بی آر شیٹی کی برج خلیفہ سے گھر واپسی: اسلاموفوبیا کے چتا پر جلنے والی ارتھی

(Dr Salim Khan, India)

کرکٹ ایک زمانے تک روزی کمانے کی طرح ایک بہت سیدھا سادہ کھیل ہوا کرتا تھا۔ لوگ باگ محنت مشقت کرکے جائز ذرائع سے اپنا پیٹ بھرتے تھے ۔ سفید پوش کھلاڑی پانچ دنوں تک صبرو ضبط کے ساتھ میچ کھیلتے تھے۔ اس پر بھی کبھی کبھار بغیر کسی نتیجے کے کھیل برابری پر چھوٹ جاتا تھا ۔ نہ کسی ہار ہوتی اور نہ کوئی کامیاب ہوتا تھا یعنی تجارت میں نہ کوئی فائدہ اور نہ نقصان ، حساب برابر ۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ کھیل کے دوران ہر ٹیم کو ایک بار غلطی کرنے کے بعد دوبارہ اسے سدھارنے کا موقع ملتا تھا۔ اس طرح اکثر ہارنےوالی ٹیم اپنے آپ کو سے بچانے میں کامیاب ہوجاتی تھی۔ آگے چل کراس کھیل میں ڈرامہ بازی اورجلد بازی داخل ہوگئی۔ کھلاڑی رنگ برنگے لباس زیب تن کرنے لگے اور شائقین ایک دن کے اندر نتیجہ چاہنے لگے اور ایک دن کا معاملہ آدھے دن میں سمٹ گیا۔100کے بجائے چالیس اوورس کی دھما چوکوڑی میں کھیل ختم پیسہ ہضم ہونے لگا۔

معیشت کی دنیا میں بھی اسی طرح کی تبدیلیاں رونما ہوئیں ۔ انسان کے اندر خوشحال ہونے کے خواہش ہمیشہ سے تھی لیکن وہ اس کے لیے صبرو ضبط کے ساتھ محنت و مشقت کرنے کا قائل تھا ۔ وہ صحیح یا غلط کا فرق بہت حد تک سمجھتا اور اس کا پاس و لحاظ بھی کرتا تھا۔ امیر کبیر بن جانے کی ایسی جلدی شاید بنی نوع انسان کو پہلے کبھی نہیں تھی ۔اس جلد بازی نے عصرِ حاضر کے انسان کو تمام اخلاقی اقدار سے بے نیاز کردیا ہے۔حریص و خدا بیزار سرمایہ دار ایکوحشی درندہ بن گیا ہے۔ عوام کے استحصال کو ایک قابلِ تحسین فن قرار دے کراس کی پذیرائی کی جارہی ہے ۔کرکٹ کی مذکورہ تبدیلیوں کے اثرات بلے بازوں پر یہ ہوے کہ وہ آو دیکھا نہ تاو میدان میں آتے ہی بلہ گھمانے اور گیند اچھالنے لگے اور ان کی خوب تعریف و توصیف ہونے لگی ۔ رن بن رہے ہوں تو اس کے لیے باونڈری سے با ہر جانے والا شاٹ پر تالی بجنے لگیں ۔ “

پہلے زمانے میں فاسٹ بولر تیزی کے ساتھ گیند پھینکتے تھے اور اسپنرس دھیمی گیند کو اد ِھر اُدھر گھما دیا کرتے تھے ۔ اس کے بعد فاسٹ بولرس نے اپنی گیند میں تھوڑا کا اسپن شامل کیا تو اسے سوینگ کا نام دیا گیا اور پھر اس میں مزید تنوع پیدا کرکے ریورس سوینگ کو ایجا د کیا گیا۔راتوں رات امیر بننے کے چکر میں پہلے تو لوگ ٹیکس چراتے تھے ۔ اس کے بعدوہ غبن کرنے لگے۔ انا ّہزارے نے بدعنوانی کے خلاف تحریک چلائی ۔ مودی جی نے اس کی تائید میں ’نہ کھاوں گا اور نہ کھانے دوں گا ‘ کا فلک شگاف نعرہ لگایا اور وزیراعظم بن گئے ۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ گھپلے باز سرمایہ دار بنکوں سے لوٹ مار کر کے مال سمیت ملک سے نکل بھاگنے لگے ۔ اس کی ابتداء بی جے پی کی مدد سے ایوان بالا کے رکن بننے والے وجئے مالیہ نے کی اور پھر تو نیرو مودی اورمیہول چوکسی جیسے وزیر اعظم کی ہمنوا بھی بدعنوانی کرکے بھاگ کھڑے ہوئے ۔ مودی جی ان کا بال بیکا نہیں کرسکے ۔

وزیر اعظم مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد اپریل 2018تک ایسے 31سرمایہ دار 40 ہزار کروڈ بنکوں سے ادھار لے کر فرار ہوچکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ دسمبر 2018میں ان مفرور سرمایہ داروں کے جائیداد کی قرقی کا قانون بنا نا پڑا۔ اس آئینی ترمیم سے قبل ایوان زیریں میں ریاستی وزیر برائے امور خارجہ (سبکدوش جنرل) وی کے سنگھ نے مفرور بدعنوانوں کی ایک فہرست پیش کی ۔ اس کے مطابق سی بی آئی کو 29 اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کو 42بھگوڑوں کی تلاش تھی حالانکہ ان کی جانب سے توجہ ہٹانے کے لیے زر خریدذرائع ابلاغ صرف داؤد ابراہیم اور ڈاکٹر ذاکر نائک کا نام اچھال رہا تھا۔ ڈی آر آئی کو بھی اس وقت 5 لوگ مطلوب تھے ۔ اس کھیل میں سوئنگ کے بعد ریورس سوئنگ کا یہ اضافہ ہوا کہ امارات سے ڈاکٹر بی آرشیٹی نامی بھگوڑا غبن کرکے مودی جی شرن میں ہندوستا ن آدھمکا ۔باہرلوٹ مارکرکے گھر واپسی ؁۲۰۱۹ کے بعد والے نئے ہندوستان کا عظیم کارنامہ ہے۔
متحدہ عرب امارات (یعنی دبئی، ابوظبی اور شارجہ) وغیرہ میں رہنے والا شاید ہی کوئی ہندوستانی ایسا ہوگا کہ جس نے این ایم سی اسپتال کا نام نہ سنا ہو اور یو اے ای ایکسچینج سے اپنے گھریا دوست و احباب کو پیسے نہ بھیجے ہوں ۔ ابوظبی کورنیش پر واقع انڈین کلچرل سینٹر کی شاندار عمارت بھی اس کے صدر ڈاکٹر بی آر شیٹی کے مرہونِ منت ہے۔ دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ میں ۱۰۱ نمبر کے مکان کا مالک یہی ڈاکٹر شیٹی ہے۔ ووڈ لینڈ ہوٹل میں کھانا اور نیوفارما نامی کمپنی کی دوائی ہر کسی نے جانے انجانے میں استعمال کی ہے ۔ کئی سال قبل اسلامک کلچرل سینٹر کی ایک عام سی افطار پارٹی میں ڈاکتر شیٹی نے یہ کہہ کر اس میں شریک روزے داروں کا من موہ لیا تھا کہ وہ ہرسال پورے مہینے روزے رکھتے ہیں ۔ایسا کرنا انہیں بہت اچھا لگتا ہے۔ لیکن یہ رمضان اپنی آمد سے قبل یہ چونکانے والی خبرلے کر آیا کہ موصوف امارات سے فرار ہوکر ہندوستان آچکے ہیں۔

