بھارت زوال کی راہ پر۔۔۔۔۔2

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

بھارت میں عدل و انصاف لہو لہو ہے۔عدلیہ ہندو آبادی کی خواہشات کی تسکین کے لئے فیصلے سنا رہی ہے۔نومبر 2019 میں سپریم کورٹ کے ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی منظوری کے فیصلے نے ثابت کیا کہ بھارت میں عدلیہ صرف حکمران انتہا پسندوں کی پشت پناہی کرتی ہے۔سپریم کورٹ آف انڈیا تسلیم کرتی ہے کہ متنازعہ اراضی پرتعمیر بابری مسجد کو غیر قانونی طور پر شہید کردیا گیا تھا لیکن پھر بھی اس نے مناسب سمجھا کہ اس بابری مسجد کی جگہ کو ہندوتوا تنظیموں کے حوالے کیا جائے جو اس کی شھادت کے جرم کی ذمہ دار ہیں۔ اس فیصلے کے ذریعہ مودی سرکار کو ہمیشہ کے لئے چھوٹ دی گئی کیوں کہ عدالت عظمی نے اسے ایودھیا میں ایک مندر کی تعمیر کی نگرانی کا اختیار سونپ دیا۔اس پس منظر میں، مودی سرکار نے مسلمانوں کے وقار پر اپنی انتہائی وحشت اور جبر کو آزمایا۔ شہریت (ترمیمی) ایکٹ (سی اے اے)، جس نے پہلی بار مذہب کو ہندوستانی شہریت حاصل کرنے اور مسلم مہاجرین پر پابندی عائد کرنے کے معیار کے طور پر متعارف کرایا، نے بھارتی جمہوریہ کی آزادی اور مساوات کی بنیادی اقدار کو پامال کیا۔ان کے آئین میں ذات پات، مذہب یا رنگ کی بنیاد پرآبادی کے درمیان کسی بھی طرح کے امتیازی سلوک کی پابندی ہے۔ لیکن سی اے اے، جس نے صرف غیر مسلم مہاجرین کے لئے تیزی سے شہریت حاصل کرنے کی اجازت دی، نے ایک واضح سیاسی پیغام دیا کہ جن سنگھی حکومت بھارت میں مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری قرار دے رہی ہے۔ سنگھ پریوار یا اس کے سیاسی ونگ، بی جے پی نے اس بنیاد پر مسلمانوں کو ہندوستانی معاشرتی نظریہ سے الگ کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ ہندوؤں سے کم ہندوستانی ہیں اوران کے خلاف نفرت پھیلانے کی مہم جوئی تیز کی ہے۔ جو بھارت میں خانہ جنگی کو ہوا دینے کا باعث بن رہی ہے۔ نفرت اور انتقام کی یہ پالیسی مودی ازم ک و تباہ کرے گی مگر اس سے ہندو ازم کے فلسفے کو بھی شدید نقسان سے کوئی بچا نہ سکے گا۔

جب مسلم مرد اور خواتین کا ایک بڑا طبقہ کالے قانون کے خلاف سڑکوں پرآیا تو بی جے پی نے اسے انتخابی حلقوں کو مزید پولرائز کرنے کے لئے استعمال کیا۔ انہوں نے بھارت بھر میں سی اے اے کی حمایت میں جلوس نکالے، نعرے لگائے، مسلمانوں کو غدار قرار دیا ، اور پرامن مظاہرین پر کارروائی کے لئے پولیس مشینری کا استعمال کیا۔ فروری 2020 میں دہلی میں فرقہ وارانہ تشدد کے نام پرمسلم کش فسادات کرائے گئے۔ 50 سے زیادہ مرد، خواتین اور بچے مارے گئے، جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔ قتل و غارت گری میں مسلمانوں کو معاشی طور پر کمزور کرنے کے ارادے سے تباہ کردیا گیا۔

