یہاں کورونا،وہاں بھارتی گولہ باری

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

 آج بھارت نے دنیا کی توجہ کورونا کی طرف مبذول دیکھ کر کشمیریوں پر جارحیت تیز کر دی ہے۔ ایک طرف کورونا وائرس نے پوری دنیا میں تباہی مچا رکھی ہے اور دوسری طرف بھارت نے ایک بار پھر معصوم کشمیریوں پر گھمسان کی گولہ باری شروع کر دی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کو مقبوضہ کشمیر سے ملانے والی سیز فائر لائن پرپاکستان اور بھارت کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ ہو رہا ہے۔اس گولہ باری سے معصوم کشمیری شہید ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ گولہ باری سب کو تشویش، خوف و ہراس میں مبتلا کر رہی ہے۔ اس متنازعہ خطے میں لوگ بے موت لقمہ اجل بن رہے ہیں۔آج پورے ملک سے لوگ بے روزگار ہو کر گھروں کو آئے ہیں۔ سیکورٹی اہلکاروں نے جگہ جگہ لاک ڈاؤن کیا ہے۔ ناکے لگائے ہیں۔ شہروں کے درمیان چلنے والی ٹرانسپورٹ سروسز بند ہیں۔ پولیس نے نجی گاڑیوں کو روک کر مسافروں کو پیدل چلنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔ لوگ قافلوں کی صورت میں گھروں کو لوٹے ہیں۔ مگر بھارت کی گولہ باری نے انہیں یہاں بھی بے چین اور پریشان کیا ہے۔ یہ لوگ وائرس کی وجہ سے محفوظ مقامات کی طرف بھی نہیں جا سکتے۔ بھارت نے جارحانہ گولہ بارء کی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے چوکی بل کپواڑوہ میں بھارتی فوج کے بڑے کیمپ ہیں۔ یہاں عوام نے بو فورس توپیں نصب کرنے کے خلاف دو روز قبل ہی بھارتی فوج کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ مگر بھارت نے آزاد کشمیر کی آبادی کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ایسے وقت مین کہ جب پاکستان اور بھارت مل کر کورونا کے خلاف جنگ لڑتے ، بھارت نے پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے کے بجائے اسلام آباد کے خلاف پروپگنڈہ مہم شروع کی ہے۔ یہی نہیں بلکہ بھارتی میڈیا اپنی حکومت کے آشیرباد سے مسلمان تبلیغی جماعت کے خلاف نفرت پھیلا رہا ہے۔

بھارت کی تازہ جارحیت سے وادی نیلمکے دودھنیال، تہجیاں، وادی لیپا، نکیال کوٹلی سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔لوگ کورونا سے بچ گئے ہیں، مگر بھارتی جارحیت نے انہیں آ لیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے تصدیق کی ہے کہ جنگ بندی لائن کے قریب آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع میں بھارتی فوج کی جانب سے بلا اشتعال اندھا دھند فائرنگ سے ایک دو سالہ بچہ شہید ہوگیا جبکہ 4 افراد زخمی ہوئے۔

