھی ایک جرم بنادی جائے گی ؟ اور کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ کراچی جیسے بڑے شہر کے سب سے بڑے دارالعلوم اور مدرسے کے احاطے کے اندر قائم ایک بڑی اور عالیشان مسجد میں ہر جمعہ کو امامت کرنے والے مفتیان کرام جن کی رہائش گاہیں اور دفاتر بھی اسی دارالعلوم کے احاطے میں واقع ہیں وہ نماز جمعہ کے لیئے اپنے ہی دارالعلوم کی مسجد میں نماز جمعہ پڑھنے نہیں جائیں گے یا نہیں جاسکیں گے اور اپنے اپنے گھر یا دفتر میں نماز جمعہ کی ادائیگی کریں گے اور ان کی ہی قائم کردہ مسجد میں کوئی دوسر ا شخص امامت کروائے گا جس میں بہت ہی کم تعداد میں لوگ شریک ہوں کر اپنی قوت ایمانی کا ثبو ت دیں گے( واضح رہے کہ اس دارالعلوم اور نماز جمعہ کے حوالے سے یہ سب باتیں گزشتہ روز کراچی کے ایک کافی پرانے اور معروف روزنامہ کے رنگین صفحہ پر ہیڈلائن کے ساتھ شائع کی گئی ہیں) لیکن آج یہ سب کچھ ہورہا ہے اور سب مسلمان اپنی آنکھو ں سے دیکھ رہے ہیں اور یہ سب اس لیے ہورہا ہے کہ آج کا مسلمان اﷲ پر بھروسہ کرنے کی بجائے مختلف طاقتوں کے اشارے پر ناچ رہا ہے ،کوئی اپنی کمزوریوں اور بدعنوانیوں کو چھپانے کے لیے ایسا کررہا ہے ،کسی کے اندر ایمان کی طاقت کمزور ہوچکی ہے اور کسی کو اس کی ایمانی طاقت کے باجود ایسا کرنے پر زبردستی مجبور کیا جارہاہے۔