جب بھارت میں کورونا وائرس وبائی امراض کاپھیلاتو ہندوتوا ماحولیاتی نظام، جسے اب غیرمعمولی سیاسی سرپرستی حاصل ہے، آگے بڑھا اور اس وبا کو فرقہ واریت کا رنگ دے دیا۔بی جے پی کے آئی ٹی سیل اور اس کے رہنماؤں نے تبلیغی جماعت کی آڑ لے کر مسلمانوں کے خلاف ایک شیطانی مہم کی قیادت کی۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کو عوامی زندگی میں توہین اور شرمناک تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ مسلمانوں نے مسلم کش فسادات میں حملوں کا سامنا کیا، لیکن مودی حکومت نے ان کے خدشات کو دور کرنے کے قابل نہیں سمجھا۔مودی نے ہندوستانیوں کو ’قوم پرستی کے خلاف بغاوت‘ کے خطوط پر استوار کرنے کے لئے جو پہلا آلہ استعمال کیا وہ تھا جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبا کو کچل دینا۔ ''ملک مخالف''، ''ٹکڑے ٹکڑے گینگ'' اور ''نسلی'' جیسی عبارتیں اس بحث کو آگے بڑھانے کے لئے تیار کی گئیں جن کا براہ راست فائدہ ان کی پارٹی کو ہوا۔اپنی دوسری مدت میں، مودی سرکار نے ہندوستانی سیاست میں پولرائزیشن کی سطح کو بڑھانے کے لئے اس ہتھیار کو مزید تیز کردیا ہے۔امت شاہ، وزیر داخلہ، جو اپنی انتہا پسندی کے لئے مشہور ہیں، نے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ میں ایک ترمیم متعارف کروائی تاکہ کسی کو بغیر مقدمے چلائے ''دہشت گرد'' قرار دینے کے لئے پولیس کوکھلی چھوٹ دی جائے۔

اس قانون کا نشانہ مسلمان تھے۔ آخر کار یہ بل لوک سبھا ور راجیہ سبھا کے دونوں ایوانوں میں منظور کیا گیا یہاں تک کہ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس نے بھی اس اقدام کی حمایت کی۔ ریاست کو کسی کو بطور آزمائشی ’دہشت گرد‘ نامزد کرنے کی اجازت دینا خطرناک ہے۔اب اس قانون کو آسام کے کسان رہنما اور سی اے اے کے نقاد اخیل گوگوئی، کشمیر ی صحافیوں اور جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلباء کے خلاف آزادانہ طور پر استعمال کیا جارہا ہے، جنہوں نے سی اے اے کے خلاف احتجاج کیا۔اس کا پیغام صاف ہے کہ مودی حکومت اختلاف رائے کو برداشت نہیں کرے گی۔

مسلمان بابری مسجد کی شہادت کے بعد بیدار ہوئے تھے۔ مگر انہیں قیادت نہ مل سکی۔ طلباء تنظیم سیمی کو اظہار رائے کی آزادی سے محروم کیا گیا۔ اب بھی ہزاروں مسلمان زندانوں میں سڑ رہے ہیں۔ ملازمتوں میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو امتیازی اور غیر منصفانہ سلوک کا سامنا ہے۔ میرٹ برائے نام ہے۔ فورسز میں بھرتیوں میں اب مسلمان درجہ دوم شہری ہیں۔ نئے شہریت قانون نے مسلمانوں کو غیر ملکی اجنبی کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس بار بقا کی جنگ شروع ہوئی ہے۔ 22کروڑ سے زیادہ مسلمان متحد ہو جائیں تو بلا شبہ بھارت میں ایک نیا پاکستان قائم ہو سکتا ہے۔ یہی نسلی امتیاز کے ختم کر سکتا ہے۔ اس کے لئے منظم و مربوط جدوجہد کی ضرورت ہے۔ قوموں کے عروج و زوال کی تاریخ پر نظر دالیں تو پتہ چلتا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کا نیا عروج شروع ہو رہا ہے۔یہ چنگاری اب شعلہ بن رہی ہے۔ دیکھنا ہے کہ کون اس میں اپنا حصہ ڈالتا ہے اور اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ درپیش مشکلات اور مصائب کے باوجود بھارت میں مسلمانوں نے اب بھی اگر اپنی حالت خود بدلنے کی فکر نہ کی تو ان کی غفلت تاریخ معاف نہ کرے گی۔
 

Total Views: 114 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 539 Articles with 189701 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More

Comments

آپ کی رائے
Language: