کورونا کی آڑ میں اقتدار کی جنگ

(Dr Salim Khan, India)

کورونا کی وباء سے نمٹنے کو وزیر اعظم نے بلاوجہ مہا بھارت قرار دے دیا جس کی مطلق ضرورت نہیں تھی ۔ انہوں نے پیشنگوئی بھی کی تھی یہ جنگ ہم 21دنوں میں جیت جائیں گے ۔ اب 77دن بعد مودی جی بھی اپنے دوست ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح کسی بنکر میں دبکے بیٹھے ہیں ۔ نہ کورونا کے بارے میں کچھ بول رہے ہیں اور لداخ کی بابت منہ کھول رہے ہیں ۔ اس نازک وقت میں انہوں نے اپنے داہنے ہاتھ امیت شاہ کو میدان میں اتار دیا ہے۔ شاہ جی ملک کےوزیر داخلہ ہیں ان کی بنیادی ذمہ داری عوام کی فلاح و بہبود کا اہتمام کرنا ہے ۔ وطن عزیز عالمی وباء کا شکار ہواتو چار بار لاک ڈاون کی توسیع کرنی پڑی۔ اس کے باوجود کورونا سے متاثرین کی تعداد تقریباً ڈھائی لاکھ تک پہنچ گئی اور ساڑھے سات ہزار لوگوں نے اپنی جان گنوائی ۔ مہاجر مزدور وں کی راستوں میں ہلاکت اور قرنطینہ کی صعوبت کےباعث اموات کا تو کوئی شمار ہی نہیں ہے ۔اس دوران وزیر اعظم وقتاً فوقتاً ٹیلی ویژن پر آکر عوام کی تفریح کا سامان کرتے رہے لیکن وزیر داخلہ گدھے کے سر سے سینگ کی مانند غائب تھے ۔ بالآخر لاک ڈاون کی پابندیوں بعد جب زندگی معمول پر آنے لگی تو انہیں ہوش آیا اور اچانک خواب سے بیدار ہوکرانہوں نے اول فول بکنا شروع کردیا یعنی ٹیلی ویژن کے پردے پر نمودار ہوکرعوام سے خطاب کرنے لگے۔ ان کی ہذیانی کیفیت غالب کے اس شعر کی مصداق ہے ؎
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

امیت شاہ اپنی کمبھ کرن کی نیند سے جاگ ہی گئے تھے تو انہیں چاہیے تھا کہ کم ازکم لاک ڈاون ختم کرنے کا اعلان کرتے اور عوام کے زخموں پر نمک رکھتے لیکن نمک چھڑکنے والے سے یہ توقع فضول ہے ۔امیت شاہ کے اولین خطاب کا حقیقی مستحق مہاراشٹر تھا کیونکہ وہاں سب سے متاثرین سامنے آئے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ اس کے بعد ان کا اپنا صوبہ گجرات تھا جو ہلاکتوں کے معاملے میں دوسرے نمبر پر ہے اور ان کے اپنے حلقہ انتخاب و پڑوس کی حالت دگر گوں ہے۔ دہلی کے اندر بھی متاثرین کے حوالے سے حالت بہت خراب ہے لیکن وزیرداخلہ نے ان سب کو نظر انداز کرکے بہار ، اڑیسہ اور بنگال کا رخ کیا کیونکہ وہاں عنقریب ریاستی انتخاب ہونے والے ہیں ۔

وزیر داخلہ اگر اپنے وقار کو پامال کرکے وزیرتشہیر بن جائیں تو اس کا انہیں اختیار ہے لیکن اس صورت میں بھی انہیں جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔ یہ کہنا کہ انٹر نیٹ کے توسط سے کیے جانے والے ان خطابات کا انتخابی مہم سے کوئی تعلق نہیں سراسر جھوٹ ہے ۔ ان کی تقریر کا ہر لفظ اس دعویٰ کی تردید کرتاہے ۔ ویسے بلند بانگ دعویٰ کرکے منہ کی کھانا امیت شاہ کی پرانی عادت ہے ۔ پارٹی کے صدر کی حیثیت سےپہلے یہ ان کی مجبوری تھی لیکن اس عہدے سے سبکدوش ہونےکے بعد جے پی نڈا کو درکنار کرکے یہ سب کرنا سراسر دھاندلیہے ۔امیت شاہ کا ایک طرف تو یہ اعلان کہ یہ انتخابی ریلی نہیں ہے اور پھر یہ دعویٰ کہ آئندہ اسمبلی الیکشن میں نتیش کی قیادت کے اندراین ڈی اے کو دوتہائی اکثریت حاصل ہوگی تضاد بیانی نہیں تو کیا ہے؟

وزیر داخلہ نے یہ تو کہہ دیا کہ آر جے ڈی کے اقتدار کی بہ نسبت بہار میں ترقی کی شرح تین گنا بڑھ گئی ہے ،اگر یہ حقیقت ہے تو اس کے اثرات نظر آنے چاہییں ۔ اس کو بتانے کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے؟ یہ کیوں کہا جارہا ہے کہ نتیش کمار اور سشیل مودی کام تو بہت کرتے ہیں لیکن تشہیر نہیں ہوتی ۔ حقیقت تو یہ ہے خود مودی جی بھی کام کم اوراشتہا بازی زیادہ کرتے ہیں ۔ یہی حال پوری بی جے پی کا ہے۔ امیت شاہ کو پتہ ہونا چاہیے کہ عوام کو جنگل راجاور جنتا راج نیز لالٹین و ایل ای ڈی جیسے خوشنما نعروں سے بہلانے کے دن لد گئے۔ دہلی میں بی جے پی کے کمل کاسپڑا صاف کرنے کے لیےتوعام سا جھاڑو ہی کافی ہے۔اس ریلی کا مقصداگر واقعی کورونا وائرس کے خلاف لڑائی میں عوام کو جوڑنا ہوتا تو یہ جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ مہاجر مزدوروں کو مرکزی حکومت نے اپنے گھروں کو پہنچایا ہے ۔ مرکزی حکومت کے سالیسٹر جنرل تشار مہتا عدالت عظمیٰ میں یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ ان مہاجروں کا سارا خرچ صوبائی حکومتوں نے اٹھایا ہے۔

