ڈاکٹر ظفرالاسلام : کا قصور کیا ہے؟

(Dr Salim Khan, India)

ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کے علم و فضل اور ان کی ملی و سماجی و خدمات کے حوالے سے فی الحال ذرائع ابلاغ میں بہت کچھ شائع ہورہا ہے۔ وہ تمام باتیں درست ہیں لیکن کیا ان کے خلاف جو ہنگامہ آرائی کی گئی اس کی وجہ ان کاعالم و فاضل ہونا یا ملک وملت کی خدمت کرنا ہے؟ جی نہیں وہ تو پہلے بھی ان صفات سے آراستہ تھے اور یہ آئندہ بھی یہ سب کرتے رہیں گے۔ تب پھر کیا یہ اس لیے ہورہا ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور بی جے پی مسلمانوں کی دشمن ہے؟ ایسا بھی نہیں ہے۔ بی جے پی نے شاہنواز حسین کو اپنا ترجمان اورعباس نقوی کو مرکزی وزیر بنا رکھا ہے۔ مسلمان وہ بھی ہیں توان میں اور ڈاکٹر ظفرالاسلام میں کیا فرق ہے؟ فرق یہ ہے کہ ایک ہندوستان کو مسلمانوں کے لیے جنت کہتا ہے اور دوسرا یہ نہیں کہتا بلکہ جب بھی ہندوتوا بریگیڈ اس کو جہنم زار بنانے کی کوشش کرتی ہے تو وہ اس کے خلاف شمشیر بے نیام بن جاتا ہے۔ ایک ہر روز کسی نہ کسی ٹیلی ویژن پر آکر حکومت کی غلط کاریوں کا جواز پیش کرتا اور دوسراسرکاری زیادتی کو بے نقاب کرتا ہے۔ ظفر الاسلا م خان بھی اگر کل سے خدا نخواستہ مرکزی حکومت کے باجگذار بن جائیں تو بعید نہیں کہ ان کو ترقی دے کر قومی اقلیتی کمیشن کا صدر بنادیا جائے لیکن فی الحال ان کو دوسری مرتبہ دہلی اقلیتی کمیشن کا چیر مین نامزد کرنے سے روکنے کے لیے یہ کھڑاگ رچایا گیا اور خود ان کے بقول مخالفین اس میں کامیاب ہوگئے ۔

مرکزی حکومت کو کورونا سے قبل دہلی میں پے در پے تین بڑی ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑا۔ پہلی تو سی سی اے اور این آر سی کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شاہین باغ میں چلنے والی تحریک تھی۔ اس تحریک کو ناکام کرنے کے لئے سنگھ پریوار نے سارے حربے آزما لیے۔افتراء پردازی و بہتان تراشی سے لے کر میڈیا ٹرائل تک کرکے دیکھ لیا لیکن ایک نہ چلی ۔ دھونس دھمکی میں عوام ، انتظامیہ اور غنڈے بدمعاش تک سب کا استعمال کیا گیا مگر وہ سب ناکام رہے۔ جامعہ ملیہ میں طاقت کے استعمال سے بدنامی ہاتھ آئی اور شاہین باغ کی استقامت رنگ لائی۔ اس کے نتیجے میں ہندوستان بھر میں سیکڑوں شاہین باغ قائم ہوگئے۔ اقوام متحدہ تک اس کی گونج پہنچ گئی اور عالمی میڈیا نے اس کی خوب پذیرائی ہوئی ۔ اس کے بعد حکومت نے اس نادرِ روزگار تحریک کی آڑ میں دہلی کا انتخاب جیتنے کا ناپاک منصوبہ بنایا لیکن وہاں بھی منہ کی کھانی پڑی اور بی جے پی چاروں خانے چت ہوگئی ۔ کیجریوال کے لب و لہجے اور رنگ ڈھنگ کو دیکھ کرسنگھ پریوار بغلیں بجا رہا تھا کہ اس نے اپنے مخالف کو بھی ہندوتوا کیمپ میں شامل کرلیا لیکن دہلی اسمبلی نےاین پی آر کے خلاف تجویز منظور کرکے سنگھ سمیت مرکزی حکومت کو دھوبی پچھاڑ دیا ۔ کیجریوال نے وجہ جو بھی بتائی ہو فیصلہ مرکزی حکومت کے خلاف تھا ۔

