تبلیغی جماعت : میڈیا نے بی جے پی کو مات دے دی

(Dr Salim Khan, India)

روشنی کے لیے عام آدمی چراغ جلاتا ہے۔ اس کے لیے وہ کبھی تو تیل ڈال کر دیا جلاتا ہے اور کبھی تیل جلاکر بجلی بناتا ہے اور اس سے برقی قمقموں کو روشن کرتا ہے۔ ان دونوں طریقوں میں کوئی مذائقہ نہیں ہے لیکن ایسے بھی کچھ لوگ ہیں کہ جو گھر جلاکر روشنی کرنے کی سعی کرتے ہیں ۔ اپنے مستقبل کو روشن کرنے کے لیے کوئی اپنا گھر نہیں جلاتا بلکہ ہم سائے کے گھر میں آگ لگاتا ہے لیکن کورونا کی طرح آگ بھی اپنے پرائے میں تفریق نہیں کرتی ۔ عصر حاضر میں ذرائع ابلاغ نے دنیا کو ایک محلہ بنادیا ہے۔ اس لیے جب میڈیا کے ذریعہ نفرت کی آگ پھیلائی جاتی ہے تو وہ بہت جلد دوسروں کے گھروں سے اپنے در دیوار کو جلاکر بھسم کرنے لگتی ہے۔ کورونا کی آڑ میں تبلیغی جماعت کا بہانہ بناکر قومی ذرائع ابلاغ نے جو خاک اور خون کا کھیل شروع کیا اس کے جراثیم بہت جلد ٹیلی ویژن کے پردے سے نکل کر سوشیل میڈیا میں سرائیت کرگئے اور جب شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے تو بے ساختہ خمار بارہ بنکوی کا یہ شعر یاد آگیا؎
چراغوں کے بدلے مکاں جل رہے ہیں
نیا ہے زمانہ نئی روشنی ہے

عرب دنیا کے لوگ ہندوستانی ٹیلی ویژن پر خبریں نہیں بلکہ فلمیں اور ڈرامے دیکھتے ہیں ۔ اس لیے انہیں پتہ نہیں چلتا کہ یہاں کیا ہورہا ہے؟ لیکن ٹوئیٹر کی زبان انگریزی ہے جسےسبھی دیکھتے ہیں ۔ اس لیے امارات میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف زہریلے پیغامات کوشعلۂ جوالا بننے میں زیادہ وقت نہیں لگا اور دیکھتے دیکھتے یہ آگ عرب دنیا میں پھیل گئی۔ اس سے گھبرا کروزیر اعظم کو خیر سگالی کا ٹویٹ کرنا پڑالیکن تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ فی الحال عالم اسلام میں ہندوستان کے حوالے سے جو ہنگامہ مچا ہوا اس کے لیے گودی میڈیا اور اس کو شئے دینے والی سرکار ذمہ دار ہے۔ایک زمانے تک صحافیوں کی بڑی تعداد بی جے پی کی سخت مخالف تھی۔ مثلاً رجت شرما تو اچھا خاصہ کانگریسی تھا اور آپ کی عدالت میں بی جے پی اور وی ایچ پی رہنماوں کا قافیہ تنگ کردیا کرتا تھا ۔ راجدیپ سردیسائی نے گجرات فساد میں جس طرح مودی کی نقاب کشائی کی وہ ہندوستانی ذرائع ابلاغ کاروشن باب ہے اور شیکھر گپتا نے انڈین ایکسپریس کے اندر سنگھ کے خلاف جو کچھ لکھا اس کو بھی بھلایا نہیں جاسکتا لیکن اب ان سب کا رنگ روپ بدل گیا ہے ۔ کوئی کھلا تو کوئی چھپا زعفرانی حامی بنا ہوا ہے۔ پہلے تو لالچ میں یہ رنگ بدلا لیکن اب تو لگتا ہے کہ فکر تک تبدیل ہوگئی۔میڈیا کے لوگوں کو نفرت کی آگ بھڑکانے میں مزہ آنے لگا ہے اور حالت اس قدر خراب ہوگئی کہ بی جے پی کی فرقہ پرست حکومت کو بھی اس کی تردید کرنے پر مجبور ہونا پڑرہا ہے۔

