کورونا ۔عالمگیریت کا قرنطینہ

(Akram Saqib, Pasni)
سب سے پہلے جو بات نظر آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ اس وبا کے نتیجہ میں ریاست کے اختیارات اور قوموں کا جذبہ قومیت مضبوط ہو گا

کورونا وائرس کی وبا دنیا کو پاش پاش کر دینے والی وبا ہے۔ اس کے دوررس نتائج کا ابھی تک کسی کو درست اندازہ ہی نہیں ہو سکا۔ بڑی بڑی طاقتیں اس کے وار کے سامنے بے بس نظر آ رہی ہیں ۔ امریکہ جیسا ملک بھی اس سے بچنے کے لئے بر وقت اقدامات کرنے سے قاصر رہا ہے۔ جس طرح اس وبا نے زندگیاں رلا دیں عالمی مارکیٹ کو تباہ کر دیا اور حکومتوں کی نا اہلی کا پول بیچ میدان میں کھول دیا اسی طرح یہ وبا سیاسی وابستگیوں کو ایک نیا رخ دے گی۔ معاشی طاقت کا مرکز اور محور بدل بھی بدلے گا ۔ کورونا کے بعد دنیا میں جو تبدیلیاں آنے والی ہیں وہ ملی جلی ہیں۔ کچھ باتیں اچھی بھی ہو سکتی ہیں اور کچھ سیاسی وبائیں بھی پھوٹ سکتی ہیں۔ سب سے پہلے جو بات نظر آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ اس وبا کے نتیجہ میں ریاست کے اختیارات اور قوموں کا جذبہ قومیت مضبوط ہو گا۔ ہر حکومت اپنے تئیں ایمرجنسی اقدامات اٹھا رہی ہے اور مزید بھی اٹھاے گی جن سے اس حکومت کو ایک نئی طاقت اور اختیار ملے گا۔ مانگے کے وسائل بھی بہت ہو جائیں گے اس لئے اس وبا کے بعد ہر حکومت اس نئی طاقت کو اور اختیار کو چھوڑنے سے گریز کرے گی ۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ دنیا کے سیاسی جھگڑے ختم ہونے کی بجائے بڑھ جائین گے۔ کیونکہ اس سے پہلے جتنی بھی وبائیں یا آفات یا جنگیں ہوئی ان کے بعد بڑی طاقتوں کی رقابت کم ہونے کی بجائے بڑھی ہی ہے اور اس وبا کے بعد بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے کہ عالمگیر رقابت بڑھے گی۔ عالمی تعاون بہت کم ہو جائے گا۔ہر کسی کو اپنی معیشت اور اپنے ملک کی سالمیت کی فکر لاحق ہو جائے گی۔

1918 میں جب انفلوئنزا کی وبا پھیلی تھی تو اس نے دنیا کو قریب تر کرنے کی بجائے اوردور کر دیا اور دنیا جنگ عظیم سے دوچار ہو گئی۔ مختصر یہ کہ کرونا یا کووڈ 19 کی اس وبا کے بعد ایک ایسی دنیا ہو گی جو کم خوشحال کم آزاد اور کم لبرل ہو گی۔کیونکہ اس وقت کے نا اہل اور نا عاقبت اندیش رہنمائوں نے ہماری اس دنیا کو اور ہماری زندگیوں کو ایک تکلیف دہ راستے پر ڈال دیا ہے۔

کورونا وائرس وہ تنکہ ثابت ہو ا ہے جس نے عالمگیریت کے اونٹ کی کمر توڑ دی ہے۔ وہ عالمگیریت جس کے لئے مغرب نے بھرپور کوشش کی اور بڑی حد تک کامیاب بھی رہا وہ اگر ختم نہیں تو کم ضرور ہو جائے گی۔اس کا آغاز چین سے دشمنی کی صورت میں امریکہ پہلے ہی کر چکا ہے۔ چین کو امریکی ٹیکنالوجی اور تخلیقی ورثے سے الگ کرنے کا کہ کر اور ساتھ ہی اپنے حواریوں پر دباو ڈال کر کہ وہ بھی چین کے ساتھ ایسا ہی سلوک کریں اور اسے الگ تھلگ کردیں۔

اس وبا نے حکومتوں اور کمپنیوں پر دباو ڈالا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کریں کہ زیادہ دیر تک معاشی علیحدگی اختیار کریں۔ اس وبا پر قابو نہ پا سکنے والے لا محالہ دوسروں پر الزام لگا کر حالات کو اور زیادہ ابتری کی طرف لے جائیں گے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کرونا وبا عالمی معاشی رخ کو عالمگیریت سے نہیں ہٹائی گی بلکہ اس عالمی معیشت کا رخ جو اب تک امریکہ کی طرف تھا اب چین کی طرف ہو جائے گا۔ دنیا اب چین کے گرد گھومتی عالمگیریت نطر آئے گی۔ اندازہ ہے کہ عالمی طاقت کا توازن بھی مغرب سے مشرق کی طرف جھکے گا۔ کیونکہ چین نے اس بحران سے سب سے احسن انداز سے مقابلہ کیا ہے اور ایک نہائیت ہی منظم قوم ہونے کا ثبوت پیش کیا ہے۔ جنوبی کوریا اور سنگاپور نے بھی نہائیت عمدہ طریقے سے اس آفت کا مقابلہ کیا جب کہ امریکہ اور یورپ بہت سست رہے اور بہت زیادہ نقصان اٹھایا۔ اس سستی کی وجہ سے ،مغرب ،جو کہ ایک برانڈ تھا اپنی چکا چوند کھو بیٹھے گا۔

امریکی عوام عالمگیریت اور بین الاقوامی تجارت سے بد ظن ہو چکی ہے۔ وہ نہیں چاہے گی کہ اب وہ عالمگیر کاروبار اور معاملات میں بھرپور شرکت کرے کیونکہ ان کی لیڈرشپ نے اسے مایوس کیا ہے جب کہ چین والوں کو اب یہ سمجھ آ چکی ہے کہ اگر وہ عالمی معامالات سے الگ تھلگ رہیں گے تو وہ پھر 1842 سے 1949 والی صدی جیسے ھالات کا سامنا کریں گے۔ اس لئے اب چین آگے بڑھے گا اور عالمی معاملات میں خوب رنگ جمانے کی کوشش کرے گا۔ اور اگر امریکہ ہٹ دھرمی پر قائم رہا تو وہ منہ کی کھائے گا۔

اس وبا کے نتائج میں قومیت پرستی کی وبا پھوٹے گی اور عالمگیرت کو بہا لے جائے گی۔ بڑی طاقتیں اپنی طاقت کو بڑھانے کا گھناونا کھیل پھر سے اور تیز کر دیں گی اور ایک دوسرے سے دوری بڑھتی جائے گی۔ جمہوریتیں اپنے اپنےخول میں چھپی رہیں گی اور جس طرح کورونا کے مریض کو قرنطینہ میں رکھا جا رہا ہے ایسے ہی ہر ملک قرنطینہ میں رہنے کی کوشش کرے گا۔ ہر کوئی اپنی اندرونی کمزوری سے خوفزدہ ہو گا۔ اور بیرونی مداخلت کو بہت کم برداشت کر پائے گا۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: akramsaqib

Read More Articles by akramsaqib: 71 Articles with 32079 views »
I am a poet,writer and dramatist. In search of a channel which could bear me... View More
06 May, 2020 Views: 309

Comments

آپ کی رائے