گھر کا پہلا رمضان

(Sania Batool, Mianwali)

’مجھے ایسا لگ رہا ہے یہ میرا گھر میں پہلا رمضان ہے‘،میں آواز سنبھالتے ہوئے بولی، میری آنکھیں چمک رہی تھیں۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ وہ آنسو ہیں جنھیں میں آنکھوں کے در یچوں پہ روکے بیٹھی ہوں ۔

اسکی آنکھوں میں حیرت تھی۔ میں اسکا سوال سمجھ گئی تھی۔’ایسا نہیں ہے کہ میں نے زندگی کے بائیس سال ہی گھر سے دور گزار دیے لیکن جو چار سال گزارے اصل زندگی اسی میں گزری‘
ہوسٹل کے چار سال؟‘،وہ میری بات اب سمجھ رہا تھا۔
’پھر یہ اداسی کیسی؟ تمہیں تو خوش ہونا چاہییے؟‘
’تم نہیں سمجھو گے‘، میں دھیمے سے مسکرا دی
’تو سمجھاؤ نا۔اس رمضان میں ایسا کیا تھا؟‘
’میں نے سمجھا بھی لیا تو تم محسوس نہیں کر سکو گے، لیکن پھر بھی ‘، میں نے بات شروع کی، ’کچھ رشتے خون کے نہیں ہوتے پر ان سے زیادہ پیارے لگتے ہیں۔کچھ لوگوں کے پاس نا ایسا آرٹ ہوتا ہے کہ وہ آپکی کٹھن زندگی کو بھی چمنستان بنا دیتے ہیں۔ جن کے ساتھ گزرا مشکل وقت آپکی زندگی کی حسین یاد بن کے ہمیشہ ساتھ رہتا ہے۔ انہیں ہم دوست کہتے ہیں‘، اسکی آنکھوں اور چہرے پہ میں نے اب تجسّس دیکھا۔ آنکھیں خلا میں گھور رہی تھیں، شاید وہ بھی اپنے دوستوں کو یاد کر رہا تھا،وہ نہایت انہماک سے مورت بنا مجھے سن رہا تھا۔
"جوں ہی ہی رمضان کا چاند نظر آتا تھا نا ۔۔۔ہم چار سہیلیاں اپنی چادریں اوڑھ کے نکل پڑھتی تھیں اور ہوسٹل کے دروازے پر جا کے ہم میں سے ایک اونچی آواز میں یہ اعلان کرتی تھی کہ آج ہم دیر سے واپس آئیں گے ۔۔۔‘ میں آنکھیں بند کئے بول رہی تھی، لمحے بھر کو رکی ، آنکھیں کھول کر دیکھا تو دیکھا وہ ٹکٹکی باندھے مجھے ہی دیکھ رہا تھا۔ اس کے دھیان پر قربان جانے کا جی چاہتا تھا۔ میں پھر باتوں کی رو مٰں بہنے لگی،’اور پتا ہے اس رات کوئی بھی نہیں روکتا تھا جیسے عید سے پہلے ہی عید کا چاند نظر آ گیا ہو‘
’پر تم سب کہاں جایا کرتی تھیں؟‘
"ہوسٹل سے نکل کر قریب ہی غوثیہ چوک تک تھا، وہاں جاتے ، پھر چلتے چلتے سکستھ روڈ تک اور وہاں سے باتوں ہی باتوں میں کمرشل مارکیٹ ‘، میرے چہرے پہ ایک گہری مسکراہٹ تھی۔
’ہم اس رات مل کے اپنے جیب خرچ سے ایک جتنے پیسے نکال کے حرا جی کو دے دیتے تھے اور رمضان کے لئے خریداری کرتے تھے اور جب حرا جی نہیں تھی تو یہ معاملات عینی جی سنبھالا کرتی تھیں ۔ TANG کے ہمیشہ دو فلیور خریدے جاتے تھے: لیمن اور اورینج۔ ڈھیر ساری چینی ہم گھر سے منگواتے تھے اور اتنا ہی ڈھیر یہاں سے بھی لیتے تھے اور الله ہمیں معاف کرے پھر بھی کبھی ہاسٹل سے چرانے کی نوبت آ جاتی تھی‘