بی جے پی نے شاہین باغ کی تحریک کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے دہلی میں فرقہ وارانہ فساد کی منصوبہ بندی کی۔ کپل مشرا نے پولس افسر سے صاف الفاظ میں کہا کہ دو دن میں اگر جعفر آبادکے مظاہرین کو نہیں ہٹایا گیا تو وہ ازخود یہ کام کردیں گے۔ یہ دودن کا وقفہ ڈونلڈ ٹرمپ کے واپس جانے کی مہلت تھی ۔ بی جے پی یہ نہیں چاہتی تھی فساد کے سبب اس دورے کے رنگ میں بھنگ پڑے لیکن اس سے غلطی یہ ہوئی کہ وہ آس پاس کے فسادی غنڈوں کو ایک دن پہلے جمنا پار لے آئی اور وہ لوگ بے قابو ہوگئے۔ انہوں نے اپنے آقاوں کے احکامات سے قبل ہی دنگا فساد شروع کردیا۔ اس طرح ساری دنیا میں بی جے پی کی بہت بدنامی ہوئی ۔ اس منصوبے میں دوسرا مسئلہ یہ ہوا کہ ان بدمعاشوں کو مسلمانوں کے جانب سے ایسی زبردست مزاحمت کی امید نہیں تھی ۔ مسلم نوجوانوں نے بڑی دلیری کے ساتھ مختلف محاذ پر نہ صرف فسادیوں کو کھدیڑ دیا بلکہ بہت جلد سنبھل بھی گئے ۔ مسلمان چونکہ لوٹ مار نہیں کرتے اس لیے مالی نقصان کی انہیں توقع نہیں تھی لیکن جانی نقصان امید سے زیادہ ہوا۔ دنیا بھر کے مسلمانوں نے فساد زدگان کی باز آبادکاری غیر معمولی تعاون پیش کر کے فسطائی طاقتوں کی حیرت زدہ کردیا ۔
 
ان تین ناکامیوں زخم ابھی بھرے نہیں تھے کورونا کی وباء آگئی ۔ بی جے پی اس کا بہانہ بناکر پہلے تو سی اے اے کی تحریک کو رکوادیا خیر وہ ضروری تھا لیکن اس کے بعد لاک ڈاون کا فائدہ اٹھا فساد زدہ علاقوں سے گرفتاریوں کی ابتداء کردی ۔ سرکار اس سلسلے میں واضح تعداد نہیں بتا رہی لیکن مختلف ذرائع سے ملنے والی خبروں کے مطابق یہ تعداد ڈھائی سو سے آٹھ سو تک بتائی جاتی ہے۔ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے اس کے خلاف اقلیتی کمیشن کے ذریعہ دہلی پولس نوٹس بھیج دیا ۔ اس کے بعد بی جے پی نے دہلی فساد کو جامعہ کے طلبا سے جوڑنے کی غلیظ شازس رچی اور اس کے جھوٹے الزام میں جامعہ کے اندر گرفتاریاں شروع کی تئیں۔ ب سے پہلے ۲ اپریل کو میران حیدر نامی پی ایچ ڈی کے طابعلم کو گرفتار کرکے اس پر قومی سلامتی ایکٹ کے تحت کارروائی کی گئی اور اس کے بعد صفورہ زرگر نامی طالبہ کو گرفتار کیا گیا ۔ صفورہ چونکہ حاملہ ہے اس لیے عدالت نے ضمانت دے دی لیکن سرکار نے اس پر قومی سلامتی ایکٹ لگادیا ۔ اس کے بعد شرجیل امام کے تین ماہ پورے ہوگئے اور حکومت اپنی تفتیش پوری نہ کرسکی تو اس میں بھی مزید تین ماہ کی توسیع کردی گئی ۔