42سال قبل 33 سال کی عمرمیں بی آر شیٹی ایک میڈیکل ریپریزنٹیٹیو کے طور پر امارات پہنچے ۔ 1973میں وہ ابوظبی کے پہلے ایم آر تھے۔ اس وقت کون سوچ سکتا تھا کہ یہ شخص ایک دن یو اے ای کی سب سے بڑی دوائی بنانے والی کمپنی کا مالک ہوگا؟ دو سال بعد اس نے سستا علاج مہیا کرنے کی خاطر نیو میڈیکل سینٹر نامی مطب کی داغ بیل ڈالی جس میں برسوں تک صرف ان کی اہلیہ ڈاکٹرچندرا کماری شیٹی مریضوں کا علاج کیا کرتی تھی۔ آج اس دواخانے کی 8 ممالک کے 12شہروں میں 45 شاخیں ہیں۔ ان ممالک کی فہرست میں مشرق وسطیٰ کے علاوہ اسپین، اٹلی ، ڈنمارک، کولمبیا اور برازیل بھی شامل ہیں۔ ان اسپتالوں میں سالانہ 40 لاکھ مریضوں کا علاج کرنے کے لیے 19 ممالک کے 2000 ڈاکٹرس اور 20,000ہزارکی تعداد میں طبی عملہ تعینات ہے۔ جی سی سی سے تعلق رکھنے والی یہ پہلی صحت عامہ کی کمپنی ہے جس کو لندن کےاسٹاک ایکسچینج میں درج ہونے کا شرف حاصل ہوا۔
طبی دنیا سے آگے بڑھ کر بی آر شیٹی نے 1980میں تارکین وطن کی اولین ضرورت اپنے گھروالوں کو روپیہ پہنچانے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے یو اے ای ایکسچینج نامی کمپنی قائم کی ۔ 40سالوں کے اندر اس کے 31ممالک میں 800دفاترقا ئم ہوگئے اور 2014میں اس نے 5 ہزار کروڈ ڈالر کی ترسیل کی۔ اسی سال شیٹی نے ٹراویلیکس نامی کمپنی کو خریدا جس کے 27 ممالک میں 1500 مراکز اور 1300 اے ٹی ایم موجود ہیں ۔ 2003میں شیٹی نے اپنی ادویات بنانے والی کمپنی کا افتتاح کرنے کی خاطر صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام کو دعوت دی۔ آج یہ کمپنی مرک، فائزر، اسٹرا اور بوٹس جیسی عالمی کمپنیوں کے دوائی بناتی ہے۔ اس عروج پر پہنچنے کے بعد جب یہ خبر ملتی ہے کہ ڈاکٹر شیٹی کو امسال فروری میں این ایم سی کی چیرمین شپ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ امارات کے سب سے بڑے اسپتال کو برطانیہ کی عدالت کے زیر نگرا نی کردیا گیا ہے اور کورٹ ان دواخانوں کو چلانے کے لیے انتظامیہ کا تقرر کرنے جارہا ہے۔ لندن کے اسٹاک ایکسچینج نے این ایم سی کو اپنی فہرست سے خارج کردیا ہے تو تعجب ہوتا ہے کہ کورونا کے بغیر ہی یہ سب ہوگیا۔

اس ناقابلِ یقین سانحہ کی سُن گنُ گزشتہ سال ایک امریکی ادارہ مڈی واٹرس نے دی ۔ اس نے این ایم سی پر یہ الزامات لگائے کہ وہ اپنی نقدی کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے۔ ۔ اس نے اپنی جائیداد پر زیادہ لاگت دکھائی ہے اور اپنے اوپر قرضہ جات کو کم کرکے دکھایا ہے ۔ کسی بھی گھپلے کی تیاری میں کام آنے وا لے یہ بہترین اجزائے ترکیبی ہیں ۔ اس سے پتہ چل جاتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ اس کے بعد ابوظبی کمرشیل بنک نے برطانوی عدالت سے رجوع کرکے درخواست کی اسپتال پر ۶۶۰۰ کروڈ ڈالر کا قرض ہے جس کی ادائیگی ناممکن نظر آتی ہے اس لیے اسے کورٹ کے اشتراک میں انتظامات چلانے کی اجازت دی جائے۔ اس رقم کو اگر ہندوستانی روپیہ میں تبدیل کردیا جائے تو ہندوستان سے بھاگے ہوئے سارے بدعنوان سرمایہ داروں سے کہیں زیادہ بنتی ہے ۔ یعنی وجئے ملیا سے لے کر نیرو مودی تک جتنے ہندوستانی بنکوں کو لوٹ کر بیرونِ ملک فرار ہوئے اس سے زیادہ یہ ایک جیالاباہر کے بنکوں پر ڈاکہ ڈال کر ہندوستان لے آیا۔ اتنے بڑے پیمانے پر چونکہ ایسا غبن مودی یگ میں ہوا ہے اس لیے وہ بجا طور پر فخر کرسکتےہیں۔