’شرم نہیں آتی تھی؟‘،وہ ہنس دیا
’آتی تھی نا ، پھر ہم میں سے کوئی ایک کہہ دیتا تھا، ’کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب‘
خیر ہوسٹل کا مال اپنا ہی لگتا ہے۔ اور کھانے کی چوری بھی بھلا کوئی چوری ہوتی ہے؟ جب رمضان نہیں تھا تو ہم روز رات کو بس ایک کلو آلو چرایا کرتے تھے ‘،وہ پوری توجہ سے بات سن رہا تھا
’ہوسٹل واپس آتے ہی سب سے پہلے گانوں پلےلسٹ اڑائی جاتی تھی کیوں کہ ہمارے کمرے میں کوئی گانے نہ بھی سن رہا ہوتا پھر بھی ہر وقت گانے چل رہے ہوتے تھے۔ اکثر جس نے لگائے ہوتے تھے وہ خود بھی نہیں سن رہا ہوتا تھا۔ اور اگر گانے نہ چل رہے ہوتے تھے تب وجہ یہ ہوتی کہ یا تو سب گانے گا رہے ہوتے تھے یا اچانک دھریس (سرائیکی کلچر کی لُڈی کی ایک قسم)مارنے لگ جاتے تھے۔ عینی جی کے ساتھ بھی یہی معاملات رہے۔ اس کے بعد کمرے کی تفصیلی صفائی ہوتی تھی۔ پھر سب باری باری نہاتے تھے اور ساتھ بیٹھ کر چائے پیتے تھے‘،میں بولے جا رہی تھی ، وہ تمام لمحے میری آنکھوں کے سامنے سے ایک فاسٹ فارورڈ فلم کی طرح گزر رہے تھے۔
’آگے بولو میں سن رہا ہوں‘، اس نے اپنے ہاتھ پہ منہ ٹیک لیا اور ایسے ہی میری طرف دیکھتا رہا
"جب بھی رمضان آتا تھا تو یا امتحان ہوتے تھے یا سیمینار۔تو سب رات کو ہی پڑھاکرتے تھے۔ جیسے ہی دو بجتے تھے باقی سب بھی آپس میں بج ہی جاتا تھا۔ ایک اودھم مچا ہوتا تھا۔ رمضان میں رات کو ہوسٹل کا گیٹ بند نہیں کیا جاتا تھا۔ دو بجے کےقریب ہم میں سے دو لوگ دہی لانے جاتے جس سے ڈھیر ساری میٹھی لسی بنائی جاتی اور باقی دو فرائز بنانے میں لگ جاتیں تھے اور ہم ماشاالله پانچ چھے پراٹھے آرام سے کھا جاتے تھے‘
’گھر پہ تو تم کچھ بھی نہیں کھاتی‘، وہ حیران سے زیادہ پریشان لگ رہا تھا
’اور پچھلے سال جب عینی تھی نا میرے ساتھ تو چار پراٹھے تو ہم دونوں کھا جاتی تھیں اور دو مگ چائے کے اور خیر سے دو ہی مگ بادام والے دودھ کے‘
’تم دونوں کی حالت کو دیکھ کر اندازہ بھی ہوتا ہے ‘، وہ ہنسا، ’اچھا پھر‘
’سحری کے بعد ہم سوتے نہیں تھے اور اگر میں سو جاتی تو اسکا مطلب یہ ہوتا تھا کے میں یونیورسٹی جانے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ جو کہ اکثر نہیں ہوتا تھا۔ایک رمضان Snapchat کو استعمال میں لاتے ہوئے میں نے حرا جی کے ساتھ مل کر رمضان ٹرانسمیشن شروع کی اور کچھ قریبی دوستوں نے اسکو بہت انجوائے کیا‘
’سوتے کب تھے؟‘، میری باتوں کو ذرا بریک لگی تو اس نے سوال پھینکا ۔
’یونیورسٹی سے واپس آنے کے بعد نہا دھو کے نماز پڑھ کےسوتے تھے ۔ اور اٹھتے تب تھے جب افطاری میں ایک گھنٹہ بھی نہیں بچا ہوتا تھا۔ پھر آدھی نیند میں بھاگ کر باہر سے ایک نکڑ سے دہی پکڑتے تھے اور دوسری سے برف۔ کہیں سے اچھی چاٹ نظر آ جاتی تو وہ لے لیتے یا کوئی پھل سستا مل رہا ہوتا تو وہ خرید لیتے۔ اور ہوسٹل نے جو مزے کی بات سکھائی وہ یہ کے ایک پھل کی بھی فروٹ چاٹ بنائی جا سکتی ہے‘
’ہاہا، وہ کیسے؟‘، وہ دلچسپی لیتےہوئے بولا
’عینی نے سکھایا تھا مجھے۔ اگر آپ کے پاس صرف ایک پھل ہو تو اس میں پاؤڈرڈ ملک ملا دیں ، اگر کوئی بادام یا کشمش ہوں تو بھی ٹھیک ورنہ ایک ہی سہی۔ اور بعد میں عینی کہا کرتی تھی کہ تمہارے ہاتھ کی بنی کیلے کی چاٹ کا مزہ ہی کچھ اور ہے‘
’اور افطاری کے بعد کیا روٹین ہوتی تھی ؟‘ اس نے پوچھا
’افطاری کے بعد چائے پیتے تھے،‘
’اسکے بعد ؟‘
’چائے پیتے تھے ‘
’پھر؟‘
’اور بس چائے ہی پیتے تھے‘
’اف! ایک تو تمہاری یہ چائے‘،اس نے اپنے ماتھے پہ ہاتھ مارا
’ پتا ہے چائے پینا عادت نہیں ہے، حالانکہ سب یہی سمجھتے ہیں، نہ ہی چائے کوئی نشہ یا کسی قسم کی کوئی لت ہے، چائے کو جو لوگ نشہ وغیرہ کہتے ہیں، وہ چائے کی حُرمت کے منکر ہیں‘
’واہ واہ واہ ‘،گویا میں نے کوئی غزل کہہ دی ہو۔اس کے داد دینے کے انداز کو میں بہت انجوائے کرتی تھی۔
’چائے در اصل ایک احساس ہے، جسے ہم ’اپنائیت ‘کہہ سکتے ہیں ، ’سنگت ‘ کہہ سکتے ہیں ۔ جب کچھ اپنے بیٹھے ہوں چائے کی طلب ہوتی۔ اور جب ہم اکیلے بیٹھے چائے پئیں تو اپنوں کی طلب ہوتی ہے۔ چائے کا احساس اپنوں کو جوڑتا ہے۔ میں کبھی بھی اکیلے بیٹھ کر چائے نہیں پیتی‘
’ہاں یہ تو مجھے معلوم ہے‘اس نے تائید کی، پتا نہیں وہ میری ہر بات کی ہی تائید کر دیتا تھا، ’اچھا اس کے علاوہ‘
’اس کے علاوہ ہم لڈو اور ONO کھیلتے تھے۔ جس ہوسٹل میں بھی رہے برتنوں پہ کسی ایک کی باری ہوتی تھی۔
وہ اب بس چپ بیٹھا سن رہا تھا،
’پتا ہے ہماری نمرہ چائے نہیں پیتی تھی پر جب بھی ہم چائے بناتے تھے، کہتی تھی مجھے بھی ایک گھونٹ دینا اور اس سے اسکا مطلب واقعی ایک گھونٹ ہی ہوتا تھا یعنی کہ بس ایسے ہی چکھنا چاہیں، اسی کپ سے پیتی تھی جس میں کوئی نہ کوئی پی رہا ہوتا تھا، آسیہ کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا، دونوں کا اپنا الگ ہی انداز تھا‘
اب ہم دونوں مسکرا رہے تھے
’اور پتا ہے روزے کا سب سے خوبصورت وقت یہی ہوتا تھا جب ہم سب مل کر ہوسٹل کی چھت پہ بیٹھتے ،چائے پیتے اور بلاوجہ اپنے ہی لطیفوں پہ ہنسا کرتے۔وہیں چھت پہ جائے نماز بچھا کر سر کے نیچے جوتے رکھ کے لیٹ جاتے تھے اور مچھروں کے رزق کا سامان کرتے تھے‘