تبلیغی جماعت کے معاملے میں ایسی کئی مثالیں سامنے آ ئیں جب اترپردیش کے یوگی انتظامیہ نے میڈیا کا دعویٰ مسترد کردیا مگر آئندہ چونکہ ان سے کام لینا ہے اس لیے تعلقات بحال رکھنے کی خاطرکارروائی نہیں کی ۔تبلیغی جماعت کے مرکز کا معاملہ جس وقت اچھالا جارہا تھا ،اس میں ایک گھناونا موڑ غازی آباد کے اسپتال میں آیا ۔ وہاں تبلیغی جماعت کےوابستگان پر ناقابل یقین بہتان تراشی کی گئی۔ ان پر بدتمیزی کے ساتھ پیش آنا،نرسوں کے ساتھ فحش سلوک، برہنہ گھومنا اور گالی گلوج کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ۔ ان کو تصدیق کے بغیر میڈیا نے انہیں اچھالنا شروع کردیا اور یوگی نے این ایس اے لگانے کی دھمکی دے دی۔ یوگی راج میں این ایس اے اور انکاونٹر بتاشوں کے بھاو بکتے ہیں لیکن اس کے بعد تو سیلاب آگیا ۔یہ حسن ِ اتفاق ہے کہ مرکز نظام الدین سے نکل تبلیغی جماعت کے لوگ ہندوستان بھر کے دواخانوں میں زیر علاج تھے لیکن اِکاّ دُکاّ معمولی شکایات کے علاوہ ساری خطرناک کہانیاں صرف اتر پردیش کے سہارنپور، بجنور، آگرہ ، کانپور، کوشی نگر، رامپور اور الہ باد سے آنے لگیں ۔ یہ معاملہ اس قدر بڑھا کہ انتظامیہ کو نہ صرف تردید بلکہ ضلعی پولس کو فیک نیوز کی نگرانی کے لیے مجبور ہونا پڑا۔

ان الزامات کی حقیقت کو دستاویزی شکل میں محفوظ رکھنا ضروری ہے تاکہ اگرکوئی ان کو دوہرائے تو اس کی روشنی میں نقاب کشائی ممکن ہوسکے۔۵ اپریل کو امر اجالا نے پہلے صفحہ پر یہ الزام لگایا کہ تبلیغی جماعت کے وابستگان نے سہارنپور میں گوشت کا مطالبہ کیا اور کھلے میں پا خانہ کردیا ۔ اس کے فوراً بعد سہارنپور پولس نے کہا کہ تفتیش کے بعد اس دعویٰ کو غلط اور جھوٹ پایا گیا۔ پولس نے اخبار کوسوشیل میڈیا میں کوئی خبر ڈالنے سے قبل تصدیق کرنے کا مشورہ دیا۔ اسی دن تبلیغی جماعت کے کسی فرد کے ذریعہ الہ باد میں لوٹن نشاد کے قتل کی خبر ٹی وی چینلس اور اخبارات میں آگئی۔ پولس نے وضاحت کی اس معاملے میں مرنے یا مارنے والے کا تبلیغی جماعت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس کے بعد زی نیوز نے فیروزآباد سے خبر دی کہ تبلیغی جماعت کے کورونا پوزیٹیو افراد کو لانے والی ایمبولنس پر پتھراو کیا گیا۔ پولس نے اسے جھوٹ اور گمراہ کن بتاتے ہوئے کہا کہ میڈیکل ٹیم یا ایمبولنس پر پتھراو نہیں کیا گیا اور ساتھ ہی فوراً اس خبر کو ہٹانے کا حکم دیا۔ اس کے بعد امر اجالا نے خبر شائع کی کہ کوشی نگر میں 14 تبلیغی جماعت کے لوگوں کو پولس نے گرفتار کیا۔ انتظامیہ نے اس کی تردید میں کہا کہ گرفتار شدگان کا تبلیغی جماعت یا مرکز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ لاک ڈاون میں پھنسے ہوئے نیپالی مزدور ہیں جنہیں قرنطینہ میں بھیج دیا گیا ہے۔

