درس قرآن 39

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)

سورۃ زخرف
قرآنِ کریم معجزہ ہے جو آخری نبی محمد عربی … پر جستہ جستہ ۲۳ سالوں میں نازل ہوا، معجزہ کی شان ہی یہ ہوتی ہے کہ انسانی بس اور قدرت سے باہر ہو، لہٰذا قرآن کی مثیل ونظیر بھی انسانی قدرت وطاقت سے ماوراء ہے۔ نیز یہ ایسا معجزہ ہے جو رہتی دنیا تک کی خلقت کو اپنے لانے والے کی صداقت کا یقین کراتا رہے گا،نتیجتاً لوگ حلقہٴ اسلام سے روز افزوں وابستہ ہوتے رہیں گے، رسول اللہ … نے ایک حدیث میں اسی حقیقت کا انکشاف کیاہے۔ ما من الانبیاء نبي الا أعطي ما مثلہ آمن علیہ البشر، وانما کان الذي أوتیت وحیًا أوحاہ اللّٰہ الي، وأرجو أن أکون أکثرہم تابعًا یوم القیام()
(ہر نبی کو ایسا معجزہ دیاگیا جس کا مشاہدہ کرکے انسانیت ایمان لاتی رہی، مجھے اللہ پاک نے ایسا معجزہ وحی کی شکل میں دیا ہے (اس میں غور وفکر کرکے قیامت تک لوگ ایمان لاتے رہیں گے) مجھے امید ہے کہ روزِ قیامت میرے متبعین زیادہ ہوں گے)
لیکن دین کے باغی اور فطرتِ انسانی سے منہ موڑنے والوں نے تکذیب کو اپنا وطیرہ بنایااور اس معجزئہ قرآن سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں کرنے لگے، تو قرآن نے مرحلہ وار تین قسطوں میں ان سے چیلنج کیااور مطالبہ کیا کہ اگراس کلامِ الٰہی کی حقانیت میں تمہیں شک ہے تو اس جیساقرآن، نہیں تو دس سورتیں، یا پھر ایک چھوٹی یا بڑی سورت ہی بنالاؤ، ہم تمہاری بکواسوں کو تسلیم کرلیں گے، لیکن بلند وبانگ ڈینگیں ہانکنے والے ششدر رہ گئے، انھوں نے اپنی غیرت نیلام کردی، بہو بیٹیاں دشمنوں کے حوالے کردیں، گردنیں کٹوائیں، حملے بھی کیے اور حملے کا جواب بھی دیا، سب کچھ گوارہ لیکن یہ نہ ہوسکا کہ صرف ایک آیت ہی بناڈالتے، روز روز کا جھگڑا منٹوں اور سکنڈوں میں مٹ جاتا، قرآن اپنے نزول سے لے کر ہنوز چیلنج کررہاہے لیکن کوئی اس کا معارضہ ومقابلہ کرنے والا آج تک پیدا نہ ہوسکا جو اپنے مقابلے سے اس کی اعتباریت میں فرق پیدا کرسکے۔
آئیے :سورۃ زخرف کے بارے میں جانتے ہیں :سورۂ زُخْرُفْ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ الزخرف، ۴/۱۰۱)۔آیات،کلمات اورحروف کی تعداد: اس سورت میں 7رکوع،89آیتیں اور3400 حروف ہیں ۔( خازن، تفسیر سورۃ الزخرف، ۴/۱۰۱)۔
وجہ تسمیہ :
ہر چیز کے نام رکھنے کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے اس سورۃ کا یہ نام رکھنے کی وجہ پر غور رکرتے ہیں ۔زُخْرُف کا معنی ہے’’ سونا‘‘ نیز کسی چیز کے حسن کا کمال بھی زُخْرُف کہلاتا ہے، اور اس سورت کی آیت نمبر 35 میں کلمہ ’’وَ زُخْرُفًا‘‘ مذکور ہے ،اس کی مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ زُخْرُفْ‘‘ رکھا گیا ہے۔
آئیے :اب اس بات پر غور کرتے ہیں کہ آیا اس سورۃ میں رب نے بندوں سے کیا خطاب فرمایا ہے ۔اس سورۃ کے مضامین کیا ہیں ۔تاکہ مختصر اور جامع انداز میں ہم سمجھ سکیں ۔اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ ا س میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت پر ایمان لانے،اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنے ، حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اللہ تعالیٰ کا رسول ہونے،قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہونے، قیامت کے دن مُردوں کو دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال کی جزاء و سزا ملنے پر کلام کیا گیا ہے، اور اس سورت میں یہ چیزیں بیان کی گئی ہیں ،
(۔۔۔۔)قرآنِ مجیدعربی زبان میں اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اسے عربی زبان میں نازل کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اَوّلین مُخاطَب یعنی عرب والے اس کے معانی اور اَحکام کو سمجھ سکیں ۔
(۔۔۔۔) انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مذاق اڑانے والی سابقہ امتوں کا انجام بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کفار کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتوں پر تسلی دی اور کفارِ مکہ کو ڈرایا کہ اگر یہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ان کا انجام بھی سابقہ لوگوں جیسا ہو سکتا ہے۔