حکومت کے یہ ظالمانہ اقدامات سی اے اے کے خلاف مستقبل میں متوقع مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے ہیں لیکن اس کی راہ میں سب سے بڑا روڑادہلی اقلیتی کمیشن کے ذریعہ ہونے والی تفتیش ہے۔ اس رپورٹ میں یقیناً دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا اور سارا الزام اصل فسادیوں یعنی بی جے پی والوں پر آجائے گا۔ مرکزی حکومت کو اپنے منصوبے پر عمل در آمد کے لیے اس رپورٹ کو بدلنا یا روکنا لازمی ہے۔ ڈاکٹر ظفرلاسلام کے ہوتے یہ نہیں ہوسکتا اس لیے ان کو ہٹانا ضروری ہوگیا۔ ٹویٹ پر آسمان اسی لیے سر پر اٹھالیا گیا ۔ ان کا خیال ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے بعد جو بھی کمیشن کا سربراہ بنے گا اس کو سمجھا بجھا کر یا ڈرا دھمکا کر راہ پر لایا جاسکے گا لیکن یہاں بھی بی جے پی کے لیے دو مسائل ہیں ۔ اول تو اقلیتی کمیشن کا چیرمین کیجریوال کی دلی سرکار نامزد کرے گی ۔ اس نے اگر دوبارہ ملت کے کسی ایسے فرد کو اس عہدے پر فائز کردیا جو نڈر اور حق پسند ہوتو بی جے پی کو چوتھی ہزیمت اٹھانی پڑے گی۔ دہلی فساد کی اگر مبنی بر انصاف رپورٹ آجا ئے تو جامعہ کے بے قصور طلبا ازخود بری ہوجائیں گے۔

اس سلسلے میں یہ بات قابل ِ توجہ ہے کہ بی جے پی صرف مسلمانوں سے انتقام لینے میں مصروف نہیں ہے بلکہ 14اپریل کو اس نے اپنے نظریاتی مخالفین گوتم نولکھا اور آنند تیلتمبڈے کو بھی این آئی اے کی حراست میں لے لیا ۔ گوتم نولکھا عالمی شہرت یافتہ انسانی حقوق کے جہد کار ہیں ۔ وہ ملک کے سب سے قابل اعتماد جریدے ای پی ڈبلیو کے صلاح کار مدیر ہیں۔ انسانی حقوق کی بڑی تنظیم پی یو ڈی آڑ کی دہلی شاخ کے صدر ہیں ۔ ان کو پونے کی یلغار پریشد کے بہانے وزیراعظم کے قتل کی سازش کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ پروفیسرآنند تیلتمبڈے گوا انسٹی ٹیوٹ مینیجمنٹ میں سینئر پروفیسر ہیں ۔ وہ اپنے موضوع پر ایشیا میں اول مقام کے ماہر ہیں۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں نکسلیوں پر تنقید بھی کی ہے۔ وہ یلغار پریشد میں شریک بھی نہیں ہوئے اس کے باوجود ۷۰ سالہ دلت دانشور پروفیسر آنند کو عین ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی جینتی کے دن حراست میں لیا گیا۔ سنگھ پریوار کے اندر اتنا دم خم نہیں ہے کہ وہ اپنے نظریاتی مخالفین کا دلیل سے مقابلہ کرسکے اس لیے دہشت زدہ کرنے کا طریقہ اپنایا جارہا ہے۔ میران حیدر، صفورہ زرگر ، آنند تیلتمبڈے اور گوتم نولکھا کی گرفتاری نیز ڈاکٹر عمر خالد اور ڈاکٹرظفرالاسلام کو پھنسانے کی کوشش سنگھ کے نظریاتی شکست کا کھلا مظہر ہے ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1196 Articles with 433357 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 May, 2020 Views: 194

Comments

آپ کی رائے