درس قرآن 40

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)

سورۃ دخان
سورۂ دُخان مکۂ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ الدخان، ۴/۱۱۲). اس میں 3رکوع،59آیتیں ،346کلمے اور1431حروف ہیں ۔( خازن، تفسیر سورۃ الدخان، ۴/۱۱۲)
وجہ تسمیہ :
ہر نام کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے ۔ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس سورۃ کا نام آخر دخان کیوں رکھا گیا۔عربی میں دھوئیں کو’’ دُخان ‘‘ کہتے ہیں ، اور اس سورت کی آیت نمبر10میں دھوئیں کا ذکر ہے، اس مناسبت سے اس سورت کو سورۂ دُخان‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔
یوں تو کلام مجید کا حرف حرف کمال اور قابل تعریف ہے ۔ہر سورۃ ہرآیت کا اپنا وصف اور شرف ہے ۔آئیے ہم اس سورۃ کی فضیلت کو بھی کچھ جان لیتے ہیں ۔
(2) …حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے جمعہ کی رات میں سورۂ دُخان پڑھی اسے بخش دیا جائے گا۔ ‘‘(ترمذی، کتاب فضائل القرآن، باب ما جاء فی فضل حم الدخان، ۴/۴۰۷، الحدیث: ۲۸۹۸)
قران کریم کو سمجھ کر پڑھنے پر زور دینے کے لئے باربار دہرایا گیا ہے - کلام مجید کو سمجھ کر پڑھنا چاہیے ۔اس بات کو یوں سمجھیں کہ کلام مجید میں سمجھنے کے حوالے سے ١- یبین : کھول کھول کر بات بتانا۔٢- بین : روشن۔٣- مبین : واضح - کھلا۔جیسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو ہمیں پیغام فکر و نظر دیتے ہیں ۔آئیے ہم بھی غور کرلیتے ہیں کہ سورۃ دخان میں انسانیت کے لیے کس قسم کا پیغام ہے ۔
اس سور ت کا مرکزی مضمون توحید و رسالت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال کی جزاء ملنے کا بیان ہے اور اس سورت میں یہ چیزیں بیان کی گئی ہیں ۔ ابتداء میں یہ بیان کیاگیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کو شبِ قدر میں نازل کیاہے اور اس رات میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے تمام اہم کام فرشتوں کے درمیان تقسیم کر دئیے جاتے ہیں اور یہ بتایاگیا کہ کفارِ مکہ قرآنِ مجید کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں اور جس دن انہیں عذاب دیا جائے گا تو ا س دن وہ عذاب دور کئے جانے کی فریاد کریں گے اور ایمان قبول کرنے کااقرار کریں گے اور ان کا حال یہ ہے کہ اگر ان سے عذاب دور کر دیا جائے تو بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ یہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے واضح معجزات دیکھ کر ایمان نہیں لائے تو اب کہاں لائیں گے اور یہی حال ان سے پہلے کفار کا تھا کہ وہ بھی روشن نشانیاں دیکھنے کے باوجود اپنے کفر پر قائم رہے، اور ا س کی مثال کے طور پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور فرعون کا واقعہ بیان کیا گیا ،فرعون اور اس کی قوم کا دردناک انجام بتایا گیا تاکہ کفارِ مکہ ا س سے عبرت حاصل کریں ۔کفارِ مکہ نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کیا تو تُبّع نامی بادشاہ کی قوم اور ان سے پہلی قوموں جیسے عاد اورثمود کا انجام بیان کر کے ان کا رد کیاگیا۔کفارِ مکہ کے سامنے قیامت کے دن کی ہولناکیاں بیان کی گئیں اور اس دن ہونے والے حساب اور ملنے والے عذاب اور جہنمی کھانے زقوم کے بارے میں بتایا گیا اور سورت کے آخر میں نیک لوگوں کا ٹھکانہ اور برے لوگوں کا ٹھکانہ بتایا گیا تاکہ نیک لوگ خوش ہو جائیں اور برے لوگ دردناک عذاب سے ڈر جائیں اور اپنے برے افعال سے باز آجائیں ۔
آہ!کتنی عجیب بات ہے کہ الله تعالی اپنی کتاب کا مرکزی موضوع انسان کو قرار دے رہا ہے، یہ الله تعالی کی انسان سے محبت کی انتہا کا بیان ہے اور اس سے بھی نرالی بات یہ ہے کہ انسان اس کتاب کو بغیر سمجھے ہوئے پڑھے جا رہا ہے جس میں اسی کے بھلے اور فائدے کی باتیں ہیں -اللہ پاک ہمیں فہم قرآن کی نعمت سے بہرہ مند فرمائے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی بتدریج اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے ۔جو لمحے ہمارے پاس ہیں انھیں غنیمت جانیں اور اپنے کریم رب کو راضی کرنے میں صرف کردیں ۔مت ضائع کریں اپنا وقت فضول و لغوکاموں میں ۔آئیں مل کر اپنے حصے کی روشنی کرتے ہیں ۔تاکہ شرق غرب میں حق کا بول بالا اور انسانیت کی بھلائی ہی بھلائی اور خیر ہی خیر ہو۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 145 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 315 Articles with 265357 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