بھارت نے2003کے سیز فائر معاہدے اور بین الاقوامی کنونشنز کو مکمل طور پر نظرانداز اور ان کو پامال کرتے ہوئے سیز فائر لائن کے ساتھ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں اور بروہ، دودھنیال، رکھ چکری، اور چیری کوٹ سیکٹرز میں جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنایا ہے۔ پاک فوج نے جوابی کارروائی کی اوران بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایا جنہوں نے فائرنگ کی تھی۔پاکستان صرف فوجی تنصیبات کو ہی نشانہ بناتا ہے مگر بھارت شہریوں پر گولہ باری کرتا ہے۔ یہ اس کی قدیم روایت ہے۔ آج شہید ہونے والے دو سالہ بچے محمد حسیب کا تعلق دودھنیال سیکٹر سیہے، یہاں چند روز قبل بھارتی گولہ باری سے ایک مسجد شہید ہو گئی تھی۔جب کہ کئی رہائشی مکانات بھی تباہ ہوئے۔ زخمیوں میں ایک خاتون اور 72 سالہ بزرگ شہری سمیت چار افراد کا تعلق بروہ، رکھ چکری اور چیری کوٹ سیکٹرز سیہے۔ زخمیوں کو علاج کے لے قریبی طبی مراکز منتقل کردیا گیا ہے۔واضح رہے کہ یہ مسلسل تیسرا روز ہے جب بھارت نیسیز فائر لائن معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ بھارتی گولہ باری سے گزشتہ روز بھی آزاد جموں و کشمیر میں ایک چار سالہ بچہشہید ہوگیا تھا۔ آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے ٹویٹ کیا کہ بھارتی فوج کی جانب سے بلا اشتعال، بلا امتیاز اور سیز فائر کی خلاف ورزیوں سے نہ صرف شہری ہلاکتوں اور نقصانات کا باعث بن رہے ہیں بلکہسیز فائر لائن کے ساتھ علاقوں میں کورونا وائرس پر قابو پانے کیحکومت کی کوششوں میں بھی خلل پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’کیا (اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل) انتونیو گوتریس اس درندگی کا سنجیدگی سے نوٹس لیں گے‘۔ہفتہ کے روز بھارتی فوج نے سیز فائر لائن کے قریب ''بھاری'' گولہ باری کی۔ جس میں دو لڑکیوں سمیت چھ شہری زخمی ہوئے تھے۔پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے ٹویٹ کیا، بھارتی فوج نے نکیال سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ کا نشانہ بنایا جس سے شہری آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جارہا ہے، پاک فوج کے جوانوں نے اس کا بھرپور جواب دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ موہرا گاؤں میں چھ شہریوں کو بھارتی توپ خانے سے ''اندھا دھند فائرنگ'' سے زخمی کردیا۔وزیراعظم فاروق حیدر نے الزام لگایا ہے کہ بھارتی افواج کی توجہ کورونا وائرس وبائی مرض سے لڑنے کے بجائے ''جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر زیادہ مرکوز ہیں''۔بھارت نام نہاد دہشت گردوں کے لانچنگ پیڈ اور گولہ بارود کے ڈھیروں کو درست نشانہ بنانے کا پروپگنڈہ کرتے ہوئے معصوموں کو نشانہ بناتا ہے اور دشمنکو بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ کرتا ہے۔

بھارت نے دو سال کے معصوم حسیب کو شہید کر کے اسے دشمن قرار دیا ہے۔اس کے گھر کو مجاہدین کا لانچنگ پیڈ بنا دیا ہے۔ بھارت نے کشمیریوں کی منصوبہ بندی سے نسل کشی جاری رکھی ہے۔ جب کہ آزاد کشمیر میں جنگ بندی لائن کے قریب کی آبادی کا مورال کم کرنے کے لئے انہیں نشانہ بنایا جاتا ہے۔ آزاد کشمیر کی اس فرنٹ لائن کی آبادی کو بھارتی جارحیت سے محفوظ بنانے کے لئے پختہ بنکرز کی تعمیر کے کئی اعلانات کئے گئے ، مگر ان پر کبھی عمل نہ ہوا۔ پاکستان اور آزاد کشمیر حکومت یہاں کی آبادی کی بھارتی وائرس سے بچانے کے اقدامات کرے۔ طفل تسلی سے کام نہیں چل سکتا۔ بھارتی گولہ باری اور فائرنگ سے محفوظ شاہرائیں تعمیر کی جائیں اور جنگی بنیادوں پر بنکرز تعمیر کئے جائیں، سرحدی علاقوں میں خصوصی یوٹیلیٹی سٹورز، صحت مراکز، تعلیمی ادارے کھولے جائیں۔ اقوام متحدہ بھارت کو جارحیت سے روکے اور متنازعہ مسلہ کو بھارت کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے از خود کارروائی کرے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل یقینی بنایا جائے، جب تک مسلہ متنازعہ ہے تب تک بھارت کو کشمیریوں کی نسل کشی کا بہانہ میسر رہے گا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 574 Articles with 219427 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
17 Apr, 2020 Views: 435

Comments

آپ کی رائے