اپنے منہ میاں مٹھو بننے والے امیت شاہ کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ کورونا سے جنگ کے معاملے میں سوشاسن بابو نتیش کمار کی کارکردگی نیچے سے تیسرے نمبر پر کیوں ہے؟ امیت شاہ کی دوسری ریلی اڑیسہ پر تھی لیکن وہاں کورونا کے خلاف کارکردگی میںوہ نوین پٹنایک نے پہلا مقام حاصل کرکےکمل کے ویسے ہی چیتھڑے اڑا دیئے ہیں ۔ بنگال کے اندر امیت شاہ نے کورونا کے بجائے ممتا کو للکارتے ہوئے کہا مغربی بنگال واحد ریاست ہے جہاں سیاسی تشدد کے واقعات میں کمی کے بجائے اضافہ ہورہا ہے اور جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ دہلی کے اندر اپنی پارٹی کے بدمعاشوں اور پولس کی مدد سے بدترین فسادات کروانے والے امیت شاہ کو یہ کہتے ہوئے کچھ تو شرم آنی چاہیے تھی۔ کورونا کے سخت ترین حالات میں نولکھا اور تیلتمبڈے کو جیل بھیجاناکیا ہے؟ سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبا پر فسادات کا الزام تھوپ کر زندانِ سلاسل کرنا بدترین سیاست ہے۔

دہلی کے اندر جامعہ کے دیگر طلباء کے علاوہ صفورہ زرگر کے ساتھ سفاکی قوم کے ماتھے پر کلنک ہے۔ جے این یو میں حملہ کرواکر اس کےمجرمین کو تحفظ فراہم کرنے والے امیت شاہ کو اپنےتار تار دامن میں جھانک کر دیکھنا چاہیے اور یاد رکھنا چاہیے کہ جن کے مکان شیشے کے ہوتے ہیں وہ دوسروں پر پتھر نہیں اٹھاتے۔ بنگال کی عوام سے بی جے پی کو موقع دے کر سوناربنگلہ کی دہائی دینے والے امیت شاہ کو یہ بتانا ہوگا کہ آسام سونے کی چڑیا کیوں نہیں بن سکا۔ گجرات اور کرناٹک کا اتنا برا حال کیوں ہے ؟ بہار سے جنگل راج کا خاتمہ کرنے والے امیت شاہ اس سوال سے بھاگ نہیں سکتے کہ اترپردیش میں جنگل راج کس نے قائم کررکھا ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ اس طرح کی ورچول(مجازی ) ریلی کرکے بی جے پی اکچول (حقیقی) مسائل سے نظریں چرارہی ہے لیکن آئندہ انتخاب میں عوام اس کے کرتوت کا مزہ چکھائیں گے۔ اسی خوف نےگھوڑے بیچ کر سونے والے امیت شاہ کی نیند حرام کردی ہے۔ کورونا کے دوران تو امیت شاہ کی حالت پر یہ شعر سادق آرہا تھا کہ ؎
کھڑاسرہانے یہ کہہ رہا تھا سروش شانے ہلا ہلا کر
اٹھ اے قیامت کے سونے والے میں تھک گیا ہوں جگا جگا کر

کورونا کے محاذ پر ملک کی ابتر صورتحال کے لیے بی جے پی کا یہ سیاسی جنون بھی ذمہ دار ہے۔ ۴ مارچ کو مودی جی نے اعلان کیا کہ وہ کورونا کے سبب ہولی ملن کے پروگرام میں شرکت نہیں کریں گے لیکن اس وقت لاک ڈاون تو دور کوئی احتیاطی تدبیر نہیں اختیار کی گئی کیونکہ مدھیہ پردیش میں اقتدار کے حصول کا امکان پیدا ہوگیا تھا ۔ جیوتردیتیہ سندھیا نے 10 مارچ کو استعفیٰ دیا۔ شیوراج کی حلف برداری 23مارچ کو ہوئی اور 24 سے لاک ڈاون لگ گیا یعنی تاخیرکا بنیادی سببمدھیہ پردیش میں اقتدار کا قیام تھا۔ کرسی کی اس ہوس نے ملک کے لاکھوں لوگوں کورونا کے منہ میں جھونک دیا ۔ لاک ڈاون سے پہلے شاہ جی نے یہ کھیل کھیلا اور لاک ڈاون کے بعد بہار ، بنگال اور اڑیسہ کا انتخابی تماشے میں مصروف ہوگئے۔ ان لوگوں کو دن رات سیاست کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں ۔ عوام وباء کے علاوہ معاشی مشکلات سے جوجھ رہے ہیں اور ان سے بے نیاز اہل اقتدار پر انتخابی سیاست کا بھوت سوار ہے۔ ایسا نہ تو کسی ملوکیت میں تھا اور نہ آمریت میں ہوسکتا ہے۔ ہندوستان کی جمہوریت نے اپنی بےحسی اور سفاکی میں سب کو مات دے دی ہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 155 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1020 Articles with 343981 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: