عالمی اداروں سے عمران خان کی اپیل

(Shahzad Hussain Bhatti, Attock)

وزیر اعظم پاکستان عمران خان پر ملکی سیاسی جماعتیں الزام عائد کرتی ہیں کہ و ہ چندہ مانگنے کے ماہر ہیں اور ہر جگہ وہ کبھی شوکت خانم ہسپتال کے لیے ، کبھی ڈیموں کی تعمیر کے لیے او رکبھی قرضوں کی ادائیگیوں کے لیے قرضہ مانگتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ عمران خان نے اپنی سابق اہلیہ جمائمہ سے طلاق کے وقت تین باتیں کہیں۔ پہلی بات کہی کہ بچے اپنی ماں کے ساتھ رہیں گے تاہم مسلمان رہیں گے۔ دوسری بات کہی کہ دونوں میں کوئی تلخی پیدا نہیں ہو گی جبکہ عمران خان نے جمائمہ سے تیسری بات ایسی کہی جس کے باعث انہیں پاکستان میں کسی قسم کے برے ردعمل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ طلاق کے وقت وکیل نے عمران خان کوجمائمہ کی 6 بلین ڈالر کی جائیداد سے تین بلین ڈالر وصول کرنے کے لئے آفر کی اور کہا کہ تین بلین ڈالر مل سکتے ہیں لیکن عمران خان نے صاف انکار کر دیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ عمران خان کو اپنی ذات کے لیے کسی رقم کی ضرورت نہیں ۔ وہ خود کہتے ہیں کہ میں نے جتنا اپنی ذات کے لیے کمانا تھا کرکٹ سے کما لیا۔ اگر مجھے ضرورت ہوئی تو میں کمنٹری کر کے بھی اپنی ذات کے لیے کما سکتا ہوں۔

عمران خان کی تیئس سال قبل سیاست میں آنے کی شاید وجہ ہی یہی تھی کہ وہ اس ملک کے غربت کی چکی میں پسے عوام کو اس ملک کے اشرافیہ سے نجات دلانا چاہتے تھے۔یہ اشرافیہ سیاست کی بیساکھی استعمال کر کے اس ملک کے وسائل پر قابض ہو چکی ہے۔تحریک انصاف کے دوسالہ اقتدار میں سیاست کے آسمان سے جب کچھ مطلع صاف ہوا تو معلوم پڑاکہ آوئے کا آوا ہی بگڑا پڑا ہے۔ غریب کے منہ سے نوالہ چھین کر سرے محل ، رائے ونڈ محل اور غیر ممالک میں جائیدادیں منظر عام پرآئیں ساتھ ہی اربوں ڈالر اس ملک سے لوٹ کر غیر ملکی بنکوں میں منتقل کیے گئے۔یہی نہیں بلکہ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اربوں روپے تو تنور والوں، پلمبروں ، مالیوں اور گارڈوں کے اکاونٹس سے نکلے ۔اگر یہی پیسہ صدق دل سے اس ملک کی غریب عوام پر خرچ ہوتا تو ہمارے ملک کی چھپن فیصد آبادی خط غربت سے نیچے نہ ہوتی۔کروناء کی وجہ سے پیدا شدہ بحران میں وزیراعظم عمران خان نے عالمی مالیاتی اداروں اور اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے ترقی پذیر ممالک کی مدد کریں اور انہیں قرضوں میں ریلیف دیں۔ترقی پذیر ملکوں کو فکر ہے کہ غریب عوام کرونا کے علاوہ بھوک سے نہ مریں۔عالمی برادری سے ویڈیو پیغام میں وزیر اعظم نے مزید کہا کہ کرونا وائرس پوری دنیا کیلئے چیلنج ہے جو دنیا بھر میں پھیل چکا ہے۔35 کروڑ آبادی پر مشتمل امریکہ نے اپنے عوام کیلئے 2 اعشاریہ 2 ٹریلین ڈالرکا پیکیج دیا، 13 کروڑ آبادی والا جاپان اپنے عوام کیلئے ایک ٹریلین ڈالرخرچ کر رہا ہے۔ 9 کروڑ آبادی والے جرمنی نے اپنے عوام کیلئے ایک ٹریلین یورو کا پیکیج دیا ہے۔پاکستان 22 کروڑ لوگوں کا ملک ہے، ہم صرف 8 ارب ڈالر خرچ کررہے ہیں۔ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ صحت پر زیادہ خرچ کرسکیں، لوگوں کو بھوک سے موثر طور پر بچانے کیلئے بھی وسائل کی کمی ہے۔ اس صورت میں عالمی ادارے ترقی پذیر ممالک کے اس مسئلے کی طرف بھی توجہ دیں۔

