ایودھیا تنازع میں ایک نیا موڑ

(Dr Salim Khan, India)

لکھنو میں گزشتہ سال جولائی میں ایک حیرت انگیز واقعہ رونما ہوا۔ محمد فرقان نامی نوجوان ایک حادثے کے بعد کوما میں چلا گیا۔ کئی دنوں دن تک ایک نجی اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد اس کو مردہ قرار دے دیا گیا کیونکہ اس کےخاندان والے کنگال ہوچکے تھے۔ اس کے تدفین کی تیاری کے دوران فرقان کے جسم میں حرکت کو محسوس ہوئی تو اسے دوسرے اسپتال میں لے جایا گیا ۔ وہاں پر ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ زندہ ہے۔ ایسا ہی ایک معاملہ پاکستان کےسرگودھا میں پیش آیا جہاں اسپتال میں مردہ قرار دیا جانے والا محمد بشارت 5 گھنٹے بعد اس وقت اٹھ کر بیٹھا جب قبرستان میں اس کی قبر گھودی جاچکی تھی ۔ اس کےاچانک اٹھ بیٹھنے سے پہلے تو گھر کی ماتم کرنے والی خواتین ڈر یں پھر خوش ہوگئیں۔ ہندو پاک کے علاوہ ایسے واقعات یوروپ میں بھی رونما ہوتے ہیں جہاں ایک ۵۱ سالہ خاتون کی لاش 24 گھنٹے تک سرد خانے میں پڑی رہی اور پھر اچانک اس نے جاگ کر گرم چائے کی پیالی طلب کرلی۔ ایودھیا میں فی الحال رام مندر کی تعمیر کےلیےکی جانے والی کھدائی میں ایسا ہی کچھ ہورہا ہےگڑے مردے اکھاڑنے پر نئی لاشیں بر آمد ہورہی ہیں۔

عدالت عظمیٰ نےکسی ثبوت کی بنیاد پر نہیں بلکہ آستھا ، سرکاری دباو اور لالچ میں آکر رام مندر کے حق میں فیصلہ کردیا ۔ سچ تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ اپنے متنازع فیصلے میں بھی یہ بات تسلیم کرچکا ہے کہ اے ایس آئی کے شواہد کی روشنی میں 13ویں صدی کے اندر (جب بابری مسجدبنائی گئی) وہاں کوئی مندر نہیں تھا یعنی بابری مسجد کو مندر توڑ کر تعمیر نہیں کیا گیا ۔ اس لیے فی الحال ایودھیا میں زمین ہموار کرنے کے لیے کھدائی کے دوران ہاتھ آنے والے باقیات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ان سے متعلق کیے جانے والے سارے دعوے صرف اور صرف پروپیگنڈہ ہے۔ ان نوادرات کے معاملے مختلف لوگ یعنی ستیندر داس اور چمپت رائے کے بیان کردہ تفصیلات میں واضح فرق ہے۔ اس کے علاوہ ذرائع ابلاغ میں جو تصاویر سامنے آئی ہیں وہ ان دونوں سے یکسر مختلف ہیں ۔ جھوٹ کی سب سے اہم خصوصیت یہی ہوتی ہے کہ وہ متضاد ہوتا ہے ۔ ایودھیا کے ڈی ایم ان باقیات سے متعلق کچھ کہنے سے قبل ماہرین آثار قدیمہ کی جانچ کو ضروری سمجھتے ہیں لیکن مختلف لوگ الگ الگ تفصیل پیش کرکے ایک دوسرے کی تکذیب کررہے ہیں ۔ ان بے دھڑک جھوٹ بولنے والوں پر تو یہ شعر صادق آتا ہے؎
جھوٹ ہونٹوں پہ بلا خوف و خطر آیا ہے
مدتوںسنگھ میں رہ کر یہ ہنر آیا ہے

ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب سپریم کورٹ نے دھاندلی کرکے زمین حوالے کر ہی دی نیزصوبے اور مرکز میں مندر کی حامی سرکار موجود ہے تو آخر اس مکر و فریب کی ضرورت کیا ہے؟ اس سوال کا ایک جواب تو یہ ہے کہ ایسا کرنے سے احساسِ جرم کی آگ کسی حد سرد ہوتی ہے ۔ دوسرا جواز یہ ہے کہ اس کی مدد سے ہندووں کے اندر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کے شعلے بھڑکائے جاتے ہیں لیکن اس کی تیسری وجہ ان دونوں سے زیادہ اہم ہے۔ اس دوران بودھ سماج کی جانب سے یہ دعویٰ پھر سے ابھر کر سامنے آیا ہے کہ کھدائی میں پائی جانے والے باقیات کا تعلق شو لنگ یا مندر سے نہیں ہے ۔ وہ تو بدھ مت کے ستون اور گنبد ہیں اور ان کا تعلق بدھ مذہب سے ہے۔ اس تعلق سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بدھ مت کے ماننے والوں نے ہیش ٹیگ ’بدھ ستھل ایودھیا‘ کے نام سے کھدائی میں پائی جانے والی باقیات کی تصاویر شیئر کیں۔

سنگھ پریوار کی سوشیل انجینیرنگ کے لیےیہ بات زہر ہلاہل سے کم نہیں ہے۔ فسطائیوں کا دامن شوردروں کے ناحق خون سے داغدار ہے۔وہ چھینٹے چیخ چیخ کر ظلم و ستم کی پانچ ہزار سالہ تاریخ بیان کررہے ہیں ۔ سنگھ پریوار نہیں چاہتا کہ یہ مردہ اپنی قبر سے نکلے لیکن چونکہ ایودھیا میں کھدائی کے دوران یہ غلطی سے باہر آگیا ہے اس لیے اسے چھپانے کے لیے طرح طرح کے جھوٹ گھڑے جارہے ہیں ۔ یوروپ کے عیسائیوں نے جس طرح یہودیوں پر صدیوں تک ظلم کرنے کے بعد مسلمانوں کے خلاف ان کو اپنا آلۂ کار بنالیا ہے اسی طرح ہندوستان کے نام نہاد اعلیٰ ذاتوالوں نے یہاں کے شودروں پر صدیوں تک مظالم توڑنے کے بعد انہیں مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ انہیں اس بات کا ندیشہ لگا رہتا ہے کہیں آزادی کی نعمت حاصل کرنے بعد یہ محروم طبقات اپنے اوپر کیے جانے والے مظالم کا انتقام نہ لینا شروع کردیں ۔ اس لیے ایودھیا کی باقیات پر جھوٹ کی ملمع سازی کی جارہی ہے۔

بی بی سی کے غیر جانبداری کی لوگ قسمیں کھاتے ہیں اور اس پر شائع ہونے خبروں پر آنکھ موند کر ایمان لے آتے ہیں ۔ افسوس کہ آج کل اس کے صحافی بھی یا تو محنت نہیں کرتے یا پھرشرارت کرتے ہیں ۔ اس نے ایودھیا کی خبر کے بارے میں جہاں بلاتصدیق ہندوفسطائیوں کے سارے من گھڑت دعووں کو من و عن شائع کردیا وہیں یہ بھی لکھا کہ بدھ مت کے ماننے والوں کا یہ نیا دعویٰ ہے حالانکہ اس موضوع پر دلت دانشوروں کی کئی کتابیں منصۂ شہود پر آچکی ہیں ۔ پچھلے سال جولائی میں سپریم کورٹ نے بھی ان کے دعویٰ کو اپنی سماعت میں شامل کیا تھا یہ اور بات ہے کہ فیصلے میں اس کو نظر انداز کردیا ۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد بھی اس درخواست کو مسترد کردیا گیا مگر2019 میںایودھیا کے باشندے ونیت کمار موریہ کوبودھوں کا فریق تسلیم کیاگیا ۔ اس لیے نیا دعویٰ کہہ کر اسےرد کرنا گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ اے ایس آئی نے الہ باد ہائی کورٹ کے حکم پر جو کھدائی کی تھی ان میں بودھ باقیات نکلی تھیں۔ اس کو نظرانداز کرکے بی بی سی کا کے کے محمد کا بیان شائع کرنا صحافت نہیں خیانت ہے۔

