سہانجنا قدرت کا انمول تحفہ

(RIAZ HUSSAIN, Chichawatni)
جب اس پر تحقیق ہو ئی اس نے انسانی دُنیا میں تہلکہ مچا دیا، کم و بیش 300بیماریوں کا علاج دریافت ہوا۔ اس پر ڈاکٹرشہزاد مقصود صاحب کے علاوہ بہت دیگر تحقیقی مقالہ جات میں سہانجنا کا تفصیلاً ذکر کیا گیا ہے۔

اللہ رب العز ت کو اپنی مخلوق سےکس قدر پیار ہے، اس کی تفصیل اللہ کریم نے اپنے محبوب خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے بڑی تفصیل سے بیان فرمائی۔ انسان کے لیے اللہ کریم نے روئے زمین کو خوبصورت بنایا، اس میں بے شمار جڑی بوٹیاں اور درخت پیدا فرمائے، وقت کے ساتھ ساتھ انسانی ترقی و تحقیق نے ان نباتا ت پر ریسرچ کی اور بے شمار انسان دوست نباتات سے علاج فرمایا اور چل رہا ہے۔ حال ہی میں سہانجنا پر تحقیق نے دُنیا کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا، سہانجنا ایک عام سا پودا جانا جاتا تھا، زمانہ قدیم میں اس کی مولی (جڑ) کوبطور اچار استعمال میں لا یاجاتا،کسی کی داڑھ اگر درد کرتی ہے تو اس کے پتوں کو کوٹ کر لیپ بنا کر چہرے پر درد کی جگہ لیپ کر دی جاتی، اس طرح لوگ درد سے افاقہ پاتے، جب اس پر تحقیق ہو ئی اس نے انسانی دُنیا میں تہلکہ مچا دیا، کم و بیش 300بیماریوں کا علاج دریافت ہوا۔ اس پر ڈاکٹرشہزاد مقصود صاحب کے علاوہ بہت دیگر تحقیقی مقالہ جات میں سہانجنا کا تفصیلاً ذکر کیا گیا ہے۔ سوہانجنا ہمارا دیسی درخت ہے۔ پورے پاکستان میں اس کے درخت پائے جاتے ہیں۔ کراچی کے اکثر گلی کوچوں اور سڑکوں پر اس کے درخت لگے نظر آتے ہیں۔ انگریزی میں اس کو Moringa کہتے ہیں۔ جدید سائنسی ریسرچ نے یورپ اور امریکہ میں اس درخت کی دھوم مچائی ہوئی ہے۔ ماہرین غذائیات اور فوڈ سائنس کے ماہرین اس کی کرشماتی صفات پر حیران ہیں۔ اس کے پتوں کے ایکسٹریکٹ سے تیار کردہ کیپسول، گولیاں اور فوڈ سپلیمنٹ دھڑا دھڑ بک رہے ہیں۔ جاپان کی ایک معروف دودھ کمپنی عرصہ دراز سے موریناگا Morinaga کے نام سے بچوں کا دودھ بنا رہی ہے جو مورنگا کی غذائی خصوصیات سے بھرپور ہے۔ یہ کم و بیش تین سو قابل علاج اور لا علاج بیماریوں کا علاج ہے لیکن صد افسوس کہ ہمارے یہاں اسے بکریاں کھا رہی ہیں۔ اگر لوگوں کو اس کے فوائد کا پتہ چل جائے تو سوہانجنا کے درختوں پر ایک پتہ باقی نہ رہے۔ مختلف آرٹیکلز اور تحاریر پڑھنے کا شوق ہے تو ایک بلاگ پر یہ تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا: ''جس سرکاری کوٹھی میں اکتوبر 1984ء سے اگست 1994ء تک رہائش پذیر پذیر رہا۔ اس کے ساتھ 4 کنال کے قریب خالی زمین تھی جس میں سوہانجنا اور امرود کے درخت تھے۔ میں نے لوکاٹ کا ایک، آلو بخارے کے 2 اور خوبانی کے 3 درختوں کا اضافہ کیا، جو عمدہ قسم کے تھے اور دُور دُور سے منگوائے تھے۔ مجھے 1995ء میں ایک دوست کے لیے سوہانجنا کی پھلیوں کی ضرورت پڑی۔ میں وہاں پہنچا تو میدان صاف تھا۔ میرے بعد وہاں گریڈ 20 کے جو افسر آئے تھے بولے ”بہت گند تھا۔ میں نے سب درخت کٹوا دیے“۔ میرا دل دھک سے رہ گیا۔ موصوف کو اتنا بھی فہم نہ تھا کہ سُوہانجنا ایک کمیاب درخت ہے۔ اس میں سینکڑوں امراض کا نہایت سستا اور آسان علاج ہے اور درجنوں ایسے امراض کا علاج مہیاء کرتا ہے جو ایلوپیتھک طریقہ علاج میں موجود نہیں۔ سوہانجنا کے استعمال سے کوئی بُرا ردِ عمل (reaction) بھی نہیں ہوتا۔''

سُہانجنا یا سُوہانجنا یا سوجہنی کا درخت بھارت۔ پاکستان اور افغانستان میں ہمالیہ پہاڑ کی شاخوں کے قریبی علاقوں میں اُگنے والا درخت ہے۔ جدید تحقیق بتاتی ہے کہ سُہانجنا نامیاتی (organic) قدرتی برداشت (endurance) اور طاقت کا ضمیمہ (energy supplement) ہے۔ اس کی پھَلیاں اور جڑیں بھی مفید ہیں لیکن سب سے زیادہ کار آمد سُہانجناکے پتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سُہانجنا 300 کے لگ بھگ بیماریوں یا صحت کے مسئلوں میں مفید ہے اور یہ کہ اس کے استعمال کے بُرے اثرات نہیں ہیں۔ یہ بچوں۔ جوانوں اور بُوڑھوں کے لیے بھی مفید ہے۔ سُہانجنا کا استعمال یاد داشت (memory) کو بھی بہتر بناتا ہے۔ اسے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) بھی پچھلی 4 دہائیوں سے بطور سَستے صحت ضمیمہ (health supplement) کے استعمال کر رہی ہے۔(حصہ اول)


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: RIAZ HUSSAIN

Read More Articles by RIAZ HUSSAIN: 117 Articles with 63399 views »
Controller: Joint Forces Public School- Chichawatni. .. View More
15 May, 2020 Views: 1354

Comments

آپ کی رائے