وادی کشمیر میں نام نہاد سرچ آپریشنز ایک بار پھر شروع!۔

(Syed Noorul Hassan Gillani, )

اس وقت جہاں مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 9ماہ سے کرفیو نافذ ہے وہاں کشمیریوں کی مشکلات میں کرونا وائرس نے مزید اضافہ کردیا ہے ،وہی وادی کشمیر میں نام نہاد جھڑپوں کے دوران معصوم کشمیریوں کو شہید اور زخمی کرنے کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا ہے ۔گزشتہ دنوں جنوبی کشمیر کے ضلع ہندواڑہ کے علاقہ میں بھارتی فوج اور مسلح افراد کے درمیان 16گھنٹے جاری رہنے والے خونیں معرکے میں آرمی میجر سمیت پانچ ہلاک جبکہ کارروائی کے دوران 2کشمیری نوجوان مجاہدین شہید ہو گئے تھے،ہلاک ہونے والوں میں کرنل آشوتوش شرما21 آر آر، میجر انوج سود19 گارڈز، این کے راجیش3 گارڈز، ایل این کے دنیش 17 گارڈز ایس آئی شکیل قاضی شامل ہیں۔ علاقہ میں گزشتہ دو روز سے ہی تلاشی مہم جاری تھی۔ اس سے قبل مقبوضہ کشمیر میں رونما ہونے والے دو واقعات میں جھڑپوں کے نتیجے میں 9کشمیری شہید اور تین بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔اگلے دن مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 17 سالہ نوجوان حازم بٹ کو شہید کردیا۔اسی روز ایک حملے میں چار بھارتی فوجی ہلاک جبکہ چھ زخمی ہو گئے۔ نامعلوم افراد نے ہندواڑہ میں بھارتی فوج کی پٹرولنگ ٹیم پر حملہ کیا۔ دو روز میں بھارتی کرنل،میجر سمیت چار بھارتی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی فوج سے جھڑپ کے دوران حزب المجاہدین کے چیف کمانڈر ریاض نائیکو ساتھی سمیت شہید ہوگئے۔ ضلع پلوامہ کے بیگ پورہ گاؤں میں بھارتی فوج کی جانب سے سرچ آپریشن کیا گیا جس دوران مجاہدین سے جھڑپ ہوگئی۔جھڑپ کے دوران حزب المجاہدین کے چیف کمانڈر ریاض نائیکو اور ان کے ساتھی عادل احمد شہید ہوگئے۔یاد رہے کہ ریاض نائیکو کو 2016 میں برہان وانی کی شہادت کے بعد حزب المجاہدین کا چیف کمانڈر مقرر کیا گیا تھا۔اس سب کے بعد اب بھارتی فوج ایک بار پھر معصوم کشمیریوں پر ظلم و تشدد کا سلسلہ تیز کردیا ہے جہاں پر نہتے کشمیریوں کے گھروں میں زبردستی گھس کر ان کی چاردیواری کا تقدس پامال کیا جارہا ہے اور انہیں شہید اور زخمی کیا جارہا ہے ۔وادی کشمیر میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کرنے کے ساتھ ساتھ اس وقت مودی بھارتی مسلمانوں کے خلاف سازش کرنے میں مصروف ہونے کے ساتھ ساتھ ہمہ وقت آزادکشمیر کی لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کررہا ہے ۔ جنت نظیر وادی کشمیرمیں گزشتہ 9ماہ سے دنیا کا طویل ترین کرفیو نافذ ہے۔جہاں کشمیری خوراک و ادویات سے محروم ہیں ۔انٹرنیٹ ،موبائل اور لینڈ لائن سروس منقطع ہے ۔اس دوران بھارتی درندے کشمیری بچوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ عالمی تنظیموں کی رپورٹس نے بھی مودی سرکار کی فسطائیت کا پردہ چاک کیا مگر مودی ٹس سے مس نہیں ہوا ۔ مقبوضہ وادی میں زندگی آج بھی قید ہے۔ مسلسل لاک ڈاؤن کے باعث حالات انتہائی خراب ہیں۔ اس وقت بھارت درحقیقت ہندوتوا کے ایجنڈے کے تحت کشمیری عوام اور بھارتی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو نشانے پر رکھے ہوئے ہے، وہ اپنے توسیع پسندانہ جنونی عزائم سے درحقیقت پورے علاقے اور پوری دنیا کی تباہی کا اہتمام کر رہاہے، اس لئے اس کے جنونی ہاتھ روکنا عالمی قیادتوں اور نمائندہ عالمی اداروں کی سب سے پہلی ذمہ داری ہونی چاہیے مگر انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار بلخصوص اقوام متحدہ نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ۔ کشمیریوں کو ہر صورت بھارتی تسلط سے آزادی حاصل ہونی ہے، جس کا حق خودارادیت اقوام عالم میں تسلیم شدہ ہے۔ اسی طرح پاکستان کو بھی اپنی سلامتی کے تحفظ کیلئے کوئی بھی قدم اْٹھانے کا مکمل حق حاصل ہے۔ مودی سرکار ہوش کے ناخن لے اور اپنی جنونیت میں علاقائی اور عالمی امن کو داؤپر نہ لگائے۔ پاکستان کی عسکری قیادت بھارت کی ہر شرارت اور بدنیتی کا مسکت جواب دینے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔بھارت کی اعلیٰ شخصیات جن میں سابق وزیر خارجہ یشونت سہنا، سینئر صحافی بھارت بھوشن اور ایئر فورس کے سابق وائس ایئر مارشل کپل کاک پر مشتمل ایک وفد نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال معلوم کرنے کیلئے وادی کا دورہ کیا اور مودی حکومت کے حالات معمول پر ہونے کے دعوے کو دو ٹوک الفاظ میں مسترد کر دیا۔ یشونت سہنا کا کہنا تھا کہ حالات نارمل نہیں،ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی دیکھا کہ ساری دکانیں بند ہیں،کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے،فون اور انٹرنیٹ پر پابندی ہے۔ کپل کاک نے موجودہ صورتحال کو یخ بستہ قید قرار دیتے ہوئے کہا کہ 80 لاکھ کشمیریوں کو یخ جیل میں رکھنے کے باوجود صورتحال کو معمول قرار دیا جا رہا ہے، مودی حکومت اعلانات کی بجائے کشمیریوں کے درد کو محسوس کرے۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی ناقابل بیان خلاف ورزیاں رکوانے کیلئے امن فوج بھیجے کیونکہ یہی وقت کا تقاضا بھی ہے ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Noorul Hassan Gillani

Read More Articles by Syed Noorul Hassan Gillani: 44 Articles with 13537 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 May, 2020 Views: 292

Comments

آپ کی رائے