تاریخ داں ایودھیا کو بودھوں کامقدس شہر ساکیت مانتے ہیں۔اے ایس آئی کی تحقیق ایودھیا میں استوپا اور ستونوں کی تصدیق کرتی ہے۔ بودھوں کی جانب سے دائر کردہ رٹ پٹیشن میں برطانوی حکومت کے دوران اے ایس آئی کے بانی الیکذینڈر کنگھم کی کھدائی کا حوالہ دیا گیا تھا۔ الیکزینڈر کو اپنی تفتیش کے دوران ایودھیا میں مندر کے بجائے بودھ عبادتگاہ کے باقیات ملے تھے ۔ الہ باد ہائی کورٹ کے حکم پر اے ایس آئی کی کھدائی کے شواہد الیکذینڈر کی تائید کرتے ہیں۔ الیکذنڈر کی تحقیق میں ایودھیا کے اندر بودھوں کے تین مقدس مقامات منی پربت، کبیر پربت اور سگریو پربت کا ذکرملتا ہے۔ ان میں سے پہلے دومقامات پر صرف استوپا اور تیسرے سگریو پربت پرعالیشان عباتگاہ تھی۔ 2004 کے اندر شائع ہونے والی جون ای ہل کی کتاب میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ 127 قبل مسیح تک کشان سلطنت کی ساکیت میں حکومت تھی ۔یہ وجہ ہے کہ چین سے 239 میں ژوان زانگ نام کا سیاح اور 265میں فاکسیان نامی سیاح ساکیت یعنی موجودہ ایودھیا میں آئے تھے ۔

بودھوں کی تاریخ پر بلونت سنگھ چرواک نامی دلت دانشور نے اپنی کتاب’ ایودھیا کس کی : نہ رام کی ، بابر کی‘ میں اس بات کے شواہد پیش کیے تھے ایودھیا میں رام کا مندر کبھی نہیں تھا بلکہ متنازع زمین پر کسی زمانےان شودروں کی کی عبادتگاہ تھی جنھوں نے ابتداء میں ہی بدھ مت قبول کرلیا تھا ۔ چرواک کے مطابق موریہ سلطنت کے زوال پذیر ہوجانے کے بعد براہمن راجہ پوشیا مترا نے ساکیت پر قبضہ کرکے بودھوں کا قتل عام کیا اور ان کی عبادتگاہوں کو تباہ و برباد کردیا ۔ ویسے پوشیا مترا سنگھاکی حکومت بھی پہلی صدی قبل مسیح میں ختم ہوگئی۔ چرواک نے لکھا ہے بابر کے نمائندے میر باقی نے بودھوں کی عبادتگاہ کو تاراج نہیں کیا لیکن اس کے برباد شدہ باقیات کو استعمال کیا۔ بودھ دانشوروں کا ایودھیا کے علاوہ بھوتیشور ، کورکرنیشور، جگناتھ، سبری مالا ، تلجا بھوانی اور بودھ گیا کے شیوا مندر پر بھی دعویٰ ہے جنھیں ہندووں نے غصب کررکھا ہے۔

براہمنوں نے اس ملک کے بودھوں کو ظلم و جبر سے ہندوستان کے نقشے سے نکال دیا لیکن ڈاکٹر امبیڈکر لاکھوں دلتوں کے ساتھ اس مذہب کو قبول کرکے براہمنیت کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا کردیا۔ بودھ انٹر نیشنل نامی دلت تنظیم حالیہ کھدائی میں سامنے آنے والے شواہد کو لے کر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور بام سیف اس پر ملک گیر تحریک چلانا چاہتی ہے۔ ان لوگوں کو اپنے مقاصد میں کتنی کا میابی ملے گی یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن یہ ایک ایسا زندہ بم ہے جو کبھی نہ کبھی ضرور پھٹے گا۔ اس متوقع خوف کا کھٹکا ہمیشہ ہی فسطائی طاقتوں کو لگا رہتا ہے اس لیے وہ ملک کے مختلف طبقات کو تقسیم در تقسیم کرکے ان پر اپنا غلبہ قائم رکھنے کے نت نئے منصوبے بناتے رہتے ہیں لیکن اس میں انہیں کب تک کامیابی حاصل ہوگی یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ ویسے اہل ایمان اس شعر میں یقین رکھتے ہیں کہ ؎
شب گریزاں ہوگی آخرجلوہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 83 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1019 Articles with 343097 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: