لاک ڈاؤن نرمی: یہ رنگ، نہ چہرے، نہ مکاں دیکھو گے!

(Abid Hashmi, Azad Kashmir)

کورونا وائرس نے کرہ ارض کا نظام درہم برہم کر دیا ہے، لاکھوں لوگ اس بیماری کا شکار ہیں، پوری دنیا میں ذہنی انتشار ہے۔ دنیا کی توجہ صرف ایک چیز پر مرکوز ہے کہ کس طرح اس دشمن پر قابو پایا جائے۔ معیشت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو وائرس محض ایک حادثاتی واقعہ ہے، جو گہری اور پوشیدہ لازمیت کا اظہار ہے۔ مگر اس کے آنے والے واقعات پر گہرے اثرات ہوں گے۔کورونا ایک عالمی وباء ہے جو اپنے ساتھ بے روزگاری، معاشی تباہی جیسے مسائل لائی ہے،امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں میں 22ملین یعنی 2کروڑ20 لاکھ سے زائد افراد نے کلیم داخل کیا ہے کہ وہ بیروزگار ہو گئے چکے اور مزید متوقع ہیں۔ بے روزگاری کا سبب وہ لاک ڈاون ہے جو کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔

یہ ایک ایسے ملک کی حالت ہے، جو دنیا کی ایسی سپر پاور ہے، جس نے کچھ عرصہ پہلے تک یا یوں کہیے کہ ابھی تک اپنا عالمی ضابطہ نافذ کر رکھا ہے اور یک قطبی دنیا قائم کرکے واحد سپر پاور بنا ہوا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا میں لگ بھگ 90 کروڑ افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں۔ یہ صورت حال معیشت اور سیاست کے ساتھ ساتھ جغرافیہ پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ایک نئی دنیا بننے کے خدوخال نمایاں ہو رہے ہیں، جو کورونا سے پہلی والی دنیا سے مختلف ہو گی۔

سپر پاورز اور دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں اور مملکتوں کے لیے اس وقت جو مشکلات پیدا ہو رہی ہیں، پاکستان جیسے ملکوں کے لیے یہ مشکلات کہیں زیادہ ہیں۔ وہ ممالک جو تیل کی دولت سے مالا مال تھے، ان کی حالت زار ہو چکی ہے۔

کورونا وائرس نے انسانوں کو گھٹنوں کے بل جھکا دیا ہے۔ چین کے شہر ووہان میں دریافت ہونے والا قاتل وائرس امریکا اور یورپ، اور دنیا کی گلی کوچوں میں گھمسان کی جنگ برپا کیے ہوئے ہے، ترقی یافتہ ممالک کا ہیلتھ سسٹم فلاپ ہوچکا ہے، اسپتالوں میں طبی عملہ مریضوں کو سنبھالتے سنبھالتے ہانپ رہا ہے تو مقامی انتظامیہ لاشوں کو ٹھکانے لگانے میں بے بس نظر آتی ہے۔ عالمی معیشت سسکیاں لے رہی ہے۔ محمود و ایاز ایک صف میں آن کھڑے ہوئے ہیں۔ جن چہروں پر شادمانی کی چمک ہوتی تھی ان پر مایوسی اور بھوک کی بے رخی چھائی ہے۔ گلیوں اور بازاروں میں بھوک رقصاں ہے۔

کورونا وائرس نے ووہان کی گوشت منڈی میں سب سے پہلے ایک دکاندار کو متاثر کیا، اور پھر آنے والے دنوں میں پوری دنیا کا سفر کیا۔ اب تک 200 سے زیادہ ممالک کورونا کی وبا کو کنٹرول کرنے کیلیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ وبائی مرض ایک تاریخی حادثہ ہے، ایسا حادثہ جو پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد سنگین حقیقت ثابت ہوا۔ اس سے انسانی زندگی کے تمام شعبے متاثر ہوئے ہیں لیکن سب سے زیادہ صحت اور معاشی ڈھانچہ اس کے وار سے زخمی ہے۔ ہمارے پاس وائرس کے علاج یا ویکسین کیلیے ٹائم لائن کے حوالے سے کوئی تجربہ نہیں اور نہ ہم یہ طے کرسکتے ہیں کہ دنیا کی معیشت اس سے کتنی تباہ ہوگی اور کب ٹھیک ہوجائے گی۔ کورونا نے انسان کے تیار کردہ نظاموں کی ناپائیداری، ہمارے علم اور مضبوطی کی حدود کو بے نقاب کردیا ہے۔

وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے طرز زندگی اور وبائی امراض کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکتے لیکن امریکی ڈاکٹر فاؤ چی کہتے ہیں کہ صرف امریکا میں ایک سے دو لاکھ افراد موت کے منہ میں جاسکتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس وائرس سے امریکا میں تقریباً آٹھ سے دس لاکھ افراد کے متاثر ہونے کا خد شہ ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ بھی اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ اگر ”ہم ایک لاکھ اموات پر قابو پاگئے تو یہ ہماری کامیابی ہوگی۔“ ایسے ہی کچھ خدشات دوسرے ممالک کے سربراہان کے بھی ہیں۔

کورونا کو محدود کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ وائرس سے پاک رہنے کیلیے سماجی دوری اور جراثیم کُش ادویہ، اسپرے کا استعمال ہے۔ اس مقصد کیلیے لاک ڈاؤن بہترین حل ہے، لاک ڈاؤن سے وائرس تو پھیلنے سے رک جائے گا لیکن اس کا طویل مدتی اثر معاشی بدحالی ہے جو ابھی باقی ہے۔ کورونا کے مریض ہفتوں میں ٹھیک ہوجاتے ہیں لیکن دنیا کی معیشتوں کو واپس آنے میں بہت زیادہ وقت لگے گا۔

