دنیا کی زندگی

(Shabbir Ibne Adil, Karachi)

زندگی کسے پیاری نہیں ہوتی ، ہر فرد کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ عرصے زندہ رہے اور زندگی کی تما م نعمتوں سے لطف اٹھائے۔ ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ زندگی کی تمام آسائشیں کار ، بنگلہ اور بہت سی دولت اس کے پاس ہو۔ ان سب چیزوں کے حصول کیلئے انسان کو بے پناہ محنت کرنا پڑتی ہے ، اعصاب شکن محنت، دن رات ایک کرنا ہوتا ہے، اتنی مصروفیت کہ اسے اپنا ہوش نہیں رہتا۔ اس کے بعد بھی اسے دنیاوی آسائشیں حاصل ہوتی ہیں یا نہیں۔ اس کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ انسان اپنی من پسند تمام چیزیں حاصل بھی کرلیتا ہے اور لوگ اسے کامیاب قرار دے دیتے ہیں توپھر ؟؟ ایک دن اسے مرجانا ہے ۔ تب یہ معلوم ہوگا کہ
بعد مرنے کے ہم پہ یہ عقدہ کھلا
جو کچھ دیکھا خواب تھا، جو سنا افسانہ تھا

لیکن مرنے کے بعد ہوش آیا تو کیا ؟؟ عقل مندی تو یہ ہے کہ اسی دنیا میں انسان کو اپنی زندگی کے مقصد کا علم ہو۔ اسے اس بات کا مکمل شعور ہو کہ اﷲ پاک نے انہیں دنیا میں کیوں بھیجا ؟ اور یہ کہ اسے دنیا میں رہ کر آخرت کی تیاری کرنا ہے۔ کیونکہ اصل بات تو یہ ہے کہ دنیا کی زندگی دھوکہ اور کھیل ہے۔ قرآن پاک میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے :
٭ دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور تماشا ہے۔ حقیقت میں آخرت ہی کا مقا م اُن لوگوں کے لئے بہتر ہے، جو زیاں کاری سے بچنا چاہتے ہیں۔ پھر کیا تم لوگ عقل سے کام نہ لوگے ؟؟ (سورہ الانعام ۔ ۳۲)
٭ اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے مگر ایک کھیل اور دل کا بہلاوا۔ اصل زندگی تو دارِ آخرت ہے، کاش یہ لوگ جانتے ۔ (سورہ العنکبوت ۔ ۶۴)
٭ یہ دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور تماشا ہے۔ اگر تم ایمان رکھو اور تقویٰ کی روش پر چلتے رہو تو اﷲ تمھارے اجر تم کو دے گااور وہ تمھارے مال تم سے نہ مانگے گا۔ (سورہ محمدؐ ۔ ۳۶)
٭ خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹِیپ ٹاپ اور تمھارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال واولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہی جیسے ۔۔۔۔۔ دنیا کی زندگی ایک دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں ۔ (سورہ الحدید ۔ ۲۰)
چند الفاظ میں اﷲ تعالیٰ نے دنیا کی پوری حقیقت ہی واضح کرکے رکھ دیا۔ یہ دنیا کیا ہے ؟ کھیل ۔ بس ایک دل لگی۔ قلب وذہن کیلئے تماشا اور جسم و اعضاء کیلئے ایک کھیل۔ جبکہ کھیل کی کبھی کوئی حقیقت ہوتی ہے اور نہ تماشے کی۔ اس کی کچھ حقیقت ہے تو یہی کہ ذہن کو مصروف کردے، دل کو لبھائے اور وقت برباد کرے۔ جو اس کی حقیقت سے بے خبر رہا، وہ اس تماشے میں اپنی عمر کھو بیٹھا۔ ہوش آیا تو تب نہ وقت باقی رہا اور نہ تماشا !
٭ اور نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھو دنیوی زندگی کی اُس شان وشوکت کو جو ہم نے اِن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے۔ وہ تو ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالنے کیلئے دی ہیں، اور تیرے ربّ کا دیا ہوا رزقِ حلال ہی بہتر اور پائندہ تر ہے۔ (سورہ طہٰ ۔ ۱۳۱)
٭ اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا ) سے محبت رکھتے ہو اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو ۔ (سورہ القیامہ ۔ ۲۰، ۲۱)