یہاں ایک اہم بات اور قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے بانی قائداعظم محمدعلی جناح نے پاکستان کے طرز حکومت کے لیے جو سلوگن یا جو نعرہ دیا وہ ’’ ایمان ،اتحاد اور تنظیم ‘ ‘ تھا جس کا پہلا لفظ ہی ایمان ہے جس کا وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے بھی قوم سے اپنے حالیہ خطاب میں ذکر کیااور کہا کہ ہم ایمان کی طاقت سے ہی کرونا وائرس کو شکست دے سکتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے موجودہ وزیراعظم کا ایمان بہت مظبوط ہے وہ اﷲ پر بھروسہ کرنے والا انسان ہے اور اس کی ساری زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ عمران خان کبھی موت سے نہیں ڈراکیونکہ ہر سچے مسلمان کی طرح اس کا بھی ایمان یہی ہے کہ زندگی اور موت صرف اﷲ کے ہاتھ میں ہے اور سچ تو یہ ہے کہ وہ بہت سے سیاسی لیڈروں اور کئی مشہور علماء سے زیادہ مظبوط ایمان کا مالک ہے اور یہ بات اس کے قول وفعل سے بہت واضح ہوکر سامنے آتی ہے جبکہ ایسے نازک موقع پر بعض خوف زدہ علماء کا کردار بھی سب کے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہے۔بجائے اس کے کہ علماء اس بات پر ڈٹ جاتے کہ کسی بھی صورت میں خانہ کعبہ ،مسجد نبوی سمیت کسی بھی مسجد میں نمازوں کی ادائیگی پرپابندی برداشت نہیں کی جائے گی اکثر علماء انگریزوں اورکافروں کے کیے گئے منافقانہ پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر حق کی راہ سے بھٹک گئی اورکافروں نے بہت آسانی کے ساتھ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو بندکروانے میں کامیابی حاصل کرلی جو کہ ان کا دیرینہ خواب تھا جوان ممالک کے علماء کے تعاون سے بہت آسانی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچا ورنہ اگر علماء مسجدوں میں نمازوں کی ادائیگی پر پابندی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے تو قوم کی اکثریت ان کے ساتھ ہوتی اور کسی بھی حکومت کو مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو تالے لگانے کی ہمت نہ ہوتی لیکن یہاں تو عجب ہی معاملہ ہوا کہ لوگوں سے یہ کہنے کے بجائے کہ آپ لوگ مسجدوں میں جاکر زیادہ سے زیادہ نمازیں پڑھیں اﷲ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور دعا کریں کہ یہ جو کرونا وائرس کی شکل میں عذاب ،سزا یا وبا ہم پر مسلط ہوئی ہے وہ ٹل جائے یا اگر یہ کوئی عالمی سازش ہے تو اﷲ تعالی مسلمانوں کے خلاف کی گئی اس کافرانہ سازش کو ان ہی لوگوں پر الٹ دے جنہوں نے یہ وائرس اپنے مضموم مقاصد کے لیے دنیا کے مخصوص ممالک میں جان بوجھ کر چھوڑا ہے ۔لیکن ایسی کوئی بات کرنے کے بجائے اسے قدیم زمانے میں پھیلنے والی طاعون کی وبا جیسی کوئی وبا قرار دے کر عالمی طاقتوں اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کو بے چوں و چرا تسلیم کرلیا گیا اور یوں مسلمان ممالک میں بھی کافروں کا دیرینہ منصوبہ ان کی عین خواہش اورپلاننگ کے مطابق پایہ تکمیل کو پہنچایا جارہا ہے اور راستے میں ان کے لیے کہیں سے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جارہی بلکہ تعاون کیا گیا جیسا کہ اس سے پہلے’’ نائن الیون‘‘ کے نام پر ان کے رچائے گئے مشہور زمانہ ٹوپی ڈرامے کے موقع پر کچھ اسلامی ممالک نے ان کے اشارے پر ناچ کراپنی اطاعت کاثبوت دے کر کروڑوں ڈالرز کا تحفہ اور قرضہ حاصل کیا تھا۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے قوم سے اپنے حالیہ خطاب میں جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ’’ میں ملک کو لاک ڈاؤن ہر گز نہیں کرؤں گا ۔ لاک ڈاؤن کرنے کا مطلب کرفیو لگانا ہے اور شہریوں کو گھروں میں بند کر کے باہر پولیس اور فوج کا پہرا لگانا ہے۔ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو پاکستان کی غریب عوام بے روز گاری جیسی لعنت کا شکار ہو جائے گی۔ ہماری 25 فصید آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے جسکا مطلب یہ ہوا کہ ان کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں آج ہی پورا ملک لا ک ڈاؤن کر دوں تو میرے ملک کے رکشہ ڈرائیور، چھابڑے والے، ریڑھی والے، ٹیکسی والے،دیہاڑی والے مزدور اپنے گھروں میں بند ہو جا ئیں گے اور کیا ان کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال سکیں گے۔ کیونکہ ملک کے معا شی حالا ت اچھے نہیں ہیں اور ابھی ہماری اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ ہم غریب عوام کو گھروں میں کھا نا پہنچاسکیں۔ اگرچہ چین نے یہی کیا تھا لیکن چین دنیا کا دوسرا امیرترین ملک ہے اور انہوں نے یہ سب ایک سسٹم کے تحت سر انجام دیا تھا۔ اس لیے وہ کامیاب بھی ہوئے۔انہوں نے اپنا نقطہ نظر بیان کرتے کے ساتھ پاکستانیوں کو تجویز بھی دی کہ اس میں سب سے بہترین حل یہ ہی ہے کہ عوام خود اپنے آپ کو لاک ڈاؤن کی طرف لے کر جا ئیں اور اپنی حفاظت خود کریں۔ اور اگرعوام کو اپنے اندر اس وائرس کی علامات محسوس ہوتی ہیں توپھر ہی وہ ہسپتال کارخ کریں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس سب سے بڑی چیز ایمان کی طاقت ہے اورہمیں حکمت عملی کے ساتھ کرونا وائرس کے خلاف اس کا استعمال کرناہوگا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بیماری امیر اور غریب میں فرق نہیں کرتی، اگر غریب علاقوں میں لوگوں نے لاک ڈاؤن نہ مانا تو اس کے پھیلاؤ کو روکا نہیں جا سکتا۔ اس لیے ساری قوم مل کر اس وائرس کے خلاف جنگ لڑے تو ہی ہم جیت سکتے ہیں اور ایسی جنگ صرف وسائل سے نہیں جیتی جا سکتی اس کے لیے حکومت کے ساتھ ملک کے مخیر حضرات کو بھی غریب لوگوں کی مدد کے لیے آگے آناہوگا‘‘۔

ہمیں اس بات کی حقیقت کا پتہ چلانا ہوگا کہ کرونا وائرس کیسے وجود میں آیا؟کیا یہ وائرس سائنس دانوں کی کیمیائی جنگ کا ایک مہرہ ہے ؟ جسے کوئی عالمی طاقت اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے ؟ اس وائرس کو کس نے ایجاد کیااس کا موجد کون ہے؟ اسے چین میں ہی کیوں لانچ کیوں کیا گیا؟ اور اس کی روک تھام کو کنٹرول کیوں نہیں کیا جا سکا؟ میڈیا کے مطابق بائیس ہزار سے زائداموات اس وائرس کی وجہ سے ہوئیں؟ اگر اس وائرس کو مذہبی لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ ہم سب کے خالق اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے برے اعمال کی سزا ہے اس کے غم و غصے کا اظہار ہے کیوں کہ اس کی مخلوق کے ساتھ جو کچھ ہم کرچکے ہیں اس کے بعد ایسا کچھ ہونا حیرت کی بات نہیں جیساکہ کشمیر کے کرفیو اور لاک ڈاؤن پر بیشتر اسلامی ممالک کی طر ف سے صرف بیان بازی سے کام چلایا گیا تو اﷲ تعالی ٰنے پوری دنیا میں کرفیو لگا دیا اور پوری دنیا لاک ڈاؤن کرنے پر مجبور ہوگئی، اور جب پاکستان جیسے اسلامی ملک میں اﷲ تعالی کے احکامات کے خلاف نافرمانی کرتے ہوئے’’ میرا جسم میری مرضی ‘‘کا نعرہ لگا اور مادر پدر آزاد عورتوں اور مردوں نے اس کی حمایت میں مظاہر ہ کیا تو اﷲ تعالی نے’’ میری دنیا میری مرضی‘‘ کے تحت حضرت انسان کو ایسا سبق دیا کہ وہ اسے مدتوں نہیں بھول سکے گا۔ر سب کو یاد ہوگا کہ ظلم سے تنگ آکر ایک شامی بچے نے کہا تھا کہ اوپر جاکر میں اﷲ پاک کو سب کچھ بتا دونگا اور کہنے والے کہتے ہیں کہ اس نے اوپر جاکر ہمارے رب سے ہمارے غفلت اور ظلم کے خلاف جہاد نہ کرنے کی شکایت کردی اورہمارے رب نے اس پر ساری دنیا کی پکڑ کرلی،کشمیر،فلسطین، بوسنیا،عراق،افغانستان،شام، لیبیا،برما میں ہونے والے انسانیت سوز مظالم کو برداشت کرتے ہوئے زندگی گزارنے والوں کی چیخیں کسی اسلامی ملک کے سربراہ کو سنائی نہیں دیں جس کا نتیجہ اﷲ کے عذاب کی صورت میں کرونا بن کر آیا ہے ۔ اس دنیا میں حضرت انسا ن نے اسلامی شعائر کا کھل کر مذاق اڑانا اپنا وطیرہ بنا لیا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ازان،حجاب اور شعائر اسلام کا مذاق اڑانے والی قومیں خالق حقیقی کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہوچکی ہیں اور ہمارا پروردگارمسلمانوں سے ایسا ناراض ہوا ہے کہ اب اپنے گھر کے دروازے بھی ہم پر بند کررہا ہے جس پر سب مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی توبہ کی ضرورت ہے ۔