مڈی واٹرس کے اندیشوں کو تو گدلے پانی کی مانند نظر انداز کردیا گیا لیکن فروری کے اندر این ایم سی اپنے بنک اے ڈی سی بی کو گزشتہ 400کروڈ ڈالر کے قرضہ جات سے مطلع کیا جسے صیغۂ راز میں رکھا گیا تھا ۔ اے ڈی سی بی نے جب تفتیش شروع کی تو یہ 80لاقائی و بین الاقوامی اداروں سے حاصل کردہ قرض کی رقم تھی جن میں ایچ ایس بی سی اومان، دبئی اسلامی بنک اور ابوظبی اسلامی بنک شامل ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے بڑے سرمایہ دار کو آخر کس چیز نے اتنا بڑا غبن کرکے اپنے دیش میں واپس آنے کی ترغیب دی۔ اس بابت عربین بزنس نامی جریدے میں ڈاکٹر شیٹی نے اپنے عزائم بیان چکے ہیں ۔ اگست 2019میں آئین کی دفع 370کو ختم کردیئے جانے کے بعد ستمبر میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ وادی کشمیر میں 3000ایکڑ زمین پر فلم سٹی بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس خوبصورت مقام پروہ فلم سٹی بنانا چاہتے ہیں تاکہ لوگ وہاں شوٹنگ اور سیر و سیاحت کی غرض سے آئیں۔انہیں جموں ، کشمیر اور لداخ میں اس زمین کی پیشکش مل چکی ہے ۔ فلموں سے ڈاکٹر شیٹی کی دلچسپی نئی نہیں ہے 2017میں انہوں نے 1000کروڈ کی لاگت سے مہابھارت بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن 2019 میں اسے بند کردیا گیا۔ کشمیر کے مظلومین پر رال ٹپکانے والے ڈاکتر شیٹی کا عبرتناک انجام دنیا بسرو چشم دیکھ رہی ہے۔ لوگ کہتے ہیں اللہ کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں ہے لیکن یہاں تو دیر بھی نہیں ہوئی۔

ڈاکٹر شیٹی نے وزیراعظم نریندر مودی سے اگست 2019کے اندر ہندوستان آکر اپنے ملک میں صحت، سیاحت اور فلم سٹی میں 500کروڈ ڈالر کی سرمایہ کاری کا عندیہ دیا تھا ۔ کاش کہ وہ انہیں یہ بھی بتاتے کہ یہ رقم مختلف بنکوں سے چرا کر فراہم کی جائے گی۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر اپنی زندگی کے 45قیمتی سال عرب امارات میں گزارنے کے بعد اچانک ڈاکٹر شیٹی کو گھر واپسی کا خیال کیوں آیا ؟عرب امارات جانے سے قبل انہوں نے جن سنگھ کے ٹکٹ پر اوڑوپی میونسپل کاونسل کا انتخاب لڑا تھا اور وائس چیرمین کا عہدے پر فائز بھی ہوئے تھے لیکن صحرا نوردی میں یہ سیاسی جرثومہ قرنطینہ کے اندر چلا گیا اور 45سال کے بعد پھر سے دیش بھکتی نے کورونا کی طرح سر ابھارا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ تو ہر ہندوستانی سرمایہ دار فخریہ تصویر کھنچواتاا ہے لیکن 2016میں جبآر ایس ایس نے اپنے عزائم کو مشرق وسطیٰ کے اندر بروئے کار لانے کے لیے ایک بند کمرے کی نشست کا انعقاد کیا تو ڈاکٹر شیٹی نے بھی اس شرکت کی ۔ سر سنگھ چالک موہن بھاگوت کے ساتھ ان کی تصویر منظر عام پر آ چکی ہے ۔