امر اجالا تو خیر فرقہ پرست اخبار سمجھا جاتا ہے لیکن ہندوستان ٹائمز جیسے گروپ کے اخبار ہندوستا ن نے بجنور سے خبر دی کہ ۸ انڈونیشیائی باشندوں سمیت جن 13وابستگانِ تبلیغ کو اسپتال میں رکھا گیا ہے انہوں انڈا اور بریانی مطالبہ کرکے ہنگامہ برپا کردیا۔ سدرشن ٹی وی نے ان پر صفائی کرنے والوں کے ساتھ گالی گلوچ کا الزام بھی جڑ دیا لیکن بجنور کی پولس نے ان الزامات کو جھٹلا دیا۔ ذرائع ابلاغ کے حوصلے صرف یوگی راج میں ہی بلند نہیں ہیں بلکہ چھتیس گڑھ کے کانگریس راج میں بھی اس نے جرأت کرتے ہوئے رائے پور کے ایمس داخانے میں تبلیغ جماعت کے لوگوں کے ذریعہ ڈاکٹروں اور دیگر عملہ کے ساتھ بدتمیزی کرنے اور تھوکنے کا الزام لگا دیا۔بدقسمتی سے اس خبر کی تصدیق بی جے پی کے مقامی رکن پالیمان نے ٹیلی ویژن پر کردی ۔ ایمس انتظامیہ نے اس خبر کی تردید میں کہا کہ کوربا کے نوجوان نے ڈاکٹروں کے ساتھ کوئی بدسلوکی نہیں کی بلکہ وہ دوا لے رہا ہے اور تعاون کررہا ہے۔ چھتیس گڑھ وقف بورڈ کے سلام رضوی نے اس پر سنیل سونی کو پھٹکار لگائی۔

یہ نفرت انگیزی شمال سے جنوب میں پہنچ گئی ہے جہاں بیلگام کی بی جے پی رکن پارلیمان شوبھا کرنڈ جلے نے اپنی وزیر اعلیٰ کے احکامات کی خلاف وزی کرتے ہوئے اسی طرح کے اوچھے الزامات لگائے اور ایک ویڈیو ٹویٹ کی ۔ بیلگام کے ڈپٹی کمشنر اور اسپتال کے ڈائرکٹر نے اس لزام کی تردید کی ۔۲۰۱۷ میں اسی رکن پارلیماننے مسلم جہادی پر ہندو طالبہ کا ہاتھ کاٹنے کا الزام لگایا تھا ۔ اسپتال کے عملہ نے تردیدمیں کہاکہ اس لڑکی نے خودکشی کی غرض سے اپنا ہاتھ کاٹنے کی کوشش کی اور پھر ارادہ بدل دیا۔ ۲۰۱۹ میں گائے کے اسمگلرس کے ذریعہ اس نے ایک قتل کا الزام لگایا جو خودکشی نکلا ۔ فرقہ پرستی کو سیاستداں ووٹ کے لیے اور میڈیا کی نوٹ کے لیے فروغ دیتا ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے کے تعاون سے ملک کو لوٹ رہے ہیں ۔

اس معاملے کو لے کر جمیعت العلماء سپریم کورٹ میں گئی تو اس نے بھی ٹرخا دیا ۔ عدالت نے انفرادی معاملات پر ہتک عزت کا دعویٰ کرنے کی تلقین کی اورکہاسپریم کورٹ کسی میڈیا ہاوس پر پابندی نہیں لگا سکتا۔ عدالتِ عظمیٰ نے پریس کاونسل کو فریق بنانے کی سفارش کرکے معاملہ التواء میں ڈال دیا۔ اسرائیل کی صہیونیت ساری دنیا میں بدنام ہے لیکن ہندوستان کے میڈیا نے اسے بھی شرمسار کردیا۔ گزشتہ دنوں آج تک کا چانکیہ (راہل کنول)تاریخ کے مشہور اسرائیلی پروفیسر یوول نوح ہراری کو اس امید میں اپنے چینل پر لے آیا کہ وہ مسلمانوں کو برا بھلا کہے گا لیکن نوول نے مسلم اقلیت پر وبا پھیلانے کے الزام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ جانی بوجھی دہشت گردی، پوری طرح بے معنی اور نہایت خطرناک حرکت ہے۔ اس نازک وقت میں نفرت نہیں یکجہتی کی ضرورت ہے۔ ہمیں لوگوں میں محبت کو فروغ دیتے ہوئے اپنے اندرکے نفرت اور لالچ کے شیطان پر قابو پانا چاہیے۔ کسے پتہ تھا اس ملک پر ایک ایسا وقت بھی آئے گا جب اسے محبت و یکجہتی کا درس لینے کے لیے اسرائیل کے ایک پروفیسر کا محتاج ہونا پڑے گا؟


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1205 Articles with 439057 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Apr, 2020 Views: 236

Comments

آپ کی رائے