اب وہ سیدھا ہو کے بیٹھ گیا۔ اسے لگا میری یہ کہانی ختم ہونے والی ہے پر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ وو اس طرح گھنٹوں میرے سامنے بیٹھا رہے تو میں گھنٹوں اس سے باتیں کرتی رہوں، اور دوستوں کے نام پر تو میں ساری زندگی بولتی چلی جاؤں‘
’ جانتے ہو میرا سب سے فیورٹ روزہ کونسا ہوتا تھا؟‘
’کونسا‘
’جب عثمان کے گھر سے افطاری آیا کرتی تھی۔ اس کے گھر والے افطاری کا صرف اہتمام نہیں ،اچھا خاصا اہتمام کرتے تھے۔دسترخوان پہ اتنی جگہ نہ ہوتی کہ سب کچھ رکھا جائے۔ عثمان کے گھروالے اس سے زیادہ اچھے ہیں‘
’عثمان بھی اچھا ہے، میں بھی ملا تھا نا ایک دو بار؟‘، اس نے تائید کی
’وہ میرا سب سے اچھا دوست ہے‘میں مسکرائی
’کچھ دن پہلے مجھے یہ بات یاد کرائی گئی کہ پچھلے سال جب رمضان کا چاند نظر آیا تھا تو میں رحمان آباد ایک ہوٹل کی چھت پہ بیٹھ کے سجی کھا رہی تھی، تم تب میں اور اب میں فرق تو دیکھو‘ ’میں نے کہا وقت وقت کی بات ہے‘
’کیا یہ سب مجھے بتا کہ اب تم بہتر محسوس کر رہی ھو؟‘
’کسی حد تک‘، پانچ سیکنڈ کے لئے خاموشی چھائی۔
’تم پوچھتے ہو نا ہاسٹل کے روزوں میں ایسا کیا تھا۔ دیکھو رمضان کا چاند نظر آتے ہی میں ان سب کو یاد کرنے لگی ہوں اور یہ رات ان کے ساتھ چھت پہ بیٹھ کر چائے پینے کے بجائے میں ادھر اپنے کمرے میں اکیلی بیٹھ کر دوستی کی یہ داستان سنا رہی ہوں، تم نہ ہوتے تو شاید خود کو سنا رہی ہوتی، اسکو ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لینے کے لئے کہیں لکھ لیتی ، مجھے یہ لگتا ہے کے دوستی کی ہر داستان تحریر ہونی چاہیے، اور وہ ہوتی بھی ہے، ہمارے دلوں پر‘
’میں یہ بھول چکی ہوں کہ اس سے پہلے میں گھر میں رمضان کیسے گزارتی تھی‘
اور اب یہ تمہارا گھر میں پہلا رمضان ہے‘اس نے میری بات کو آگے بڑھایا

ہاں، جب آپکی زندگی ایک جگہ پر آ کے رک جاتی ہے ، تو وہ وقت بہت یاد آتا ہے جب آپکی زندگی ہر لمحے کوئی نیا موڑ لیا کرتی تھی۔میں اب زندگی میں یو ٹرن لینا چاہتی ہوں یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس راستے پہ اب کوئی ٹرن نہیں آئے گا۔ یہ وقت کا راستہ ہے اور وقت ایسا ظالم ہے جو نہ کسی کے لئے رکتا ہے اور نہ کسی کے لئے واپس آتا ہے۔ سیدھا چلتا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sania Batool
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Apr, 2020 Views: 1255

Comments

آپ کی رائے