(۔۔۔۔)اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرنے والی چند چیزیں بیان کی گئیں اور یہ بتایاگیا کہ کفار کی جہالت اور بیوقوفی کا یہ حال ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق ماننے کے باوجود بتوں کی پوجا کرتے ہیں ۔
(۔۔۔۔)کفارِ مکہ فرشتوں کی عبادت کرتے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے ا س پر ان کاشدید رد کیا گیا اور بیٹیوں کے معاملے میں ان کا اپنا حال بیان کیاگیا کہ جب ان میں سے کسی کو بیٹی پیدا ہونے کے بارے میں بتایاجائے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا اور وہ غم و غصے میں بھرا رہتا ہے اور یہ بتایا گیا کہ فرشتوں کی عبادت کرنے کے معاملے میں ان کے پاس کوئی عقلی اور نقلی دلیل نہیں ہے بلکہ یہ صرف اپنے باپ دادا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ایساکر رہے ہیں اور یہی حال ان سے پہلے کفار کا تھا کہ ان کے پاس بھی اپنے باپ دادا کی اندھی پیروی کے علاوہ شرک کی کوئی اوردلیل نہ تھی۔
(۔۔۔۔)حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اوران کی قوم،حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کے واقعات بیان فرمائے تاکہ کفار ِمکہ ان قوموں کے اعمال کے نتائج سن کر عبرت اور نصیحت حاصل کریں اور اس کے ساتھ ساتھ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر وحی نازل ہونے کے بارے میں کفار کے اعتراضات کا جواب دیا گیا۔
(۔۔۔۔) دنیا کے سازو سامان اور زیب و زینت کی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی قدر نہیں اور آخرت کی نعمتیں پرہیز گاروں کے لئے ہیں ۔
(۔۔۔۔) قرآن کی ہدایتوں سے منہ پھیرے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب اوراس کی پکڑ سے بے خوف ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتا ہے جو دنیا میں اس کے ساتھ رہتا ہے، اسے نیک کاموں سے روکتا اور حرام کاموں میں مبتلا کرتا ہے اور وہ شخص گمراہ ہونے کے باوجود یہ سمجھتا رہتاہے کہ وہ ہدایت یافتہ ہے،نیز آخرت میں بھی وہ شیطان ا س کا ساتھی ہو گا اور اس وقت وہ شخص شیطان کے ساتھ پر حسرت وا فسوس کا اظہار کرے گا لیکن ا س کا اسے کوئی فائدہ نہ ہو گا۔
(۔۔۔۔)کفارِ مکہ کے ایمان قبول نہ کرنے پر حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دی گئی اور بتایا گیا کہ یہ لوگ دل کے بہرے اور اندھے ہیں جس کی وجہ سے یہ ایمان نہیں لائیں گے، ا س لئے آپ کفار کی سرکشی پر رنجیدہ نہ ہوں بلکہ قرآنِ پاک کو مضبوطی سے تھامے رکھیں اور اس کے احکامات پر عمل کرتے ر ہیں ۔
(۔۔۔۔) مُتّقی مسلمانوں کے علاوہ دیگر لوگ قیامت کے دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے اور فرمانبردار مسلمان اس دن بے خوف ہوں گے اور انہیں نیک اعمال کے صدقے میں جنت کی عظیم الشّان نعمتیں ملیں گی جبکہ کافر ہمیشہ کے لئے جہنم کے عذاب میں رہیں گے اور جہنم میں ان کا چیخنا چِلاّنا اورفریادیں کرنا انہیں کوئی فائدہ نہ دے گا۔
(۔۔۔۔) ہم اگر اس سورۃ کے آخری آیات کا مطا لعہ کریں تو اس سورت کے آخر میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خلاف دارُ النَّدْوَہ میں تیار کی گئی کفارِ مکہ کی سازش کا ذکر کیاگیا ۔
اللہ عزوجل علم نافع عطافرمائے ۔کلام مجید کے فرمین سے بہرہ مند ہونے کی توفیق عطافرمائے ۔آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: اپنے پیاروں سے نیک تمناوں کی درخواست ہے اور اپیل ہے کہ فروغ علم کے لیے ہم جو عزم رکھتے ہیں اس میں ہمارے دست راست بنیں ۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 345 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 315 Articles with 265092 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More

Comments

آپ کی رائے
جناب ظہورجی !
بہت بہت شکریہ اس دور میں قران کا بارے میں نے اتنے اچھے انداز میں کوشش کی۔اچھا لگا۔ابھی اس جھنڈے کو تھامنے والے ہیں۔پھر بہت بہت شکریہ ۔میں سارے درس پڑھ رہی ہوں۔ایک احسان کریں اپنی ویڈیو بھی بنالیں۔ہم کو آسانی ہوجائے گی۔
By: شائستہ ناز, لاہور on Jun, 15 2020
Reply Reply
0 Like
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