جب یہ وبائی بیماری شروع ہوئی تو تمام شعبوں کو مالی لحاظ سے بری طرح متاثر کیا۔ رپورٹس کے مطابق چینی معیشت 40 فیصد سکڑ کر رہ گئی ہے۔ چین پیداوار، نمو اور خدمات میں 40 فیصد سے زیادہ سکڑ گیا ہے۔ دنیا کی تقریباً تمام بڑی کاروباری کمپنیوں کے چین میں دفاتر اور پیداواری یونٹ موجود ہیں لیکن سبھی بند پڑے ہیں۔

چین کو ”دنیا کی فیکٹری“ کہا جاتا ہے۔ کورونا نے اس فیکٹری میں بریک لگا دی ہے۔ چینی پیداوار، درآمدات اور برآمدات نے عالمی جی ڈی پی کو آگے بڑھایا۔ لاک ڈاؤن، کھپت اور صنعتی سرگرمیوں میں تبدیلی کے نتیجے میں دنیا متاثر ہوئی ہے۔ صرف چین میں مجموعی طور پر تقریباً 25 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ یہ برطانیہ کے پورے سالانہ جی ڈی پی کے برابر ہے۔ پروڈکشن لائنز، پروڈکٹ لانچ، ایکسپورٹ آرڈرز سب تاخیر کا شکار ہوگئے ہیں۔ چین کی حکومت کو بڑی کمپنیوں کو بچانے کیلیے لیکویڈیٹی انجکشن لگانے پڑ رہے ہیں۔ کچھ تاجر پارٹیاں تو دیوالیہ پن کے قریب پہنچ رہی ہیں۔ معاشی لحاظ چین کا ایک ہی مقصد دکھائی دیتا ہے کہ ملازمت کے نقصانات کو بچانا اور مارکیٹ کو زیادہ سے زیادہ سطح پر چلانا ہے۔

امریکا نے اپنے اور معیشت کو بچانے کیلیے 2 ٹریلین ڈالرز کا پیکیج دیا ہے، اس کے باوجود وہاں ایک کروڑ افراد اپنی نوکریاں کھو چکے ہیں۔ برطانیہ، یورپ، بھارت اپنی معاشی سرگرمیاں چلانے کیلیے ہاتھ پیر ماررہے ہیں۔ بلوم برگ کی تازہ رپورٹ کے مطابق کورونا وبا آئندہ دو سال میں عالمی معیشت کے 5 ہزار ارب ڈالر کھا جائے گی۔ 2 سال کا خسارہ جاپان کی سالانہ پیداوار سے زیادہ ہوگا۔ دنیا 1930 کے بعد گہری کساد بازاری کے دور میں ہے۔ 2022 تک دنیا کی معیشت معمول پر آنے کے قابل ہوگی۔

اقوام متحدہ کے مطابق کورونا کی وجہ سے 900 ملین بچے اسکول نہیں جا رہے۔ کورونا وائرس کے آتے ہی تمام ممالک نے اپنی تعلیمی سرگرمیاں بند کردی ہیں۔ فضائی سروسز اور دنیا بھر کی سیاحت کی صنعت نے فروخت اور محصولات میں 80 فیصد سے زیادہ کمی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

دنیا کی 70 فیصد فضائی کمپنیاں مستقبل قریب میں بحال ہوتی نظر نہیں آتیں کیونکہ زیادہ سے زیادہ ممالک دوسرے ممالک سے سفری پابندیاں نافذ کررہے ہیں۔ پہلی بار امریکا نے یورپ سے فضائی رابطے منقطع کیے ہیں۔ لاک ڈاؤن اور حکومتی پابندیوں کی وجہ اسٹاک مارکیٹیں زبوں حالی کا شکار ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق کورونا کے نتیجے میں عالمی جی ڈی پی میں تقریباً 2.7 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔
دنیا اس وقت دو دھاری تلوار پر چل رہی ہے۔ اسے زندگیاں بھی بچانی ہیں اور معیشت بھی۔ کورونا نے انسانوں کے اس زعم کو ختم کردیا ہے کہ اس نے تمام وباؤں پر قابو پالیا ہے۔اسی تناظر، بے روزگاری، معاشی حالات، دیہاڑی دار طبقہ، کاروباری مسائل کے پیش ِ نظر پاکستان نے بھی لاک ڈاون میں مشروط نرمی دی ہے۔

افسوس کہ ہمارے بازاروں،بنکوں، دکانوں پر وہی ہجوم،بہت ہی کم لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کر رہے ہیں، جس کی ہمیں بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے، ہمیں اپنے وطن، اپنی زندگی، صحت کی خود حفاظت کرنی ہے، اپنی دوسروں کی زندگی کو مشکلات میں نہ ڈالیں، بہت ضروری کام سے باہر نکلیں، سماجی فیصلہ برقرار رکھیں۔خریداری سے نہیں، اپنی زندگی، صحت سے پیار کیجیے۔ اگرآج احتیاط نہ برتی، تو شاہد دنیا کی بہار یں کبھی نہ دیکھ سکیں گے۔جیسے ممکن ہو بچا لو یہ اجڑتے ہوئے شہر،ورنہ یہ رنگ، نہ چہرے، نہ مکاں دیکھو گے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abid Hashmi

Read More Articles by Abid Hashmi: 133 Articles with 44110 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 May, 2020 Views: 264

Comments

آپ کی رائے