ترقی یافتہ ممالک تو ایسے معاشی بحران برداشت کرسکتے ہیں مگر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو سنگین معاشی بحرانوں کا سامنا ہے۔ لاک ڈاؤن سے گھروں میں موجود لوگوں کو خوراک سمیت دیگر ضروریات کی قلت درپیش ہے۔ بھاری اکثریت کا روزگار ختم ہوگیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے نشاندہی کی ہے کہ امریکہ، برطانیہ، جاپان اور جرمنی جیسے امیر ممالک نے بڑی رقوم لوگوں کو معاشی مشکلات سے بچانے کیلئے مختص کی ہیں جبکہ پاکستان محض 8ارب ڈالر جاری کرسکا، جس سے 22کروڑ لوگوں کی ایک حد تک ہی مشکلات کم ہوسکتی ہیں۔ پاکستان جیسے دیگر بھی کئی ترقی پذیر ممالک ایسی ہی مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کے ریاستی امور چلانے کا کافی حد تک انحصار عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں پر ہے۔ ترقی پذیر ممالک کی مشکلات کی ایک جھلک عالمی بینک نے بھی اپنی رپورٹ میں پیش کی ہے۔عمران خان کی عالمی برادری سے اپیل کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کو ترقی پذیر ملکوں کی طرف دست تعاون بڑھانا چاہئے۔ عمران نے جو نہیں کہا وہ یہ ہے کہ اگر لوگوں کو بھوک سے بے حال کر دیا گیا تو وہ مالدار طبقات کو نوچ ڈالیں گے اس سے پہلے کہ ان کے فاقہ زدہ ڈھانچے سڑکوں پر پڑے ہوں اور چیلیں انہیں نوچ رہی ہوں۔ امریکی صدر ٹرمپ کا رویہ دیکھیں کہ انہیں کلور کوین انجیکشن کی ضرورت تھی جس پر بھارت کی اجارہ داری ہے اور اس نے اپنی ضروریات کے لئے اسکی بر آمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے تو ٹرمپ نے سیدھی دھمکی دی کہ بھارت کلورو کین کی بر آمد پر پابندی ختم کرے ورنہ ا مریکہ ا سکی ٹھکائی کر دے گا، ناچار بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے غربت کے خلاف جنگ لڑنے کے بعد کرونا وائرس کی وجہ سے جنوبی ایشیا ان دنوں 40 سال کی بدترین معاشی کارکردگی کا سامنا کررہا ہے۔ بھارت، بنگلہ دیش، پاکستان، افغانستان اور دیگر چھوٹی ریاستیں جہاں کی آبادی ایک ارب 80 کروڑ ہے، کرہ ارض کا سب سے زیادہ گنجان آباد علاقہ ہے جہاں اب تک نسبتاً کرونا وائرس کے کم کیسز سامنے آئے ہیں، تاہم ماہرین کو خدشہ ہے کہ وہ وائرس کا اگلا مرکز بھی ہوسکتا ہے۔ پاکستانی حکومت کیلئے فوری چیلنج یہ ہے کہ کرونا وائرس وباء کو پھیلنے سے روکنا، معاشی نقصانات کو کم کرنا اور غریبوں کی حفاظت کرنا ہے۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ جنوبی ایشیا منفی اثرات کے حامل معاشی طوفان میں پھنس رہا ہے، پاکستان کی پیداوار 2.2 فیصد تک سکڑ سکتی ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وبائی مرض سے خطے میں عدم مساوات کو تقویت ملے گی۔ گو کرونا وائرس جان لیوا نہیں ہے، اس سے متاثر مریضوں کے بچ جانے کی شرح حوصلہ افزا ہے مگر تشویش کی بات یہ ہے کہ متاثرین صحت مند ہونے کی رفتار بہت سست ہے۔ ویکسین تیار ہونے کے بعد ہی اس مرض سے مکمل نجات حاصل ہوسکتی ہے، جس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کی تیاری میں کتنا عرصہ لگے۔ اس وقت تک احتیاط اور سماجی رابطے محدود رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ مقصد لاک ڈاؤن سے حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کے دنیا بھر میں بہتر نتائج سامنے آرہے ہیں مگر ساتھ ہی پوری دنیا کی معیشت کو شدید جھٹکے بھی لگ رہے ہیں۔

عالمی بینک نے عدم مساوات کی بات کی، اس سے نمٹنے کیلئے عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ عمران خان نے اس کردار کو واضح کیا ہے، جس کا بڑی طاقتوں اور عالمی مالیاتی اداروں سے آج کے حالات متقاضی ہیں۔ اسی حوالے سے پوپ فرانسس نے بھی ایسٹر پر پیغام میں کہا ہے کہ یہ ہمارے انسانی خاندان کا امتحان ہے۔انہوں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا اگر غریب ممالک کے قرضوں کو معاف نہیں کر سکتے تو کم کئے جائیں۔ غرباء‘ تارکین وطن اور بے گھر افراد کا خیال رکھیں، عالمی پابندیوں میں نرمی کی جائے۔ کرونا وائرس شدید خطرات کی صورت میں دنیا کے سروں پر منڈلا رہاہے۔ اس سے بہرصورت جلد یا بدیر نجات حاصل ہو ہی جائے گی مگر اس کے تدارک کیلئے کئے گئے اقدامات اور انتظامات لاک ڈاؤن اس کی ایک شکل ہے جس کے باعث ترقی پذیر ممالک میں انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ بھوک اور افلاس سے لوگ مرنے لگیں گے، امن و امان کا مسئلہ درپیش ہوسکتا ہے۔ لاقانونیت اور دہشت گردی سر اٹھا سکتی ہے، جس کے کسی نہ کی صورت اثرات ترقی یافتہ ممالک پر بھی مرتب ہوں گے۔ ان سے بچنے کیلئے ترقی یافتہ ممالک اور عالمی ادارے اپنا کردار ادا کریں۔ ترقی پذیر ممالک کی کھلے دل سے مدد کی جائے، قرضے معاف نہیں تو اس حد تک کم کر دیئے جائیں جن کی ادائیگی کی ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں سکت ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahzad Hussain Bhatti

Read More Articles by Shahzad Hussain Bhatti: 176 Articles with 81771 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Apr, 2020 Views: 168

Comments

آپ کی رائے