اس ہلاکت خیز کہلائے جانے والے کرونا وائرس نے پاکستان میں کب اور کیسے انٹری دی یہ بھی ایک بہت اہم سوال ہے؟ یعنی کہ کرونا وائرس پاکستان میں کیسے داخل ہوا، جب کچھ عرصہ پہلے ہمارے اردگرد موجود ہمارے ہمسایہ ممالک اس کا شکار ہوچکے تھے اور ہمیں اس بات کا بھی خدشہ تھا کہ یہ وائرس کسی سازش کی شکل میں بھی پاکستان میں پھیلا یا جاسکتا ہے تو پھر کیا وجہ تھی کہ یہ وائرس بہت آسانی کے ساتھ پاکستان میں آگیا؟ کیاہمارے حفاظتی اقدامات کمزور تھے؟ یا ہمارے سسٹم میں موجود کچھ لوگ یہ افراتفری پھیلا نا چاہتے تھے تاکہ کچھ مقاصد حاصل کئے جاسکیں؟ اس حوالے سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ملک کے بارڈرز اور سرحدوں کو مکمل سیل کیوں نہیں کیا گیا؟اور ایک مخصوص مذہبی طبقہ کو اتنی کھلی چھوٹ کیوں دی گئی کہ وہ ایران کے راستے پاکستان میں داخل ہوکرپورے پاکستان میں اس وبا کو پھیلا کر سینکڑوں افراد کی جان سے کھیل سکیں؟ایرانی زائرین کی مکمل نگرانی اورچیک اپ کیوں نہیں کیا گیا؟ ان کو کس کے احکامات پر پورے ملک میں جانے کافری ہینڈ دیا گیا؟ قوم کو زائرین کی اصل تعداد سے بے خبر کیوں رکھا گیا؟ ہمارے ائیر پورٹس پر رشوت لیکر کرونا کے مریضوں کو کلیرنس کیوں دی گئی؟ تفتان سے پاکستان میں داخل ہونے والے زائرین کی غیر ذمہ داری پر ایکشن کیوں نہیں لیا گیا؟جن لوگوں نے ان سب زائرین کو تفتان سے پاکستان منتقل کیا ان کے خلاف کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا گیا؟اورسب سے اہم بات کہ کیا یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ اس الزام میں کتنی حقیقت ہے کہ زائرین کا نام دے کر تفتان سے وہ دہشت گردپاکستان واپس لائے گئے جو عراق اور شام میں جاکرسنیوں کے خلاف لڑ رہے تھے ؟ یہ اور اس جیسے نہ جانے کتنے ہی سوال لوگوں کے ذہنوں اور لبوں پر گردش کررہے ہیں جن کا کوئی جواب ان کو تاحال نہیں مل سکا اور نہ جانے کب ملے گا اور ملے گا بھی یا نہیں؟

کرونا وائرس کے حوالے سے جو کچھ لکھا جائے کم ہے لیکن میں نے اپنے تئیں دریا کوکوزے میں بند کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش ضرور کی ہے اس موضوع پر مزید بات چیت انشاء اﷲ میں اپنے آئندہ کسی کالم میں کروں گا۔بس آخر میں ہر مسلمان سے ایک درخواست کروں گا کہ وہ ہر بیماری ،بلا ،وبا اورسازش کا مقابلہ اپنے اندر موجود قوت مدافعت اورقوت ایمانی استعمال کرکے کرسکتے ہیں اور ہر وائرس کی تباہ کاریوں کو شکست دے سکتے ہیں لہذا افواہوں اور میڈیا کے ذریعے پھیلائے جانے والے خوف وہراس پر کان دھرنے کے بجائے اﷲ تعالیٰ سے اپنا رجوع بڑھادیں ،نمازیں اور عبادتیں کرکے اپنے رب کو منا لیں تو کوئی بھی خطرنا ک وائرس آپ کوکوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ،انشاء اﷲ ۔ اﷲ آپ کی میری اور سب مسلمانوں کی حفاظت فرمائے (آمین)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fareed Ashraf Ghazi

Read More Articles by Fareed Ashraf Ghazi : 111 Articles with 71862 views »
Famous Writer,Poet,Host,Journalist of Karachi.
Author of Several Book on Different Topics.
.. View More
08 Apr, 2020 Views: 498

Comments

آپ کی رائے