حضرت عبداﷲ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے دنیا سے کیا دلچسپی ؟ میری اور دنیا کی مثال ایسی سمجھو جیسے کوئی مسافر گرمی کے زمانے میں کسی درخت کے سائے میں تھوڑی دیر کے لئے دوپہر میں سورہتا ہے، پھر اس درخت کے سائے کو چھوڑ کر اپنی منزل کی طرف چل دیتا ہے۔ (مسند احمد)

حضرت عبداﷲ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے میرے شانے کو پکڑ کر فرمایا کہ اے عبداﷲ ! تم دنیا میں اس طرح رہو گویا کہ تم اجنبی مسافر ہو، بلکہ راستہ چلنے والے کی طرح دنیا میں رہو، اور اپنے آپ کو مُردوں میں شمار کرو۔ (مسند احمد بن حنبل)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی کہ مجھ سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اے عائشہ ؓ ! اگر تم میرے ساتھ جنت میں رہنا چاہتی ہو تو اتنی دنیا تمھارے لئے کافی ہونی چاہئے جتنا سامان کسی مسافر کے پاس ہوتا ہے اور خبردار دنیا کے طلب گار مال داروں کے پاس مت بیٹھنا ، اور کپڑا پرانا ہوجائے تو اسے مت اتار پھینکو، بلکہ پیوند لگا کر پہنو۔ ( ترغیب وترہیب بحوالۂ ترمذی)

حضرت ابوذر غفاری ؓ روایت کرتے ہیں کہ بنی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : دنیا سے بے رغبتی اور زہد یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنے اوپر کسی حلال کو حرام کرلے اور اپنے مال کو برباد کردے (یعنی اپنے پاس مال نہ
رکھے) ، بلکہ زہد یہ ہے کہ تمھیں اپنے مال سے زیادہ خدا کے انعام اور بخشش پر اعتماد ہو، اور جب تم پر کوئی مصیبت آئے تو اس کا جو اجروثواب ملنے والا ہے اس پر تمھاری نگاہ جم جائے اور تم مصائب کو ذریعہ ثواب سمجھو۔ (ترمذی)

حضرت سہل بن عبداﷲؓ کی روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ دنیا اﷲ کی نگاہ میں مچھر کے پر کے برابر بھی اہمیت رکھتی تو کافر کو اس دنیا سے وہ پانی کا ایک گھونٹ بھی نصیب نہ ہونے دیتا۔ (ترمذی)

حضرت مستورد بن شداد کی روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: دنیا آخرت کے مقابلے میں بس اتنی ہے جتنا کوئی شخص بھرے سمندر میں انگلی ڈال کر دیکھے کہ اس کی انگلی نے سمندر میں کیا کمی کی، تب آپؐ نے اپنی شہادت کی انگلی کی جانب اشارہ کیا۔ (صحیح مسلم)

ایک مرتبہ آقائے دوجہاں ﷺ صحابہ کرام کے ہمراہ سفر کررہے تھے کہ ایک مردہ بکری کے پاس انہیں روک لیا، فرمایا: کیا تم دیکھ رہے ہو۔ یہ اپنے مالک کی نظر میں کتنی بے کار اور بے وقعت ہوئی کہ وہ اسے یوں پھینک گیا۔ صحابہ نے عرض کی کہ اﷲ کے رسول ﷺ یہ بے قیمت تھی تو گھر والوں نے یوں پھینک دی۔ تب آپؐ نے فرمایا : تو پھر سنو ! اﷲ تعالیٰ کی نظر میں دنیا اس سے بھی زیادہ بے وقعت ہے جتنی اپنے مالک کے لئے یہ مردہ بکری۔ (ترمذی)

حضرت ابوہریرہ ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ یہ دنیا ملعون ہے ۔ دنیا میں جو کچھ ہے وہ ملعون ہے سوائے اﷲ کی یاد کے اور جو اس سے تعلق رکھے اور سوائے اس کے جو کچھ سیکھے یا سکھائے۔ (ترمذی)

حضور اکرم ﷺ نے فرمایاکہ اﷲ تعالیٰ نے تو اس دنیا کی مثال ابن آدم کے کھانے کی صورت میں ہی بیان کردی ، خواہ وہ اس کھانے کوکتنا ہی مزیدار اور چٹ پٹا بنالے بس کھانے کی دیر ہے پھر دیکھے وہ کیا سے کیا بن جاتا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shabbir Ibne Adil

Read More Articles by Shabbir Ibne Adil: 5 Articles with 789 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Apr, 2020 Views: 223

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