عرب امارات کے اندر ڈاکٹر شیٹی نے اپنی 45 سالہ پیشہ ورانہ زندگی میں بہت ساری دولت کے ساتھ عزت بھی کمائی لیکن آخری وقت میں اس پر خاک ڈال دی ۔ پندرہ سال قبل 2005میں انہیں عرب امارات کے ا علیٰ ترین اعزاز سے نوازہ گیا۔ اس کے چار سال بعد حکومت ہند نے انہیں پدم شری کا خطاب عطا کیا۔ 2014میں معروف عالمی ادارہ فوربس نے انہیں امارات کے بہترین ہندوستانی لیڈر کا اعزاز دیا اور 2018میں اسی فوربس نے اپنے اعزاز کا دائرہ امارات سے عرب دنیا تک وسیع کردیا۔ یعنی اب وہ اب پوری عرب دنیا میں ہندوستان کا سب سے ممتاز چہرہ قرارپائے لیکن اب خود انہوں اس پر کالک پوت دی ہے ۔ اس بیچ ڈاکٹر شیٹی نے ابوظبی کے قومی اخبار ’دی نیشن‘ سے کہا کہ وہ امارات سے فرار نہیں ہیں بلکہ اپنے ۸۲ سالہ بھائی کی عیادت کے لیے ۷ فروری کو ہندوستان آئے تھے۔ اپریل کے اوائل میں بھائی کا کینسر سے انتقال ہوگیالیکن کیا یہ مناسب نہیں تھا کہ وہ ہندوستان آنے کے بجائے اپنے بھائی کو امارات بلا کراپنے مایہ ناز اسپتال میں ان کا علاج کرواتے؟

ڈاکٹر شیٹی کا یہ بھی کہنا ہے کورونا وائرس کی پابندیوں کے خاتمہ پر وہ دوبارہ امارات لوٹیں گے ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ موجودہ بحران پر وہ اس لیے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں کہ ان کے پاس حقائق نہیں ہیں ۔ انٹر نیٹ کی اس دنیا میں جو معلومات انہیں اپنے دفتر میں بیٹھ کر مل سکتی ہیں وہی اڑوپی کے اندر بھی مہیا ہوسکتی ہیں ۔ اس لیے معلومات کے فقدان کا بہانہ ناقابلِ یقین ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو حقائق اب سامنے آرہے ہیں اس کی روشنی میں سارے الزامات بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں ۔ یہ تو ایک سیاسی بیان ہے۔ ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ بھائی کی عیادت پر ذاتی سفرکے لیے آتے ہی ان کو این ایم سی کی چیرمین شپ اور فن بر کے بو رڈ آف ڈائرکٹر سے ہٹایا جانا محض اتفاق تھا یا سازش تھی۔

فوربس نے فی الحال ارب پتی لوگوں کی فہرست سے ڈاکٹر شیٹی کو نکال باہر کیا ہے۔ ڈاکٹر شیٹی کو2015کا وہ دن یاد ہوگا کہ جب انہیں دنیا امیر ترین لوگوں کی صف میں شامل کیا گیا تھا ۔ 2020کی ابتداء میں بھی وہ اس فہرست کے اندر 42ویں مقام پر تھے لیکن اب یہ نام نداردہے۔ اتنی عزت و ناموری کے باوجود ھل من مزید کا لالچ اور بری صحبت انسان کو کس عبرت ناک انجام سے دوچار کرتا ہے اس کی بہترین مثال ڈاکٹر باوا گٹھو رگھورام شیٹی عرف ڈاکٹر بی آر شیٹی ہے۔سورہ آل عمران کی آیت 26 میں ارشاد ربانی ہے ’’کہو! خدایا! مُلک کے مالک! تو جسے چاہے، حکومت دے اور جسے چاہے، چھین لے جسے چاہے، عزت بخشے اور جس کو چاہے، ذلیل کر دے بھلائی تیرے اختیار میں ہے بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے‘‘۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1241 Articles with 456748 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Apr, 2020 Views: 233

Comments

آپ کی رائے